Showing posts with label Ali M. Khan. Show all posts
Showing posts with label Ali M. Khan. Show all posts

Thursday, 22 November 2018

خودی


ہم اس دور سے گزر رہے ہیں کہ جب انسان اپنی دوڑ  جیتنے میں مصروفِ عمل ہے۔ اور ان ہی لوگوں کے درمیان  ایک  نام   عابد اقبال کھاری صاحب کا بھی آتا ہے جو دوسروں  کا ہاتھ پکڑ  کر اس نیت سےدوڑ رہے ہیں کہ اگر جیتے تو مل کر جیتیں گے۔
عابد اقبال کھاری صاحب جنکو ایک سماجی کارکن  بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔انکاباقائدہ پلیٹ فارم پاکستان کے خوبصورت علاقے اسلام آباد میں واقع ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد پاکستان کے لوگوں خصوصاََ نوجوانوں کو ایک جذبہ دینا ہے۔ ایک ایسا جذبہ کہ جسے تمام پاکستانیوں کو ایک مثبت پیغام مل سکے ۔اور اسی جذبے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس اداردے کا نام بھی پازیٹو پاکستان رکھا گیا ہے۔
اس ادارے کے زیرِ اہتمام سال بھر پاکستان کے مختلف شہروں میں مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔ اور اس ادارے کا بنیادی مقصد علامہ اقبالؒ کا پیغام عام کرنا ہے۔ ہمیشہ کیطرح اس سال بھی ماہِ نومبر میں یومِ اقبال کے سلسلے میں ایک کانفرنس بعنوان’’خودی کو کر بلند‘‘ منعقد کی گئی۔
یہ تقریب ایوانِ قائد، فاطمہ جناح پارک اسلام اۤباد میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے مختلف شہروں کے نوجوانوں نے شرکت کی اور اسے شاندار بنادیا۔
کانفرنس کا آغاز عبداللہ خان اور وقار احمد   جو کہ پازیٹو پاکستان کے رہبر ہونے اعزاز  بھی رکھتے ہیں تلاوتِ قرآنِ پاک  اور نعتِ  محمدؐ سے کیا گیا۔
سحرش اور کائنات  صاحبہ نے آکر سٹیج کی زمہ داری کو سنبھالتے ہوئے پازیٹو پاکستان کا مختصر مگر با معنی تعارف کروایا جو کہ مجھ جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے لئے بہت فائدہ مند رہا ۔
اسکے بعد تقریب کا باقائدہ آغاز کائنات صاحبہ کی تقریر بعنوان’’ اقبال اور نوجوان‘‘ سے ہوا۔ جس میں انہوں نے اقبالؒ کے اُس پیغام کے کچھ اشعار بیان کیے جو انہوں نے نوجوانوں کی خاطر تحریر کیے تھے۔ انہوں نے سٹیج پہ کچھ زیادہ ٹائم تو نہیں لیا مگر انکا مختصر سا بیان تمام حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا۔

تقریب کے مہمانِ مقررین  سید انیس احمد، سید نصیر احمد گیلانی، طاہرہ عندلیب، شجاع چوہدری، ولید اصغر، یسریٰ، اور ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان نے کلامِ اقبال کی روشنی میں اپنے جوشِ خطابت  سے تمام حاضرین کو  جوش  و  ولولہ دلوا دیا۔ حال میں موجود تمام لوگوں نے مقررین کی خطابت کو بہت سراہا اور تالیوں سے انکی حوصلہ افزائی بھی کی۔
سٹیج پہ آنے والا ہر شخص  کلامِ اقبال کی روشنی میں الفاظ کے زریعے پھول نچھاور کر رہا تھا  اور  حاضرین انکا حق ادا کرنے کیلئے تالیوں سے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
سحرش، ماہا، نورین اور لاریب صاحبہ نے بڑے ہی احسن طریقے سے سٹیج کی زمہ داری کو سنبھالا ہوا تھا ۔اور آنے والے تمام مقررین کا تعارف انتہائی خوبصورتی سے کرواتی تھیں کہ حال میں بیٹھے تمام حضرات مقررین  کے  سٹیج پہ آنے سے پہلے ہی ان  سے متعارف ہو جاتے تھے۔ اسی اثناء میں عُمیر رضا جو کہ پازیٹو پاکستان کے اہم بازو بھی ہیں وہ سٹیج پہ آئے اور یومِ اقبال کے حوالے سے  اپنا اظہارِ خیال پیش کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر علی محمد خان تھے اور تمام حضرات انکو سُننے کے خواہشمند تھے ۔ مگر ان سے پہلے ایک نوجوان خرم الہی  نے سٹیج پہ  آکر کلامِ اقبال کی روشنی میں اپنا  زاویہ نظر  پیش کیا ۔
اور تمام حال انکی پر جوش خطابت  کو سراہتے ہوئے تالیوں سے گونج اٹھا۔ انکا اندازِ گفتگو  اوراپنی ہر بات کیساتھ اشعارِ اقبال کا صحیح استعمال تمام لوگوں کو انکا گرویدہ بنا رہا تھا۔

ایسے ٹیلنٹ کو پازیٹو پاکستان کے پلیٹ فارم پر دیکھ کر میں بھی داد  دیے بغیر نہ رہ سکا۔ مگر سوچا جائے تو  یہ سہرا   اقبال کھاری صاحب اور انکی  کبھی نا  ہارنے والی خالص اور ایماندار ٹیم کے سَر جاتا ہے۔ جو انہوں نے ہم سب کو ایک جگہ پہ اکھٹا کیا اور  ہم  میں سے کئی  لوگوں کو اپنی زندگی میں کچھ نیا سوچنے  اور اپنی اہمیت  کوسمجھنےکی جستجو دی۔
اقبال کھاری صاحب کو جب سٹیج پہ بلایا گیا  تو  انکو متعارف کروانے کیلئےایک شعر پڑھا گیا۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل  مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا
مجھے سُن کر ایسا لگا کہ جیسے یہ  دو سطریں نہیں بلکہ کھاری صاحب کا اصل تعارف ہیں۔
وہ سٹیج پہ آئے تو تمام لوگوں نے انکا  تالیوں سے استقبال کیا۔ کھاری صاحب جو کہ اقبالؒ  کو اپنا مرشد  مانتے ہیں انکی تمام گفتگو کلامِ اقبال کی روشنی میں خاص کر  نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے تھی۔ اسکے بعد انہوں نے اس محفل کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر علی محمد خان صاحب کو سٹیج پہ آنے کیلئے دعوت دی۔ حاضرین نے انہیں عزت دیتےہوئے کھڑے ہوکر استقبال بھی کیا۔
علی محمد خان صاحب نے ملک کے موجودہ حالات پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ  ہمیں ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ جو اپنی معیار  زندگی کو بہتر بنانے کیلئے  کوشاں ہیں اور ایسی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے  عابد اقبال کھاری صاحب کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انکی حوصلہ افزائی بھی کی اور ایسی محفل میں انہیں بلانے کیلئے انکا شکریہ بھی ادا کیا۔

اسکے بعد مقررین ،انتظامیہ کے کچھ خاص لوگ اور دیگر کارکنوں میں سرٹیفیکیٹ اور شیلڈ تقسیم کی گئیں۔ انعامات تقسیم کرنے والوں میں وفاقی وزیر علی محمد خان، محمد انیس پازیٹو پاکستان  کے نائب صدر اور ا صدرِ پازیٹو پاکستان اقبال کھاری صاحب بذاتِ خود بھی  شامل تھے۔
اس کانفرنس میں لگ بھگ پانچ سو شرکاء  حاضر ہوئے تھے۔ اور انتظامیہ نے بڑے ہی احسن طریقے سے تمام کام سر انجام دیے۔ سر فہرست عامر رضا،عمیر رفیق،سلمان خٹک، فروہ بتول،کائنات،سدرہ خالد اور باقی تمام انتطامیہ نے اپنی زمہداریوں  کو بخوبی   سر انجام دیا۔ اور پازیٹو پاکستان کی ٹیم  کا ہر رکن  ہر کام کو اپنے ذاتی کام  کیطرح کرتا ہوا دکھائی دیا۔
کانفرنس کو پاکستان کے بڑے نیوز چینلز کی طرف سے میڈیاکوریج بھی حاصل ہوئی جس میں بول،سماء،۹۲،اور دیگر نیوز چینلز بھی شامل تھے۔
پروگرام کے اختتام پہ قائداعظم یونیورسٹی کے طالب علم محمد نقیب نے رباب پیش کیا جس نے ذوق کا سماں باندھ دیا   ۔ یوں کہ لیجئے  تمام حاضرین  موسیقی کی اُس دھن کو سن کر جھوم اٹھے اور اس  طرح محفل کا اختتام پذیر ہوا۔
دے ولولہء شوق جسے لذت پرواز
کرسکتا ہے اک ذرہ مہ و مہر کو تاراج
مشکل نہیں یاران چمن معرکہء باز
پرسوز اگر ہو نفسِ سینہء دراج
تقریب کے منتظم عبداللہ اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ہم اس پروگرام کی پارٹنر تنظیموں یوتھ فورم، ڈریم پاکستان، ای بلڈ، بیمز کامسیٹس یونیورسٹی اور محافظ امن پاکستان کے بھی شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس پروگرام کو کامیاب کروانے میں ہمارا ساتھ دیا۔

خصوصی رپورٹ: یومِ اقبال اسلام آبا د چیپٹر
سید تفسیر عباس رضوی

Wednesday, 21 November 2018

خودی کو کر بلند


17 نومبر بروز ہفتہ پازیٹو پاکستان کے زیرِ اہتمام ایوانِ قائد، اسلام آباد میں "یوتھ اسمبلیج - اگنائٹ خودی" کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ملک بھر سے تقریباً 500 نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد نوجوانوں میں اقبال کا فلسفہ خودی اجاگر کر کے انہیں ملک کے ترقی و بقا کے لیے محرک بنانا ہے۔ ملک کی معروف دانشور شخصیات محترم علی محمد خان، سید محمد انیس، نصیر احمد گیلانی، خرم الٰہی، ڈاکڑ طاہرممتاز اعوان، مس طاہرہ عندلیب، میجر شجاع چودھری اور صدر پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری نے شرکت کی۔تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولﷺ سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ قومی ترانے کے بعد رہبر پازیٹو پاکستان ولید اصغر حسینی اور عمیر رضا نے پازیٹو پاکستان کا مختصر تعارف پیش کیا اور تاریخِ پاکستان، اقبال اور آج کے نوجوان کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔ ہونہار طالبہ یسرہ فیاض اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبا نے کلامِ اقبال خوبصورت انداز میں پیش کیا۔
خودی کا سرِ نہاں لا الہ اللہ
خودی ہے تیغِ فساں لا الہ اللہ 

ڈاکٹر طاہر ممتاز کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اصل کی پہچان کر کے اپنی قابلیت اور صلاحیت کو درست طور پر بروئے کار لانا چاہیے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے نوجوانوں سے ابتدائی طبی امداد کی اہمیت پر بات کی۔ شجاع چوہدری نے خودی کی آگاہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تکلیف سے گزر کر اپنی ذات اور اپنی منزل کو سر کرنا ہی حقیقی خوشی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے دماغ اور روح کے لیے بھلائی نہیں کریں گے تو ہم اپنی زندگی سے توازن کھو دیں گے. انیس الرحمن صاحب کا کہنا تھا کہ یقین رکھیں خدا نے آپکو بے مقصد پیدا نہیں کیا، خودکو سمجھو تاکہ دوسرے لوگ تمھیں سمجھ سکیں۔ زین نوید اور ماہ نور بلوچ نے بھی کلامِ اقبال سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
صفحۂِ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے

ترک مس طاہرہ عندلیب نے بتایا کہ فارسی زبان میں خودی کا مطلب خود شناسی ہے اور اقبال کا فلسفہ خودی اور اشعار اگر قرآن کے پیغام سے مطابقت نہ رکھتے تو وہ کاٹ دیتے تھے۔نوجوانوں کو آپ نے بہت خوبصورت پیغام دیا کہ خود کے اندر یہ یقین پیدا کر لیں کہ آپکے سنگ سے ہزار چشمیں پھوٹ سکتے ہیں۔ خرم الٰہی نے علامہ اقبال کے کلام کو پڑھنے اور سمجھنے کی تلقین کی. صدر پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری کا کہنا تھا کہ اقبال کے پیغام کو پاکستان کے کونے کونے تک پہنچائیں گے، آپ ہمارا ساتھ دیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

تقریب کی روح رواں محمد علی خان صاحب نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان سے اسکے ہر عمل کی پوچھ ہوگی۔ ہم اللہ کو پہچانتے ہی نہیں، سجدے کرنے والے تو بہت ہیں لیکن کوئی ہے جو روح سے سجدہ کرنے والا ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام مل کر ان شاہینوں کو اقبال اور قائدِ اعظم کی زندگی نہ سکھا پایا۔ آپ نے نوجوانوں کو تاکید کرتے ہوئے کہا، آپ کتاب سے رشتہ جوڑیں، مجھے یقین ہے کہ تبدیلی پارلیمنٹ سے نہیں یونیورسٹیز سے آئے گی۔ ان شاءاللہ!

ڈاکٹر طاہر ممتاز، علی محمد خان، مس طاہرہ عندلیب، خرم الٰہی اور دیگر شرکاء نے نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے اس طرح کے ٹریننگ پروگرام کے انعقاد پر پازیٹو پاکستان کے کردار کو خوب سراہا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں، انتظامی کمیٹی اور دیگر شرکاء میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ 

پازیٹو پاکستان کی سوشل میڈیا ٹیم سائبریگیڈ نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور فیس بک، ٹویٹر وغیرہ پر موثر انداز میں پروگرام کی تشہیر جاری رکھی۔ مختلف تنظیم دی بیمز، ای-بلڈ پاکستان، محافظِ امن، یوتھ فارم اور ڈریم پاکستان نے اس تقریب کو کامیاب اور یادگار بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔ پازیٹو پاکستان آئندہ بھی نوجوانوں کی کردار سازی اور ملک کے مثبت تصور کو برقرار رکھنے کے لیے ہر میدان میں سرگرم عمل رہے گا۔ ان شاء اللہ

شیریں شفیق 
ایمبیسڈر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...