Showing posts with label Positive Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Positive Pakistan. Show all posts

Friday, 25 October 2019

ترک اور کرد مسئلے کا تاریخی پسِ منظر


کرد، کردستان، کردش، یہ وہ الفاظ ہے جن سے کرد قوم کی پہچان ہوتی ہے تاریخ کے جبر نے اس پہچان پر بڑا ظلم ڈھایا ہے کرد قدیم اقوامِ عالم میں تاریخی نام رکھتے ہیں ثقافتی پہچان ہو یا قومی پہچان کردوں نے ہمیشہ سے اپنی جداگانہ حیثیت حاصل کی ہے۔
سنہ 1916 میں جہاں برطانیہ اور فرانس نے خفیہ معاہدے کے ذریعے کردستان جہاں ساڑھے تین کروڑ کرد آباد تھے کو چار ملکوں میں تقسیم کیا جن میں ترکی، ایران، عراق، شام، شامل ہے بعد میں کچھ کردوں کو آرمینیا میں بھی تقسیم کیا آرمینیا کو ملا کر پانچ ممالک بنتے ہیں جہاں کردوں کو تقسیم کیا گیا۔ اس جبری تقسیم سے کرد منتشر ہوئے اتنی بڑی تعداد میں بھی خالی ملک یعنی اپنی ریاست سے محروم ہوگئے اس کے باوجود کردوں نے اپنی ثقافت و تہذیب ، روایت و تاریخ اور مشترکہ زبان کی بدولت اپنے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھا-

اسلامک انسائیکلو پیڈیا کے مطابق کردستان کا علاقہ تین لاکھ بیانوے ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے ترکی کردستان کے جو مشہور شہر ہیں ان میں نصیبین، رفا، دیار بکر، شانلی، موش، بِتلس، وان، جزیرہ ابن عمر، دیارِ بکر اور جزیرہ ابن عمر یہ دونوں علاقے دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع ہیں اور اتفاق یہ ہے کہ دریائے دجلہ ترکی، ایران، اور شام کے کرد علاقوں کے درمیان بہتا ہے جو کہ کرد ریاست کے لئے بہت بڑی اہمیت کے قابل ہے۔
عراقی کردستان کے مشہور شہر جس نام سے آباد ہے وہ یہ ہیں اربیل اور سلیمانیہ، اربیل تو عراق میں کردوں کا دار الخلافہ ہے، ایرانی کردستان جن علاقوں پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں سننداج، مہ، ایلام، اور کرمان شاہ، شام میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 12.00 مربع کلومیٹر ہے۔ عراق میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 65.000 مربع کلومیٹر ہے۔ ایران میں واقعہ کرد علاقے کا رقبہ 1.25.000 مربع کلومیٹر ہے۔ ترکی میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 1.90.000 مربع کلومیٹر ہے۔
کردوں کی پونے دو کروڑ کی آبادی ترکی میں آباد ہے، ایک کروڑ کی آبادی ایران میں ،عراق میں پچپن لاکھ اور شام پچیس لاکھ کرد آباد ہیں۔
کرد ساتویں صدی میں ایمان لائے اور اسلام میں داخل ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ صلیبی جنگوں میں فاتح صلاح الدین ایوبی بھی کرد تھے اور اس مسلم فاتح کی قوم آج جبر و تشدّد میں زندگی بسر کر رہی ہے سلطنت عثمانیہ میں کرد خانہ بدوشوں کے نام سے جانے جاتے تھے ستم ظریفی یہ ہے کہ 1920ء میں مشرقی وسطیٰ میں سیورے معاہدے کے مطابق عراق، شام، کویت آذاد ریاستیں بن گئی اور اسی معاہدے میں کردستان کو آذاد ریاست کا درجہ دینے کے لئے وعدہ کیا گیا لیکن ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت آنے کے بعد خفیہ معاہدے کے تحت ایران، عراق اور ترکی نے کردستان کو آذاد ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

کردوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے انکی محرومیاں بڑھتی گئی عراق میں صدام حسین کی حکومت گرنے کے بعد کردوں کو نئی پالیسی کے تحت خود مختاری دی گئی لیکن باقی تین ممالک میں انہیں اقلیت کے درجے میں رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ کردوں کی تاریخ ان ممالک میں بغاوتوں سے بھری پڑی ہے - 1925ء میں جب کردوں نے ترکی میں شیخ سعید کی قیادت میں بغاوت کی تو ترکی نے کردوں کے خلاف پالیسی بنائی کہ کردوں کی تشخص ختم کی جائے اس پالیسی کے تحت ترکی نے کردوں کی زبان و ثقافت پر پابندی لگا کر انہیں پہاڑی ترک قرار دے کر ترک معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کی جس کے خلاف کردوں نے شدید مزاہمت کی تحریک چلائی۔

ان محرومیوں کو دیکھتے ہوئے عبداللہ اوجلان نے 1970ء میں کرد طلباء کو یکجاء کرنا شروع کیا اور کرد طلباء کو اپنی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے تبلیغ دی اور تمام ممالک کے کردوں سے رابطے بڑھانے شروع کیئے بعد ازاں عبداللہ اوجلان نے 1978ء میں کردوں کی سیاسی جماعت بنائی جسے کردستان ورکرز پارٹی کا نام دیا گیا جسکا کردی نام PKK . PRTI KARKERANI KURDESTAN یہ پارٹی سیاسی میدان میں اپنا نام بنانے لگا کافی حلقوں پر سیاسی تنقید بھی کی۔
کردستان ورکرز پارٹی نے کرد سردار میمت جیلال بوسیک کو قتل کیا صفائی پیش کی کہ میمت کرد کسانوں کا استحصال کرنے میں آگے آگے تھا اور ترکی سے خفیہ معاہدے کرتا تھا کردوں کے خلاف-اور پی کے کے نے میمت کے خلاف واضح ثبوت بھی پیش کیئے تھے۔

1984ء میں اس جماعت نے ترکی کے جبری قبضے کے خلاف مزاحمت کی جس کا مقصد کردستان کو ایک آزاد ریاست بنانا تھا جس پر ترکی حکومت نے نے کردوں کو کچلنے کی ٹھان لی بعد ازاں ترکی نے اس جماعت پی کے کے کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے لئے یورپی یونین سے لابنگ شروع کی سرمایہ دارانہ تمام ممالک نے ترکی کا ساتھ دیتے ہوئے کردستان ورکرز پارٹی کو 2اپریل 2004 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور اپنے ممالک میں اس کے کام پر پابندی عائد کی -اس سے پہلے 1980ء میں پی کے کے نے فرانس میں ترکی کی سفارتخانے پر حملہ کیا اس حملے کے بعد عالمی سطح پر پی کے کے نے ترکی کے مفادات کو اپنا ہدف بنایا ترکی سمیت بیلجئم، فرانس اور عراق میں کردستان ورکرز پارٹی نے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ترکی کو لوہے کے چنے چبوائے - 1990ء میں جب ترکی نے شام سے اس بنیاد پر جنگ کی دھمکی دی کہ وہ پی کے کے کی حمایت چھوڑے جس کے بعد کردستان ورکرز پارٹی نے اپنی ریاست کے حصول کے لئے ترکی کے خلاف خود کش حملے شروع کیئے۔
اپنی نوعیت کی تنظیموں میں پی کے کے ایسی تنظیم ہے جس میں 40% فیصد خواتین گوریلا ہیں اور اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کارکن جس طرح ہتھیاروں سے لیس ہوتا ہے اسی طرح زہنی طور پر نظریاتی افکار سے بھی واقف ہوتا ہے۔

2018 کے بعد اب پھر ترکی نے شامی کردوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی شروع کی ہے ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کردوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ کردوں میں جو دہشت گرد تنظیمیں ہیں انکے خلاف آپریشن کر رہا ہے جن میں پی کے کے اور وائی پی جے شامل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آپریشن کردوں کے خلاف ہے کیونکہ کرد شروع دن سے پی کے کے اور وائی پی جے کی حمایت کر رہے ہیں جس کی وجہ عراق و ایران اور ترکی سمیت کردستان میں بسنے والے تمام کرد اپنی آذاد ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

کردوں کی اپنی فوج اور اپنا نظام ہے بلکہ انکی اپنی جیلیں بھی ہیں یاد رہے کہ جب داعش نے شام پر حملہ کیا تو شام سے داعش کو بھی کردوں نے اتحادی فوج کے ساتھ ختم کیا حالانکہ ابھی بھی بڑی تعداد میں کردی جیلوں میں بہت سے خطرناک داعش کے دہشت گرد قید ہیں حالیہ دنوں میں جب امریکہ نے شام چھوڑنے کا اعلان کیا تو ترکی کو موقع ملا ترکی نے اعلان کیا کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک ہیں ترکی انکے خلاف آپریشن کرے گا-

ترکی کردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے لئے دو مؤقف رکھتا ہے:
پہلا، ترکی کہتا ہے کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک ہیں سوال بنتا ہے کہ اگر خطرناک ہیں تو یورپی یونین سمیت مسلم ممالک نے انکی فوج کو کیوں اپنا اتحادی بنایا داعش کے خلاف اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک نہیں بلکہ ترکی کے لئے خطرناک ہیں جس کی وجہ کردوں کا اپنی آذادی کے لئے ترکی سے جنگ ہے۔

دوسرا، ترکی کہتا ہے کہ شامی سرحد کے اندر ایک محفوظ علاقہ بنایا جائے جو کہ شامی سرحد پر کرد علاقہ ہے 32 کلو میٹر پر مشتمل ہے ترکی کہتا ہے اس علاقے کو آپریشن کر کے کرد جنگجوؤں سے خالی کروں گا اور اس علاقے میں شامی پناہ گزینوں کو لاؤں گا جو ترکی میں30 لاکھ شامی مہاجرین ہیں ان میں سے 20 لاکھ کو میں اس علاقے میں جگہ دوں گا دوسری طرف شام ترکی سے کہہ رہا ہے کہ میرے شامی مہاجرین مجھے دو میں خود انہیں جگہ دونگا اس علاقے میں آپریشن کی ضرورت نہیں لیکن ترکی شامی مہاجرین شام کو نہیں دے رہا ترکی کہتا ہے میں آپریشن ضرور کروں گا، 
اب سوال یہ بنتا ہے کہ مہاجرین شام کے ہیں شام بارہا کہہ چکا ہے کہ میرے مہاجرین مجھے دو ترکی کیوں نہیں دیتا؟ ترکی آپریشن پر بضد کیوں ہے؟ ترکی کو یورپی یونین سمیت کئی مسلم ممالک نے کہا کہ یہ عمل غلط ہے طیب اردگان نے کہا کہ اب کسی نے اس آپریشن کی مخالفت کی تو میں 20 لاکھ شامی مہاجرین انکے ملک بھیجوں گا ترکی آخری حربہ بلیک میلنگ استعمال کر رہا ہے۔

ترکی ان دنوں ترکی کردستان میں کردوں کے ایک گاؤں کو خالی کراکر ترکی کی تاریخ کا بڑا ڈیم بنانے جارہا ہے جس کی تجارتی راہداری و سیاحتی راہداری کردوں کے علاقوں سے گزرتی ہے جس کے لئے کردوں کو کچلنا ضروری ہے ورنہ وہ اپنے علاقے میں مزاحمت کریں گے اور ترکی کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔

یقیناً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ترکی اور کردوں کی جنگ امن اور دہشتگردی کی جنگ نہیں بلکہ یہ معیشت کی جنگ ہے اکنامک وار ہے عالمی سیاسی جنگ کا ایک اہم جز ہے جس سے ترکی کی مفادات جڑی ہیں دوسری طرف کردوں کی مزاحمت اپنی آذاد ریاست کے لئے ہے جو انکا بنیادی حق ہے۔

ساڑھے تین کروڑ پر مشتمل کردوں کی آذادی کی جزبوں کو کوئی سامراجی طاقت دبا نہیں سکتی - جہاں عربستان سے جداگانه حیثیت میں اردن، قطر، کویت کو الگ الگ ریاستیں بنا دی گئی وہاں کردوں کی کثیر تعداد کی بنیاد پر انکی اپنی ریاست ضروری ہے اکیسویں صدی میں انکا وہ حق کردوں کو ضروری دیا جائے جو سیورے معاہدے میں ان سے چھین لیا گیا تھا عراق، ایران اور ترکی کو چاہئے کہ وہ کردستان کو آذادی دیں پھر بطور مسلم ممالک اسکی مدد بھی کریں اور کردستان کی آذادی کو تسلیم کریں تواتر سے خونریزی کے بجائے امن و محبت، دین اسلام اور وقت کا تقاضا ہے۔

نجیب اللّٰہ زہری

Tuesday, 22 October 2019

بہترین انسان اور حکمران

سکول میں انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی "دی وزڈم آف چائنہ" جس میں شہزادہ کو اس کا استاد کہتا ہے، "ایک بہترین حکمران کے لیئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان سنی آوازیں بھی سن سکے". میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ صلاحیت ایک بہترین حکمران کے لیئے ہی ضروری نہیں بلکہ ایک بہترین انسان بننے کے لیئے ضروری ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بہترین انسان بننا نہیں چاہتے اور بہترین حکمران بننے کے خواب دہکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ بہترین انسان بن پاتے ہیں نہ ہی بہترین حکمران، اور بدقسمتی سے اگر ہم حکمران بن بھی جائیں تو بدترین حکمران بن کر اپنی محکوم عوام کو بزور شمشیر یہ باور کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہم بہترین حکمران ہیں۔ 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید۔۔
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔۔!
کہا جاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ ارتقاء کے مراحل میں رہتی ہے، انسانی سوچ بھی ارتقاء میں رہتی ہے لیکن یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ارتقاء سے کس حد تک مستفید ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارا ذہن تو پختگی حاصل کر لیتا ہے لیکن ہماری سوچ میں بالیدگی نظر نہیں آتی۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سوچ میں خودکفیل ہوتے ہیں، ایسے لوگ دنیا کے غموں اور تفکرات کے باوجود خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں اور حقیقی مسرت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ لوگ نہ ہی حطمہ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی حاویہ کی فکر ان کو ستاتی ہے، کیونکہ جب انسان فکر و سوچ کی پختگی حاصل کرتا ہے اس سے کچھ پہلے لاشعوری طور اس کو ایمان کی پختگی بھی حاصل ہوجاتی ہے اور پھر وہ نہ ہی مال و دولت جمع کرتا ہے اور نہ ناپ تول میں کمی۔۔ اور پھر اس کو وہ تمام صلاحیتیں بحکم ربی عطا کی جاتی ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ ان سنی آوازیں بھی با آسانی سن لیتا ہے اور دل میں موجود خشیت الہی اس کو ظالم بھی نہیں بننے دیتی۔ اور جب وہ انسانیت کی اس معراج کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کو حکمرانی بھی عطا کر دی جاتی ہے دنیاوی نہیں حقیقی حکمرانی، کیونکہ دنیاوی حکمرانی اس کے سامنے کھیل تماشہ بن چکی ہوتی ہے اور یہاں سے شروع ہوتا ہے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر۔۔۔!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Wednesday, 28 August 2019

لوکل بمقابلہ برینڈ

پچھلے دنوں ایک نوزائیدہ کالج میں جاب کے لیے جانے کا اتفاق ہوا....جسے ابھی جنم لیے مہینہ ہی گزرا تھا.....
ادارے کے پرنسپل صاحب نے فائل پکڑتے ہوئے پہلا سوال داغا...
"کتنا تجربہ ہے"
ہم نے متانت سے جواب دیا تجربہ تو غلطی سے سیکھنے کا نام ہے...ابھی کسی نے غلطی کرنے کا موقع نہیں دیا....🤪
جناب نے ہمیں گھور کر کہا آپ کا پہلے کسی کالج میں پڑھانے کا تجربہ نہیں ہے....
ہم نے جواب دیا جناب تجربہ بازار سےتو ملتا نہیں...کوئی تو پہلا کالج ہوتا ہے...جہاں سے شروع کیا جاتا ہے کیریر کا سفر....
بولے...آپ کسی "لوکل کالج " میں اپلائے کریں پہلے.....
پوچھا "لوکل کالج کسے کہتے ہیں....
جواب ملا....یہی جو گلی محلوں میں کھلے ہوتے ہیں....چھوٹے موٹے....
گستاخ سوال پھر زبان پہ آ ٹپکا....
گلی محلے میں کھلا کالج لوکل...اور مین روڈ پہ کھلا ہوا برینڈ.....🤔😅
اور چھوٹے موٹے کا اندازہ کیسے لگایا جائے....عمارت کے سائز سے....طلبہ کی تعداد سے یا کالج کی chain نہ ہونے سے.....
اور اگر ہم یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں کہ " لوکل کالج" کونسا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کالج خود کو "لوکل" سمجھتا ہے یا نہیں🤔🤔🤔
معاملہ اب صاحب کی برداشت سے باہر ہو چلا تھا....ہنکار کر بولے....اب یہ آپ کا مسئلہ ہے....
اور ہم اپنا مسئلہ اٹھا کر تشریف لے آئے....
گھر آ کر ڈکشنری کھولی اور لوکل کا مطلب دیکھا تو ہمارے علم پہ تصدیقی مہر لگ گئی کہ... لوکل کا مطلب تو مقامی" ہوتا ہے....یعنی آپ جس شہر کے رہنے والے ہیں وہاں کی چیزیں آپ کے لیے لوکل ہیں....مطلب مقامی....
اس حساب سے تو مندرجہ بالا کالج بھی "لوکل" ہی تھا....
دوسری طرف "برینڈ" کا مطلب نکلا "جلی ہوئی لکڑی کا داغ/ یا داغ کر نشان لگانا..."
تو بھلا نشان زدہ ہونے سے "بہتر ہونے" کا سرٹیفکیٹ کیسے مل جاتا ہے.....
نام ہی کافی ہے کا فارمولا میرے نزدیک بالکل غلط ہے....اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نام کمانا پڑتا ہے مگر "برینڈ" بن جانے کے بعد آپ ہر چیز میں "بہترین" ہو جاتے ہیں یہ کہیں نہیں لکھا....
خیر یہ برینڈڈ رویہ اب زندگی کے ہر شعبے میں دیکھنے کو ملتا ہے.....کپڑے، جوتے، ضرورت کا سامان...تعلیم اور شاید "رویوں" میں بھی....
بچپن میں اماں بازار جایا کرتیں تو ایک تھان سے کپڑا اتروا کر لاتیں اور دو تین بچوں کے اکٹھے کپڑے سی لیا کرتیں....
ویسے تو اب بھی یہی روایت ہے البتہ تھان الگ الگ ہوگئے ہیں اور ہم وردی سے باہر نکل آئے....😄
زمانے نے کروٹ لی اور کپڑوں اور جوتوں کے لیے تھان اور دکانوں کے بجائے پلازہ اور مال کھل گئے.....جہاں دکانیں تو وہی ضرورت کی اشیاء کی تھیں مگر نام اب مولوی انکل کی دکان, پٹھان کی دکان اور خان مارکیٹ جیسے ناموں سے نکل کر کھادی, لائم لائٹ اور نشاط جیسے ناموں میں منتقل ہوگئے....
پتہ چلا کہ یہ برینڈ کا زمانہ ہے....
اور اگر کسی کپڑے کا تعلق فلاں برینڈ سے ہے تو اُسے بہترین اور قیمتی کہا جائے گا....خواہ اس کی بنت اور پٹھان انکل کپڑے والے کے تھان کی بُنت ایک جیسی کیوں نہ ہو.....
یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اس سے ایک قدم آگے یہ بھی طے کرلیا گیا کہ پٹھان انکل کی دکان سے کپڑے خریدنے والے اور برینڈ کی دکان سے خرید کر پہننے والے انسانوں میں بھی بہترین اور کمتر کا مقابلہ ہوگا.....
یہ بات ابھی تک ہضم نہیں ہوسکی....😒
پھر یہ ٹرینڈ کپڑوں جوتوں اور ضرورت کی دوسری اشیاء سے نکل کر انسانوں تک جا پہنچا.....
یعنی نامور انسان کا ہر کام اور ہر بات بہترین ہی گنی جائے گی....گویا "نام ہی کافی ہے" کی پیروی کرتے ہوئے کام پر سے توجہ کم ہوتی گئی....😒
یہ رویہ دوسرے بہت سے شعبوں کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی پھیل گیا....
جو ادیب اور شاعر ایک بار مشہور ہوگیا اس کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بےکار تخلیق کیوں نہ کرے اس پہ بلا سوچےسمجھے داد دینا فرض ٹھہرا.....
اس بات سے انکار نہیں کہ نام بنانے اور برینڈ بننے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے....مگر یہ محنت اس پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ہونی چاہئیے....ورنہ ہم کپڑوں جوتوں سے لے کر انسانوں تک خوبصورت لفافوں میں گلی سڑی اشیاء خریدتے رہیں گے......نہ صرف خریدتے رہیں گے اس پر خوش بھی ہوتے رہیں گے.....

سیماب عارف
رہبر اور ایڈیٹر ای-میگزین پازیٹو پاکستان 

Sunday, 16 June 2019

باپ۔۔۔ ایک عظیم ہستی

پُرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا۔۔
خوشی نے دل سا دُکھایا تو باپ رونے لگا۔۔
یہ رات کھانستے رہتے ہیں کوفت ہوتی ہے۔۔
بہو نے سب میں جتایا تو باپ رونے لگا۔۔!
بہن روانگی سے پہلے پیار لینے گئی۔۔
جو کُچھ بھی دے نہ پایا تو باپ رونے لگا۔۔
بٹھا کے رکشہ میں کل شب روانہ کرتے ہوئے۔۔
دیا جو میں نے کرایہ تو باپ رونے لگا۔۔!
سات سال پہلے میں نے اپنے ابا کا چہرہ آخری بار دیکھا تھا، یوں لگتا ہے جیسے سات گھنٹے یا سات منٹ پہلے کی بات ہو۔ انسان کے والدین اُس کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتے ہیں اس بات کا اندازہ اُن کی زندگی میں لگایا نہیں جا سکتا، اُن کی اہمیت کا اندازہ اُن کے چلے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔
آج ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کا میچ شروع ہوا تو مُجھے شدت سے اپنے ابا کی یاد آنا شروع ہوگئی۔ مُجھے یاد ہے بچپن میں جب کبھی پاکستان بھارت کا میچ ہوتا تھا تو میرے ابا اُس دن دنیا کا ہر کام چھوڑ کر ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ جاتے تھے، ایسے میں جب کبھی وسیم اکرم، وقار یونس یا شعیب اختر کوئی وکٹ لیتے تو ابا کی آواز پورے گھر میں گونجتی تھی اور جب شاہد آفریدی یا سعید انور پہلی بال پر چھکا مارتے ہوِئے یا پھر باہر نکلتی ہوئی بال کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہوئے آؤٹ ہو جاتے تو وہ چند ناقابلِ سماعت اور ناقابلِ بیان القابات سے نوازتے...
مُجھے یاد ہے اُس دور میں انضمام الحق یا وسیم اکرم میں سے اگر کوئی وکٹ پر موجود ہوتا تو پاکستان کی جیت یقینی سمجھی جاتی تھی۔ اور میں اکثر اپنے ابا کو تنگ کرنے کے لیئے کہتا تھا کہ اگلی گیند پر انضمام الحق آؤٹ ہو جائے گا اور جب کبھی خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو پھر میں جہاں کہیں ہوتا ایک چپل گھومتی ہوئی آتی اور میں بچتا ہوا کمرے سے باہر نکل جاتا اور جب تک میچ کا کوئی نتیجہ نہیں آ جاتا میں کمرے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
جب بچپن سے نوجوانی میں داخل ہوا اور نوکری کا آغاز کیا تو مُجھے اپنے والد صاحب کی ایک بات سے بہت کوفت ہوتی تھی کہ میں شام کو آفس سے فارغ ہو کر ایک دو دوستوں کے ہمراہ راول ڈیم، ایوب پارک یا کسی اور جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا تھا ابا کی کال آتی تو کہتا کہ میں نو بجے تک گھر آجاؤں گا۔ اور وہ میری بات مان جاتے تھے، ٹھیک نو بجے ابا کی کال دوبارہ آنا شروع ہوتی تو میں موبائل آف کر دیتا تھا، پھر گیارہ بجے یا بارہ بجے کے قریب جب موبائل آن کرتا تو سب سے پہلی کال ابا کی ہوتی تھی مطلب اس دوران وہ لگاتار کال کرتے رہتے تھے۔ جب میری موٹرسائیکل گلی میں داخل ہوتی تھی تو وہ گھر کا گیٹ کھول کر میرے انتظار میں کھڑے ہوتے تھے، میں دروازے پر پہنچ کر اُن کو کہتا کہ آپ میرا انتظار نہ کیا کریں آپ سو جایا کریں میرے پاس گھر کی چابی ہوتی ہے میں اندر آسکتا ہوں آپ ویسے ہی بے آرام ہوتے ہیں۔۔۔ اور وہ پیار سے میرے گال پر ہاتھ پھیر کر ایک ہی بات کہتے کہ "بیٹا جس دن میں نہیں ہوں گا تو تمہیں پتہ چلے گا"۔۔ یا پھر "بیٹا جس دن خود باپ بنو گے اُس دن سمجھ آئے گی۔۔۔"۔
پھر یکم مئی 2012 کو میرے والد صاحب اچانک ایک دل کے دورے کے باعث اس دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے اور پھر اُس سے اگلے دن جب میں گھر گیا تو کوئی میرے انتظار میں دروازہ کھول کر نہیں کھڑا تھا۔ مُجھے اُس دن اندازہ ہوا کہ اب میں کیا کھو چکا ہوں۔ پھر وہ دن اور آج کا دن کوئی میرے انتظار میں دروازہ کھول کر کھڑا نہیں ہوتا۔
جب کبھی آفس میں کام کا بوجھ ذیادہ ہوتا یا کوئی اور پریشانی ہوتی تو میرے ابا میری پریشانی بھانپ کر اکیلے میں میرے پاس آتے اور میرے گال پر ہاتھ رکھ کر کہتے "کیا ہو گیا ہے بیٹا؟ کیوں پریشان ہو؟ میں ہوں نا! چھوڑ دے نوکری۔۔۔" اُن کا اتنا کہنا ہوتا اور میری ہر پریشانی ختم ہو جاتی۔ 
آج سات سال ہو گئے پریشانیاں اب بھی آتی ہیں مگر کوئی ہاتھ گال پر محسوس نہیں ہوتا، کان یہ سُننے کو بیقرار رہتے ہیں کہ "بیٹا کیا ہو گیا؟ پریشان نہ ہو۔۔۔ میں ہوں نا۔۔!"۔۔
باپ دنیا کی دھوپ میں ایک سایہ دار گھنا درخت ہے مگر اس درخت کی اہمیت کا اندازہ عموماً اس درخت کی چھاؤں ختم ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔۔
مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپ
اور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو
پہلے تو اس نے غم کے فوائد  بیاں کیے
پھر وقفہ لے کے کہنے لگا  خوش رہا کرو
(عباس تابش) 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے والدین کا سایہ آپ لوگوں کے سر پر تا دیر قائم رکھے، آمین!
سید فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Monday, 3 June 2019

تاریخ ساز سفر

یہ 1947 کے شروع کے چند ماہ کی بات ہے جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اُس کی ہندوستان کو یکجا رکھنے کی تمام کوششیں بیکار ہیں اور برصغیر کے مقامی اب آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ آزادی صرف گورے سے نہیں تھی بلکہ وہ برصغیر کی تقسیم چاہتے تھے تاکہ یہاں کے باسی اپنی زندگی اپنے رسوم و رواج کے مطابق بغیر کسی روک ٹوک یا فساد کے بغیر گزار سکیں۔
آخرِ کار جب ماؤنٹ بیٹن کی تمام کوششیں ناکام ہوتی ہوئی نظر آنے لگیں تو اُس نے ازمے کے ذمہ یہ کام لگایا کہ اب وہ برصغیر کی تقسیم پر کام شروع کر دے۔ تاکہ حکومت برصغیر کے مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں دی جا سکے، پلان کے فائنل ہونے تک اس پلان کی رازداری کو یقینی بنانے کی تاکید بھی کی گئی۔
اپریل 1947 میں ہونے والی گورنرکانفرنس میں پلان فائنل کیا گیا اور اگلے ہی ماہ مئی میں یہ پلان حتمی منظوری کے لیئے برطانیہ بھجوا دیا گیا جہاں برطانوی حکومت نے اس پلان کی منظوری دے دی۔ 31 مئی 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن برطانیہ سے واپس برصغیر پہنچا اور آتے ساتھ ہی اُس نے ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا، 2 جون کو یہ اجلاس ہوا جس میں انگریز عہدیداروں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مقامی لیڈران بھی موجود تھے جن میں نہرو، پٹیل، سردار عبدالرب نشتر، کریپلانی کے علاوہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان بھی موجود تھے۔ اس اجلاس میں برصغیر کے تمام صف اول کے لیڈران کے سامنے ایک پلان رکھا گیا جس کو سب نے اکثریت رائے کے ساتھ منظور کر لیا۔ یہ پلان 3 جون کو منظر عام پر لایا گیا اس ہی وجہ سے اس کو 3 جون کا پلان بھی کہا جاتا ہے، اس پلان کے چند چیدہ چیدہ نکات یہ تھےٖ:
x پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ممبران ایک میٹنگ کریں گے جس میں پنجاب کی تقسیم پر بحث کی جائے گی اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے بھی تقسیم کے حق میں رائے دی تو معاملہ از خود گورنر جنرل کے پاس چلا جائے گا جو ایک کمیشن قائم کرے گا جس کو اختیار ہو گا کہ وہ مسلم اکثریت اور غیر مسلم اکثریتی علاقوں کی حدود کا تعین کرے۔
x سندھ اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ وہ موجودہ حکومت میں رہے گی یا پھر نئی ریاست کا حصہ بن کر نئی اسمبلی کے طور پر کام کرے گی۔
x شمال مغربی سرحدی صوبہ کے مستقبل کے لیئے یہ طے کیا گیا کہ اس صوبہ میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے گا اور اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے صوبہ کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا تاہم ریفرنڈم 1946 میں ہونے والے ریفرنڈم کے الیکٹورل کالج کے ذریعے کروائے جائیں گے۔
x بلوچستان کو بھی اس کانفرنس میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔
x بنگال کی تقسیم کے لیئے یہ طے کیا گیا کہ سلہٹ میں ریفرنڈم کروایا جائے گا جس میں بنگال کے نمائندگان اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ موجودہ نظام میں رہتے ہوِئے بھارتی ریاست آسام کا حصہ رہیں گے یا پھر آسام سے الگ ہو کر نئے قائم ہونے والے مشرقی بنگال کا حصہ بنیں گے۔
یہ قرارداد تقسیم ہند کی ابتداء تھی تاہم نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سازش کے ساتھ مسلم لیڈران کو دھوکہ دیا اور گاندھی کو اعتماد میں لے کر تقسیم میں چال بازی سے کام لیا اور مسلم لیڈران کو مجبوراً آخری وقت پر صرف اس لیئے پلان منظور کرنا پڑا کہ اگر پلان میں تاخیر ہوتی تو اس کا فائدہ کسی صورت پاکستان کو نہ ہونا تھا۔
پھر اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر منتخب ہوئے جبکہ وزیراعظم کے لیئے لیاقت علی خان سے بہتر انتخاب کوئی ہو بھی نہیں سکتا تھا، ٹھیک دو ماہ بعد ماہِ رمضان میں آخری عشرے کی ستائیسویں شب 14 اگست 1947 کو برصغیر پاک و ہند دو ریاستیں بن کر دنیا کے نقشے پر اُبھریں جن میں سے ایک ہندوستان کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ حصے کو دنیا میں پاکستان کے نام سے شناخت ملی۔
پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے صدر کے طور پر قائداعظم بلا مقابلہ منتخب پو گئے۔

پھر ایک نیا امتحان شروع ہوا جس میں اُس وقت کے تمام لوگوں کا برابر کا حصہ تھا کسی ماں نے اپنی شیر خوار اولاد کو موت کی نیند سُلا دیا جبکہ کسی بھائی کے سامنے اُس کی جوان بہن کی عصمت دری کی گئی لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنا سب کُچھ چھوڑ کر ایک اسلامی فلاحی ریاست کی جانب چل پڑے ان لوگوں میں کئی بزرگ بھی شامل تھے جو یہ جانتے تھے کہ آزادی کے دوران ہونے والے فسادات میں اگر وہ بچ بھی گئے تو وہ ذیادہ دیر آزاد فضا میں زندہ نہیں رہ پائیں گے لیکن اُن کے دلوں میں ایک یقین تھا کہ اُن کی اولاد اور آنے والی نسلیں ایک آزاد فضاء میں سانس لیں گی۔ وہ بے دھڑک دینی فرائض سرانجام دیں گے جہاں اُن کی ماں بہنوں کی عزت و آبرو محفوط ہو گی۔ 

اسی پاکستان میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں بہت سے ہیروز دیئے جن میں روشن خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، ارفع کریم، وسیم اکرم، جاوید میانداد، ماجد خان، عبدالحفیظ کاردار، حنیف محمد، عمران خان، شاہد خان آفریدی، یونس خان نے دنیا میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا یہاں میں نے ایک نام شامل نہیں کیا۔ وہ نام ان سب سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اپنی مثال آپ ہے۔ 
میں 2 جون 2015 کو راولپنڈی میں ایک مشہور بازار چوہڑ چوک میں کھڑا اپنے ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا کہ چوہڑ چوک میں واقع ایک پٹرول پمپ کے باہر ایک آدمی کھڑا تھا میں نے اُس آدمی کو دیکھا تو مُجھے اُس کی شکل کُچھ جانی پہچانی سے لگی وہ آدمی میری توجہ کو بھانپ گیا اور میری طرف بڑھ کر سلام کے لیئے ہاتھ آگے بڑھایا، میں نے نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا اور دریافت کیا کہ کیا میں اس آدمی کو جانتا ہوں؟ اُس آدمی نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ شاید آپ نے مُجھے کہیں دیکھا ہو دنیا میں ایک شکل کے کئی لوگ ہوتے پیں، میں اُن کی بات پر مطمئن ہو گیا لیکن ذہن ابھی تک منتشر تھا اُنھوں نے مُجھ سے میرے بارے میں کُچھ سوال کیئے اور میرے مُستقبل کے لیئے دعا کی اتنے میں ایک موٹرسائیکل پر ایک نوجوان آیا اور وہ اُس کا تعارف مُجھ سے کروانے لگے، "یہ میرا بیٹا ہے! ایف ایس سی کا طالب علم ہے یہ مُجھے روزانہ یہاں سے گھر لے جانے کے لیئے موٹرسائیکل پر آتا ہے"۔ 
میں نے اُن کے موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے پہلے ہی ایک شکوہ کیا کہ آپ نے مُجھ سے تو سب کُچھ پوچھ لیا اپنے بارے میں کُچھ نہیں بتایا۔ وہ کہنے لگے، "بیٹا میں یہاں ڈولفن سنوکر کلب میں کوچ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں اور اس کے عوض مُجھے ماہانہ بیس ہزار روپے مل جاتے ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے عزت کے ساتھ گزر بسر ہو رہا ہے"۔۔ یہ کہہ کر وہ موٹر سائیکل کی طرف بڑھنے لگے اور میرے سے ہاتھ ملایا تو میں نے اُن کا ہاتھ نہایت مضبوطی کے ساتھ جکڑ لیا، "آپ محمد یوسف ہیں؟ پاکستان کی شان تین بار عالمی چیمپیئن اسنوکر کی دنیا کا ایک لیجنڈ!"۔ وہ میری بات کے جواب میں مسکرائے اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ اور موٹرسائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے۔ میں اپنی زندگی میں اتنے بڑے لیجنڈ سے ملوں گا یہ کبھی نہیں سوچا تھا لیکن ان حالات میں ہوگا وہ لیجنڈ یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ بات آج بھی یاد آتی ہے تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے!
ایک آدمی جس نے تقریباً دو عشرے پاکستان کا پرچم دنیا میں لہرایا پاکستان کی حکومت نے اس کو بدلے میں کیا دیا؟ بیس ہزار کی ایک پرائیویٹ کلب میں نوکری؟۔
میں نے سوچا کہ یہ ہرگز وہ اسلامی فلاحی ریاست نہیں ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا جہاں اپنے محسنوں کو سڑکوں پر دھکے کھانے کے لیئے چھوڑ دیا گیا ہے!
میں آج اہل اقتدار لوگوں سے التجاء کرتا ہوں کہ اپنے محسنوں کی قدر کریں یہ ہماری عزت ہیں انھوں نے اپنی پوری زندگی ہمیں دی ہے خدارا ان کو ایک با عزت زندگی گزارنے میں مدد کریں اور اب تو ہمارے ملک کے سربراہ بھی ایک کھلاڑی ہیں اُن کو چاہیئے کہ ایسے اقدامات کریں کہ پھر کوئی حنیف محمد کی طرح کسمپرسی کے عالم میں نہ مرے۔ اور روزِ قیامت اپنے بانیان کو منہ دکھانے کے قابل ہوں ہم لوگ کہ ہم نے اُن کے پاکستان میں اسلامی نظام نافز کیا، اپنے محسنوں کی قدر کی اُن کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہیں کیا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے حکمران اپنے محسنوں کی قدر کرنا سیکھیں اور اُن کو عزت دیں جنھوں نے پاکستان کا نام وہاں روشن کیا جہاں لوگ پاکستان کے نام سے واقف تک نہیں تھے۔

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹیو پاکستان

Monday, 27 May 2019

یومِ تکبیر

آج سے قریب 21 برس قبل ایک شام اشفاق احمد، منیر احمد خان، ایئر چیف مارشل پرویز مہدی قریشی، ایڈمرل فصیح بخاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، وزیر خزانہ سرتاج عزیز، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر مشاہد حسین سید، سول و ملٹری قیادت اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ایک میٹنگ میں اس بات پر غور کر رہے تھے کہ اگر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب ایٹمی دھماکوں کی صورت میں دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ چند دن قبل جی ایٹ سربراہ کانفرنس نے پاکستان کو اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اگر بھارتی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جن میں عالمی برادری کی طرف سے بائیکاٹ اور پابندیاں شامل تھیں۔
ایسے میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر مشاہد حسین سید وہ پہلی آواز بنے جس نے عالمی دباؤ برداشت کر کے ایٹمی دھماکوں کا جواب ایٹمی دھماکوں سے دینے کا مشورہ دیا۔ اور پھر اس میٹنگ میں موجود دیگر لوگوں نے اُن کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کو ایک دلیرانہ فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ایسے میں ایٹمی سائنسدانوں سے جب اُن کی رائے مانگی گئی تو اُنھوں نے یک زباں ہو کر کہا کہ دھماکے کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی حکومت کا فیصلہ ہونا چاہیئے لیکن وہ حکومت کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ حکومت اگر دھماکے کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اُس کو کسی قسم کی سُبکی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
پھر اگلے ہی روز 28 مئی 1998 کو پاکستان کی تمام اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت بلوچستان کے علاقہ چاغی میں موجود تھی جہاں پاکستان نے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے دُشمن کے اوسان خطا کر دیئے۔ اور بھارت جو اس قسم کے رد عمل کی بالکل توقع نہیں کر رہا تھا پاکستان کے دھماکوں کے نتیجے میں سہم گیا۔
بحرحال پاکستان کو ان ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا کے کئی ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان پر کئی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ وہ وقت پاکستان کے لیئے ایک بے حد مشکل وقت تھا جب دشمن تو دشمن پاکستان کے کئِی دوست ممالک نے پاکستان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان ان دھماکوں کے نتیجے میں دنیا کی ساتویں جبکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر سامنے آیا۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے لیکن پاکستان نے یہ طاقت کبھی جارحیت کے لیئے نہ ہی استعمال کی اور نہ ہی کبھی مستقبل میں ایسا کرے گا۔ بلکہ پاکستان نے ایٹمی تجربات اس لیئے کیئے کہ خطہ کو جنگ سے دور رکھا جائے۔ اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جائے۔ 
28 مئی 1999 کو ملک میں پہلی مرتبہ یومِ تکبیر سرکاری طور پر منایا گیا اور اس کے بعد سے آج تک ہر سال یومِ تکبیر نہایت شان و شوکت سے منایا جاتا ہے، ملک کے طول و عرض میں دن کا آغاز توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اور ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ملکوں کی تاریخ میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب مشکل فیصلے لینے ضروری ہو جاتے ہیں اور یہ فیصلے وقتی طور پر مشکل ضرور ہوتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمام مشکلات کا خاتمہ بھی ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان پر سے تمام پابندیاں ہٹ چکی ہیں اور دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ نہ صرف کاروبار کر رہے ہیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، سی پیک اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ سی پیک اور OBOR ایسے پراجیکٹ ہیں جن کے ذریعے پاکستان ترقی کی منازل نہایت تیزی کے ساتھ طے کر رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہاکستان دنیا کی ایک عظیم معیشت ہو گا۔ پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ابھی صرف 70 سال کا عرصہ ہوا ہے اور اس قلیل عرصہ میں پاکستان نے دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ جن لوگوں کو یورپ اور امریکہ کے سامنے پاکستان کُچھ نظر نہیں آتا اُن لوگوں سے میری التجاء ہے کہ وہ ذرا دنیا کی تاریخ پرایک سرسری سی نگاہ دوڑائیں۔ وہ امریکہ جو آج ورلڈ پاور ہے وہاں آج سے تین سو سال پہلے قتل و غارت گری عام تھی لاقانونیت کی انتہا تھی اور وہ برطانیہ جس کی مثالیں آج ہمارے یہاں دی جاتی ہیں وہاں آج سے دو ڈھائی سو برس پہلے غنڈہ گردی کا راج تھا قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ 
پاکستان کا مقابلہ اس لیئے بھی دنیا کے دوسرے ممالک سے نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اپنی نوعیت کا دوسرا ملک ہے جو دنیا کے مختلف حصوں سے مسلمانوں کو لا کر آباد کیا گیا، دنیا میں ملکوں کی تاریخ میں سال دنوں کے برابر ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے پاکستان ابھی ایک نوزائیدہ ملک ہے جو اپنی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور چھوٹی سی تاریخ میں تین جنگیں لڑنے اور دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو عشروں سے برسرِ پیکار ہے اور اس جنگ میں عالمی امداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہر سال چند سو مہاجرین کو قبول کرتے ہیں اور دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی یہ تعداد ہزاروں میں بھی نہیں ہے جبکہ پاکستان ایک غریب ملک ہونے کے با وجود لاکھوں افغان مہاجرین کو گزشتہ تین عشروں سے سنبھالے ہوئِے ہے اور دنیا میں واحد ملک پاکستان ہے جہاں افغان مہاجرین کو کاروبار کی اجازت ہے ورنہ دنیا کے کسی بھی اور ملک میں مہاجرین کر کاروبار کی اجازت نہیں ہوتی اور وہ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ کیمپس میں اقوام متحدہ کی امداد پر زندگی گزارتے ہیں اگر ہم ان سب چیزوں کا بغور معائنہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارا ملک محدود وسائل کے باوجود کتنا بوجھ برداشت کیئے ہوئے ہے۔ اور مُجھے یقین ہے کہ جلد ہمارا ملک پاکستان ایک عظیم الشان ریاست کی صورت میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار کیا جائے گا، پاکستان آج بھی دنیا کا سب سے خوبصورت ملک ہے اور آئندہ بھی ایک عظیم الشان مستقبل پاکستان کا منتظر ہے!
پاکستان زندہ باد!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 16 May 2019

حضرت خدیجہ ایک عہد ساز ہستی

؎اے شمع شبستان دل سرور کونین 
اے روشنئ انجمن سید ثقلین!
اے مصدر انوار حریم رخ حسنین
اے مومنۂ ہستی و صدیقۂ دارین
تاریخ میں اتنا بڑا اعزاز کہاں ہے
حد یہ کہ تو خاتون قیامت کی بھی ماں ہے
تاریخ اسلام جہاں کئی بے مثل مردوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے وہیں اس بات کو فراموش کرنا بھی مشکل ہے کہ چمن اسلام کی آبیاری میں مجاہدات اسلام کا کردار بھی بے مثل رہا ہے ۔ ۱۰ رمضان المبارک ہمیں اس عظیم خاتون کی یاد دلاتا ہے جو ملیکۃ العرب بن کر بیت رسولﷺ  میں داخل ہوئیں اور کنیز رسولﷺ بن کر اپنی تمام زندگی خدمت اسلام میں گزار دی۔ حضرت خدیجۃ الکبری وہ ہستی ہیں جو رہتی دنیا تک کی عورتو‏ں کے لیے مینارۂ نور ہیں۔ 
؎ پھیلا تیرے دم سے رخ ہستی پہ اجالا 
ظلمات کو اک صبح ابد رنگ میں ڈھالا
حضرت خدیجۃ الکبری کا تعلق مکہ قبیلہ قریش سے تھا ۔ آپ اس زمانے کی مالدار خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔ بے انتہا مال اور مرتبے کے باوجود آپ نے اس دور جاہلیت میں جس طرح زندگی گزاری وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی اعلٰی اخلاق کی وجہ سے آپ کو اہل عرب طاہرہ کے نام سے جانتے تھے ۔ ٤٠ برس کی عمر میں اپنا سامان تجارت حضرت محمدﷺ کے حوالے کیا اور پھر واپسی پر کردار رسالت نے ایسی دھاک بٹھائی کی آپ ﷺ کو رفیق حیات منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں تاریخ آدمیت کو خانہ نبوت میں وہ ہستی نظر آئی جو ہر موقع، ہر مقام، ہر منزل پر معاون و مددگار نظر آئیں۔ غار حرا کی خلوت ہو یا شعب ابی طالب کی تنہائی آپ کا ساتھ ہمیشہ رسالت کی ڈھارس بنا رہا۔ وہ بی بی جس کے خزانوں کا شمار نہیں تھا اس نے سب کچھ رسالت کے قدموں میں نچھاور کر کے عاجزی اور انکساری کی حیات کو ترجیح دی۔ 
حضور ﷺ حضرت خدیجہ سے بہت محبت کرتے۔ آپ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی رسول خدا اپنی اس وفادار بیوی کو بہت یاد کرتے۔ حافظ ابن کثیر کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایکبار سوال کیا کہ حضرت خدیجہ کو یاد کرنے کی وجہ کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ:
خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالٰی نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

؎ سرمایہ انفاس پیمبر ترا کردار
زہرا کی طبیعت سے بھی نازک تری گفتار
ارباب جہالت کو کچلتی ہوئی رفتار
اے دین مکمل کی لیے دولت بیدار
اسلام کی عظمت تری مرہون رہے گی
تا حشر نبوت تری ممنون رہے گی
آج کی عورت کے لیے جناب خدیجہ کی ذات ایک مکمل لائحہ عمل ہے۔ آپ نے بحیثیت عورت ہر کردار میں ایک ایسا سبق چھوڑا جو رہتی دنیا تک کی عورت کے لیے ایک مکمل نمونہ حیات ہے۔ وہ جو اسلام کو محض پابندیوں کا مذہب تصور کرتے ہیں حضرت خدیجہ نے اپنی حیات سے یہ ثابت کیا کہ جو عزت و توقیر اسلام نے عورت کو دی وہ اسی مذہب کا طرہ امتیاز ہے۔
حضرت خدیجہ نے اگرچہ اسلام کو اس زمانے میں دیکھا جب اسلام ابھی پنپ رہا تھا ۔ ہجرت مدینہ کے بعد اسلام کے عروج کا زمانہ آپ کی رحلت کے بعد آیا لیکن آپ کی نگاہ جہاں بین نے عظمت اسلام کو پرکھ لیا تھا اس لیے آپ بھرپور طریقے سے معاونت رسالت کے ذمہ داری ادا کرتی رہیں۔ ٓا پ کسی ذاتی مفاد اور لالچ کے بغیر اسلام کی خدمت میں مشغول رہیں۔ آ پ کو یقین تھا کہ جو پیغام ذات محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے وہ دائمی اور ابدی ہے۔ آپ کے کردار کی یہی مضبوطی اور ثابت قدمی آج کے پر آشوب دور میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے کی یہ مت دیکھو کہ کیا ہوگا بلکہ یہ دیکھو کہ میں بحیثیت فرد کیا کر سکتا ہوں۔ جب نگاہیں آسمان پر ہوتی ہیں اور امید صرف رب سے تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔
دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ ذہنی آسودگی کا فقدان ہے۔ اس کی بڑی وجہ قناعت کی کمی ہے۔ جناب خدیجہ کی ذات نے اپنے رب کی ذات پر کامل یقین سے ثابت کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں صرف وہ رب ہی ہے جو مددگار ہے۔ آپ چاہے حالت عشرت میں تھیں یا شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں ہر لمحہ شاکر اور قانع رہیں۔ 
جہاں تک خانگی ذمہ داریوں کی بات رہی تو آپ ایک مثالی بیوی اور مثالی ماں بن کر سامنے آئیں۔ ایک طرف نبوت کے ابتدائی ایام میں شوہر کی معاون رہیں، ڈھارس بندھاتی رہیں تو دوسرے جانب جناب فاطمہ جیسی عظیم بیٹی کی پرورش کی۔ صحیح بخاری اور مسلم میں درج ہے کہ ایک مرتبہ آپ کھانا لے کر رسول خدا ﷺ کے پاس جا رہی تھیں کہ پروردگار عالم نے حضرت جبرائیل کو پیغام دے کر بھیجا کہ جاو اور میرے حبیب سے کہو کہ خدیجہ آپ ﷺ کی طرف آرہی ہیں۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان سے کہیں کہ پروردگار آپ پر درود و سلام بھیجتا ہے۔ ان کو خوش خبری سنا دیں کہ اللہ نے ان کے لیے جنت میں جواہرات کا قصر مخصوص کیا ہے جہاں نہ شور و غوغہ ہوگا نہ کوئی تھکاوٹ۔ 
آپ کی رحلت کے سال کو رسول خدا ﷺ نے عام الحزن قرار دیا۔ پروردگار سے دعا ہے کی ہمیں سیرت حضرت خدیجہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہاں قصر نبوت میں چراغاں کیا تو نے
ایماں کو اک صبح درخشاں کیا تو نے
اسلام کے ہر درد کا درماں کیا تو نے
جو کچھ تھا تیرے گھر میں وہ قرباں کیا تو نے
جب تک یہ زمانہ یونہی پرواز کرے گا
اسلام تیرے نام پہ سو ناز کرے گا

 سیدہ ندرت فاطمہ

Saturday, 11 May 2019

چھوٹی سی نیکی

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. (سورہ البقرہ  -۱۸۳)
ترجمہ: اےایمان والو! تم پر روزے فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم متقی ہو جاؤ۔
رمضان المبارک کا مہینہ جہاں بہت سی رحمتیں اور برکتیں لے کر آتا ہے، اسی طرح ہم انسانوں میں خوفِ خدا اور اس کی مخلوق کی خدمت کا جذبہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ سب کوشش کرتے ہیں کہ اس ماہِ مبارک میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کما لیے جائیں۔ کوئی راشن پیکٹس بنا کر تقسیم کرتا ہے تو کوئی افطار کیمپس لگا کر اس کا ثواب کماتا ہے، غرض یہ کہ سب حسبِ توفیق اور اپنی بساط کے مطابق اللہ کی رضا کی خاطر مخلوقِ خدا کی خدمت کرتے ہیں تاکہ آخرت میں اجرِ عظیم سے نوازے جائیں۔ 
جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (سورہ روم- ۳۸)
ترجمہ : تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں۔
یہ ماہِ مبارک رحمتوں، برکتوں، نیکیوں، صبر و شکر، ایثار و قربانی، رب کی رضا و خوشنودی کا مہینہ کہلاتا ہے اور ہر مسلمان کے لیے اس مہینہ کی بہت اہمیت ہے، عبادات کے ساتھ ساتھ ہم ہر طرح کے نیک کام کر کے اس ماہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی جستجو اور کوشش میں لگےرہتے ہیں۔
اس مقصد کیلئے جناب عبداللہ خان صاحب رہبر پازیٹو پاکستان نے پازیٹو پاکستان کی طرف سے سیکٹر جی-۱۱، اسلام آباد میں رمضان افطار کیمپ کا اہتمام کیا ہے جہاں پورے رمضان المبارک افطار کے وقت دسترخوان سجایا جاتا رہے گا اور الحمدللہ ہر روز بہت سے افراد اس دسترخوان سے سیر ہو کے جاتے ہیں۔
اس نیک عمل میں جناب وقار احمد صاحب رہبر پازیٹو پاکستان کے ساتھ امبیسیڈرز ، مِشن ہولڈرز اور  ممبرز مل کر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس نیکی کے بدلے سب کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور سب کی عمر و کمائی میں برکت عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
 

تحریم چوہدری
مِشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

ماں

؎ ایک مُدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اِک بار کہا تھا "مُجھے ڈر لگتا ہے"

کاغذ اور پینسل اُٹھا کر لکھنے بیٹھا تو زندگی میں پہلی مرتبہ الفاظ کم پڑ گئے ہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا لکھوں اور کہاں سے آغاز کروں۔ ماں کتنا خوبصورت رشتہ ہے یہ مُجھ سمیت اُن تمام لوگوں سے کوئی پوچھے جو ماں کا نام آتے ہی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ تین برس سے جب کبھی ماں کے بارے میں بات ہوتی ہے تو ایک چہرہ میری نظروں کے سامنے گھومنا شروع ہو جاتا ہے۔ بےقراری اور بے بسی کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ 
کاش کہ میرے بس میں ہوتا کہ میں گزرے ہوئے لمحات کو واپس لانے کی قدرت رکھتا تو وہ تمام لمحات واپس لے آتا جو میں نے اپنی ماں کے ساتھ گزارے۔ آج تین برس بعد بھی میں اپنی ماں کے ہاتھ کا لمس اپنے گال پر محسوس کرتا ہوں تو پریشانی اچانک ہی جیسے غائب ہو جاتی ہے۔ دنیا کی وہ واحد ہستی جو میرے چلنے کے انداز اور میری ہنسی میں چھپی پریشانی کو بھانپ لیتی تھی۔ میں گھر سے کوسوں دور کسی تکلیف میں ہوتا تو گھر پر موجود میری ماں کو پتہ چل جاتا تھا۔ 
آج جب میں لکھنے بیٹھا تو میں پہلی مرتبہ یہ نہیں جانتا تھا کہ میں نہ لکھنا کیا ہے، کیونکہ میری گزشتہ تمام تحاریر قارئین کے لیے تھیں جبکہ یہ تحریر میرے اندر چھپے ہوئے غبار کو دھونے کی ایک ناکام کوشش ہے ناکام کوشش اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ خلا کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ اپنا سب کُچھ لُٹا کر بھی میں اپنی ماں کی ایک جھلک نہیں دیکھ سکتا۔ اب اس دنیا میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ میری خاموشی میں پنہاں میری پریشانیاں مُجھ سے بہتر جانتی ہے، اب کوئی مجھے زبردستی روٹی کھانے کا نہیں کہتا۔ اب کوئی میری ہلکی سی خراش پر تڑپتا نہیں ہے۔
زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ اُن کے چھن جانے پر ہوتا ہے، یہی حال رشتوں کا بھی ہے اور ان رشتوں میں سرِفہرست والدین کا رشتہ ہے۔ 
میں ہمیشہ سے اپنی ماں کی ایک عادت سے چڑتا تھا اور روزانہ ایک ہی بات کہتا تھا "امی مجھے بھوک نہیں ہے آپ فکر نہ کریں جب بھوک لگے گی تو خود کھانا کھا لوں گا" اور میری ماں کا ایک ہی جواب ہوتا تھا "بیٹا جب میں نہیں ہوں گی تو تمہیں اندازہ ہوگا"۔۔
پھر ایک تاریک ترین رات وہ مجھے اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئیں وہ رات اتنی تاریک تھی کہ آج بھی سوچتا ہوں تو دل کانپ اُٹھتا ہے۔۔۔۔ پھر وہ دن اور آج کا دن کسی کو میرے کھانا کھانے یا نہ کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی مُجھے بار بار کھانا کھانے کا نہیں کہتا اور آج میرے کان یہ سُننے کے لیے بےتاب رہتے ہیں کہ "بیٹا کھانا کھا لو! اچھا بھوک نہیں ہے تو تھوڑا سا کھا لو، دیکھو تمہاری پسند کے دال چاول بنائے ہیں بیٹا کُچھ تو کھا لو، اچھا ٹھیک ہے تُم نہیں کھا رہے تو میں بھی نہیں کھا رہی کھانا"۔ 
اور پھر وہ جب تک مُجھے کھانا نہیں کھلا دیتی تھیں تب تک چین سے نہیں بیٹھتی تھیں۔
میری پسند نا پسند مُجھ سے بہتر میری ماں جانتی تھی۔ میں اپنی زندگی کی کئی باتیں خود بھول چکا ہوتا تھا مگر میری ماں کو میری زندگی سے جُڑی ہر بات یاد رہتی تھی، میری ماں مُجھے اکثر کہتی تھیں کہ مُجھے بیٹے نہیں پسند، مُجھے بیٹے کی کبھی خواہش نہیں رہی۔ اور میں اُن کی اس بات پر اندر ہی اندر کُڑھتا تھا جلتا تھا پھر ایک دن اُنھوں نے اکیلے میں مُجھے بتایا کہ وہ زندگی بھر مُجھ سے ایک بات چھپاتی رہیں تھیں اور وہ یہ بات تھی کہ دنیا کی ہر ماں کی طرح اُن کو بھی بیٹا چاہیئے تھا اور وہ میرے پیدا ہونے پر جتنا خوش ہوئی تھیں پھر کبھی اُتنا خوش نہیں ہوئیں۔۔۔۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی تھی پہلی بار میری ماں نے مُجھے بتایا تھا کہ میں اُن کی خواہش تھا اُس دن میں اتنا خوش تھا کہ میں پوری رات سو نہیں پایا تھا، کبھی چادر میں منہ چھپا کہ رونا شروع کر دیتا اور کبھی مُسکرانا شروع کر دیتا۔۔۔۔ وہ خوشی کا آخری دن تھا، وہ روشنی کا آخری دن تھا، وہ میری ماں کی زندگی کا آخری دن تھا اور وہ نقطۂ آغاز تھا ایک تاریک رات کا، کبھی نہ ختم ہونے والی تاریکی کا، ایسی رات جس کی کوئی صبح ہی نہیں تھی ایسی تاریکی جسے دنیا کی کوئی شمع، کوئی مشعل نہیں بُجھا سکتے۔ 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ میری ماں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور آپ سب کے سروں پر والدین کا سایہ تا دیر قائم رکھے، آمین یا رب العالمین!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Wednesday, 8 May 2019

کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید۔۔
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔۔!
زبان، فن، ٹیکنالوجی غرض یہ کہ دنیا کی ہر چیز ارتقاء کے مرحلے میں ہے۔ آج بیٹھے بیٹھے میں نے سوچا کہ وقت غیر محسوس طریقے سے کتنی جلدی بدلتا ہے۔ مثال کے طور پر آج 2019 میں سمارٹ فونز کی دنیا میں اگر ہمارا کوئی دوست یا رشتہ دار ہمیں کچھ دن کال نہیں کرتا تو ہم اس سے ناراض ہو جاتے ہیں یا پھر اگر کوئی ہماری کال ریسیو نہ کرے تو ہم اس کے ساتھ جینا مرنا ہی ختم کر دیتے ہیں۔
اب ذرا بیسویں صدی کے آخری چند سالوں کا آج کے دور سے ایک تقابلی موازنہ کر لیتے ہیں۔ آج سے قریب دو عشرے قبل  بہت کم لوگوں کے پاس لمبے اینٹینے والے موبائل فون ہوا کرتے تھے یہ موبائل ذیادہ تر گھر پر چارجنگ پر ہی لگے رہا کرتے تھے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے ملک میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرنے والا ہے اور ان لوگوں کو پیشگی اطلاع مل چکی ہے۔ یا پھر صاحب موبائل پاکستان سے امریکہ پیدل سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔لیکن آپ لوگ غلط سوچ رہے ہیں۔
آج سے 20 سال قبل اگر کوئی غلطی سے بھی کسی کی کال موبائل پر ریسیو کر لیتا تو کال کرنے والے کو غشی کے دورے پڑنے شروع ہو جاتے تھے۔ دوسری جانب جو کال ریسیو کرتا تھا وہ کال کرنے والے کو ایسے ایسے القابات سے نوازتا تھا جو میں ایک اسلامی ریاست کے نوجوانوں کے میگزین میں بیان بھی نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس دور میں کال ریسیو کرنے پر بھی رومنگ چارجز ادا کرنے پڑتے تھے۔
آج اکیسویں صدی میں کمپیوٹر گھر گھر کی زینت بن چکا ہے۔ بڑوں سے لے کر بچوں تک سب اس پر یکساں عبور رکھتے ہیں.
بیسویں صدی کے آخری چند سالوں میں پانچ فٹ اونچا اور دو فٹ چوڑا کمپیوٹر 10 کلومیٹر کے رقبہ میں کسی ایک گھر میں ہوا کرتا تھا جس کی فلاپی ڈسک ہی کم و بیش ڈھائی کلو کی ہوا کرتی تھی۔
میں شاید فرط جذبات میں کچھ ذیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کر گیا، چلیں ہر چیز کو 50 فیصد پر لے آئیں یا بس 25 فیصد آخری اس سے کم ہرگز نہیں ہوگا۔ اور بچوں کے لیئے کمپیوٹر آن کرنے کے لیئے ایک شرط ہوا کرتی تھی کہ گھر کے تمام بزرگوں کے سامنے وہ سوپر ماریو یا کونٹرا گیم کھیلیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بچہ اکیلے میں انٹرنیٹ استعمال کر لےاور اس کے ذہن پر کوئی منفی اثرات مرتب ہو جائیں۔ ان سادہ لوح بزرگوں کو کون سمجھاتا کہ بغیر ٹیلی فون لائن کے اس دور میں انٹرنیٹ استعمال کرنا ناممکن ہوا کرتا تھا اور وہ لوگ خود فون سننے کے لیئے دو گلیاں چھوڑ کر مائی حمیداں کے گھر جایا کرتے تھے جن کا پوتا کچھ عرصہ قبل ولایت سے لوٹا تھا۔
غرض یہ کہ ہر دور کے اپنے کچھ تقاضے ہیں آج جو قابل قبول ہے وہ آج سے کچھ عرصہ قبل ہرگز قابل قبول نہ تھا اور آج جو گناہ تصور کیا جاتا ہے کچھ وقت بعد رسوم و روایات کا حصہ ہو گا۔
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے!!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹیو پاکستان

Friday, 3 May 2019

میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں

جو موت سے نہ ڈرتا تھا بچوں سے ڈر گیا
اک رات خالی ہاتھ جب مزدور گھر گیا۔۔!
آج صبح آنکھ کھلی تو حسب عادت ٹیلی ویژن آن کیا۔ ٹی وی پر ایک نجی نیوز چینل کا نمائندہ یوم مزدور پر مزدوروں کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ مزدور ٹی وی چینل کے نمائندہ کو اپنے درمیان پا کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنے مسائل سے اس کو آگاہ کر رہے تھے۔ اُن سب میں ایک بات مشترک تھی اور وہ یہ کہ سب کی آنکھوں میں ایک چمک تھی اور ساتھ ساتھ چہرے پر مایوسی کی جھریاں بھی نمایاں تھیں۔ آنکھوں میں چمک اس بات کی غماز تھی کہ صحافی کو اپنے درمیان پا کر اُن کے دلوں میں شاید ایک اُمید جاگی تھی کہ یہ صحافی شاید اُن کے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر نازل ہوا ہے اور اب یہ اُن سب کی آواز حکام بالا تک پہنچائے گا اور اُن کے سب مسائل ایک ایک کر کے حل ہوتے چلے جائیں گے۔ ساتھ ساتھ چہرے پر جھریوں میں موجود ایک بے یقینی کی کیفیت سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آج صرف یوم مزدور پر نیوز چینل کو کانٹینٹ کی ضرورت ہے اس لئے اُن کو اتنا پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ 
اور بادل نخواستہ اگر اس نیوز چینل کے ذریعے اُن کی آواز اہل اقتدار لوگوں تک پہنچ بھی گئی تو کیا ہوگا؟ وہ اہل اقتدار تو پہلے سے اُن کے مسائل سے آگاہ بھی ہیں اور اُن کے ان مسائل کو ایک بلیک میلنگ ٹول کے طور پر استعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ 
میں نے ٹیلی ویژن آن کیا ہوا تھا اور میری نظر بھی ٹیلی ویژن پر ہی مرکوز تھی مگر میرا ذہن اب کہیں اور پہنچ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں آج یوم مزدور کے موقع پر گھر پر چھٹی منا رہا ہوں حالانکہ میرا مزدور اور مزدوری سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ آج کی ہر تقریب کا مہمان خصوصی آج کے دن بھی اس خوف میں مبتلا لو پھوٹنے سے پہلے ہی گھر سے نکل چکا تھا کہ اگر آج عبدالحمید تھوڑا سا بھی دیر سے پہنچا تو کہیں وہ آج اپنی مزدوری سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو وہ گھر واپس کس منہ سے جائے گا؟ کیونکہ گھر سے نکلتے ہوئے اس کے کانوں میں جو پہلی آواز پڑی تھی وہ اس کے باپ کی کھانسی کی تھی جو تپ دق کا مریض تھا اور دوسری آواز اُس کی ٦ سالہ بیٹی کی تھی جو روتے ہوئے سکول جانے سے انکار کر رہی تھی اور غور کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے پاس ہوم ورک کے لئے نوٹ بک نہیں تھی اور اگر آج بھی اس نے ہوم ورک چیک نہ کروایا تو ایک بار پھر اس کو سکول میں سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غصے کی ایک لہر اُس کے تن بدن میں اُٹھی اور وہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اُس کو چار باتیں سُنانا ہی چاہتا تھا کہ باورچی خانہ سے اُس کی بیوی کی آواز آئی، "اجی سُنتے ہو! اگر آج واپسی پر آٹا لانے کے پیسے نہ ہوں تو مہربانی کر کے کھانا باہر سے ہی کھا کے آجانا اور ہمارے بارے میں نہ سوچنا ہم فاقوں کے عادی ہو چکے ہیں ایک دن مزید روٹی نہ کھائی تو مر نہیں جائیں گے"۔
بیوی کے الفاظ اُس کے کانوں سے ٹکراتے ہی عبدالحمید بھول گیا کہ اُس کو غصہ کس بات پر آیا تھا اور ایسا شرمندہ ہو کر گھر سے نکلا کہ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا۔۔ آج تو اُس نے گھر سے نکلتے ہوئے سب کو سلام بھی نہ کیا تھا اور نہ ہی بیٹی کو پیار کیا تھا۔
بیوی کے آخری الفاظ اُس کے ذہن پر ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ اور چلتے چلتے وہ کب گھر کے قریب چوک میں پہنچ گیا تھا اُس کو پتہ بھی نہ چلا تھا۔۔۔ لیکن آج وہ چوک پرپہنچا تو اُس کا ایک ساتھی مزدور اُس کے پاس آیا اور خوشی خوشی اپنی بند مٹھی اُس کے ہاتھ پر رکھ کر کھول دی، "یہ کیا ہے؟" اُس نے حیرت سے پوچھا۔۔ "وہ تم سے گزشتہ ماہ پانچ ہزار لئے تھے نہ یہ وہی پیسے واپس کر رہا ہوں کل میں گھر گیا تو بیگم نے ایک خوشخبری سُنائی کہ اُس نے مُجھ سے چھپ کر ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی جو کل ہی نکلی تھی باقی پیسے میں نے بیگم کے پاس ہی رکھوا دیئے اور تمہاری امانت الگ کر لی اب یہ تمہارے حوالے کر رہا ہوں کہ روز قیامت میرا گریبان نہ پکڑو"۔ اُس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
عبدالحمید نے کُچھ سوچتے ہوئے یہ رقم اس مزدور کو پکڑائی اور کہنے لگا، "مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے تُم میرے گھر جا کر یہ رقم اپنی بھابھی کو دے دو اُس کو کہنا کہ گھر کا راشن ڈال لے اور باقی جو پیسے بچیں اُن سے ابا کی دوائی اور گُڑیا کے اسکول کی چیزیں خرید لے مُجھے شاید کُچھ دیر ہو جائے" عبدالحمید ایک لمحے کے لئے رُک کر مسکرایا اور پھر بولا کہ "مُجھے یقیناً دیر ہی ہو چکی ہے"
عبدالحمید نے یہ کہہ کر رومال کندھے پر ڈالا اور ریلوے اسٹیشن کی جانب چل دیا۔ ساتھی مزدور نے حسب وعدہ وہ رقم عبدالحمید کے گھر پہنچا دی تھی اور اُن پیسوں سے عبدالحمید کی بیوی نے گھر میں راشن ڈال لیا اور ابا کی دوائی اور گُڑیا کی نوٹ بک بھی خرید لی اور بازار سے واپسی پر مُرغی کا نرخ دیکھا تو خوشی سے پھولی نہ سمائی کہ آج کئی ماہ بعد مرغی سستی ہوئی تھی اور اُس کے پاس پیسے بھی تھے اُس نے موقع غنیمت جان کر فوراً دو کلو مُرغی خریدی کہ عبدالحمید چکن بریانی شوق سے کھاتا تھا اور گھر جا کر جلدی جلدی سب کام نمٹا کر گُڑیا کو تاکید کی کہ ابا کو نہ بتائے کہ آج گھر پر کیا پکا ہے وہ عبدالحمید کو وہ دینا چاہتی تھی وہ کیا ہوتا ہے کمبخت مارا ہاں سرپرائز! 
بریانی پک چکی تھی لیکن آج عبدالحمید پتہ نہیں کہاں رہ گیا تھا۔ سو طرح کے وسوسے دل میں آ رہے تھے لیکن وہ ہر بار ٹال کر آیت کریمہ اور درور شریف کا ورد شروع کر دیتی۔ آخرکار اُس کا انتظار ختم ہوا اور رات گیارہ بجے کے قریب دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ 
محلے کے چند لوگ عبدالحمید کی لاش ایک چارپائی پر ڈالے دروازے پر کھڑے تھے۔ عبدالحمید نے ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کر لی تھی اُس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اور اب چاروں جانب اندھیرا پھیل چکا تھا رات تو کب کی ہو چکی تھی لیکن دراصل اندھیرا اب ہوا تھا اُس نے ہوش میں آتے ہی واپس مُڑکر گُڑیا کے ہاتھ سے بریانی کی پلیٹ پکڑی اور چولہے سے ہنڈیا اُٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دی۔۔۔
"گُڑیا بیٹا ہمیں یہ بریانی راس نہیں ہے یہ بڑے لوگوں کی خوراک ہے ہمیں بریانی راس نہیں ہے۔۔۔۔۔!" وہ بس یہی چلا رہی تھی۔

فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

آدھا سچ

جن بڑوں سے ہم پیدا ہوتے ہی سچ، ایمانداری اور اخلاقیات کا درس لیتے ہیں... وہ جب آنکھ چراتے ہوئے مصلحت آمیز جھوٹ، تھوڑی سی گڑبڑ اور تھوڑی سی بے ایمانی کرلینے کا کہتے ہیں...تو دل مانتا نہیں!!💔 اس میں کوئی شک نہیں.....کہ وہ یہ سب بہت مجبور ہو کر حالات سے تنگ آکر کہتے ہیں....مگر کیا اخلاقیات کا درس تب تک ہے جب تک حالات ٹھیک ہوں؟؟؟
جونہی خراب ہوئے سبق بدل گیا......؟
لیکن حالات کے ٹھیک ہونے کے دوران تو اخلاقیات کی ضرورت ہی کہاں پڑتی ہے......
ضرورت تو تبھی پڑے گی جب حالات خراب ہوں گے....
پھر سبق کونسا ہوا...؟؟
جو بچپن میں پڑھایا جاتا ہے یا جو بڑے ہونے پہ سکھایا جاتا ہے؟
سچ کا حکم شرائط کے ساتھ نہیں دیا گیا تھا....
✅ ایمانداری کی تلقین خراب حالات میں ختم نہیں ہوسکتی.....
✅ صحیح کا چناؤ صرف وہاں تک نہیں جہاں ہمارا مفاد آڑے نہ آرہا ہو...
اس سب میں ایک ہی بات کہوں گی......کہ گناہ ساری دنیا کے کرلینے اور بطور فیشن رائج ہو جانے کے باوجود بھی گناہ ہی رہے گا....
اور کرپشن دو روپے کی ہو یا سو روپے کی کرپشن ہی کہلاتی ہے.....سو آخری دم تک لڑنے کی کوشش ضرور کریں....تھک کر ہار نہ مان لیں....
اور صحیح غلط سمجھانا ہو تو بڑوں کا احترام آڑے نہ آئے.........ادب اپنی جگہ حق اپنی جگہ!!❣

سیماب عارف
ایڈیٹر ای میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 1 May 2019

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

HayMarket Tragedy کو دنیا بھر میں یوم مزدور کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔  آج دنیا بھر میں عام طور پر کام کے اوقات 8 گھنٹےتصور کئے جاتے ہیں۔ اور یہ اوقات ایک قانون کی صورت اختیار کر چکے ہیں لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا یہ عالمی تعطیل شکاگو کے ان مزدوروں کی یاد میں منائی جاتی ہے جن کو صرف اس جرم  کی  پاداش میں لقمہ اجل بنادیا گیا تھا کہ انھوں نے غیرمنصفانہ اوقات کار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ 
شکاگو کے ان چند سو مزدوروں کی قربانی کے نتیجے میں امریکہ اور پھر یورپ اوربتدریج پوری دنیا میں کام کے اوقات 8 گھنٹے تک محدود کئے گئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس قانون کی تشکیل اور عملدرآمد کے لئے کئی سو انسانوں کولقمہ اجل بنانے کے بعد یہ قانون سازی کی گئی۔ تاریخ پر نظر دوڑانے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جان بالخصوص بندہ مزدور کی جان ہمیشہ سے ہی نہایت ازاں تصور کی جاتی رہی ہے۔
افسوس صد افسوس کہ مغرب میں تو مزدور کی اجرت اور تکریم دور حاضرمیں قدرے بہتر ہے لیکن وہ پاکستان جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا عملی نمونہ ہونا چاہئے تھا آج وہاں مزدور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آج پاکستان میں ایک مزدور کی آمدن اتنی ہےکہ وہ مکان کا کرایہ اور گھر کا راشن بھی خریدنےکی قؤت نہیں رکھتا۔ بچوں کو اعلی تعلیم دلوانا تو کجاایک مزدور پرائمری سکول میں بھی داخل ہوتے ہوئےلرز اٹھتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ایک غریب باپ کا بیٹا غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے باوجود عزت کے  ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے خواب دیکھتا ہے۔ اور ایک مزدور کی بیٹی اس لئے سخت سردی میں ننگے پاؤں سکول کے گراؤنڈ میں کھڑی ساتھی طالبات سے نظریں چراتی ہے کہ اس کا باپ اس کی سکول کی فیس  بروقت جمع نہیں کروا سکا۔
اورایک مزدور آج بھی صرف ایک دن کام نہ ملنے پر اپنے بچوں کو بھوکا سلانے پر مجبور ہوتا ہے۔    
میں خون بیچ کے روٹی خریدلایا ہوں
امیرشہر بتا یہ حلال ہے کہ نہیں۔۔۔۔
آج مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں مزدور یونین مزدوروں کے حقوق کی محافظ سمجھی جاتی ہیں لیکن  یہ یونینز بھی صرف ووٹ لینے کے لئے پیش پیش ہوتی ہیں مگر جیسے ہی انتخابات  کا دور ختم ہوتا ہے ان یونینز کے عہدیدار بھی ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتےہیں۔  اور پھر 4 یا 5 سال بعد اگلے الیکشن کے موقع پر نظر آتے ہیں یا پھر اگر خدانخواستہ کوئی مزدور انتقال کر جائے تو اس کے پسماندگان کو دو یا ڈھائی لاکھ روپے اس کے گھر پر کفن دفن کے اخراجات کا کہہ کر دینے آجاتے  ہیں اور ساتھ میں وفات پاجانے والے مزدور کے بیٹے کو نوکری بھی دلوا دی جاتی ہے جو دراصل مستقبل میں آنے والے تمام الیکشنز میں ووٹ کی پیشگی قیمت سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔۔
غرضیکہ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات۔۔۔
سید فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Sunday, 28 April 2019

شوکا لاپرواہ

نصیب آزما چکا ہوں، قسمت آزما رہا ہوں
کسی بے وفا کی خاطر رکشہ چلا رہا ہوں....
نظر رکشے پہ لکھے شعر پہ پڑی....ڈرائیور کم عمر سا لڑکا تھا بمشکل انیس بیس برس...
خدا معلوم اس عمر میں کون سے نصیب آزمانے کے بعد قسمت کے پیچھے بھاگ رہا تھا....اور کس بے وفا نے ماں کے لعل کو رکشہ چلانے پہ مجبور کیا تھا....🤔
مغرب میں جس عمر میں نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں...کچھ نہ کچھ کیریر گولز کی طرف ہوتے ہیں ہمارے ہاں ابھی تک ماں کا چاند یا تو دو کتابیں تھامے برائے نام ڈگری کرتا ہوا ابا جی کے پیسے پہ عیش کررہا ہوتا ہے....
یا ساتویں آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد کسی بے وفا کی خاطر رکشہ چلا رہا ہوتا ہے.....🤦‍
(اب براہِ مہربانی یہ لیکچر نہ دیا جائے کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا...ہم رکشہ چلانے کے بالکل بھی خلاف نہیں اگر یہ واقعی ماں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے چلایا جارہا ہے)
لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ کم عمر بچے ناکام عاشق بنے پڑھائی میں عدم توجہ....بےکاری کے دن رات لیے....ٹک ٹاک کی ویڈیوز کے "ویوز" پہ فخر سے سینہ چوڑا کرنے والی مخلوق اور میسجز اور اب سوشل میڈیا پہ میسر سستی شاعری کے سٹیٹس لگائے اپنے تئیں دیوداس بنے ہوتے ہیں...(دیوداس ہمارا پسندیدہ کردار ہرگز نہیں ہے....)🙅
اس پہ بالی وڈ کی فلموں نے عشق میں مرجانے کے سوا کچھ نیا دیا ہی نہیں اس مخلوق کو.....
سو ان کی زندگی کے مقاصد انہی مسائل میں اُلجھے رہنا اور عمر گزار دینا ہے.....
پھر المیہ یہ ہے کہ ہمارے "بڑے" بھی نام نہاد تصوف کی پُڑیا میں  لپیٹ کے ہیر رانجھا کے قصے سنتے ہیں....ڈراموں فلموں میں ہیرو کے حمایتی بن کر انہماک سے دیکھتے ہیں پر ان بچوں کے مسائل کو سمجھنا اور سلجھانا انہیں غیر ضروری لگتا ہے....🤐
انہی خیالوں میں اُلجھے ہوئے بائیک کی تیز آواز سنائی دیتی ہے....ایک لڑکا گریبان کھولے... بغیر سائلنسر کی بائیک پہ ون وہیلنگ کرتا ہوا زووووں کر کے گزرتا ہے....بائیک کے پیچھے لکھا ہے...
*شوکا لاپرواہ*🤦‍
کس قسم کا سٹف دے رہے ہیں آپ آنے والے دور کو.....
کیا کریں گے یہ بچے اس معاشرے کے لیے جب وہ اپنے لیے ہی کارآمد نہ ہوں....
خدارا انہیں سمجھیں...ان سے بات کر کے ان کے مسائل سلجھائیں....ورنہ ہمارے شوکے لاپرواہی میں نسلوں کی نسلیں خراب کرتے رہیں گے....
اللّٰہ رحم کرے...

سیماب عارف
 ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 25 April 2019

اسلام کا مزاج

کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب کے دوران ایک خاتون کھانے کے وقفے میں زبردستی سٹیج پہ چڑھ آئیں اور اصرار کرنے لگیں کہ انہوں نے سورہ رحمٰن تھیراپی لوگوں کو بتانی ہے انہیں وقت دیا جائے....
شائستگی سے انکار کیا گیا کہ وقت ناکافی ہے تو چیخنے چلانے اور لعن طعن پہ اُتر آئیں کہ باقی کام چھوڑو یہ اللّٰہ کا کلام پڑھواو یہ زیادہ ضروری ہے...
یہی کام آنا ہے دنیا داری کا کوئی فائدہ نہیں...
بہتیرا سمجھایا کہ ہم بھی اللّٰہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے ہی یہاں موجود ہیں...مگر ان کی ایک ہی ہٹ...
کہ نہیں اُن کی بات زیادہ ضروری ہے اور ہم کون ہوتے ہیں انہیں کلام پڑھنے سے روکنے والے.......خدا ہمیں پوچھے گا...
ہم تو ان کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئے......🤐
خیر بڑی مشکل جان چھڑوائی....
اس ذہنیت کے لوگوں پہ مجھے غصے سے زیادہ ترس آتا ہے....جو عمر بھر اپنے تئیں بہترین مبلغ بنے درحقیقت لوگوں کے لیے کوفت اور بیزاری کا باعث بن رہے ہوتے ہیں.....😬
اور جنہیں شاعر کی زبان میں راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے بلکہ بعض اوقات تو راستے میں بھی نہیں ہوتی!!
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ایک بات یاد آگئی ہے کہ 
"اسلام کا مزاج داعیانہ ہے، فاتحانہ نہیں"
اور ایک داعی اپنے ساتھیوں اور لوگوں کا خیرخواہ ہوتا ہے...ان کے مزاج کو سمجھ کر اس پہ چلنے والا....اُن میں سے ہوتا ہے.....الگ نہیں ہوتا....
اگر آپ کے اردگرد رہنے والے آپ کو اپنا دوست اپنا ہمدرد اور خیرخواہ ہی نہ سمجھیں تو وہ آپ کی زبردستی کی راگنی تو نہیں سنیں گے نا......
خدارا دینِ اسلام پہ رحم کریں......

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 21 April 2019

ایک ملاقات

آج رات میری ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی ہے جو تنِ تنہا اپنی قوم کے لیے بقا کا سبب بنے....ان کا بتایا ہوا ہر رستہ منزلوں کا تسلسل تھا.... تاریخ کے پچھلے پانچ سو سالوں میں ان کی قوم میں ان جیسا سوچنے والا پیدا نہیں ہوا..... ان کا خاموش رہنا گردُوں میں اضطراب کا سبب بنا اور ان کا بولنا زمیں پر ایک قوم اور ایک وطن کے تشکیل کا باعث بنا...
جی ہاں... میری ملاقات علامہ محمد اقبال سے ہوئی ہے..
اقبال... ہمیشہ کی طرح اس ملاقات میں بھی خاموش... سنجیدہ.... اور ایک گہری سوچ میں گم نظر آئے.... میں نے عقیدت سے سلام کیا اور حال احوال دریافت کیا... انہوں نے مثبت انداز میں جواب دیا... میں نے بتایا کہ میں پاکستان میں رہتا ہوں... اس ملک میں جس کی خواہش آپ نے ظاہر کی تھی.... یہ سنتے ہی اقبال نے سنجیدگی سے اپنا چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا...اقبال کی آنکھوں میں نمی تھی اور لبوں پر معمولی مگر پراُمید سا تبسم...
اقبال بظاہر تو خاموش تھے مگر ایک لمحے کو مجھے یوں محسوس ہوا کہ اقبال کے اندر گونجنے والی ہر چیخ مجھے سنائی دے رہی ہے... اقبال کے تبسم کا تاثر مجھ پر یوں پڑنے لگا جیسے مدتوں سے ہجر سہتے ہوئے شخص کو وصل کی اُمّید کا خیال آنے لگے... جیسے مِیلوں دور سے یوسف کی خوشبو یعقوب کو آنے لگے... جیسے سالوں کی بنجر زمین سبزہ اُگانے کی خواہش ظاہر کرنے لگے.... اقبال خوش تھے.... اقبال خدا کے حضور شکرگزار تھے...... اقبال پرامید تھے..... اور اقبال شدید مضطرب بھی تھے...
طویل خاموشی کے بعد اقبال نے ایک گہری آہ بھری اور کہنے لگے : " برخوردار! خود پر رسولِ خدا کے فیض کی کیفیت حاوی رکھنا۔"
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے.... مگر میرے دل میں ایک شور سا اُٹھنے لگا.... میرے اوسان خطا ہونے لگے اور کندھوں پر اپنی پوری تہذیب کا بوجھ محسوس ہونے لگا... میرا یہ احساس شدید ہونے لگا کہ جس گھر کی التجا اقبال نے کی تھی... اب تک صرف اس کی پہلی اینٹ رکھی گئی ہے... اقبال یہ تو جانتے تھے کہ یہ گھر سالوں نہیں صدیوں میں تعمیر ہوگا مگر وہ اس بات پر نہایت بے چین تھے کہ اس گھر کی تعمیر روک کیوں دی گئی ہے؟؟
میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ انہوں نے تعجب بھرے لہجے میں فرمایا: "کیا تم زندہ رہنے کی خواہش رکھتے ہو؟"
ان کا یہ کہنا تھا کہ میں شدید چونکا... اور میری آنکھ کھل گئی۔

زین نوید
ہیڈ ریڈرز کلب پازیٹو پاکستان

Thursday, 18 April 2019

پازیٹو پاکستان جھنگ چیپٹر

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
پازیٹو پاکستان جو ایک رضاکارانہ اصلاحی تنظیم ہے جو معاشر ے میں مثبت فکرو عمل کے فروغ،شعور کی بیداری، اعلیٰ اقدار کے احیاء اور نظریہ پاکستان کے پر چار کے لیے کوشاں ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو غیر سیاسی، غیر مذہبی اور غیر منافع بخش ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کہ ایک قدیمی ضلع میں اپنی ٹیم بنانے کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کیا ۔اور یہ ضلع کوئی اور نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سلطان باہوؒ کے ہُو کی گونج بلند ہوئی، جنہوں نے آج سے سینکڑوں سال پہلے 140تصانیف مرتب کیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کی رُومانوی داستانیں رقم ہوئی۔ جہاں ٹاٹ کے سکولوں میں پڑھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام بابائے فزکس کہلائے، جنہیں دنیا کی معروف 32 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری دی۔ 8809مربع کلومیٹر کے رقبہ کے حامل ضلع جھنگ کی مٹی کے ذرے نایاب گوہر ہیں۔ میدانِ ثقافت ہو یا سیاست، علم و ادب ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی اور جہاں کی شاعری لوک ادب، زبان و ثقافت، مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے
ضلع جھنگ کے باسیوں پازٹیو پاکستان کی ٹیم کاحصہ بنیے، اپنے خطے اور قوم و ملک میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لیے۔ اور جھنگ کو مثبت تبدیلی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

کشور پروین

سوال کی گستاخی

آذر اور اس کے ساتھی جب میلے سے لوٹے اور تمام بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا اور کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کاندھے پہ...تو کہنے لگے یقیناً یہ ابراہیم کا کام ہے...
ابراہیم علیہ السلام نے کہا کلہاڑا تو بڑے بت کے کاندھے پہ ہے تم لوگ اسی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے.....
مگر یہ سچ انہیں ہضم نہ ہوا اور وہ لوگ سوال کی گستاخی برداشت نہ کرسکے....
سوال کی گستاخی ....ہر اُس شخص کے لیے ناقابلِ معافی ہوتی ہے جو کسی جھوٹے زعم میں بڑا بنا ہوتا ہے...
ہر بڑا "بڑا" نہیں ہوتا.....اور نہ ہر چھوٹا "چھوٹا"....
ہاں ٹھیک ہے اُتنی تمہاری عمر نہیں جتنا میرا تجربہ والی بات بھی ٹھیک ہے.......لیکن!!
کبھی کبھار کم عمری کی ذہانت بھی تجربے کو مات دے سکتی ہے....ایسا نہ ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کم عمر نوجوان سے ابو جہل جیسے " بڑے" خائف نہ ہوتے....
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ سچ جاننے کے باوجود بھی وہ اس لیے نہیں مانتے تھے کہ انہیں لگتا تھا یہ ہمارا بھتیجا...کم عمر نوجوان....ہماری بات کو غلط کیسے کہہ سکتا ہے....اپنی ہتک سمجھتے تھے...تبھی تو معجزات دیکھ کر بھی ہٹ دھرم رہے....
آج کے دور میں "جنریشن گیپ" کی ایک بڑی وجہ سوال سے گھبرانا ہے....
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوال کو دبا کر آپ اپنی عزت نہیں بچارہے بلکہ آنے والے دور کے ایک نئے انسان کو خود سے اور دور کررہے ہیں.....
اگر آپ کے پاس جواب نہیں ہے تو اعتراف کر کے بڑے بن جائیں...ورنہ آپ کا قد آپ کی نسلوں میں چھوٹا پڑتا جائے گا!!...

سیماب عارف
ایڈیٹر میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 23 March 2019

حق اور استحقاق

سفیر عباس صاحب ہمارے باٹنی کے استاد تھے....جتنے اچھے طریقے سے پڑھاتے تھے اتنے ہی احسن انداز میں زندگی سکھاتے تھے....میں BSc کے بعد ان سے کبھی نہیں ملی...نہ کبھی رابطہ ہوا...مگر ان کے سکھائے کچھ سبق اب بھی بہت جگہوں پہ کام آتے ہیں💗
ان میں ایک بہترین سبق جو مجھے زندگی میں کبھی کسی دوسری جگہ نہیں ملا...وہ تھا حق اور استحقاق کا فرق..💖
Difference between right and privilege
کوئی آپ کا حق نہ دے تو احتجاج کریں ناراض ہوں...بنتا ہے..
لیکن جہاں آپ کا حق نہیں...صرف استحقاق استعمال کررہے ہیں تو آپ کا ناراض ہونا نہیں بنتا..
انہی کی دی مثال دوہرا رہی ہوں...اگر کوئی دوست گاڑی میں لاہور جارہا ہے....اور آپ اسے کہتے ہیں کہ گاڑی خالی ہی ہے مجھے بھی لاہور جانا ہے... مجھے ساتھ لیتے جاؤ...اور وہ انکار کردے...تو آپ کا ناراض ہونا نہیں بنتا... یہ اُس کا فرض اور آپ کا حق نہیں تھا...
اخلاقیات کا تقاضا شاید یہی ہو کہ اُسے انکار نہیں کرنا چاہئیے تھا...لیکن اگر وہ انکار کردے تو آپ کو ناراضگی کا حق نہیں...کیونکہ یہ privilege  تھا...right نہیں!!🙂
زندگی میں جب کبھی میں نے کسی کی بات پہ برا ماننا چاہا اس سبق نے ہمیشہ میرا راستہ روک دیا.....اور بہت سے تعلقات بچالیے...💞💕
خدا آپ کا حامی و ناصر ہو....

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 21 March 2019

قلم کتاب ۔ قسط سوم

کچھ دن پہلے چھوٹی بہن کو ایک کالج فیلو منیبہ نے فرمائش کی کہ تمہارے ابو شعر لکھتے ہیں تو انہیں کہو ایک نظم منیبہ پہ بھی لکھ دیں...گویا منیبہ نہ ہوئیں محترمہ فاطمہ جناح ہوگئیں....
(یہ مذاق نہیں تھا محترمہ واقعی سنجیدہ تھیں...😄)
یہ صرف ایک محترمہ کا قصہ ہے....اکثر وبیشتر ایسے بہت سی محترمائیں اور محترم فرمائش لیے آتے ہیں...کہ انہیں کسی مقابلے میں حصہ لینا ہے فلاں مصرعے پہ ایک غزل لکھ دی جائے یا فلاں عنوان پہ نظم......
ایسی کسی بھی فرمائش پہ ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے..
"یار یہ ایسی باتیں کیسے کر لیتے ہیں🤔😆"
اس سے بڑی ادبی بددیانتی یا مذاق میرے نزدیک کوئی نہیں....بھئی اگر آپ شاعری نہیں کر سکتے تو مت کریں...کوئی مجبوری ہے کیا.....اتنی جرأت کیسے کرلیتے ہیں آپ کسی کے شعر کو اپنا بتا کے....محض ایک جیت کے لیے🤔 نہیں...یہ جیت نہیں ہے!!
یہی نہیں...کچھ کی فرمائش منیبہ کی طرح اُن کی ذات شریف پہ نظم لکھ دینے کی ہوتی ہے!! اتنی خود پسندی...اور وہ بھی دھڑلّے سے....🤔
قدرت نے ہر فرد میں ٹیلنٹ رکھا ہے...💖کوئی نہ کوئی خوبی...💗.....کوئی بولنے میں اچھا ہے کوئی لکھنے میں....کوئی کسی اور کام میں....😍
ضروری نہیں کہ آپ صرف شعر کہہ کے ہی باذوق کہلوا سکتے ہیں... اگر آپ شعر نہیں کہہ سکتے تو کوئی بات نہیں...اتنا اوکھا ہونے کی کیا ضرورت ہے....خدا نے اور کچھ ہنر دیا ہوگا آپ کو....اُسے پہچانیں...اور  پھر نکھارنے کی کوشش کریں!! مگر خدارا ادب کے ساتھ اتنی بے ادبی کا برتاؤ نہ کریں...
مالک اپنی امان میں رکھے....امین

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...