Showing posts with label Amir Raza. Show all posts
Showing posts with label Amir Raza. Show all posts

Tuesday, 18 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 8

آخری قسط (8)
جب سب بیٹھ چکے تو شهباز بھائی کو محسوس هوا که کوئی انهیں اپنی جیپ میں جگه نهیں دے گا لهٰزا وه هماری جیپ میں آن دھمکے. اور پھر انعم اپنے دکھتے سر اور باقی اپنی دکھتی رگوں سے نیچے کی طرف اترنے لگے. دھول سے سانس اٹکنے لگا تو ڈرائیور نے فرنٹ سیٹ کا پرده اٹھا دیا جهاں سے آتی مٹی شهباز بھائی کے نورانی چهرے کے لئے هانی کارک تھی جس سے وه بیچارے جیکٹ کے پروں میں اپنا منه چھپانے میں مصروف هوگئے اور کیوائی پهنچ کر اپنا رخ مبارک باهر نکالا. 
یهاں کچھ دیر قیام هوا تو سب کی 3 دن سے سوئی هوئی موبائیلی حِس جاگ اٹھی اور سوئچ بورڈ پر لگے چارجر کسی گرڈ اسٹیشن کا منظر پیش کرنے لگے. سب کے موبائلوں میں روح پھونک دی گئی تو هم اسلام آباد کی طرف روانه هوئے. 
بس میں بیٹھتے هی نیره نور کے بچپن کے گانے بجنے لگے جن کے فوسلز نصف صدی پهلے هونے والی شادیوں کی وڈیو میں سهرا بندی اور رخصتی پر هی ملتے هیں. هم بھی اسی اندازے سے ولید بھائی کی مستقبل بعید میں هونے والی شادی کی وڈیو میں گانے فٹ کرنے لگے جس کے هر سین میں ولید صاحب کے سر پر سنهری لڑیوں کا کُلاه اور منه پر رومال تھا. 
اور اسی شغل میں هم نے سفر تمام کیا. لیکن ان پچھلے تین دن میں جو خاص خاص مشاهده هوا ، وه درج ﺫیل هے. 
1: عثمان رضا کے مطابق فیش واش سے بھی سر دھویا جا سکتا هے. 
2: شهباز ارشاد وه واحد شخص هیں جنهوں نے اپنا سب سے زیاده خیال رکھا. فیش واش کو دیکھ کر اُن کا چهره نورانی هونے لگتا هے جسے مزید نور بخشنے کے لئے کوشش کرنے لگتے. اس کے پیچھے وجه ان کی هونے والی شادی تھی جو انهوں نے اپنے منه کو زمانے کے سردوگرم سے بچائے رکھا. 
3: اپنے کیمرے سے سب سے زیاده اپنی تصویریں بنانے کا ریکارڈ چھوٹو کو جاتا هے جن کے سر کا تو نهیں پتا مگر کان پر جوں تک نه رینگی که اُن کے ساتھ باقی حضرات بھی موجود هیں جو تصویر بنوانے کا انتظار کر رهے هیں. 
4: سپیکر پر جس لا پته شخص کا سب سے زیاده نام پکارا گیا، وه انیق الرحمان هیں. کیونکه یه هر دو منٹ کے بعد عادتاً منظر سے غائب هو جاتے تھے. 
5: سردی کو روکنے کے لیے اپنے گھر سے کمبل بھی لایا جا سکتا تھا اور گندا کیا جا سکتا تھا.
ختم شُد
نوٹ: مزید ابھی یاد نهیں رها
رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد) 

Sunday, 15 July 2018

Remembering Kashmir Martyrs


                                       Contributed by: Editorial Team Twin City Chapter


              Kashmir, the heaven on earth is a part of Pakistan. Jammu Kashmir is unfortunately still the part of India, where the brutal Indians are killing the innocent Kashmiri Muslims. On 13th July 2018,Positive Pakistan with the collaboration of E-blood organized an Open house Seminar “Remembering Kashmir Martyrs” in order to pay tribute to those courageous and brave freedom fighters who have rebelled against the Indian brutality and are standing against the Indian terrorism.
 Different eminent speakers from Kashmir and Occupied Kashmir i.e.,Sahibzada Zulfiqar Ali, Dr. Syed Mujahid Gilani, Naseer Gilani, Shaista Safi (Anchor Kashmir Magazine (PTV) & Kashmir Activist), Abid Iqbal Khari,the President Positive Pakistan and, Ahmed Bin Qasim (the son of AsiyaAndrabi) also joined to deliver theirinfluential talks on this informative forum and highlighted the challenges and brutalities being faced by Kashmiri Muslims  for their freedom in the Occupied Kashmir.
The event was headed by Anchor Kashmir Magazine (PTV) & Kashmir Activist Shaista Safi. She welcomed the audience along with highlighting the significance of the topic of today's seminar. It started with the Holy name of Allah.Mr. Amir Raza the Rehbar Positive Pakistan, recited the HOLY VERSES OF QURAN. Afterword, Miss.Iqra Naseer,the Mission Holder Positive Pakistan recited the Naat. Then,the anchor invited all the guests on the stage.For the first talk,Miss Shaista called upon stage Mr.Sahabzada Zulfiqar to deliver his thoughts about Kashmir. While talking about Kashmir, Mr. Sahabzada Zulfiqar told that on the voice of a younger freedom fighter Abdul Qadeer, Kashmiris came out to get a free land where brutal Indians killed 22 young souls just to stop their voices when they were calling for Zohar prayer. They sacrificed their lives but did not stop their voices.
Ahmed Bin Qasim, further highlighted the sacrifices Kashmiris are giving just to be the part of Pakistan, it’s time to support them.He said as part of the most influential social media team,PositivePakistan, it's your duty to highlight all the challenges and brutalities being faced by Kashmiri Muslims. He said:
اس پار بھی پاکستان ہے' اس پار بھی پاکستان ہے۔
Now we have to understand that Yes! Kashmir is the part of Pakistan.

We are thankful to Naseer Gillani and Sahibzada Zulfiqar for taking out time to show their support for the Occupied Kashmir when everyone is busy in political campaigns.


Monday, 23 May 2016

پازیٹو سوچ پازیٹو پاکستان

مثبت سوچ اور مثبت فکر و عمل انسان کی زندگی، انسان کے حالات و واقعات پہ بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ باالفاظ دیگر مثبت سوچ ایک استاد کی حثییت رکھتی ہے جو انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور اسکی کردار سازی کرتی ہے ونسنٹ پہلے ایک مشہور مصنف ہے جس کی عالمگیر و جہ شہرت اُس کی کتاب” مثبت سوچ کی طاقت” ہے ۔ ونسنٹ پہلے ایک سچا واقعہ بیان کر تا ہے کہ ایک دن وہ اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک فون آیا ۔ فون ایک شخص کا تھا جو رو رہا تھا کہ اُس کا سب کچھ لٹ چکا ہے ہر چیز تباہ ہو چکی ہے وہ مکمل برباد ہو چکا ہے۔ اب اُس کے پاس جینے کا کوئی جواز نہیں وہ مایوسیوں کے اندھیرے میں کھو چکا ہے۔ اُس کا دل اب جینے کا طلب گار نہیں ۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے ۔ ونسنٹ پیلے نے اُسے اپنے دفتر آنے کا کہا اور فون بند ہو گیا۔اگلے دن وہ پیلے کے دفتر میں موجود تھا ۔ ملاقات کی ابتداء ہی اُس نے فون والے انداز میں کی۔ اُس کی آہ و بکا پر ونسنٹ پیلے مسکرایا ۔ اُسے تسلی دی اور سکون سے بیٹھنے کا کہا ۔ وہ آدمی چپ ہو گیا ۔ توونسنٹ پیلے نے اُسے کہا کہ آﺅ مل کر تمہارے حالات کا مفصل جائزہ لیتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے تمہارے مسائل کیا ہیں اور اُن کا حل کیا ہے ۔ یہ کہہ کر ونسنٹ پیلے نے ایک سادہ سا کاغذ لیا جس پر درمیان میں ایک عمودی لکیر لگائی اور وہ کاغذ اُ س شخص کے سامنے رکھ دیا اور کہا اب میں تم سے بہت سی باتیں پوچھوں گا۔ وہ باتیں تمہاری زندگی میں مثبت ہیں اُنہیں کاغذ پر دائیں طرف لکھنا ہے اور جو منفی ہیں انہیں بائیں طرف لکھنا ہے مگر میری زندگی میں کچھ بھی مثبت نہیں ہے ۔ اُپ کو لکیر لگانے کی کوئی ضرورت نہیں میں ابھی سارا صفحہ منفی باتوں سے بھر دیتا ہوں ۔ ونسنٹ پیلے نے اُسے ایک بار پھر تسلی دی کہ وہ جیسے پوچھے اور جو پوچھے فقط اُس کا جواب دیا جائے ۔ ٹھیک ہے آپ پوچھیں ۔ اُس شخص نے جواب دیا۔ ونسنٹ پیلے نے پہلا سوال کیا ۔ ” اُپ کی بیوی آپ کو چھوڑ کر کب گئی ” ۔ وہ شخص یکدم تلملا اُٹھا ۔ یہ بات آپ سے کس نے کہی ۔ میری بیوی مجھے چھوڑکر کیوں جائے گی ۔ وہ بہت اچھی ہے ۔میرے ساتھ ہے اور مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔ بہت خوب ، بہت خوب یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ یہ سب باتیں آپ کاغذ کے دائیں طرف لکھیں ۔ اُس شخص نے وہ ساری باتیں کاغذ کے دائیں جانب لکھ لیں تو ونسنٹ پیلے نے دوسرا سوال کیا۔ ” آپ کے بیٹوں کو جیل کب ہوئی” ۔ یہ سن کر اُس شخص کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ اُنہیں جیل کیوں ہو گی ۔ میرے بیٹے انتہائی مہذب شہری ہیں ۔ قانون کا احترام کرتے ہیں ۔ سکون اور اطمینان سے زندگی بسرکرتے ہیں ۔ والدین کے انتہائی فرمانبردار ہیں ۔ بہت اچھی ملازمت کرتے ہیں ۔ آسودہ حال ہیں اور میرے ساتھ ہی رہ رہے ہیں ۔ ” یہ تو اور بھی بہت اچھا ہے” ۔ ونسنٹ پیلے نےمسکرا کر کہا ۔ اب بچوں کے بارے میں کی گئی بائیں ترتیب سے دائیں کالم میں لکھ دیں ۔ اُس کے بعد ونسنٹ پیلے نے ایسے بہت سے چبھتے ہوئے سوال اُس شخص سے کیے اور اُن کے مثبت جوابات دائیں کالم میں لکھواتا رہا ۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا ۔ اس طرح بہت سے صفحات بھر گئے مگر صرف اُن کا دایاں کالم ۔ بائیں کالم میں ابھی ایک لفظ بھی نہیں لکھا تھا۔ اتنے سوالوں کے بعد اُس شخص کو سمجھ آچکی تھی کہ قصور حالات کا نہیں اُس کی اپنی منفی سوچ کا ہے ۔ اس سے پہلے کہ ونسنٹ پیلے کچھ کہتا وہ خود ہی مسکرا نے لگا ۔ اور کہنے لگا ” آپ صحیح کہتے ہیں سوچ کا انداز اگر مثبت ہو تو آپ کو ہر چیز بدلی بدلی اوربہتر نظر آتی ہے” ۔ دنیا میں اچھی اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لئے اپنی سوچ اور اپنے کردار کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
پازیٹو پاکستان نوجوانوں کا ایک اصلاحی نیٹ ورک ہے جو معاشرے میں اسی مثبت سوچ اور مثبت فکرو عمل کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ اور پازیٹو پاکستان کا نصب العین  ہے کہ ، شکوۃ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری کی قیادت میں معاشرے میں مثبت فکر و عمل کے فروغ نوجوانوں میں شعور اور جذبوں کی بیداری، ان کی کردارسازی، اور ان میں اسلامی اقدار کے احیاء کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ پازیٹو پاکستان نوجوان نسل کی کردار سازی کے لیے ان کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوے پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں جدید طرز کے پروگرامز منعقد کرتی ہے جن میں سے کچھ پروگرامز درج ذیل ہیں ٹریننگ سیمینار و ورکشاب ، ینگ لیڈر سمٹ الوندی ، یوتھ لیڈر شپ انکیمپمنٹ ، ینگ انٹلیکچوئل فورم ، ہل لیڈرل ٹریننگ کلوڈ نائن اور اس کے علاوہ بیسیوں پروگرامز جو معاشرتی لحاظ سے نوجوان نسل کے لیے سود مند ہیں پازیٹو پاکستان منعقد کروا رہی ہے۔ آپ بھی آئیں اور نفرتیں مٹانیں، محبتیں بانٹنیں، معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے پازیٹو پاکستان کے دست و بازو بنیئےاور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کی شمع روشن کیجئیے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو امین۔

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...