Showing posts with label Walwala-e-Azadi. Show all posts
Showing posts with label Walwala-e-Azadi. Show all posts

Saturday, 1 September 2018

اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا

وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ تری روح ترے جسم سے عبارت ہے

اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا...
یہ وہ سوال ہے جو دو مختلف تناظر میں ہمارے سامنے آتا ہے...ایک صورت میں تو پاکستان کی وہ محبِ وطن عوام ہے جوآزادی کی قدر وقیمت سے آشنا ہے اور جانتی ہے کہ اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا تو مسلمان پاکستان زندہ باد کے بجائے "سارےجہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کا نعرہ لگانے کے باوجود بھی "عظیم" ہندوستان مکں دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہوتے...
اور جہاں دلیل اور منطق سے بات کرنے اور اخلاق و کردار کی طاقت سے لوگوں کو حلقہ اسلام میں داخل کرنے والے ڈاکٹرذاکر نائیک کی طرح خود پہ دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا ٹھپہ لگوا چکے ہوتے.
پھر حقوقِ انسانی کا پرچار کرنے والے عظیم بھارت میں بی جے پی اور دوسری ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے کیےجانے والے مظالم کا شکار ہوتے اور بحیثیت مسلم اپنی شناخت کھو کر تضحیک انداز میں "مسلے" پکارے جاتے....
اردو ادب کے ایک بڑے مصنف ممتاز مفتی اپنی آب بیتی میں لکھتے ہیں کہ میں آغاز میں پاکستان کا حامی نہیں تھا بلکہ ہندومسلم اتحاد کا قائل تھا....مسلم لیگ کی جدوجہد اور ایک الگ مملکت کے تصور سے مجھے کوئی سروکار نہ تھا....مگر ضرورت کا احساس مجھے تب ہوا جب میں دھرم شالا کی سرکاری نوکری میں ایک رام دین سے ملا...
میں ایک ہندو اکثریت کے سکول میں استاد تھا.ایک بار میں نے ایک ہندوطالبعلم سے پانی مانگا تو اس نے کہا میرا دھرم بھرشٹ ہو جائے گا...میں نے طالبعلم سے کہا برخوردار دھرم بھرشٹ تو تب ہوتا جب تم میرے ہاتھ کا پانی پیتے. مجھے پانی پلانے سے دھرم بھرشٹ نہیں ہوگا...مگر اس دلیل کا اس پہ کوئی اثر نہ ہوا.
اسی علاقے میں پانی پینے کے لیے مجھے ایک مسلمان گھرانے میں جانے کا اتفاق ہوا تو گھر کے رہن سہن, گوبر کی لپائی اور صاحبِ خانہ کے حلیے سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ مسلمان ہے یا ہندو.اور نام پوچھنے پہ پتہ چلا...یہ رام دین ہے.
تقسیمِ ہند سے قبل ہندو اکثریت کے علاقوں میں ایسے رام دینوں کی کمی نہ تھی.اگرچہ مسلم اکثریت والے علاقوں میں مسلمان ہندو اکثریت کے ساتھ گُھل مل کر رہتے تھے.خوشی غمی پہ مل بیٹھتے اور ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوتا..مگر ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمان مسلمان نہ رہا تھا.اس کی کوئی الگ شناخت نہ تھی.
ہندو بنیادی طور پہ اقلیت کو برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے. پھر خواہ وہ سکھ ہوں , بدھ مت , یا مسلمان..مگر ان سب میں مسلم کشی کا جذبہ سب سے گہرا ہے.
تقسیمِ ہند سے پہلے کے پاکستان میں ریلوے سٹیشنوں پہ جب گاڑیاں رکتی تھیں تو پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کے لیےبھی آوازیں سنائی دیتی تھیں...ہندو پانی....مسلم پانی...اور مسلمانوں کو پانی دیتے ہوئے برتن کو دور رکھ کے پانی انڈیلا جاتا...
ہندو اکثریت والے علاقوں میں ایسے مسلمان پائے جاتے تھے جن کے گھر بار رہن سہن اور لباس و حلیہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا تھا کہ وہ مسلمان ہیں...نام بھی دو مذاہب کی دیوار میں اٹکے بے حیثیت , شناخت کھوئے ہوئے رام دین...
اگر پاکستان نہ بنتا تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ آپ, میں ہم سب رام دین ہوتے...ہمارے گلے میں جینو نہ ہوتے ہمارےگھروں میں گوبر کی لپائی نہ ہوتی اس کے باوجود ہم رام دین ہوتے.
رام دین ایک ذہنیت کا نام ہے جو خود اختیار نہیں کی جاتی بلکہ جسے اکثریت ایک منصوبے کے تحت پیدا کرتی ہے. اور جوذہن سے آہستہ آہستہ لباس گفتگو اور جسم تک پہنچ جاتی ہے.
کے ایل گابا بھارت کے ایک مشہور قانون دام گزرے ہیں. پہلے وہ ہندو تھے.پھر مختلف مذاہب کے مطالعے کے بعد مسلمان ہوگئے. ان کی ایک تصنیف ہے"پیسووائسز" جس میں انہوں نے بھارت کے رام دینوں کا تذکرہ کیا ہے. اس کتاب کا انداز جذباتی نہیں بلکہ تلخ حقائق اور شماریات پہ مبنی ہے کہ زندگی کے بڑے بڑے شعبوں میں بھارت کے مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے...مسلمان تاجر کتنے ہیں...قانون دان اور کالجز میں مسلمان اساتذہ اور طلباء کتنے ہیں..
بھارت نے مسٹر گابا کی اس کتاب کو ہندوستان میں چلنے نہیں دیا لیکن بھارتی مسلمان رام دین سے واقف بھی نہیں بلکہ وہ تورام دین کی زندگی گزار رہے ہیں.
ہماری آج کی نوجوان نسل شاید رام دین سے واقف نہیں. دِقّت یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد کی تھی وہ تو چلے گئے..پرانے پتے سوکھ کر جھڑ گئے ان کی جگہ نئی کونپلیں پھوٹی ہیں جنہیں رام دین کا شعور نہیں..ہو بھی کیسے..پاکستان میں توں لاکھوں ہندو مقیم ہیں. اُن میں کوئی بھی "چندر اسلام" نہیں. بلکہ وہ اپنی الگ شناخت میں آزادانہ رہ رہے ہیں.
دوسرا یہ کہ اسلامی دنیا کے اردگرد بہت سی بڑی اسلام دشمن طاقتیں اور سپر پاورز مسلسل ایسے کام کررہی ہیں.مسلسل اس کوشش میں لگی ہیں کہ کہیں مسلمان سمجھ نہ جائے..مل نہ بیٹھے...ایک قوت نہ بن جائے...کیونکہ انہیں معلوم ہے جس دن مسلمان سمجھ گیا, مل بیٹھا تو سب چوپٹ ہوجائے گا....
سو, وہ اپنی فیکٹریوں اور صنعت خانوں میں رنگ برنگے چمکیلے خیالات, پرکشش اور انوکھی ذہنی پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں جو ہمارے ادیبوں, شاعروں , دانشوروں اور نام نہاد فلاسفروں کو چکا چوند کردیں.اور پھر امتِ مسلمہ کو الٹی سیدھی توضیحات اور کہانیوں میں الجھا کر اسلام سے دور کردیا جائے.کیونکہ ادیب اور فنکار وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا رائے عامہ بنانے میں بڑا ہاتھ ہوتا ہے. اس لیے ان کے نظریات کو بگاڑنے سے عام پڑھے لکھوں کا رخ خودبخود بگڑ جائے گا.دانشوروں کے علاوہ طلباء ان نئے اور بے سروپا نظریات کا اچھا شکار بنتے ہیں...
اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا...
دوسری طرف یہ سوال پاکستان کے دامن میں پناہ لینے والا اور اس زمین سے رزق کھانے والا وہ سیکولر طبقہ کرتا ہے جو دو قومی نظریے کا مذاق اُڑاتے ہوئے پاکستان کے وجود کو ایک غلطی قرار دیتا ہے.
ان کے نزدیک یہ سرحدیں مجبوریاں ہیں اور دونوں اطراف کے لوگوں کے جذبات کی راہ میں دیوار بن کر کھڑی ہیں.اوردونوں اطراف کی عوام صرف چند سیاست دانوں کے ذاتی مفاد کی وجہ سے بے تابی سے ایک دوسرے سے گلے نہیں مل پارہی..
اور پھر عوام کی مرضی پوچھے بغیر اس بات پہ اپنی طرف سے تصدیقی مہر بھی لگادی جاتی ہے.
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کا عام شہری اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ پاکستان ان کے لیے صرف ایک جائے پناہ نہیں بلکہ ایسی چار دیواری ہے جو ان کے جسم و جاں کے ساتھ ساتھ اُن کی ثقافت , مذہب اور نظریے کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط حصار جیسی ہے.
قومیں کبھی رنگ علاقے اور نسل کی بنیاد پہ نہیں بنتیں. بلکہ نظریات کی بنیاد پہ وجود میں آتی ہیں.
برِ صغیر میں مسلمان اور ہندو دو الگ الگ اقوام تھیں. اور یہ حقیقت کسی طرح نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی.
ظہورِ اسلام کے دور میں جب کفار کا ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےچچا ابو طالب کے پاس آیا کہ اپنے بھتیجے سے کہیں کہ ہم آپس میں کچھ معاہدے کرلیتے ہیں.اور ایک دوسرے کے مطالبات مانتے ہیں.کچھ ہمارا دین لے لیں کچھ آپ کا مانتے ہیں تواللہ کی طرف سے واضح انداز میں یہ احکامات تھے کہ اسلام ایک الگ مکمل مذہب ہے اور اس لیے آپ صہ نے نظریات کاسودا کرنا گوارا نہ کیا.
برِ صغیر کے حالات بہت حد تک مکہ کے حالات سے میل کھاتے تھے.اور ان حالات میں دو قومی نظریے کا تقاضا تھا کہ حق اور باطل کا امتیاز ہو اور مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت سے ایک اسلامی ریاست میں رہیں جہاں وہ آزادی سے اپنے دین کےمطابق زندگی گزار سکیں اور یہ سب متحدہ ہندوستان میں ناممکن تھا.
بھلا دو ایسی قومیں ایک جگہ کیسے رہ سکتی ہیں جن میں ایک گائے کو مقدس ماتا سمجھ کر پوجتی اور اس کے پیشاب کو پاک پوترمانتی ہو جبکہ دوسری گائے کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھاتی ہو.
نظریات کا اتنا بڑا تضاد نظرانداز کیے جانے کے قابل نہیں. یہی وجہ تھی کہ جس طرح مکہ سے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور الگ اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اسی طرح برِصغیر میں ایک الگ مملکت پاکستان کا قیام عمل میں آیا. اسی لیےپاکستان کو مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے.
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کُھلتے ہیں غلاموں پہ اسرارِ شہنشاہی
پھر اگر تاریخ سے منہ موڑ کر موجودہ بھارت کے حالات پہ نظر ڈالیں اور ایمانداری سے تجزیہ کریں تو یہ حقیقت کسی سےپوشیدہ نہیں کہ مسلمان وہاں ایک کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود محکوم , پسے ہوئے اور مغلوب ہیں. ہندو اپنے معاشرے میں کسی غیر ہندو کو پنپتے نہیں دیکھ سکتا.ہندوستان کے بڑے بڑے لیڈروں کے بیانات اور عزائم اس بات کا کھلا ثبوت ہیں.
پنڈت جواہر لال نہرو بظاہر ایک لبرل سیاست دان تھے مگر یہ انہی کے الفاظ ہیں کہ ہندوستان میں صرف ایک قوم آباد ہے اوروہ ہے ہندوستانی.دوسری کوئی قوم مجھے خوردبین لگا کر بھی نظر نہیں آتی.گویا مسلمانوں کی الگ حیثیت اور شناخت کا برملا اظہار ہے.
پاکستان کی آزادی کا مذاق اڑانے والوں سے محض اتنا ہی سوال ہے کہ اگر آپ کی بیٹیوں کے چہروں سے نقاب نوچ لیےجائیں...گوشت کا شاپر پکڑا دیکھ کر زندہ جلا دیا جائے...اور آپ کو آپ کی وفاداریوں کے باوجود مشکوک سمجھا جائے تب آپ جان سکیں گے کہ اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا تو کیا ہوتا...
Seemab Arif (Ambassador Positive Pakistan)
(2nd Prize Winner – Essay Competition at Walwala-e-Azadi Conference by Positive Pakistan)

اگر پاکستان آزاد نہ ہوتا

ذرا تصور کیجئے کہ ایک ایسا دیس جس میں ہم محکوم اور اقلیتی قوم ہوں جن پر ایک طرف غاصب انگریز اپنے استعمار کو دائم رکھنے کے لیے ھر پہلو سے عرصہ حیات تنگ کر رہے ہوں اور دوسری طرف صدیوں کے غلام عیار اور کینہ پرور ہندو اپنے نئے آقاؤں کے آشیر باد سے ہمارے حقوق، ثقافت اور قومیت کو کچلنے کے در پے ہوں ایک ایسا زہریلا خطہ ارض جہاں ہماری مذہبی اور ثقافتی اقدار کو ہندومت میں ضم کرنے کے لئے سازشوں کے تارعنکبوت بنے جا رہے ہوں اور ہماری معیشت ایڑیاں رگڑ رہی ہو ایسا خطھ ارض جھاں مذھب پر عمل پیرا ھونا ناممکن ھو جھاں لسانی تعصب ھماری قومی زبان مسخ کررھا ھو ایک ایسا مساوات سوز علاقہ جو ذات پات اور چھوت چھات کے غیر انسانی بندھنوں میں جکڑا ہوا ہو اور ہمیں کمترین اور اچھوت ثابت کر کے نفسیاتی حربوں سے احساس کمتری میں مبتلا کر کے معاشرتی طور پر ہراساں اور بے وقار کیا جاتا ہو ایک ایسا فرقہ واریت کی آگ میں جلتا سلگتا جہنم جہاں آئے دن مختلف حیلے بہانوں سے مسلم کش فساد برپا کئے جاتے ہوں آریا سماج، سنگھٹن، شدھی اور ھندو مہاسبھا جیسی ھندو انتہا پسند تنظیمیں اور تحریکیں مسلمانوں اور اسلام کو سبوتاز کرنے کے در پے ہوں ہماری خواتین کو آئے دن اٹھا کر پامال کیا جاتا ہو اور ہر وقت یہدھڑکا لگا رہتا ہو کہ ابھی کہیں سے قتل و غارت کا طوفان اٹھ کھڑا ہو گا اور اس حالت زارپر کوئ ہمارا داد رس بھی نہ ہو جس کے پاس انصاف کی امید لے کر جایا جا سکے تو چکیکے دو پاٹوں میں پستی اس قوم کی حالت نزع کا ایک مبھم سا اندازه ہی لگایا جا سکتا ہےجس سے یہ تاثر کشید کیا جا سکتا ہے کہ اگر وطن پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہم پہ سایہفگن نہ ہو تو ہم ایسے جلتے ریگزار میں استعمار و استبداد کی کیسی کڑی دھوپ کو برہنہ تنپر جھیل رہے ہوں اگر پاکستان وجود میں نہ آتا تو ہم آج بھی غلامی کے شکنجوں میں جکڑے ظلم و استبداد کی چکی میں پس رہے ہوتے ہمارے مذہبی،معاشرتی، سیاسی اورثقافتی حقوق مسخ ہو چکے ہوتے ہماری جان ، مال اور آبرو ہمارے آقاؤں کے اختیار میںہوتی، ہماری قومی زبان اردو ہندی میں ضم ہو چکی ہوتی ہندو قوم صدیوں کی غلامی کا ایک ایک پل کا گن گن کر ہم سے بدلہ لے رہی ہوتی ہر عمارت پر ترنگا جھنڈا لہرا رہا ہوتا،
اور ہندو بنیے کے اکھنڈ بھارت میں منفرد قومیت کا شیرازه بکھر چکا ہوتا۔
وطن عزیز پاکستان کے قیام سے ہمیں ناقابل شمار فوائد اور حقوق حاصل ہوئے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ہمیں ایک اسلامی آئین ملا جس سے ہم اس خطہ ارض کو اسلام کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور شریعت کے نفاذ کے لئے تجربہ گاه کے طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوئے۔
ہم اپنی زبان اور ثقافت کی ترویج اور اشاعت ہمارا آزاد اور خود مختار ریاست کا خواب شرمنده تعبیر ہوا- ہم عالم اسلام کو اسلامی ایٹمی بم کا تحفہ دینے اور چھٹی عالمی ایٹمی طاقت بننے کے قابل ہوئے- ہم واه آرڈیننس فیکٹری کی تکمیل سے کسی حد تک اسلحے کی دوڑ میں خود کفیل ہوئے- ہماری زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی کے استحکام کے لئے ڈیم بنانے کے قابل ہوئے۔ ہم کھیلوں کے میدان میں ابھرے۔ ہم پاک چائنہ اقتصادی راہداری اور تھرکول پاور پلانٹس سے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لئے پر امید ہوئے۔ علاؤه ازیں زندگی کے تمام شعبوں میں حقوق اور آزادی و خودمختاری کے خواب شرمنده تعبیر ہوئے۔
مگر کیا ہم نے نظریہ آزادی کے تمام مقاصد حاصل کر لئے؟ کیا ہم نے غلامی کے طوق سے مکمل چھٹکارا حاصل کر لیا؟ کیا ہم آزادی کا جشن منا کر، ون ویلنگ کر کے، گاڑیوں کے سائلنسر پھاڑ پھاڑ آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ کر, ھری نیلی پیلی جھنڈیاں لہرا کر اور پھر انہیں پاؤں تلے روند کر آزادی کا حق ادا کرتے ہیں؟
کیا آزادی کے لئے خون کے نذرانے پیش کر کے وطن عزیز کی آزاد فضاؤں کی آبیاری کرنے والوں کی تیسری پیڑھی اتنی سی آزادی پہ تکیہ کیے بیٹھی ہے
جبکہ یہ آزادی تو صرف استعمار اور استبداد کی تفویض اور منتقلی کا ایک شاخسانہ نظر آتی ہے جھاں آج بھی زیردست محکوم اور غلام ہے زبردست کا-
جہاں ہم آج بھی انھیں وڈیروں، لٹیروں، جاگیروں، سرمایہ داروں اور ایوان میں بیھٹے بے ضمیر، مطلق العنان اور بد عنوان غاصبوں کے غلام اور تابع فرمان ہیں جو اس وطن عزیز کی جڑوں کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں آج آزادی حاصل کئے اکہتر برس ہو چکے مگر جو بنیاد ہمارے آباؤ اجداد اپنے ولولے اور قوت ایمانی سے رکھ گئے ہیں وہیں تک آ کے کام رکا ہوا ہے اور تیسری نسل تک سے ابھی تک وطن پاکستان کی عمارت کی تکمیل شرمنده تکمیل نہ ہو سکی اور اس رکھی گئی بنیاد کی بھی اپنے ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں ملکی حمیت اور ہر اینٹ قرض کی ہے اور ہر برسر اقتدار پارٹی وقار کا سودا کر کے ورلڈ بینک اور آئ_ایم_ایف سے ملکی اور قومی مفادات کے خلاف کڑی شرائط پر قرض کا کشکول بھروا لاتی اور پھر اس کھوکھلی ہو چکی بنیاد کی درزوں اور رخنوں پر دکھاوے کا مہین پلستر چڑھا کر اہل شعور کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے کیا ہم مطمئن ہو پاتے ہیں اس نظریہ آزادی سے ؟ کیا ہم آزادی کی قیمت سے ناآشنا لوگ دوباره غلامی کے ہولناک پنجوں کی طرف واپسی کا سفر طے ہوتے دیکھ نہیں رہے یا آنکھیں بند کر چکے؟ کیا ولولہ آزادی کی چنگاریاں
بجھ چکی ہیں یا کوئ خضر کوئ ہادی کہیں باھر سے آ کر انہیں بھڑکانے گا۔۔۔؟ کیا ہم اپنے شھدا کی قربانیوں سے منکر ہو رہے ہیں؟ کیا ہم آزادی کا حق ادا کر رہے ہیں؟ اگر وقت کے تقاضوں سے چشم پوشی کی گئی تو وه وقت دور نہیں جب ہم یہ استعمار شده پاکستان بھی کھو دیں اور اس قوم کا نام تاریخ میں سیاه حروف میں لکھا جائے ۔۔۔ مگر ابھی وقت میسر ہے حالات اور تاریخ کا رخ موڑا جا سکتا ہے اگر اس قوم کا ہر فرد اپنے فریضہ آزادی کا احساس کر کے وه پون صدی پہلے سا ولولہ آزادی پیدا کرے وگرنہ ہمیں شاید وقت کسی دن حقیقتاً دکھا وے کہ اگر پاکستان نہ ہوتا تو کیا ہوتا!!!
Mudassir Rasheed

(1st Prize Winner – Essay Competition at Walwala-e-Azadi Conference by Positive Pakistan)

Tuesday, 28 August 2018

What if, Pakistan was not Created

It is the 1950’s. The air of Hindustan is filled with sadness in this particular part of the country. The dream of Pakistan remains merely a dream. The war that had started has failed.  Muslims from all over Hindustan were thrown in this part of the country with Hindu leaders ruling over them. Mosques were only a small piece of land where people secretly met to pray. The call to prayer was a dream many wished to fulfil. Instead, the sun marked the time to pray. The wind blew with sadness and misery as the Muslims of Hindustan busied themselves for another day.
The ten-year-old boy forced his steps towards the main water tap carrying three pots at the same time. Saying his Salam to his age fellows in the queue, he stood in line waiting for his turn. The noon heat was scalding his naked back. His bare feet rubbed against the pebbles on the ground, ripping his skin apart. His ear length straight black hair was dripping with sweat.  Clenching on the baked mud pots in his hands he silently prayed for the queue to fall short. His stomach rumbled with hunger and he looked up at the sky begging God to fix things. 
He carefully calculated his steps trying hard not to drop the pot on his head. Yesterday, he had broken a pot. His mother was furious. Buying new pots required money and money was scarce. He felt the pressure run down his spine as he inched closer to home. His hands sore from the weight of the pots, his neck muscles stretched to hold the pot on his head for longer; his eyes filled with tears. He was more serious compared to children his age. He would stay up at night gazing at the stars and talking to God about his situation. His father was a passionate man who had tried to fight for Pakistan but had failed. He would often lie next to his father on the terrace and listen to him recite Iqbal’s poetry. He would listen to stories about Jinnah and Liaqut Ali Khan. His father was an educated man who was forced, like many others, to give up their education because he was a Muslim.

Entering the house, he greeted his mother and elder sister who were both ready to go to the neighbouring village to work as maids. His father worked as a labour in the fields owned by Hindu landlords. Combined, their pay was not enough to buy food three times a day.  They were not the only family suffering in hands of such a fate. Majority of the Muslims had a similar fate. 

Setting the pots safely on the floor, he hurried out of the house running towards the fields. His duty in the house was to collect water and feed and milk the cows. As a Muslim boy he struggled with the daily routine of washing the cows, collecting their urine and decorating the cows as the Hindu’s did. Reaching his usual spot his stomach rumbled with anxiety and his face turned pale. Sweat beads decorated his forehead as he scanned the entire place. The cows were missing. Clenching his toes and rubbing them against the soft grass, he groaned and let out a sigh. This was it. This meant nothing but more trouble for his Muslim community. 
Rubbing his hands together, he took baby steps towards the chief’s resting place. In the middle of the fields sat the Hindu chief’s chair with his sons and other members of the village sitting around him. Gulping, he walked towards the centre with shaky legs. All heads turned towards him. He could feel the venomous glare. They knew something was wrong. With the recent incident that had taken place, this really wasn’t a good time for the cow to be missing. The men of this village, including his father, had tried to build a mosque around the corner of the village. The chief had been really upset with them. He hand gotten the mosque demolished and had warned against any such activity. 
He stood in middle of the circle and explained to them what had happened.  The members of the council shrieked in horror. The blood on his face drained as the chief’s elder son stood up yelling at the boy for stealing the cows. In his defence, he began to explain that he was not involved in any way but was only shut away by the men. His heart began to beat faster and faster and he found himself sweating despite the wind. His eyes filled with tears as he heard the men accuse him of wanting to eat their Holy Cows. Without being given a chance to explain his situation, one of them grabbed his arm and yanked him towards the men. Twisting his arm, they threatened him to speak the truth. He felt the muscles of his stretch to a point where pain overwhelmed him and he shrieked in pain.  He didn’t know how to explain himself. 
Just as the pain was getting unbearable, the chief stepped out of the fields. His face filled with confusion, he questioned the course of actions. Upon hearing the excuse, he let the boy go urging him to be on time the next day. Because he was late, the chief had taken the cows for the daily routine himself. Shaking and scared, he thanked the chief and hurried to his home.
The above mentioned story is completely imaginary set in a time when Pakistan was not made. The purpose of the story is not to defame any religious party but is only a realisation of what might happen in case there was no Pakistan. As a minority in Hindustan, Muslims would have been treated as slaves and as outcasts bearing severe consequences in the first few years at least. This certainly does not mean that we do not recognize the social activists working in India for Muslims.
Amina Saleem

(3rd Prize Winner - Essay Competition,Walwala-e-Azadi Conference by Positive Pakistan.)

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...