Showing posts with label برائے اصلاح. Show all posts
Showing posts with label برائے اصلاح. Show all posts

Friday, 25 October 2019

ترک اور کرد مسئلے کا تاریخی پسِ منظر


کرد، کردستان، کردش، یہ وہ الفاظ ہے جن سے کرد قوم کی پہچان ہوتی ہے تاریخ کے جبر نے اس پہچان پر بڑا ظلم ڈھایا ہے کرد قدیم اقوامِ عالم میں تاریخی نام رکھتے ہیں ثقافتی پہچان ہو یا قومی پہچان کردوں نے ہمیشہ سے اپنی جداگانہ حیثیت حاصل کی ہے۔
سنہ 1916 میں جہاں برطانیہ اور فرانس نے خفیہ معاہدے کے ذریعے کردستان جہاں ساڑھے تین کروڑ کرد آباد تھے کو چار ملکوں میں تقسیم کیا جن میں ترکی، ایران، عراق، شام، شامل ہے بعد میں کچھ کردوں کو آرمینیا میں بھی تقسیم کیا آرمینیا کو ملا کر پانچ ممالک بنتے ہیں جہاں کردوں کو تقسیم کیا گیا۔ اس جبری تقسیم سے کرد منتشر ہوئے اتنی بڑی تعداد میں بھی خالی ملک یعنی اپنی ریاست سے محروم ہوگئے اس کے باوجود کردوں نے اپنی ثقافت و تہذیب ، روایت و تاریخ اور مشترکہ زبان کی بدولت اپنے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھا-

اسلامک انسائیکلو پیڈیا کے مطابق کردستان کا علاقہ تین لاکھ بیانوے ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے ترکی کردستان کے جو مشہور شہر ہیں ان میں نصیبین، رفا، دیار بکر، شانلی، موش، بِتلس، وان، جزیرہ ابن عمر، دیارِ بکر اور جزیرہ ابن عمر یہ دونوں علاقے دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع ہیں اور اتفاق یہ ہے کہ دریائے دجلہ ترکی، ایران، اور شام کے کرد علاقوں کے درمیان بہتا ہے جو کہ کرد ریاست کے لئے بہت بڑی اہمیت کے قابل ہے۔
عراقی کردستان کے مشہور شہر جس نام سے آباد ہے وہ یہ ہیں اربیل اور سلیمانیہ، اربیل تو عراق میں کردوں کا دار الخلافہ ہے، ایرانی کردستان جن علاقوں پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں سننداج، مہ، ایلام، اور کرمان شاہ، شام میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 12.00 مربع کلومیٹر ہے۔ عراق میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 65.000 مربع کلومیٹر ہے۔ ایران میں واقعہ کرد علاقے کا رقبہ 1.25.000 مربع کلومیٹر ہے۔ ترکی میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 1.90.000 مربع کلومیٹر ہے۔
کردوں کی پونے دو کروڑ کی آبادی ترکی میں آباد ہے، ایک کروڑ کی آبادی ایران میں ،عراق میں پچپن لاکھ اور شام پچیس لاکھ کرد آباد ہیں۔
کرد ساتویں صدی میں ایمان لائے اور اسلام میں داخل ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ صلیبی جنگوں میں فاتح صلاح الدین ایوبی بھی کرد تھے اور اس مسلم فاتح کی قوم آج جبر و تشدّد میں زندگی بسر کر رہی ہے سلطنت عثمانیہ میں کرد خانہ بدوشوں کے نام سے جانے جاتے تھے ستم ظریفی یہ ہے کہ 1920ء میں مشرقی وسطیٰ میں سیورے معاہدے کے مطابق عراق، شام، کویت آذاد ریاستیں بن گئی اور اسی معاہدے میں کردستان کو آذاد ریاست کا درجہ دینے کے لئے وعدہ کیا گیا لیکن ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت آنے کے بعد خفیہ معاہدے کے تحت ایران، عراق اور ترکی نے کردستان کو آذاد ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

کردوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے انکی محرومیاں بڑھتی گئی عراق میں صدام حسین کی حکومت گرنے کے بعد کردوں کو نئی پالیسی کے تحت خود مختاری دی گئی لیکن باقی تین ممالک میں انہیں اقلیت کے درجے میں رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ کردوں کی تاریخ ان ممالک میں بغاوتوں سے بھری پڑی ہے - 1925ء میں جب کردوں نے ترکی میں شیخ سعید کی قیادت میں بغاوت کی تو ترکی نے کردوں کے خلاف پالیسی بنائی کہ کردوں کی تشخص ختم کی جائے اس پالیسی کے تحت ترکی نے کردوں کی زبان و ثقافت پر پابندی لگا کر انہیں پہاڑی ترک قرار دے کر ترک معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کی جس کے خلاف کردوں نے شدید مزاہمت کی تحریک چلائی۔

ان محرومیوں کو دیکھتے ہوئے عبداللہ اوجلان نے 1970ء میں کرد طلباء کو یکجاء کرنا شروع کیا اور کرد طلباء کو اپنی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے تبلیغ دی اور تمام ممالک کے کردوں سے رابطے بڑھانے شروع کیئے بعد ازاں عبداللہ اوجلان نے 1978ء میں کردوں کی سیاسی جماعت بنائی جسے کردستان ورکرز پارٹی کا نام دیا گیا جسکا کردی نام PKK . PRTI KARKERANI KURDESTAN یہ پارٹی سیاسی میدان میں اپنا نام بنانے لگا کافی حلقوں پر سیاسی تنقید بھی کی۔
کردستان ورکرز پارٹی نے کرد سردار میمت جیلال بوسیک کو قتل کیا صفائی پیش کی کہ میمت کرد کسانوں کا استحصال کرنے میں آگے آگے تھا اور ترکی سے خفیہ معاہدے کرتا تھا کردوں کے خلاف-اور پی کے کے نے میمت کے خلاف واضح ثبوت بھی پیش کیئے تھے۔

1984ء میں اس جماعت نے ترکی کے جبری قبضے کے خلاف مزاحمت کی جس کا مقصد کردستان کو ایک آزاد ریاست بنانا تھا جس پر ترکی حکومت نے نے کردوں کو کچلنے کی ٹھان لی بعد ازاں ترکی نے اس جماعت پی کے کے کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے لئے یورپی یونین سے لابنگ شروع کی سرمایہ دارانہ تمام ممالک نے ترکی کا ساتھ دیتے ہوئے کردستان ورکرز پارٹی کو 2اپریل 2004 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور اپنے ممالک میں اس کے کام پر پابندی عائد کی -اس سے پہلے 1980ء میں پی کے کے نے فرانس میں ترکی کی سفارتخانے پر حملہ کیا اس حملے کے بعد عالمی سطح پر پی کے کے نے ترکی کے مفادات کو اپنا ہدف بنایا ترکی سمیت بیلجئم، فرانس اور عراق میں کردستان ورکرز پارٹی نے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ترکی کو لوہے کے چنے چبوائے - 1990ء میں جب ترکی نے شام سے اس بنیاد پر جنگ کی دھمکی دی کہ وہ پی کے کے کی حمایت چھوڑے جس کے بعد کردستان ورکرز پارٹی نے اپنی ریاست کے حصول کے لئے ترکی کے خلاف خود کش حملے شروع کیئے۔
اپنی نوعیت کی تنظیموں میں پی کے کے ایسی تنظیم ہے جس میں 40% فیصد خواتین گوریلا ہیں اور اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کارکن جس طرح ہتھیاروں سے لیس ہوتا ہے اسی طرح زہنی طور پر نظریاتی افکار سے بھی واقف ہوتا ہے۔

2018 کے بعد اب پھر ترکی نے شامی کردوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی شروع کی ہے ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کردوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ کردوں میں جو دہشت گرد تنظیمیں ہیں انکے خلاف آپریشن کر رہا ہے جن میں پی کے کے اور وائی پی جے شامل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آپریشن کردوں کے خلاف ہے کیونکہ کرد شروع دن سے پی کے کے اور وائی پی جے کی حمایت کر رہے ہیں جس کی وجہ عراق و ایران اور ترکی سمیت کردستان میں بسنے والے تمام کرد اپنی آذاد ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

کردوں کی اپنی فوج اور اپنا نظام ہے بلکہ انکی اپنی جیلیں بھی ہیں یاد رہے کہ جب داعش نے شام پر حملہ کیا تو شام سے داعش کو بھی کردوں نے اتحادی فوج کے ساتھ ختم کیا حالانکہ ابھی بھی بڑی تعداد میں کردی جیلوں میں بہت سے خطرناک داعش کے دہشت گرد قید ہیں حالیہ دنوں میں جب امریکہ نے شام چھوڑنے کا اعلان کیا تو ترکی کو موقع ملا ترکی نے اعلان کیا کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک ہیں ترکی انکے خلاف آپریشن کرے گا-

ترکی کردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے لئے دو مؤقف رکھتا ہے:
پہلا، ترکی کہتا ہے کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک ہیں سوال بنتا ہے کہ اگر خطرناک ہیں تو یورپی یونین سمیت مسلم ممالک نے انکی فوج کو کیوں اپنا اتحادی بنایا داعش کے خلاف اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک نہیں بلکہ ترکی کے لئے خطرناک ہیں جس کی وجہ کردوں کا اپنی آذادی کے لئے ترکی سے جنگ ہے۔

دوسرا، ترکی کہتا ہے کہ شامی سرحد کے اندر ایک محفوظ علاقہ بنایا جائے جو کہ شامی سرحد پر کرد علاقہ ہے 32 کلو میٹر پر مشتمل ہے ترکی کہتا ہے اس علاقے کو آپریشن کر کے کرد جنگجوؤں سے خالی کروں گا اور اس علاقے میں شامی پناہ گزینوں کو لاؤں گا جو ترکی میں30 لاکھ شامی مہاجرین ہیں ان میں سے 20 لاکھ کو میں اس علاقے میں جگہ دوں گا دوسری طرف شام ترکی سے کہہ رہا ہے کہ میرے شامی مہاجرین مجھے دو میں خود انہیں جگہ دونگا اس علاقے میں آپریشن کی ضرورت نہیں لیکن ترکی شامی مہاجرین شام کو نہیں دے رہا ترکی کہتا ہے میں آپریشن ضرور کروں گا، 
اب سوال یہ بنتا ہے کہ مہاجرین شام کے ہیں شام بارہا کہہ چکا ہے کہ میرے مہاجرین مجھے دو ترکی کیوں نہیں دیتا؟ ترکی آپریشن پر بضد کیوں ہے؟ ترکی کو یورپی یونین سمیت کئی مسلم ممالک نے کہا کہ یہ عمل غلط ہے طیب اردگان نے کہا کہ اب کسی نے اس آپریشن کی مخالفت کی تو میں 20 لاکھ شامی مہاجرین انکے ملک بھیجوں گا ترکی آخری حربہ بلیک میلنگ استعمال کر رہا ہے۔

ترکی ان دنوں ترکی کردستان میں کردوں کے ایک گاؤں کو خالی کراکر ترکی کی تاریخ کا بڑا ڈیم بنانے جارہا ہے جس کی تجارتی راہداری و سیاحتی راہداری کردوں کے علاقوں سے گزرتی ہے جس کے لئے کردوں کو کچلنا ضروری ہے ورنہ وہ اپنے علاقے میں مزاحمت کریں گے اور ترکی کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔

یقیناً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ترکی اور کردوں کی جنگ امن اور دہشتگردی کی جنگ نہیں بلکہ یہ معیشت کی جنگ ہے اکنامک وار ہے عالمی سیاسی جنگ کا ایک اہم جز ہے جس سے ترکی کی مفادات جڑی ہیں دوسری طرف کردوں کی مزاحمت اپنی آذاد ریاست کے لئے ہے جو انکا بنیادی حق ہے۔

ساڑھے تین کروڑ پر مشتمل کردوں کی آذادی کی جزبوں کو کوئی سامراجی طاقت دبا نہیں سکتی - جہاں عربستان سے جداگانه حیثیت میں اردن، قطر، کویت کو الگ الگ ریاستیں بنا دی گئی وہاں کردوں کی کثیر تعداد کی بنیاد پر انکی اپنی ریاست ضروری ہے اکیسویں صدی میں انکا وہ حق کردوں کو ضروری دیا جائے جو سیورے معاہدے میں ان سے چھین لیا گیا تھا عراق، ایران اور ترکی کو چاہئے کہ وہ کردستان کو آذادی دیں پھر بطور مسلم ممالک اسکی مدد بھی کریں اور کردستان کی آذادی کو تسلیم کریں تواتر سے خونریزی کے بجائے امن و محبت، دین اسلام اور وقت کا تقاضا ہے۔

نجیب اللّٰہ زہری

Tuesday, 22 October 2019

بہترین انسان اور حکمران

سکول میں انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی "دی وزڈم آف چائنہ" جس میں شہزادہ کو اس کا استاد کہتا ہے، "ایک بہترین حکمران کے لیئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان سنی آوازیں بھی سن سکے". میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ صلاحیت ایک بہترین حکمران کے لیئے ہی ضروری نہیں بلکہ ایک بہترین انسان بننے کے لیئے ضروری ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بہترین انسان بننا نہیں چاہتے اور بہترین حکمران بننے کے خواب دہکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ بہترین انسان بن پاتے ہیں نہ ہی بہترین حکمران، اور بدقسمتی سے اگر ہم حکمران بن بھی جائیں تو بدترین حکمران بن کر اپنی محکوم عوام کو بزور شمشیر یہ باور کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہم بہترین حکمران ہیں۔ 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید۔۔
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔۔!
کہا جاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ ارتقاء کے مراحل میں رہتی ہے، انسانی سوچ بھی ارتقاء میں رہتی ہے لیکن یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ارتقاء سے کس حد تک مستفید ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارا ذہن تو پختگی حاصل کر لیتا ہے لیکن ہماری سوچ میں بالیدگی نظر نہیں آتی۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سوچ میں خودکفیل ہوتے ہیں، ایسے لوگ دنیا کے غموں اور تفکرات کے باوجود خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں اور حقیقی مسرت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ لوگ نہ ہی حطمہ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی حاویہ کی فکر ان کو ستاتی ہے، کیونکہ جب انسان فکر و سوچ کی پختگی حاصل کرتا ہے اس سے کچھ پہلے لاشعوری طور اس کو ایمان کی پختگی بھی حاصل ہوجاتی ہے اور پھر وہ نہ ہی مال و دولت جمع کرتا ہے اور نہ ناپ تول میں کمی۔۔ اور پھر اس کو وہ تمام صلاحیتیں بحکم ربی عطا کی جاتی ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ ان سنی آوازیں بھی با آسانی سن لیتا ہے اور دل میں موجود خشیت الہی اس کو ظالم بھی نہیں بننے دیتی۔ اور جب وہ انسانیت کی اس معراج کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کو حکمرانی بھی عطا کر دی جاتی ہے دنیاوی نہیں حقیقی حکمرانی، کیونکہ دنیاوی حکمرانی اس کے سامنے کھیل تماشہ بن چکی ہوتی ہے اور یہاں سے شروع ہوتا ہے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر۔۔۔!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Thursday, 19 September 2019

ذاتی تجزیہ

مُعاشرہ سُدھارنے کیلٸے آغاز خُود سے کریں
یہ محض ایک مقُولا نہیں بلکہ ایک ایسی رنجیدہ حقیقت ہے کہ جِسے جانتے تو سب ہیں پر مانتا کوٸی نہیں۔
جی ہاں، یہ با لکل یُونہی ہے جیسے آج کا بدنصیب مُسلمان اللہ تعالٰیکوتو مانتا ہے پر اللہ تعالٰیکینہیں مانتا۔
اورایسا صرف اسی لیے ہے کہ آج کا انسان اس بات سے ہی انجان ہے کہ مُعاشرہ ہوتا کیا ہے۔ یہ کیسے بنتا ہے۔ کون سے عوامل ہیں جو اِس کو بنانے یا بگاڑنے میں اثرانداز ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کا ہر انسان اپنی ذات کے لیے بہترین وکیل اور دوسروں کے لیے بہترین منصف کا دعوے دار ہے یعنی ہم یہ تسلیم کرنے کو راضی ہی نہیں کہ ہم نے غفلت برتی اور اگر ایسا ہی ہے تو اس معاشرے کی بدحالی کا زمہ دار آخر کون ہے؟
یاد رہے کہ کوٸی بھی انسان ماں کے پیٹ سے مُلّا یا ڈاکُو بن کر نہیں آتا یہ مُعاشرہ ہی ہے جو اُسکی تربیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ وہی مُعاشرہ جسکی ترجمانی آپ، میں اور ہم سب کرتے ہیں۔
جی بالکُل... یہ ہم خُود ہی ہیں جو مِل کر ایک مُعاشرہ تعمیر کرتے ہیں وہ مُعاشرہ جس میں فردِ واحد کی وہی اہمیت ہے جو کسی سیڑھی میں پیوست اُس step کی ہوتی ہے جو اپنی جگہ پر رہتے ہُوے ہماری بُلندی میں اضافہ کرتا ہے سو ہمیں بھی اِسی طرح مُعاشرے میں رہتے ہوئے اِس کے وقار کو بُلندی سے ہمکِنار کرنے کی کاوِش میں لگے رہنا چاہیے۔
لہٰذا اپنی اہمیت کو جانیے اور اِس مُعاشرے اور اِس مُلک و مِلت کی تعمیر میں اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کریں!
خُداوند کریم آپ کا حامی و ناصر ہو۔ا
زیشان علوی

Tuesday, 19 March 2019

قلم کتاب۔ قسط اوّل

دروازے کی کنڈی کھٹکتی اور میرے اور عرشہ (بہن) میں ریس لگ جاتی کہ پہلے جا کے دروازہ کھولیں اور ابو کے ہاتھ سے اخبار پکڑ لیں...اباجی چونکہ اخبار میں کام کرتے تھے سو مفت کا اخبار پڑھنے کو مل جاتا تھا اور اتوار اور بدھ کی شام کو میگزین بھی....😍
اس دوڑ سے پہلے کے بچپن میں ابو پاس بٹھا کے اخبار کی سرخیاں جوڑ کروا کے پڑھاتے رہے تھے...سو مطالعہ گھر بھر کی عادت بن گیا....💗
مارک ہیڈن کا قول ہے..."مطالعہ ایک گفتگو ہے...سب کتابیں بات کرتی ہیں...مگر ایک اچھی کتاب آپ کو سنتی بھی ہے۔" 💞
انسانی ذہن ایک برتن کی طرح قطرہ قطرہ ملنے والے علم سے خود کو بھرتا ہے بالکل ایسے جیسے بالٹی میں مسلسل گرنے والا پانی بالٹی کی سطح کو بتدریج بلند کرتا جاتا ہے....مطالعہ انسانی ذہن کے لیے بالکل اسی طرح کام کرتا ہے....آپ کی بات میں وزن...معلومات میں اضافہ.... سوچ میں وسعت اور ظرف میں کشادگی پیدا کرنے میں مطالعہ کا بڑا کردار ہے!
اپنے گھروں میں کتاب کلچر کو رائج کرنے کی کوشش کریں...اس مقصد کے لیے آپ چند چھوٹی چھوٹی تدابیر سے کام لے سکتے ہیں...
👈 ماہانہ سودا سلف خریدنے جائیں تو ایک کتاب بھی اس لسٹ میں شامل کر لیں...اور سب گھر والے اسے اس ماہ میں مکمل کریں...
👈 شام کو کھانے کے بعد 15-20 منٹ کی نشست کتاب پڑھنے اور سننے کی رکھی جاسکتی ہے جس میں ایک فرد پڑھ کے سنائے اور باقی سنیں...(ہم نے مشکل کتاب ہمیشہ یونہی مکمل کی ہے😋)
👈 مشکل اور بورنگ کتابوں کے بجائے کسی دلچسپ کتاب سے آغاز کیا جاسکتا ہے...مثلاً افسانے، سفرنامہ، کہانی وغیرہ۔
فیضان ہاشمی کے اس خوبصورت شعر کے ساتھ..
یہ کتابیں تمہیں جنگل سے رہائی دیں گی...
جن کی تیاری پہ اک پورا شجر لگتا ہے!! 💖
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Friday, 15 March 2019

تنقید برائے اصلاح

ہاں...!! میں مانتی ہوں...
اندھیرے کمرے میں ایک دیا سلائی زیادہ دور تک روشنی نہیں کر سکتی.....مگر وہ اپنا وجود دکھا جاتی ہے کہ میں ہوں!!💖
لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بھلے کاموں پہ تنقید مت کریں....ہاں مانا کہ سسٹم ان چیزوں سے ٹھیک نہیں ہوگا...مگر اپنی بساط بھر کوشش تو کی جاسکتی ہے نا....یار یہ جو لوگ رضاکارانہ اپنی اپنی جگہ لگے ہوئے ہیں ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم طعن و تشنیع سے تو باز آؤ!!
تنقید چیزوں کو نکھارنے کے کام آسکتی ہے اگر آپ کو سلیقہ ہو نقادی کا....
مگر ہمارے ہاں تنقید کا مزاج اصلاح کرنا نہیں رہا بلکہ صرف تنقید برائے تنقید ہوچکا ہے....
اور وہ بھی اس قدر تعصب سے بھرا کہ جنہیں یہ "صحیح" سمجھتے ہیں....اُن کا ہر کام "صحیح"....اور اُس حلقے سے باہر ہر صحیح "غلط".....
پھر تنقید کے لیے اکثر وبیشتر نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ وجہ....بس اندھا دُھند فائر...!!
ان کا کوّا ہر صورت سفید ہی ہوگا....خواہ کسی کی عقل مانتی ہے یا نہیں...
عموماً یہ تنقید کرنے والے وہی ہوتے ہیں جو عمر بھر خود کچھ نہیں کرتے سوائے ثقیل الفاظ میں بڑی بڑی باتیں کرنے اور فلسفہ بھگارنے کے...
اور پھر آخر میں کوئی لوہاروں کا پُتر بازی لے جاتا ہے اور یہ دیکھتے رہ جاتے ہیں...!!
لوگوں کو ہمت دلانے والے بنیں....اور ناقد ایسے جن کا اخلاص کوئی نوکیلا لفظ تک زباں پہ نہ آنے دے.....
ورنہ سوہنا رب کسی ابابیل کی نیت کو قبول کرلے تو تاریخ اُسے یاد کیے بغیر ابراہیم علیہ السلام کا قصہ نہیں سنا سکتی!! 💞
اپنا خیال رکھیے اور جمعة المبارک کا بھرپور اہتمام کیجیۓ... جمعہ مبارک..

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 14 March 2019

راۓ عامہ

دیوار کے اِس پار کھڑا شخص دیوار کے دوسری طرف موجود فرد کے بارے میں صرف اندازہ لگاسکتا ہے...حتمی رائے نہیں دے سکتا!!
آپ کی آنکھ دیکھ سکنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود ہر شے کو ایک وقت میں نہیں سمو سکتی....
سِکےّ کے دونوں رخ ایک ہی وقت میں نہیں دیکھے جاسکتے.....
آپ کے گرد ان گنت لوگ ہیں...انہیں ان گنت دماغ سمجھیں....اور ان گنت نظریات (پوائنٹ آف ویوز).....
سو...ضروری نہیں کہ جو ایک وقت میں آپ کے لیے اچھا ہو وہ دوسرے کے لیے بھی ہو...ایک کی رائے دوسرے کی رائے سے ہمیشہ مماثل نہیں ہوسکتی!!
دنیا کو کبھی کبھی دوسروں کی عینک سے دیکھنے کی بھی کوشش کریں....!! (میرا تو رنگ برنگی عینکیں ٹرائے (try) کر کے کبھی کبھی سر بھی دُکھنے لگتا ہے🤪 لیکن کبھی کبھی میری اپنی عینک سے زیادہ شفاف بھی دِکھنے لگتا ہے)😍
ہمیشہ آپ کا اندازہ ٹھیک ہو، یہ ضروری نہیں....تو کبھی کبھی دوسروں کا نکتہ نظر بھی سنیں...اور صرف اختلاف کرنے کے لیے نہیں....سمجھنے کے لیے سنیں..!!💗
لوگوں کے مسائل کو بڑا بن کے دیکھیں...خود کو ان کی جگہ پہ رکھ کر سوچیں.....کچھ سمجھ آئے تو سُلجھا بھی دیں...!! 
اپنا خیال رکھیے...🙂

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 12 February 2019

آداب معاشرت

ہاسٹل میں جب میں نے پہلی بار  قرآن کلاس لی تو جو پہلی سورت ہمیں پڑھائی گئی وہ سورت حجرات تھی........💗
پھر لقمان...عنکبوت....اور پھر مزید.....
میرے ذہن میں سوال تھا کہ پہلے سپارے سے شروع کرنے کے بجائے ہم پہلے ان سورتوں کا مطالعہ کیوں کررہے ہیں...لیکن سورت مکمل کرنے کے بعد جواب خودبخود سامنے آگیا....
یہ چند سورتیں وہ سورتیں ہیں جن میں معاشرتی آداب اور حقوق العباد کے حوالے سے اہم اہم باتیں پوائنٹس میں بتائی گئی ہیں....
اور کسی بھی قرآن کے طالب علم کو سب سے پہلے یہی چیزیں سیکھنا ضروری ہیں....بحیثیت مسلمان...اور بحیثیت انسان بھی...کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو بہترین انسان بھی ہو....محض کلمہ گو نہ ہو...
بہرحال...بات ہورہی تھی میری پہلی سورت کی...."حجرات"....❤
سورة حجرات دو اہم نکات پہ مبنی ہے...
1- رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
2- ان سے محبت جو آپ صہ سے محبت کرتے ہیں...یعنی مسلمان
انہی دو نکات کے حوالے سے سورت میں 9 معاشرتی آداب بتائے گئے ہیں...
روزمرہ زندگی کے آداب (daily etiquettes) سکھانے والی سورتوں میں یہ بنیادی سورت ہے....❣
چھبیسویں پارے کی یہ سورت بہت چھوٹی سی ہے....2 رکوع اور اٹھارہ آیات پہ مشتمل....یعنی ایک نشست میں پڑھی جانے والی...💕
تو کسی نشست میں بیٹھیے اور دیکھیے کہ وہ 9 باتیں کونسی ہیں...جن کی وجہ سے اس سورت کو معاشرتی آداب کے سبق کے طور پہ پڑھایا جانا چاہئیے....❣
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 10 February 2019

سکرین سے باہر

ٹیوشن چھُوٹی تو آج عرصے بعد ڈھلتی دوپہر میں کھلا آسمان دیکھنے کو ملا....
یار اچھی چیزیں ہیں یہ بھی....
نیلا...سیاہی مائل نیلا....ہلکا نیلا...اور کہیں کہیں سے سفید....اور وُسعت.....جہاں تک نظر کی حد ہے دیکھتے چلے جائیں....
کہیں کہیں ٹکڑیوں میں سفید دھنکی ہوئی روئی جیسے بادل... ❤
سورج...روشن...چمکدار.... سردیوں کی بھلی دھوپ جو ماں کے لمس کی طرح نرم اور شفیق اور تھپکی دینے والی  ہوتی ہے...💖
پنکھ کھولے اُڑتے پرندے...کہیں ٹکڑیوں میں کہیں ایک دو....بے فکر....بے نیاز....💕
سامنے مسجد کے مینار کے پیچھے سے جھانکتے پیڑوں میں سے ایک کم پتوں اور زیادہ شاخوں والا پیڑ....جس کی شاخیں خالی ہونے کے باوجود قدرت کا حسین آرٹ ورک لگ رہی ہیں...💗
بیک گراونڈ میں کہیں دور سے آتی ہوئی اذان کی دھیمی آواز.....💞
اور حتّیٰ کہ گلی کے آخر تک جانے والی اونچی نیچی چھتوں سے جڑی چھتیں بھی.....(کبھی کسی زمانے میں نانا جان کے گھر سے چھتیں پھلانگتے ہوئے گلی کے آخر تک کھیتوں کی طرف چلے جایا کرتے تھے....تب اظہر فراغ کی زبان میں...
دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا)
بہت خوبصورت ہے یار یہ سب بھی...بند اے-سی والے سجے سجائے اور ہر سہولت سے آراستہ کمروں سے بھی زیادہ شاید....
اور سکرین کی دنیا سے باہر!
شام ڈھلتی تھی تو تایا جان کی چھت پہ روزانہ بلاناغہ نیلی پری پیلی پری، برف پانی، سٹاپو، کوکلا چھپاکی، مہمان مہمان، اور گڑیا کی شادی جیسے ڈھیروں کھیل کھیلتے تھے.....
آوٹ ڈور گیمز.....
ان ڈور گیمز سے زیادہ اچھے ہیں یار!!
قدرتی مناظر مصنوعی سے زیادہ خوبصورت ہیں....
کبھی کبھی سکرین کی دنیا...بند فرنشڈ کمروں...اور "سوفیسٹیکیٹڈ" (پیچیدہ) زندگی سے نکل کر باہر جھانکیں...اچھا لگے گا! 💝

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 3 February 2019

کیا کہیں گے لوگ

ایک جملہ جو ہم سب بولتے ہیں....ایک بات جو سب کی زندگیوں کا روگ بنی ہوئی ہے....
*کیا کہیں گے لوگ*.....
کون لوگ؟؟؟
آپ....
جی ہاں آپ...جو پڑھ رہے ہیں!! 
میں...جو لکھ رہی ہوں....
ہم سب....ہمی تو ہیں وہ *لوگ* جن سے ہم تنگ ہیں....
ایک دوسرے کی زندگیوں میں بے جا مداخلت....نکتہ چینی....تجسس...غلط گمان....غیر ضروری تبصرے....
کہیں کسی اور سیارے سے نہیں آتی یہ "لوگ" نامی مخلوق....یہیں کی ہے....آپ اور میں....ہم سب....
پھر شکوہ کیسا اور شکایت کس سے....🤔
قرآن جو زندگی کی کتاب ہے....اپنے مخاطب کو صاف الفاظ میں سکھاتی ہے..."ولا تجسسو"....
(اور ٹوہ میں نہ رہو)
اور پھر....
"اجتنبو کثیرا من الظن. ان بعض الظن اثم"
بہت زیادہ گمان نہ کرو...کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں.
(سورت حجرات)
یقین کیجیے اس مسئلے کا صرف اسی صورت سدِ باب کیا جاسکتا ہے...اگر ہم "کیا کہیں گے لوگ" کہتے ہوئے آئینے میں جھانک لیں!
آپ کی ایک غلط بیانی کسی کی زندگی بھر کی پریشانی بن سکتی ہے...آپ کا ایک بے تکا اندازہ کسی کو ہیرو سے ولن بنا سکتا ہے....آپ کا ایک غیر تصدیق شدہ جملہ بہتان بن سکتا ہے....
کسی بادشاہ کے دربار میں ایک درباری بھاگتا آیا اور بھرے دربار میں بولا...بادشاہ سلامت آپ کی بیٹی چلی گئی ہے...
بادشاہ نے سر جھکا لیا....
لوگ اٹھ کے چلے گئے تو جملہ مکمل ہوا...اپنے شوہر کے ساتھ...
مگر اب کیا....بھرے مجمع نے تو کچھ کا کچھ سنا...اور پھر خود سے نتیجہ بھی اخذ کر لیا....!!
بولیں...تو بولنے سے پہلے بات کو تول لیں...ورنہ بات آپ کو بے مول کردے گی!!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 30 January 2019

خاموشی کی آواز

یہ خامشی وہ بلا ہے کہ چیخ اٹھے اگر
 تو سننے والوں کے کانوں سے خون بہتا ہے 
(جہانزیب ساحر)
آدمی صدیوں سے بولتا آیا ہے اور آواز سے شناسا رہا ہے...مگر خاموشی وہ آواز ہے جسے سننے کا ہنر بہت کم لوگوں کو آتا ہے....اور درحقیقت یہی ہنر سماعت کی اصل ہے...
 خاموشی عادت نہیں ہوتی خاموشی تو کسی وجہ سے ہوتی ہے ایسی وجہ جو نہ تو انسان کہہ ہی سکتا ہے اور نہ  اسے سہہ سکتا ہے۔ خاموشی وہ تاوان  ہے جسکی ادائیگی تاحیات کرنا پڑتی ہے، انسان چاہتا ہے کہ وہ بولے لیکن کس سے؟ کس سے کہے وہ سب جسے سن کے کوئی اسے پرکھے نہ بس اسے سن لے..... منصف بن کر صحیح اور غلط کے ترازو میں تولے نہ بلکہ صرف سنتا ہی جائے۔ انسان اسی تلاش میں بھٹکتا ہے...اور پھر تھک کر اپنا مخاطب خود کو بنالیتا ہے... خود سے کہتا ہے، خود کو سنتا ہے... خاموشی آواز کرتی ہے وہ آواز جسکے شاہد لوگ بنتے ہیں اور وہ آپکو آدم بیزار کہنے لگتے ہیں لیکن وہ اس تلخ حقیقت سے واقف نہیں ہوتے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے کہتے تھک گئے....مگر کوئی سامع نہ ملا.... اور جو ملا بھی تو محض اس لیے کہ فیصلہ کر سکے...تبصرہ کرسکے....منصف بن سکے....نہ کہ بوجھ ہلکا کرے!

اگر ہم پرکھے بغیر صرف سننے کی عادت ڈال لیں تو نجانے کتنے ہی لوگ خاموشی اختیار کرنے کی بجائے کہہ دینے کی عادت ڈال لیں اور سماج میں خاموشی کی آواز نہیں بلکے لوگوں کی ہسنے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔

صائمہ اعجاز
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 29 January 2019

تعلق کی ڈور

جب کبھی میں کسی کے منہ سے یہ جملہ سنوں کہ...
مجھے اپنے ماموں کے گھر گئے پانچ سال ہوگئے ہیں...
یا
چچا لوگوں کا گھر ہماری گلی میں ہی ہے مگر سات سال پہلے میں ان کے گھر گئی تھی..وغیرہ.. وغیرہ...
تو مجھے بہت حیرانی اور اس سے زیادہ افسوس ہوتا ہے....
اگرچہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری زندگیوں میں غیر ضروری ٹانگ اٹکانے والے اور تنقیدی ایکسرا کرتی نظروں سے دیکھنے والے زیادہ تر ہمارے رشتہ دار ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی....پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں...
لوگوں سے گُھلنا ملنا....رشتے اور تعلق نبھانا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے!! 
پھر ایک چیز اور کہ تعلقات کسی شرط پہ نہ نبھائیں.....کیا ہوا جو وہ نہیں آیا...ہم چلے جاتے ہیں...
اور کیا ہوا جو انہوں نے فون نہیں کیا....ہم کر لیتے ہیں!! 🙂
اپنی جَڑوں سے جُڑے رہنے میں ہی ہماری بقا ہے اور خوبصورتی بھی💖
چند ایک ٹِپس....🙂🙃 
💌 ہر عید تہوار پہ معمول بنالیں سب رشتہ داروں کو فون کرنے کا
💌 مہینے میں ایک بار اپنے سارے دوست احباب سے حال احوال دریافت کرلیا کریں تاکہ ربط بنا رہے!
💌 موسم گرما اور سردیوں کی چھٹیوں کو گھر پہ ضائع نہ کریں...مہمان بلا لیں یا مہمان بن جائیں 🙃
💌 جن لوگوں سے عرصہ دراز سے کبھی نہیں ملے...ان سے کچھ وقت فرصت کا نکال کر مل لیں....غمی کے موقعے کا انتظار نہ کریں! ☹
💌 صلح میں پہل کرنا ہی اصل ظرف ہے...
مفہومِ حدیث ہے  کہ جو حق پہ ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے میں اس کے لیے جنت میں ایک گھر کا ضامن ہوں💖
رشتوں کی ڈور کو چھوٹنے نہ دیجیے......اور کسی کے لیے نہ سہی خدا کی رضا کے لیے!!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...