Showing posts with label Seemab Arif. Show all posts
Showing posts with label Seemab Arif. Show all posts

Wednesday, 28 August 2019

لوکل بمقابلہ برینڈ

پچھلے دنوں ایک نوزائیدہ کالج میں جاب کے لیے جانے کا اتفاق ہوا....جسے ابھی جنم لیے مہینہ ہی گزرا تھا.....
ادارے کے پرنسپل صاحب نے فائل پکڑتے ہوئے پہلا سوال داغا...
"کتنا تجربہ ہے"
ہم نے متانت سے جواب دیا تجربہ تو غلطی سے سیکھنے کا نام ہے...ابھی کسی نے غلطی کرنے کا موقع نہیں دیا....🤪
جناب نے ہمیں گھور کر کہا آپ کا پہلے کسی کالج میں پڑھانے کا تجربہ نہیں ہے....
ہم نے جواب دیا جناب تجربہ بازار سےتو ملتا نہیں...کوئی تو پہلا کالج ہوتا ہے...جہاں سے شروع کیا جاتا ہے کیریر کا سفر....
بولے...آپ کسی "لوکل کالج " میں اپلائے کریں پہلے.....
پوچھا "لوکل کالج کسے کہتے ہیں....
جواب ملا....یہی جو گلی محلوں میں کھلے ہوتے ہیں....چھوٹے موٹے....
گستاخ سوال پھر زبان پہ آ ٹپکا....
گلی محلے میں کھلا کالج لوکل...اور مین روڈ پہ کھلا ہوا برینڈ.....🤔😅
اور چھوٹے موٹے کا اندازہ کیسے لگایا جائے....عمارت کے سائز سے....طلبہ کی تعداد سے یا کالج کی chain نہ ہونے سے.....
اور اگر ہم یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں کہ " لوکل کالج" کونسا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کالج خود کو "لوکل" سمجھتا ہے یا نہیں🤔🤔🤔
معاملہ اب صاحب کی برداشت سے باہر ہو چلا تھا....ہنکار کر بولے....اب یہ آپ کا مسئلہ ہے....
اور ہم اپنا مسئلہ اٹھا کر تشریف لے آئے....
گھر آ کر ڈکشنری کھولی اور لوکل کا مطلب دیکھا تو ہمارے علم پہ تصدیقی مہر لگ گئی کہ... لوکل کا مطلب تو مقامی" ہوتا ہے....یعنی آپ جس شہر کے رہنے والے ہیں وہاں کی چیزیں آپ کے لیے لوکل ہیں....مطلب مقامی....
اس حساب سے تو مندرجہ بالا کالج بھی "لوکل" ہی تھا....
دوسری طرف "برینڈ" کا مطلب نکلا "جلی ہوئی لکڑی کا داغ/ یا داغ کر نشان لگانا..."
تو بھلا نشان زدہ ہونے سے "بہتر ہونے" کا سرٹیفکیٹ کیسے مل جاتا ہے.....
نام ہی کافی ہے کا فارمولا میرے نزدیک بالکل غلط ہے....اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نام کمانا پڑتا ہے مگر "برینڈ" بن جانے کے بعد آپ ہر چیز میں "بہترین" ہو جاتے ہیں یہ کہیں نہیں لکھا....
خیر یہ برینڈڈ رویہ اب زندگی کے ہر شعبے میں دیکھنے کو ملتا ہے.....کپڑے، جوتے، ضرورت کا سامان...تعلیم اور شاید "رویوں" میں بھی....
بچپن میں اماں بازار جایا کرتیں تو ایک تھان سے کپڑا اتروا کر لاتیں اور دو تین بچوں کے اکٹھے کپڑے سی لیا کرتیں....
ویسے تو اب بھی یہی روایت ہے البتہ تھان الگ الگ ہوگئے ہیں اور ہم وردی سے باہر نکل آئے....😄
زمانے نے کروٹ لی اور کپڑوں اور جوتوں کے لیے تھان اور دکانوں کے بجائے پلازہ اور مال کھل گئے.....جہاں دکانیں تو وہی ضرورت کی اشیاء کی تھیں مگر نام اب مولوی انکل کی دکان, پٹھان کی دکان اور خان مارکیٹ جیسے ناموں سے نکل کر کھادی, لائم لائٹ اور نشاط جیسے ناموں میں منتقل ہوگئے....
پتہ چلا کہ یہ برینڈ کا زمانہ ہے....
اور اگر کسی کپڑے کا تعلق فلاں برینڈ سے ہے تو اُسے بہترین اور قیمتی کہا جائے گا....خواہ اس کی بنت اور پٹھان انکل کپڑے والے کے تھان کی بُنت ایک جیسی کیوں نہ ہو.....
یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اس سے ایک قدم آگے یہ بھی طے کرلیا گیا کہ پٹھان انکل کی دکان سے کپڑے خریدنے والے اور برینڈ کی دکان سے خرید کر پہننے والے انسانوں میں بھی بہترین اور کمتر کا مقابلہ ہوگا.....
یہ بات ابھی تک ہضم نہیں ہوسکی....😒
پھر یہ ٹرینڈ کپڑوں جوتوں اور ضرورت کی دوسری اشیاء سے نکل کر انسانوں تک جا پہنچا.....
یعنی نامور انسان کا ہر کام اور ہر بات بہترین ہی گنی جائے گی....گویا "نام ہی کافی ہے" کی پیروی کرتے ہوئے کام پر سے توجہ کم ہوتی گئی....😒
یہ رویہ دوسرے بہت سے شعبوں کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی پھیل گیا....
جو ادیب اور شاعر ایک بار مشہور ہوگیا اس کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بےکار تخلیق کیوں نہ کرے اس پہ بلا سوچےسمجھے داد دینا فرض ٹھہرا.....
اس بات سے انکار نہیں کہ نام بنانے اور برینڈ بننے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے....مگر یہ محنت اس پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ہونی چاہئیے....ورنہ ہم کپڑوں جوتوں سے لے کر انسانوں تک خوبصورت لفافوں میں گلی سڑی اشیاء خریدتے رہیں گے......نہ صرف خریدتے رہیں گے اس پر خوش بھی ہوتے رہیں گے.....

سیماب عارف
رہبر اور ایڈیٹر ای-میگزین پازیٹو پاکستان 

Monday, 27 May 2019

یومِ تکبیر

آج سے قریب 21 برس قبل ایک شام اشفاق احمد، منیر احمد خان، ایئر چیف مارشل پرویز مہدی قریشی، ایڈمرل فصیح بخاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، وزیر خزانہ سرتاج عزیز، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر مشاہد حسین سید، سول و ملٹری قیادت اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ایک میٹنگ میں اس بات پر غور کر رہے تھے کہ اگر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب ایٹمی دھماکوں کی صورت میں دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ چند دن قبل جی ایٹ سربراہ کانفرنس نے پاکستان کو اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اگر بھارتی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جن میں عالمی برادری کی طرف سے بائیکاٹ اور پابندیاں شامل تھیں۔
ایسے میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر مشاہد حسین سید وہ پہلی آواز بنے جس نے عالمی دباؤ برداشت کر کے ایٹمی دھماکوں کا جواب ایٹمی دھماکوں سے دینے کا مشورہ دیا۔ اور پھر اس میٹنگ میں موجود دیگر لوگوں نے اُن کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کو ایک دلیرانہ فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ایسے میں ایٹمی سائنسدانوں سے جب اُن کی رائے مانگی گئی تو اُنھوں نے یک زباں ہو کر کہا کہ دھماکے کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی حکومت کا فیصلہ ہونا چاہیئے لیکن وہ حکومت کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ حکومت اگر دھماکے کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اُس کو کسی قسم کی سُبکی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
پھر اگلے ہی روز 28 مئی 1998 کو پاکستان کی تمام اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت بلوچستان کے علاقہ چاغی میں موجود تھی جہاں پاکستان نے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے دُشمن کے اوسان خطا کر دیئے۔ اور بھارت جو اس قسم کے رد عمل کی بالکل توقع نہیں کر رہا تھا پاکستان کے دھماکوں کے نتیجے میں سہم گیا۔
بحرحال پاکستان کو ان ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا کے کئی ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان پر کئی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ وہ وقت پاکستان کے لیئے ایک بے حد مشکل وقت تھا جب دشمن تو دشمن پاکستان کے کئِی دوست ممالک نے پاکستان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان ان دھماکوں کے نتیجے میں دنیا کی ساتویں جبکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر سامنے آیا۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے لیکن پاکستان نے یہ طاقت کبھی جارحیت کے لیئے نہ ہی استعمال کی اور نہ ہی کبھی مستقبل میں ایسا کرے گا۔ بلکہ پاکستان نے ایٹمی تجربات اس لیئے کیئے کہ خطہ کو جنگ سے دور رکھا جائے۔ اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جائے۔ 
28 مئی 1999 کو ملک میں پہلی مرتبہ یومِ تکبیر سرکاری طور پر منایا گیا اور اس کے بعد سے آج تک ہر سال یومِ تکبیر نہایت شان و شوکت سے منایا جاتا ہے، ملک کے طول و عرض میں دن کا آغاز توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اور ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ملکوں کی تاریخ میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب مشکل فیصلے لینے ضروری ہو جاتے ہیں اور یہ فیصلے وقتی طور پر مشکل ضرور ہوتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمام مشکلات کا خاتمہ بھی ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان پر سے تمام پابندیاں ہٹ چکی ہیں اور دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ نہ صرف کاروبار کر رہے ہیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، سی پیک اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ سی پیک اور OBOR ایسے پراجیکٹ ہیں جن کے ذریعے پاکستان ترقی کی منازل نہایت تیزی کے ساتھ طے کر رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہاکستان دنیا کی ایک عظیم معیشت ہو گا۔ پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ابھی صرف 70 سال کا عرصہ ہوا ہے اور اس قلیل عرصہ میں پاکستان نے دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ جن لوگوں کو یورپ اور امریکہ کے سامنے پاکستان کُچھ نظر نہیں آتا اُن لوگوں سے میری التجاء ہے کہ وہ ذرا دنیا کی تاریخ پرایک سرسری سی نگاہ دوڑائیں۔ وہ امریکہ جو آج ورلڈ پاور ہے وہاں آج سے تین سو سال پہلے قتل و غارت گری عام تھی لاقانونیت کی انتہا تھی اور وہ برطانیہ جس کی مثالیں آج ہمارے یہاں دی جاتی ہیں وہاں آج سے دو ڈھائی سو برس پہلے غنڈہ گردی کا راج تھا قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ 
پاکستان کا مقابلہ اس لیئے بھی دنیا کے دوسرے ممالک سے نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اپنی نوعیت کا دوسرا ملک ہے جو دنیا کے مختلف حصوں سے مسلمانوں کو لا کر آباد کیا گیا، دنیا میں ملکوں کی تاریخ میں سال دنوں کے برابر ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے پاکستان ابھی ایک نوزائیدہ ملک ہے جو اپنی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور چھوٹی سی تاریخ میں تین جنگیں لڑنے اور دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو عشروں سے برسرِ پیکار ہے اور اس جنگ میں عالمی امداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہر سال چند سو مہاجرین کو قبول کرتے ہیں اور دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی یہ تعداد ہزاروں میں بھی نہیں ہے جبکہ پاکستان ایک غریب ملک ہونے کے با وجود لاکھوں افغان مہاجرین کو گزشتہ تین عشروں سے سنبھالے ہوئِے ہے اور دنیا میں واحد ملک پاکستان ہے جہاں افغان مہاجرین کو کاروبار کی اجازت ہے ورنہ دنیا کے کسی بھی اور ملک میں مہاجرین کر کاروبار کی اجازت نہیں ہوتی اور وہ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ کیمپس میں اقوام متحدہ کی امداد پر زندگی گزارتے ہیں اگر ہم ان سب چیزوں کا بغور معائنہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارا ملک محدود وسائل کے باوجود کتنا بوجھ برداشت کیئے ہوئے ہے۔ اور مُجھے یقین ہے کہ جلد ہمارا ملک پاکستان ایک عظیم الشان ریاست کی صورت میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار کیا جائے گا، پاکستان آج بھی دنیا کا سب سے خوبصورت ملک ہے اور آئندہ بھی ایک عظیم الشان مستقبل پاکستان کا منتظر ہے!
پاکستان زندہ باد!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Friday, 3 May 2019

آدھا سچ

جن بڑوں سے ہم پیدا ہوتے ہی سچ، ایمانداری اور اخلاقیات کا درس لیتے ہیں... وہ جب آنکھ چراتے ہوئے مصلحت آمیز جھوٹ، تھوڑی سی گڑبڑ اور تھوڑی سی بے ایمانی کرلینے کا کہتے ہیں...تو دل مانتا نہیں!!💔 اس میں کوئی شک نہیں.....کہ وہ یہ سب بہت مجبور ہو کر حالات سے تنگ آکر کہتے ہیں....مگر کیا اخلاقیات کا درس تب تک ہے جب تک حالات ٹھیک ہوں؟؟؟
جونہی خراب ہوئے سبق بدل گیا......؟
لیکن حالات کے ٹھیک ہونے کے دوران تو اخلاقیات کی ضرورت ہی کہاں پڑتی ہے......
ضرورت تو تبھی پڑے گی جب حالات خراب ہوں گے....
پھر سبق کونسا ہوا...؟؟
جو بچپن میں پڑھایا جاتا ہے یا جو بڑے ہونے پہ سکھایا جاتا ہے؟
سچ کا حکم شرائط کے ساتھ نہیں دیا گیا تھا....
✅ ایمانداری کی تلقین خراب حالات میں ختم نہیں ہوسکتی.....
✅ صحیح کا چناؤ صرف وہاں تک نہیں جہاں ہمارا مفاد آڑے نہ آرہا ہو...
اس سب میں ایک ہی بات کہوں گی......کہ گناہ ساری دنیا کے کرلینے اور بطور فیشن رائج ہو جانے کے باوجود بھی گناہ ہی رہے گا....
اور کرپشن دو روپے کی ہو یا سو روپے کی کرپشن ہی کہلاتی ہے.....سو آخری دم تک لڑنے کی کوشش ضرور کریں....تھک کر ہار نہ مان لیں....
اور صحیح غلط سمجھانا ہو تو بڑوں کا احترام آڑے نہ آئے.........ادب اپنی جگہ حق اپنی جگہ!!❣

سیماب عارف
ایڈیٹر ای میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 28 April 2019

شوکا لاپرواہ

نصیب آزما چکا ہوں، قسمت آزما رہا ہوں
کسی بے وفا کی خاطر رکشہ چلا رہا ہوں....
نظر رکشے پہ لکھے شعر پہ پڑی....ڈرائیور کم عمر سا لڑکا تھا بمشکل انیس بیس برس...
خدا معلوم اس عمر میں کون سے نصیب آزمانے کے بعد قسمت کے پیچھے بھاگ رہا تھا....اور کس بے وفا نے ماں کے لعل کو رکشہ چلانے پہ مجبور کیا تھا....🤔
مغرب میں جس عمر میں نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں...کچھ نہ کچھ کیریر گولز کی طرف ہوتے ہیں ہمارے ہاں ابھی تک ماں کا چاند یا تو دو کتابیں تھامے برائے نام ڈگری کرتا ہوا ابا جی کے پیسے پہ عیش کررہا ہوتا ہے....
یا ساتویں آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد کسی بے وفا کی خاطر رکشہ چلا رہا ہوتا ہے.....🤦‍
(اب براہِ مہربانی یہ لیکچر نہ دیا جائے کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا...ہم رکشہ چلانے کے بالکل بھی خلاف نہیں اگر یہ واقعی ماں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے چلایا جارہا ہے)
لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ کم عمر بچے ناکام عاشق بنے پڑھائی میں عدم توجہ....بےکاری کے دن رات لیے....ٹک ٹاک کی ویڈیوز کے "ویوز" پہ فخر سے سینہ چوڑا کرنے والی مخلوق اور میسجز اور اب سوشل میڈیا پہ میسر سستی شاعری کے سٹیٹس لگائے اپنے تئیں دیوداس بنے ہوتے ہیں...(دیوداس ہمارا پسندیدہ کردار ہرگز نہیں ہے....)🙅
اس پہ بالی وڈ کی فلموں نے عشق میں مرجانے کے سوا کچھ نیا دیا ہی نہیں اس مخلوق کو.....
سو ان کی زندگی کے مقاصد انہی مسائل میں اُلجھے رہنا اور عمر گزار دینا ہے.....
پھر المیہ یہ ہے کہ ہمارے "بڑے" بھی نام نہاد تصوف کی پُڑیا میں  لپیٹ کے ہیر رانجھا کے قصے سنتے ہیں....ڈراموں فلموں میں ہیرو کے حمایتی بن کر انہماک سے دیکھتے ہیں پر ان بچوں کے مسائل کو سمجھنا اور سلجھانا انہیں غیر ضروری لگتا ہے....🤐
انہی خیالوں میں اُلجھے ہوئے بائیک کی تیز آواز سنائی دیتی ہے....ایک لڑکا گریبان کھولے... بغیر سائلنسر کی بائیک پہ ون وہیلنگ کرتا ہوا زووووں کر کے گزرتا ہے....بائیک کے پیچھے لکھا ہے...
*شوکا لاپرواہ*🤦‍
کس قسم کا سٹف دے رہے ہیں آپ آنے والے دور کو.....
کیا کریں گے یہ بچے اس معاشرے کے لیے جب وہ اپنے لیے ہی کارآمد نہ ہوں....
خدارا انہیں سمجھیں...ان سے بات کر کے ان کے مسائل سلجھائیں....ورنہ ہمارے شوکے لاپرواہی میں نسلوں کی نسلیں خراب کرتے رہیں گے....
اللّٰہ رحم کرے...

سیماب عارف
 ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 25 April 2019

اسلام کا مزاج

کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب کے دوران ایک خاتون کھانے کے وقفے میں زبردستی سٹیج پہ چڑھ آئیں اور اصرار کرنے لگیں کہ انہوں نے سورہ رحمٰن تھیراپی لوگوں کو بتانی ہے انہیں وقت دیا جائے....
شائستگی سے انکار کیا گیا کہ وقت ناکافی ہے تو چیخنے چلانے اور لعن طعن پہ اُتر آئیں کہ باقی کام چھوڑو یہ اللّٰہ کا کلام پڑھواو یہ زیادہ ضروری ہے...
یہی کام آنا ہے دنیا داری کا کوئی فائدہ نہیں...
بہتیرا سمجھایا کہ ہم بھی اللّٰہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے ہی یہاں موجود ہیں...مگر ان کی ایک ہی ہٹ...
کہ نہیں اُن کی بات زیادہ ضروری ہے اور ہم کون ہوتے ہیں انہیں کلام پڑھنے سے روکنے والے.......خدا ہمیں پوچھے گا...
ہم تو ان کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئے......🤐
خیر بڑی مشکل جان چھڑوائی....
اس ذہنیت کے لوگوں پہ مجھے غصے سے زیادہ ترس آتا ہے....جو عمر بھر اپنے تئیں بہترین مبلغ بنے درحقیقت لوگوں کے لیے کوفت اور بیزاری کا باعث بن رہے ہوتے ہیں.....😬
اور جنہیں شاعر کی زبان میں راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے بلکہ بعض اوقات تو راستے میں بھی نہیں ہوتی!!
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ایک بات یاد آگئی ہے کہ 
"اسلام کا مزاج داعیانہ ہے، فاتحانہ نہیں"
اور ایک داعی اپنے ساتھیوں اور لوگوں کا خیرخواہ ہوتا ہے...ان کے مزاج کو سمجھ کر اس پہ چلنے والا....اُن میں سے ہوتا ہے.....الگ نہیں ہوتا....
اگر آپ کے اردگرد رہنے والے آپ کو اپنا دوست اپنا ہمدرد اور خیرخواہ ہی نہ سمجھیں تو وہ آپ کی زبردستی کی راگنی تو نہیں سنیں گے نا......
خدارا دینِ اسلام پہ رحم کریں......

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 18 April 2019

سوال کی گستاخی

آذر اور اس کے ساتھی جب میلے سے لوٹے اور تمام بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا اور کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کاندھے پہ...تو کہنے لگے یقیناً یہ ابراہیم کا کام ہے...
ابراہیم علیہ السلام نے کہا کلہاڑا تو بڑے بت کے کاندھے پہ ہے تم لوگ اسی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے.....
مگر یہ سچ انہیں ہضم نہ ہوا اور وہ لوگ سوال کی گستاخی برداشت نہ کرسکے....
سوال کی گستاخی ....ہر اُس شخص کے لیے ناقابلِ معافی ہوتی ہے جو کسی جھوٹے زعم میں بڑا بنا ہوتا ہے...
ہر بڑا "بڑا" نہیں ہوتا.....اور نہ ہر چھوٹا "چھوٹا"....
ہاں ٹھیک ہے اُتنی تمہاری عمر نہیں جتنا میرا تجربہ والی بات بھی ٹھیک ہے.......لیکن!!
کبھی کبھار کم عمری کی ذہانت بھی تجربے کو مات دے سکتی ہے....ایسا نہ ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کم عمر نوجوان سے ابو جہل جیسے " بڑے" خائف نہ ہوتے....
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ سچ جاننے کے باوجود بھی وہ اس لیے نہیں مانتے تھے کہ انہیں لگتا تھا یہ ہمارا بھتیجا...کم عمر نوجوان....ہماری بات کو غلط کیسے کہہ سکتا ہے....اپنی ہتک سمجھتے تھے...تبھی تو معجزات دیکھ کر بھی ہٹ دھرم رہے....
آج کے دور میں "جنریشن گیپ" کی ایک بڑی وجہ سوال سے گھبرانا ہے....
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوال کو دبا کر آپ اپنی عزت نہیں بچارہے بلکہ آنے والے دور کے ایک نئے انسان کو خود سے اور دور کررہے ہیں.....
اگر آپ کے پاس جواب نہیں ہے تو اعتراف کر کے بڑے بن جائیں...ورنہ آپ کا قد آپ کی نسلوں میں چھوٹا پڑتا جائے گا!!...

سیماب عارف
ایڈیٹر میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 23 March 2019

حق اور استحقاق

سفیر عباس صاحب ہمارے باٹنی کے استاد تھے....جتنے اچھے طریقے سے پڑھاتے تھے اتنے ہی احسن انداز میں زندگی سکھاتے تھے....میں BSc کے بعد ان سے کبھی نہیں ملی...نہ کبھی رابطہ ہوا...مگر ان کے سکھائے کچھ سبق اب بھی بہت جگہوں پہ کام آتے ہیں💗
ان میں ایک بہترین سبق جو مجھے زندگی میں کبھی کسی دوسری جگہ نہیں ملا...وہ تھا حق اور استحقاق کا فرق..💖
Difference between right and privilege
کوئی آپ کا حق نہ دے تو احتجاج کریں ناراض ہوں...بنتا ہے..
لیکن جہاں آپ کا حق نہیں...صرف استحقاق استعمال کررہے ہیں تو آپ کا ناراض ہونا نہیں بنتا..
انہی کی دی مثال دوہرا رہی ہوں...اگر کوئی دوست گاڑی میں لاہور جارہا ہے....اور آپ اسے کہتے ہیں کہ گاڑی خالی ہی ہے مجھے بھی لاہور جانا ہے... مجھے ساتھ لیتے جاؤ...اور وہ انکار کردے...تو آپ کا ناراض ہونا نہیں بنتا... یہ اُس کا فرض اور آپ کا حق نہیں تھا...
اخلاقیات کا تقاضا شاید یہی ہو کہ اُسے انکار نہیں کرنا چاہئیے تھا...لیکن اگر وہ انکار کردے تو آپ کو ناراضگی کا حق نہیں...کیونکہ یہ privilege  تھا...right نہیں!!🙂
زندگی میں جب کبھی میں نے کسی کی بات پہ برا ماننا چاہا اس سبق نے ہمیشہ میرا راستہ روک دیا.....اور بہت سے تعلقات بچالیے...💞💕
خدا آپ کا حامی و ناصر ہو....

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

قلم کتاب- قسط چہارم

ایک شخص غزل لے کر اخبار کے دفتر گیا...ایڈیٹر لینا نہیں چاہتا تھا سو اُس نے غالباً پڑھےبغیر رد کردی....وہ شخص دفتر سے باہر نکل کر کہنے لگا....لو جی غالب کی نہیں چھپی تو اپنی کیا چھپنی تھی....
😄یہ کہانی کہیں سنی تھی...معلوم نہیں سچ ہے یاجھوٹ...لیکن فی زمانہ شہرت کی پیمائش اس بات سے بھی کی جاسکتی ہے کہ اپنے مشہور اشعار سرچ search کریں....جتنے زیادہ ناموں سے آپ کو ملیں سمجھیے اتنی شہرت بڑھتی گئی😜
شاعر کا نام مٹادینے والا عارضہ نزلہ زکام کی طرح بہت پھیلا ہوا اور سدا بہار ہے...ایسے مریض جونہی کسی شاعر کا شعر کاپی کرتے ہیں سب سے پہلے نیچے لکھا شاعر کا نام مٹائیں گے....یا اگر سکرین شاٹ لیں تو crop کر کے شاعر/لکھاری کا نام کاٹ لیں گے...
مرض جوں جوں بڑھتا جاتا ہے...مریض شاعر کا نام نکالنے کے بعد اپنا نام بطور شاعر لکھنے لگتا ہے.....اور شاعر کا تخلص مٹا کر اپنے نام سے مقطع بنالیتے ہیں....
اور آخری سٹیج کے مریض تو زبردستی... شاعر کا تذکیر کا صیغہ ہٹا کر تانیث اور تانیث کا صیغہ ہٹا کر تذکیر لگا لیتے ہیں۔
ایسے ایک صاحب نے ہماری پوری غزل میں سے سوچتی، رہی، تھی وغیرہ نکال کر سوچتا، رہا اور تھا لگا کر غزل لکھی اور پورے اعتماد سے محفل میں سنائی بھی...
اس بات سے انکار نہیں کہ تصویر چرائی جا سکتی ہے فن نہیں....مگر پھر بھی ایک اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے آپ کی...کہ اجمل کا شعر سجاد اور فیروز کا حبیب کے کھاتے میں نہ ڈالا کریں....
(ناموں کی مماثلت محض اتفاقی ہوگی) 
اگر کوئی شاعر یا لکھاری اپنے لکھے کے نیچے اپنا ہی نام لکھا دیکھنا چاہتا ہے تو اسے آپ خودپسندی نہیں کہہ سکتے...یہ اُس کا حق ہے!!
نوٹ:شیطان آپ کو شئیر کرنے سے روکے گا ضرور😜

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 21 March 2019

قلم کتاب ۔ قسط سوم

کچھ دن پہلے چھوٹی بہن کو ایک کالج فیلو منیبہ نے فرمائش کی کہ تمہارے ابو شعر لکھتے ہیں تو انہیں کہو ایک نظم منیبہ پہ بھی لکھ دیں...گویا منیبہ نہ ہوئیں محترمہ فاطمہ جناح ہوگئیں....
(یہ مذاق نہیں تھا محترمہ واقعی سنجیدہ تھیں...😄)
یہ صرف ایک محترمہ کا قصہ ہے....اکثر وبیشتر ایسے بہت سی محترمائیں اور محترم فرمائش لیے آتے ہیں...کہ انہیں کسی مقابلے میں حصہ لینا ہے فلاں مصرعے پہ ایک غزل لکھ دی جائے یا فلاں عنوان پہ نظم......
ایسی کسی بھی فرمائش پہ ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے..
"یار یہ ایسی باتیں کیسے کر لیتے ہیں🤔😆"
اس سے بڑی ادبی بددیانتی یا مذاق میرے نزدیک کوئی نہیں....بھئی اگر آپ شاعری نہیں کر سکتے تو مت کریں...کوئی مجبوری ہے کیا.....اتنی جرأت کیسے کرلیتے ہیں آپ کسی کے شعر کو اپنا بتا کے....محض ایک جیت کے لیے🤔 نہیں...یہ جیت نہیں ہے!!
یہی نہیں...کچھ کی فرمائش منیبہ کی طرح اُن کی ذات شریف پہ نظم لکھ دینے کی ہوتی ہے!! اتنی خود پسندی...اور وہ بھی دھڑلّے سے....🤔
قدرت نے ہر فرد میں ٹیلنٹ رکھا ہے...💖کوئی نہ کوئی خوبی...💗.....کوئی بولنے میں اچھا ہے کوئی لکھنے میں....کوئی کسی اور کام میں....😍
ضروری نہیں کہ آپ صرف شعر کہہ کے ہی باذوق کہلوا سکتے ہیں... اگر آپ شعر نہیں کہہ سکتے تو کوئی بات نہیں...اتنا اوکھا ہونے کی کیا ضرورت ہے....خدا نے اور کچھ ہنر دیا ہوگا آپ کو....اُسے پہچانیں...اور  پھر نکھارنے کی کوشش کریں!! مگر خدارا ادب کے ساتھ اتنی بے ادبی کا برتاؤ نہ کریں...
مالک اپنی امان میں رکھے....امین

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 20 March 2019

قلم کتاب۔ قسط دوم

کہیں ایک جملہ پڑھا تھا غالباً یوسفی صاحب کی کسی کتاب میں یا کہاں....(اگر کسی کو یاد ہو تو تصحیح کر دے)
وہ یہ کہ "برِّصغیر میں ہر نوجوان نوجوانی میں ایک بار شاعر ضرور بنتا ہے...."
کچھ ٹھیک ہو جاتے ہیں...اور کچھ کو یہ بیماری مستقل لگ جاتی ہے...😜 جو ٹھیک ہو جاتے ہیں عموماً وہی ہوتے ہیں جو اس مرض کے لیے ٹھیک نہیں ہوتے....!!🙃
لڑکپن میں چونکہ ہمارا کینوس محدود ہوتا ہے اور رنگ ناکافی...سو دوست احباب میں راجا اِندر بنے گھومتے رہتے ہیں....ہر تخلیقی کاوش پہ لگتا ہے گویا چچا غالب کے اکلوتے وارث ہمی ہیں....😋 مگر جوں جوں کینوس وسیع ہوتا ہے اور رنگوں کی نت نئی شیڈز پتہ چلتی ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ ابھی تو طفلِ مکتب ہیں.....
ہمیں یہ وہم قدرے کم تھا اور اگر کچھ تھا بھی تو وہ یونیورسٹی اور خصوصاً سوسائٹی میں آکر دور ہوگیا....
اچھے اچھے لکھنے والے ملے....تخلیق کو تنقید کی بھٹی ملی اور اس کا کچّاپن آہستہ آہستہ دور ہونے لگا...
سوسائٹی آف ایگری رائٹرز (SAW) یونیورسٹی لیول پہ غالباً واحد ادبی تنظیم ہے جہاں پچھلے 30 سال سے طلباء ہفتہ وار تنقیدی نشست کروارہے ہیں....انہی نشستوں نے تنقید سننے کا حوصلہ بھی دیا اور کرنے کا سلیقہ بھی..💞
اگرچہ یہ بات درست ہے کہ اپنا لکھا اکثر لوگوں کو اپنی اولاد کی طرح ہر نقص سے پاک نظر آتا ہے مگر یہ سوچ تخلیقی سفر کو آگے بڑھنے نہیں دیتی....
میرے میٹرک ٹیچر حافظ عمران صاحب ایک بات سمجھایا کرتے تھے  "بیٹا جس سے سیکھنا ہو اُس کے سامنے خودکو "زیرو" رکھو....بھرے پیالے میں کوئی آپ کو کیا دے سکتا ہے...."
اگر آپ واقعی سیکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر کو حرفِ آخر مت سمجھیں اور تنقید کو سہنے کا حوصلہ بھی پیدا کریں...
لکھیں!! ضرور لکھنے کی کوشش کریں... مگر اس سے پہلے پڑھنے کی عادت اپنالیں...ورنہ آپ کی تحریر کا کچاپن کبھی دور نہیں ہوگا.....اگر آپ میں ایک کتاب پڑھنے کا حوصلہ نہیں تو لکھنے کا حوصلہ کیسے کرلیتے ہیں....

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 19 March 2019

قلم کتاب۔ قسط اوّل

دروازے کی کنڈی کھٹکتی اور میرے اور عرشہ (بہن) میں ریس لگ جاتی کہ پہلے جا کے دروازہ کھولیں اور ابو کے ہاتھ سے اخبار پکڑ لیں...اباجی چونکہ اخبار میں کام کرتے تھے سو مفت کا اخبار پڑھنے کو مل جاتا تھا اور اتوار اور بدھ کی شام کو میگزین بھی....😍
اس دوڑ سے پہلے کے بچپن میں ابو پاس بٹھا کے اخبار کی سرخیاں جوڑ کروا کے پڑھاتے رہے تھے...سو مطالعہ گھر بھر کی عادت بن گیا....💗
مارک ہیڈن کا قول ہے..."مطالعہ ایک گفتگو ہے...سب کتابیں بات کرتی ہیں...مگر ایک اچھی کتاب آپ کو سنتی بھی ہے۔" 💞
انسانی ذہن ایک برتن کی طرح قطرہ قطرہ ملنے والے علم سے خود کو بھرتا ہے بالکل ایسے جیسے بالٹی میں مسلسل گرنے والا پانی بالٹی کی سطح کو بتدریج بلند کرتا جاتا ہے....مطالعہ انسانی ذہن کے لیے بالکل اسی طرح کام کرتا ہے....آپ کی بات میں وزن...معلومات میں اضافہ.... سوچ میں وسعت اور ظرف میں کشادگی پیدا کرنے میں مطالعہ کا بڑا کردار ہے!
اپنے گھروں میں کتاب کلچر کو رائج کرنے کی کوشش کریں...اس مقصد کے لیے آپ چند چھوٹی چھوٹی تدابیر سے کام لے سکتے ہیں...
👈 ماہانہ سودا سلف خریدنے جائیں تو ایک کتاب بھی اس لسٹ میں شامل کر لیں...اور سب گھر والے اسے اس ماہ میں مکمل کریں...
👈 شام کو کھانے کے بعد 15-20 منٹ کی نشست کتاب پڑھنے اور سننے کی رکھی جاسکتی ہے جس میں ایک فرد پڑھ کے سنائے اور باقی سنیں...(ہم نے مشکل کتاب ہمیشہ یونہی مکمل کی ہے😋)
👈 مشکل اور بورنگ کتابوں کے بجائے کسی دلچسپ کتاب سے آغاز کیا جاسکتا ہے...مثلاً افسانے، سفرنامہ، کہانی وغیرہ۔
فیضان ہاشمی کے اس خوبصورت شعر کے ساتھ..
یہ کتابیں تمہیں جنگل سے رہائی دیں گی...
جن کی تیاری پہ اک پورا شجر لگتا ہے!! 💖
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Friday, 15 March 2019

تنقید برائے اصلاح

ہاں...!! میں مانتی ہوں...
اندھیرے کمرے میں ایک دیا سلائی زیادہ دور تک روشنی نہیں کر سکتی.....مگر وہ اپنا وجود دکھا جاتی ہے کہ میں ہوں!!💖
لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بھلے کاموں پہ تنقید مت کریں....ہاں مانا کہ سسٹم ان چیزوں سے ٹھیک نہیں ہوگا...مگر اپنی بساط بھر کوشش تو کی جاسکتی ہے نا....یار یہ جو لوگ رضاکارانہ اپنی اپنی جگہ لگے ہوئے ہیں ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم طعن و تشنیع سے تو باز آؤ!!
تنقید چیزوں کو نکھارنے کے کام آسکتی ہے اگر آپ کو سلیقہ ہو نقادی کا....
مگر ہمارے ہاں تنقید کا مزاج اصلاح کرنا نہیں رہا بلکہ صرف تنقید برائے تنقید ہوچکا ہے....
اور وہ بھی اس قدر تعصب سے بھرا کہ جنہیں یہ "صحیح" سمجھتے ہیں....اُن کا ہر کام "صحیح"....اور اُس حلقے سے باہر ہر صحیح "غلط".....
پھر تنقید کے لیے اکثر وبیشتر نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ وجہ....بس اندھا دُھند فائر...!!
ان کا کوّا ہر صورت سفید ہی ہوگا....خواہ کسی کی عقل مانتی ہے یا نہیں...
عموماً یہ تنقید کرنے والے وہی ہوتے ہیں جو عمر بھر خود کچھ نہیں کرتے سوائے ثقیل الفاظ میں بڑی بڑی باتیں کرنے اور فلسفہ بھگارنے کے...
اور پھر آخر میں کوئی لوہاروں کا پُتر بازی لے جاتا ہے اور یہ دیکھتے رہ جاتے ہیں...!!
لوگوں کو ہمت دلانے والے بنیں....اور ناقد ایسے جن کا اخلاص کوئی نوکیلا لفظ تک زباں پہ نہ آنے دے.....
ورنہ سوہنا رب کسی ابابیل کی نیت کو قبول کرلے تو تاریخ اُسے یاد کیے بغیر ابراہیم علیہ السلام کا قصہ نہیں سنا سکتی!! 💞
اپنا خیال رکھیے اور جمعة المبارک کا بھرپور اہتمام کیجیۓ... جمعہ مبارک..

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 14 March 2019

راۓ عامہ

دیوار کے اِس پار کھڑا شخص دیوار کے دوسری طرف موجود فرد کے بارے میں صرف اندازہ لگاسکتا ہے...حتمی رائے نہیں دے سکتا!!
آپ کی آنکھ دیکھ سکنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود ہر شے کو ایک وقت میں نہیں سمو سکتی....
سِکےّ کے دونوں رخ ایک ہی وقت میں نہیں دیکھے جاسکتے.....
آپ کے گرد ان گنت لوگ ہیں...انہیں ان گنت دماغ سمجھیں....اور ان گنت نظریات (پوائنٹ آف ویوز).....
سو...ضروری نہیں کہ جو ایک وقت میں آپ کے لیے اچھا ہو وہ دوسرے کے لیے بھی ہو...ایک کی رائے دوسرے کی رائے سے ہمیشہ مماثل نہیں ہوسکتی!!
دنیا کو کبھی کبھی دوسروں کی عینک سے دیکھنے کی بھی کوشش کریں....!! (میرا تو رنگ برنگی عینکیں ٹرائے (try) کر کے کبھی کبھی سر بھی دُکھنے لگتا ہے🤪 لیکن کبھی کبھی میری اپنی عینک سے زیادہ شفاف بھی دِکھنے لگتا ہے)😍
ہمیشہ آپ کا اندازہ ٹھیک ہو، یہ ضروری نہیں....تو کبھی کبھی دوسروں کا نکتہ نظر بھی سنیں...اور صرف اختلاف کرنے کے لیے نہیں....سمجھنے کے لیے سنیں..!!💗
لوگوں کے مسائل کو بڑا بن کے دیکھیں...خود کو ان کی جگہ پہ رکھ کر سوچیں.....کچھ سمجھ آئے تو سُلجھا بھی دیں...!! 
اپنا خیال رکھیے...🙂

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 9 March 2019

والد صاحب کے نام

سویرے جب آنکھ کھلی تو یاد آیا آج تو خواتین کا عالمی دن ہے....سو مزید "پسر" کر سونے کی کوشش کی.....مگر آواز آئی...."ہاں تو اُٹھو عورتوں والے کام کرو نا..."
بادل نخواستہ بستر کو خیرباد کہتے ہوئے اُٹھے....
بستر سمیٹنے، سب کے بکھیرے ہوئے سامان کو سمیٹ کے ٹھکانے لگانے، برتنوں کا ڈھیر دھونے....کچن کی شیلف اور چولہا رگڑ رگڑ کے چمکانے, گھر بھر میں جھاڑو پوچا لگانے...آلو ابال کے آلو والے پراٹھے بنا کے سب کو پیش کرنے کے بعد.........ہم نے سوچا ہم بھی "اپنا" دن منالیں.....فوراً سے واٹس ایپ اور فیس بک کھولی....
جابجا اپنی عظمت اور تعریف کے ڈنکے بجتے دیکھ کر دل رقت سے لبریز ہوگیا اور آنکھیں بھر آئیں...ہم اپنے مقام و مرتبے اور عورت ہونے کے فضائل سے خود بھی اتنے باخبر نہ تھے😋....ابھی ہم حیران ہوہی رہے تھے کہ ہلکی ہلکی گیس کی بو ہماری ناک سے ٹکرائی....یاد آیا آگ جلائے بغیر چولہا کُھلا چھوڑ آئے ہیں...بھاگ کے چولہا بند کیا....اور سوچا کہ ہم بھی یومِ نسواں کے احترام میں اپنے لیے چند جملے لکھ ڈالیں....😁
ہاں تو بات بس اتنی سی ہے کہ عورت کو جتنی آزادی ہمارا مذہب دیتا ہے اُتنی تو معاشرہ بھی نہیں دیتا....❣
آپ سے بس اتنا ہی کہ آج کے دن عورت کو ایک ذہین دماغ کے طور پہ قبول کرنے کی رِیت اپنا لیں....خصوصاً گھر کی عورت کو.....مان لیں کہ وہ آپ سے زیادہ ذہین بھی ہوسکتی ہے....احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں....بلکہ اپنائیت سے اُس کی حوصلہ افزائی کریں...❣
آج کا دن میرے والد کے نام جنہوں نے مجھے میری پوری پہچان کے ساتھ جینے دیا....💗

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 6 March 2019

غیر متوقع خوشی

آج شام گھر واپسی پہ سب لوگ چھت بیٹھے تھے...میں کسی کام سے نیچے گئی تو دیکھا کہ ہمارے بھائی جان چائے بنا کے کپ سجائے بسکٹ کے ڈیزائن ترتیب دیے سگھڑ سلیقہ شعار لڑکیوں کی طرح ٹرے لیے چھت پر جانے کے لیے کچن سے نکل رہے ہیں....😄
😁 میری تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں بھائی کو کیا ہوا...اتنا سگھڑاپا....
پتہ چلا کہ یہ اہتمام ہمارے لیے کیا گیا ہے....حکم ملا واپس چھت پہ چلیں....میں آرہا ہوں 😄 اور پھر سجی ہوئی ٹرے لیے چھت پہ آگئے....
تاریخ گواہ ہے کہ بھیا جان نے اپنے علاوہ کبھی کسی کے لیے کچھ پکا کے پیش نہیں کیا....سو اسے اعزاز سمجھتے ہوئے ہم نے بسکٹ ڈبو ڈبو کے چائے نوش فرمائی...😁 حیرت کی بات ہے چائے بھی زیادہ بری نہیں تھی 🤪
کبھی کبھی کسی کی توقع کے برعکس کوئی کام کر کے اسے خوشی دینا بڑا انمول احساس ہے....آج کے دن میں ایسی دو تین غیر متوقع چیزیں ملیں.... حیرانی بھری مسرت لیے ہوئے...💗 ان میں سے ایک میرے سکول کی طرف سے بس اڈے تک کی الوداعی رخصتی تھی...😋 
کوشش کیا کریں کہ لوگوں کو غیر متوقع خوشی دی جائے...💞
کبھی کسی کی ایسی بات مان کر جس کے مان جانے کی اُسے امید نہ ہو....💕
کبھی کسی کی غلطی پہ اس کے ڈرے ہوئے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر کے....😍
کبھی کسی کی اچانک دعوت سے...(کھانا کھلانے سے انمول خوشی کوئی ہوسکتی ہے کیا🤪)
کبھی کسی پرانے دوست کو فون کر کے....یا اچانک ملاقات سے...💗
خوش رہیں...خوشیاں بانٹیں...

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 2 March 2019

اے طائرِ لاہوتی

بڑے بزرگوں سے سنا تھا کہ رزق کا اثر خون میں ہوتا ہے اور نسلوں تک جاتا ہے......
رزقِ حرام اور حلال کا تصور صرف پیشوں تک محدود نہیں بلکہ ایک حلال پیشے میں نیت کی خرابی اُسے حرام بنادیتی ہے.....!!
آج صبح سکول جاتے ہوئے فٹ پاتھ پہ بیٹھے ایک بوڑھے فقیر کے پاس ایک اُسی عمر کے بوڑھے بزرگ اپنی سائیکل روک کر کھڑے ہوئے اور چند نوٹ اُسے تھمادیے.....میری نظر اُس پیسے دینے والے بزرگ پہ پڑی تو مجھے بڑی حیرت بھری مسرّت ہوئی....😍...وہ بابا جی میرے ہاسٹل کی گلی میں ریڑھی پہ کیلے بیچتے ہیں....روز میں انہیں وہاں کھڑا دیکھتی ہوں....کبھی بغیر ضرورت کے بھی کچھ پھل خریدوں تو ایک دو کیلے اضافی ڈال دیتے ہیں...اور ایک دو بار بقایا نہ لینا چاہا تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے واپس کردیا....💗
ایک ہی عمر کے دو بزرگوں کے اندازِ زندگی دیکھ کر رزق عبادت کا تصور پھر سے ذہن میں آگیا.....رزقِ حلال واقعی عین عبادت ہے....💖 
"الکاسب حبیب اللّٰہ".....
کوشش کیا کریں کبھی بغیر ضرورت بھی ایسے لوگوں سے کچھ خرید لایا کریں....
میرے چچا جان کی عادت ہے کہ وہ روزشام مختلف ریڑھیوں سے بہت سا گلا سڑا پھل خرید لاتے ہیں....
یہ ان کی خاموش مدد ہوسکتی ہے.....بقول شاعر 
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو...
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں!!
بس سٹینڈ پہ ناریل، نمکو، رسالے بیچنے والے بہت سے لوگ....جوتا پالش کرنے والے بچے....چند پھل ریڑھی پہ سجائے ضعیف....یہ سب ہماری توجہ اور مدد کے اصل حقدار ہیں!!
ان کا خیال رکھیے....
اور اپنا بھی....مالک آپ سے راضی ہو!! 

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Monday, 25 February 2019

دھنک کے چار رنگ

💚سگریٹ پیتے لڑکے کو ابا جی نے منع کیا تو وہ ابا جی سے چھپ کے پینے لگا.....
میری کسی دوست سے کسی موضوع پہ بحث ہوئی تو اُس نے دلیل پہ قائل ہونے کے باوجود مجھے سٹیٹس سے hide کرنا شروع کردیا....😄  
لوگوں سے دوستی کر لیں...خالص ناصحانہ رویہ اس دور میں چِڑ اور بے زاری پیدا کرتا ہے بہتری نہیں!!

💚 سوشل میڈیا انسان کی شخصیت کا آئینہ دار تو ہو سکتا ہے مگر اس کی لائف سٹوری نہیں.....(ممکن ہے کسی نے اپنی مرضی کی رائے بنانا چاہی ہو 😋)
خوامخواہ اُلٹے مطلب نہ نکالا کریں!

💚 سب سے قیمتی چیز جو آپ کسی کو دے سکتے ہیں وہ وقت ہے......لوگوں کو وقت دیں....انسانوں کو موضوعات بنائیں!!

💚 ہر بات عقل کے ترازو میں تولنا ضروری نہیں....کبھی کبھی بےوقوفانہ باتیں اور حرکتیں بھی relax رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں....انسان کے اندر کا بچہ  خوش ہوتا ہے.....خوشی کا مادی اور عقلی وجود ہونا ضروری نہیں!!

اپنا خیال رکھیں...بارش ہورہی ہے....موسم خوشگوار ہے....موڈ بھی اچھا ہونا چاہئیے....تازہ نکھرا دھنک جیسا.....
اللّٰہ پاک آپ کی زندگی سے مسائل کے گہرے بادل دور لے جائے...

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 23 February 2019

ایک زود اثر کاسمیٹک

فیس بک کی دیوار پہ چسپاں ایک تصویر نظر سے گزری جس میں ایک پٹی بندھا پاؤں احباب سے دعاوں کی درخواست کررہا تھا....
یاد نہیں محترم تھے یا محترمہ....مگر بہت سے "دردِ دل" رکھنے والے ہمدرد بہن بھائیوں نے دعاؤں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے پیر پہ بندھی پٹی کے خدو خال پہ بھی اظہارِ خیال کیا....🤔
دیوار چونکہ دیوارِ چین کو بھی مات دیتی ہے سو چسپاں اشتہاروں کی بھی بھرمار نظر آتی ہے....
کچھ آگے چلے تو ایک پوسٹ ملی جس پہ ایک دکھی محترمہ 49 دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر "بروکن" یا شاید "disappoint" محسوس کررہی تھیں...لیکن جونہی ہمدرد تسلی دینے کو پوچھتے کیا ہوا...تو نزاکت سے کہہ دیا جاتا..."نتھنگ سپیشل"......🤔
اسی طرح کی بیشتر تحریریں اور تصویریں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں جن میں اپنے غم کے بھرپور اظہار کے بعد لکھا ہوتا ہے...."اپنا غم کسی کے سامنے نہ بیان کرو...لوگ تو گرے ہوئے مکان کی اینٹیں تک اُٹھا لے جاتے ہیں"
حالانکہ ہم اس سے متفق نہیں کہ لوگ اتنے فارغ ہوں کہ چند اینٹیں اٹھانے آپ کے گرے مکان پہ تشریف لائیں....
مفتی نے کہا تھا "دکھ ایک زود اثر کاسمیٹک ہے"..... ہاں ہے....مگر ایسا کاسمیٹک جو آپ کو خوبصورت بناتا ہے نہ کہ پیسٹری.....
غم اظہار کا توجہ کا محتاج ضرور ہے مگر اُسے نمائش کے لیے سرِ بازار مت سجائیں....ورنہ آپ اپنی حیثیت کھو دیں گے....مخلوقِ خدا کی نظر میں بھی اور خدا کی بھی...دنیا کے میلے میں آنسوؤں کا کوئی کاروبار نہیں...("دیوداس" کے پروڈیوسر میری اس بات سے اختلاف کرسکتے ہیں....😄)
خوشی بانٹیں....خوش رہیں...اور غم کو ظرف اور وقار کے ساتھ جھیلیں....
ناصر کاظمی نے کہا تھا نا...
پی جا ایّام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے!!💞



سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 19 February 2019

لوگوں کو سپیس (space) دیں....

کچھ عرصہ پہلے ہماری ایک نئی روم میٹ آئیں.....ہم اُن سے خوش دلی سے ملے....کھانے پینے کا پوچھا اور تھوڑی گپ شپ کے بعد چھت پہ کپڑے دھونے کو روانہ ہوئے 😋.....
ایک گھنٹے بعد واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ 2 گھنٹے پہلے آئی ہماری نئی روم میٹ ہمارے تکیے پہ نیم دراز انتہائی بے تکلفی سے ہمارا لیپ ٹاپ کھولے محویت سے کوئی انڈین ڈرامہ دیکھ رہی ہیں.....😳
ہمیں یہ دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا...ُان سے مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ کا تقاضا کیا تو بولیں: کیوں کوئی کام کرنا ہے کیا ابھی.....
🤔🤔🤔
اور ہم یوں دیکھنے لگے گویا ہم نے اُن کا گردہ مانگ لیا ہو..
..بحرحال انتہائی تردد سے لیپ ٹاپ ہمیں تھماتے ہوئے یہ تاکید کی گئی کہ صبح سکول جاتے ہوئے ہم یہ ان کے حوالے کر جائیں....😄😄😄
خیر بات سنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک چیز ہوتی ہے "پرسنل سپیس"....(پتہ نہیں اردو میں اس کے لیے کیا اصطلاح استعمال ہوتی ہے).....ہر رشتہ ہر تعلق خواہ وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو اُس میں ایک دوسرے پہ اپنے احکامات لاگو کر کے اور غیر ضروری مداخلت سے تعلق دیر پا نہیں بنائے جاسکتے.....
ہر انسان کا ایک اپنا مزاج ہے اور طبیعت, ذہنی کیفیت یا حالات کے مطابق الگ الگ موڈ بھی....خوشی میں ہم بہت سی باتیں نظرانداز کر جاتے ہیں...غصے میں ذرا سی بات بھی دل پہ لگتی ہے....پریشانی میں کسی بات پہ مسکرانے کا جی نہیں چاہتا.....ہر وقت ہم ایک دوسرے کی ہر بات ماننے کے لیے خود کو منا نہیں پاتے.....سو ایک دوسرے کے مزاج کو تحمل سے برداشت کرنا سیکھیں.....لوگوں کو سپیس (space) دیں....
ہر وقت ہر بات منوانا...مسلط کرنا....بغیر مانگے غیر ضروری مشورہ دینا.....کسی کو زبردستی کوئی کام کرنے پہ مجبور کرنا...انتہائی نامناسب رویہ ہے.....جو ہمیں ایک دوسرے سے بے زار بھی کرسکتا ہے!!
ایک دوسرے کا خیال رکھیں...اور اپنا بھی...!!❣
شب بخیر!!
سیماب عارف رہبر اینڈ میگزین ایڈیٹر پازیٹو پاکستان۔

Tuesday, 12 February 2019

آداب معاشرت

ہاسٹل میں جب میں نے پہلی بار  قرآن کلاس لی تو جو پہلی سورت ہمیں پڑھائی گئی وہ سورت حجرات تھی........💗
پھر لقمان...عنکبوت....اور پھر مزید.....
میرے ذہن میں سوال تھا کہ پہلے سپارے سے شروع کرنے کے بجائے ہم پہلے ان سورتوں کا مطالعہ کیوں کررہے ہیں...لیکن سورت مکمل کرنے کے بعد جواب خودبخود سامنے آگیا....
یہ چند سورتیں وہ سورتیں ہیں جن میں معاشرتی آداب اور حقوق العباد کے حوالے سے اہم اہم باتیں پوائنٹس میں بتائی گئی ہیں....
اور کسی بھی قرآن کے طالب علم کو سب سے پہلے یہی چیزیں سیکھنا ضروری ہیں....بحیثیت مسلمان...اور بحیثیت انسان بھی...کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو بہترین انسان بھی ہو....محض کلمہ گو نہ ہو...
بہرحال...بات ہورہی تھی میری پہلی سورت کی...."حجرات"....❤
سورة حجرات دو اہم نکات پہ مبنی ہے...
1- رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
2- ان سے محبت جو آپ صہ سے محبت کرتے ہیں...یعنی مسلمان
انہی دو نکات کے حوالے سے سورت میں 9 معاشرتی آداب بتائے گئے ہیں...
روزمرہ زندگی کے آداب (daily etiquettes) سکھانے والی سورتوں میں یہ بنیادی سورت ہے....❣
چھبیسویں پارے کی یہ سورت بہت چھوٹی سی ہے....2 رکوع اور اٹھارہ آیات پہ مشتمل....یعنی ایک نشست میں پڑھی جانے والی...💕
تو کسی نشست میں بیٹھیے اور دیکھیے کہ وہ 9 باتیں کونسی ہیں...جن کی وجہ سے اس سورت کو معاشرتی آداب کے سبق کے طور پہ پڑھایا جانا چاہئیے....❣
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...