Showing posts with label Sehrish Imtiaz. Show all posts
Showing posts with label Sehrish Imtiaz. Show all posts

Wednesday, 26 December 2018

سفرنامہ (حصہ سوم) - عمر و عیار کی زنبیل

عمر و عیار کے قصے تو بچپن میں بہت پڑھے اور تب دل کرتا تھا ایسی ایک زنبیل ہمارے پاس بھی ہو جس میں سے با وقتِ ضرورت سب کچھ نکل آئے۔ سوچا جائے تو بہت سے لوگوں کے پاس یہ زنبیل ہوتی ہے۔ ( زیادہ سوچیں نہیں سمجھ آجائے گی کہ میں نے ایسا کیوں کہا۔)
قصہ بیلا اور ولید صاحب کی زبانی ہی سناتی ہوں آپکو۔
"تم اس سے نہیں ملی، کیا بندہ ہے وہ، سب کا دوست، سب کے لیے اچھا۔ تمھیں پتہ ہے اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے، بعض اوقات حل ایسا پیچیدہ ہوتا ہے کہ انسان مسئلہ ہی بھول جائے۔"
میں حیران تھی کہ آخر پازیٹو پاکستان کی اس شخصیت کو جاننے سے میں محروم کیسے رہ گئی۔ ویسے ایک دفعہ میں نے انھیں پازیٹو پاکستان کا حصہ بننے کے لیے میسج ہی کر ڈالا، جانتی ہی نہیں تھی نا تب اور پھر ان کے بتانے پہ جو مجھے شرمندگی ہوئی۔۔
اس کے پاس ایک ایسا *منجن* ہے جس کے ذریعے وہ ہر کام کر اور کروا لیتا ہے😳 وہ سائنسدانوں کے ساتھ سائنس دان، استادوں کے ساتھ استاد، بچوں کے ساتھ بچہ، لڑکیوں کے ساتھ لڑکی🤭 غرض وہ ایک انسان سب کچھ ہے۔ بات فیشن کی ہو یا بزنس کی، سائنس کی ہو یا ریاضی کی اس کو سب پتہ ہوتا ہے۔ کوئی اس کو کوئی کام کہہ دےتو ناممکن ہے کہ وہ انکار کرے۔ دنیا کے ہر کونے میں اس کے دوست موجود ہیں، وہ جہاں جاتا ہے لوگوں کو اپنا بنا لیتا ہے۔
میں تو سوچ میں ہی پڑ گئی کہ وہ انسان ہے یا کیا چیز۔ مطلب عمر و عیار کی زنبیل کی طرح اس کے پاس سے بھی بروقت ہر مسئلے کا حل نکل آتا۔
ایک اور بات یاد آئی... 
فوڈز اینڈ موڈز جہاں سے وہ ہر دفعہ چائے اور سپرنگ رولز ہی لیتے تھے۔ جب وہ کہیں نہ ملتے تو مطلب کسی دوست کے ساتھ وہاں ہی ہوں گے۔ اور اس بات سے ان کے استاد بھی واقف ہو چکے تھے، دراصل وہاں سگنلز نہیں آتے تھے تو جب ان کا فون نہ ملے تو مطلب وہ فوڈز اینڈ موڈز کو رونق بخش رہے ہیں۔😍
اور تو اور ان کی جس کے ساتھ بھی دوستی ہوتی ناممکن تھا کہ اس کی امی کے ساتھ جان پہچان نہ بنائیں۔ مطلب وہ دوستوں کی امیوں (آنٹیوں) کے بھی بہت لاڈلے بن جاتے کیونکہ وہ بیٹھ کے ان کے مسئلے سنتے اور ان کے حل دینے سے بھی باز نہ آتے۔
ارے آپ اب تک سمجھے نہیں میں کس کی بات کر رہی ہوں؟؟
میں کامی بھائی میرا مطلب ہے ڈاکٹر محمد کامران اکرم (برا منا جاتے پورا نام نہ لیا جائے تو) کی بات کر رہی ہوں۔
مجھے سنتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا وہ ایک شخص اکیلا ہی سب کچھ ہے، جو دور جائے تو اس کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جائے اور اس بات کی آکاسی ان کے دوست کا لہجہ کر رہا تھا۔ اچھے دوست بھی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کامران کے بارے میں بہت کم بتا پائی میں کیونکہ ہمیں سلسلہِ گفتگو منقطع کرنا پڑا تھا، سر عابد کی کال آگئی تھی اور ہمیں اپنی اگلی منزل کی طرف جانا تھا۔ (جب وقت تھا تب یہ لوگ اور باتوں میں جو لگے رہے، اپنا کیتھارسس کرنے کا یہی موقع ملا تھا)
اور لائلپور کی داستان ختم ہونے کو ہے...
سر کی کال آچکی تھی لٰہذا ہم بھی سر کے ایک دوست پازیٹو پاکستان کے سپورٹر جناب فرخ الٰہی صاحب کے گھر جانے کے لیے نکلے۔ جاتے ہوئے بھی کون سا میری جان بخشی ہو، ولید صاحب پہلے مجھے مختلف اطرف میں جاتی سڑکوں کے بارے میں بمع تاریخ بتانے لگے اور جب کچھ نیا نہیں رہا تو مختلف برنڈز کی "دکانوں" کی تعریفیں (مذاق کے طور پر) جو بھی تھا بیلا اور سر ولید کا مجھے اتنا وقت دینا مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
ہم فاروق صاحب کے گھر پہنچے جہاں ہمارا ہی انتظار ہو رہا تھا اور ہمارے جاتے ہی پہلے طعام پھر کلام والی بات پہ عمل کرتے ہوئے کھانا لگا دیا گیا۔ کھانا بھی کیا کوئی سات طرح کے کھانے تھے، جس کو متنجن یا نولکھا کہا تھا انہوں نے اور ولید صاحب نے وہاں بھی کریڈٹ لیتے ہوئے میری ڈشیز میں اضافہ کیا اور یاد کروایا کہ سیور کے بدلے 15 مختلف طرح کے کھانے کھلا چکے ہیں اور تو اور وہاں تو سر عابد نے بھی ساتھ نہ دیا انہیں یاد بھی کروایا کہ سر واپس آپ نے اسلام آباد ہی جانا ہے لیکن نہیں اس وقت تو وہ فیصل آباد تھے نا😏😏 ۔ فاروق صاحب کی فیملی سے بھی ملاقات ہوئی، ان کی تینوں بیٹیاں بہت اچھی تھیں اور ان کی والدہ بالکل دوستوں جیسی(ان کی پنجابی ذرا مشکل سے سمجھ آ رہی تھی😞) دیر ہو رہی تھی اور ہمیں واپس بھی جانا تھا لٰہذا بیلا نے سر کو یاد کروایا کے ہاسٹل پہنچنا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہمیں کسی کام سے اس تاریخی جگہ جانا تھا جہاں پریزیڈنٹ پازیٹو پاکستان جناب عابد اقبال کھاری نے جنم لیا تھا میرا مطلب ہے سر کے گھر کے پاس سے گزرنا تھا🤭 اور وہاں پہنچ کے سر ولید نے بتایا کہ گاڑی میں بیٹھ کے سر کے گھر کو دیکھنا گستاخی ہے تو میں فوراً نیچے اتر آئی۔ سر کا گھر واقعی خوبصورت تھا جس کی خوبصورتی میں اضافہ دیوار پر لگی سر کے والد صاحب کی تصاویر کر رہی تھی (جیسے فاطمہ جناح یونیورسٹی پہ تصاویر لگی ہیں بالکل ویسے)۔ وہاں سے ہم نے اپنے ہاسٹل کی راہ لی۔
ہاسٹل پہنچے تو سندس(بیلا کی چلبلی سہیلی) ہمارے پاس آئی کہ ہمارا ایونٹ کیسا رہا۔ وہ اتنی معصوم لگتی ہے کہ بس۔ اور مجھے دکھ ہے کہ میں واپسی پہ سندس اور فروا کو مل کے نہیں آ سکی😞
رات پھر سے نیند 3 بجے کے بعد آئی جس کی وجہ سے صبح بھی اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ لیکن اٹھنا تو تھا کیونکہ 11 بجے ہمیں میٹنگ کے لیے پہنچنا تھا اور اس سے پہلے فیصل آباد کا مشہور ناشتہ بھی کرنا تھا۔
لیکن تیار ہونے سے پہلے بیلا نے میرے ہاتھ پہ مہندی لگائی، مجھے مہندی بہت پسند ہے تو بھلا میں کیسے انکار کرتی🤭
میں تیار ہونا شروع ہی ہوئی تو کال آئی مہران اور سر ولید ناشتہ کے لیے پہنچ بھی چکے تھے۔ بیلا بھی تیار تھی اور میں۔۔۔۔۔۔۔خیر ہو وہاں پہنچے اور ایک دفعہ پھر مجھے ڈشز گنوائی گئیں، اب تو میں نے خود بھی گننا شروع کر دی تھیں🤭 وہاں سے ہم سر کی بہن جو ایک لکھاری بھی ہیں ان کے گھر گئے وہاں سب رہبرز اور ایمبیسڈرز آچکے تھے۔ ایونٹ پے سب کا موقف لینا تھا اس سے پہلے اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے تلاوت، ورڈز آف وزڈم اور پھر سب کا تعارف ہوا اس کے بعد سب نے اپنی اپنی رائے دی اور جہاں جہاں اصلاح کی ضروت تھی اس پہ بھی بات کی۔ آخر میں ایونٹ انچارج عدنان صابر کی باری آئی اور مجھے پتہ چلا وہ اپنے نام کی طرح صابر بالکل بھی نہیں ہیں🤭😜 چلیں باقی باتیں رہنے دیتے ہیں۔۔۔۔😄
اب جانے کا وقت ہو رہا تھا سر نے گاڑی نکالی' بیلا کو ٹیوشن جانا تھا(ارے وہی جہاں جاتے ہوئے وہ مختلف تحریریں لکھتی ہے) ہم نے اسے ڈراپ کیا میری سیٹ بُک کروائی جو شام 5:45 کی ہوئی۔ وقت کافی تھا تو سوچا گیا کہ کھانا کھالیا جائے(یعنی گنتی میں اضافہ)  شعیب بھائی کے مشورے پہ عمل کرتے ہوئے ہم سٹون او گئے جہاں کا ماحول کافی اچھا تھا(اسلا مآباد جیسا) وہاں فرائز، سپرنگ رولز اور پیزا منگوایا۔ اب کی بار تو حد ہو گئی ولید صاحب نے کیچپ اور کولڈ ڈرنک کو بھی ڈشز میں گننا شروع کر دیا۔ سر عابد کو بھی خیال آگیا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ اب کی بار ہم بھی گن گن کے کھلائیں گے (IUKWIM) 😉 
شعیب بھائی نے کتاب "عورت معمارِانسانیت" تحفے میں دی(خوبصورت تحفہ) وقت کم رہ گیا تھا اور اب تک میں نے فیصل آباد کی سب سے خاص جگہ دیکھی نہیں تھی یعنی UAF. سر عابد، سر ولید، مہران اور میں یونیورسٹی گئے، ارے کیا منظر تھا وہاں کا۔ شام، خاموشی، خنک ہوا، چڑیوں کی چہچاہٹ اور ہر طرف سبزہ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں یہاں پہلے کیوں نہیں آئی جی چاہا کہ وقت پیچھے چلا جائے اور میں یہاں داخلہ لے لوں لیکن افسوس۔۔۔۔۔۔۔
اب گاڑی کا وقت ہو چکا تھا مجھے سٹاپ پہ ڈراپ کیا گیا اور میں نے واپسی کی راہ لی۔ شعیب بھائی کی دی ہوئی کتاب اچھی ہمسفر ثابت ہوئی۔
یقیناً فیصل آباد کے لوگ صرف جگتوں میں ہی نہیں بلکہ مہمان نوازی اور محبتوں میں بھی ماہر ہیں۔ یہ وہاں کی آب و ہوا کا ہی اثر ہےکہ میرا ایک لمبے عرصے بعد لکھنے کا دل کرنے لگا۔ شاید فیصل آباد کا پہلا اور آخری سفر ہو لیکن ناقابلِ فراموش ہے۔
آپ لوگوں کی محبتوں کو ہمیشہ یاد رکھوں گی۔
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
کون سے آسماں سے آتے ہیں
گل تو اس خاکداں سے آتے ہیں
رنگ ان میں کہاں سے آتے ہیں
تم بھی شاید وہیں سے آئے ہو
اچھے موسم جہاں سے آتے ہیں

شکریہ لائل پور♥♥
سحرش امتیاز
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 25 December 2018

سفرنامہ (حصہ دوم) - لائل پور کی کہانی

ہم FCCI پہنچے تو وہاں سب انتظامیہ پہلے سے ہی موجود تھے اور سب پازیٹیوینز اپنا اپنا کام کرنے میں مگن تھے۔ ہم تینوں بھی کمپیئرنگ میں کچھ  مزید اچھے الفاظ کا اضافہ کرنے بیٹھ گئے۔ وہاں ہی میری ملاقات فیصل آباد کے تقریباً سب ہی ٹیم ممبران سے ہوئی جن کے صرف نام ہی سن رکھے تھے( کچھ کے تو نام بھی نہیں پتہ تھے)۔ اسی دوران عبد الرزاق کو جوش آیا اور اس نے سٹیج سنبھال کر اپنی پُرجوش گفتگو سے آنے والے مہمانوں کے لہو کو گرمایا اور اٹھ جوانا پہ آئے ہوئے جوانوں کو حقیقتاً اٹھا دیا۔ 
11:30 بجے سر عابد، سید انیس اور فواد نصیر کی آمد پر پروگرام کا با قاعدہ آغاز کیا گیا۔
میرا قطعاً ارادہ نہیں تھا کہ پروگرام کی بھی تفصیل لکھوں گی لیکن مجھ سے رہا نہیں جا رہا۔ چلیں مختصراً بیان کیے دیتی ہوں۔  
سلمان نے انتہائی خوش الہانی سے قرآنِ مجید کی تلاوت کی۔ حمنہ جن کا تعلق تو ملتان سے ہے لیکن اس وقت اپنی تعلیم کے لیے فیصل آباد میں رہائش پذیر ہیں، نے اپنی خوبصورت آواز میں نعتِ رسولِ مقبولؐ سے ہمارے دلوں کو معطر کیا۔ شہباز ارشاد(رہبر) نے پازیٹو پاکستان کا جبکہ مہران مختار نے سائیبریگیڈ کا تعارف کروایا۔ اس کے بعد ولید اصغر حسینی، فواد نصیر، سید انیس، سر عابد اور مہمانِ خصوصی فرخ حبیب نے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
پروگرام کے دوران سرائیکی، پختون اور گلگتی کلچرل ڈانس بھی دکھایا گیا۔ کوئی شک نہیں کے منتظمین نے سب انتظامات بہت اچھے کیے ہوئے تھے۔ اور آنے والے مہمانوں نے بہت کچھ سیکھا کیونکہ ہمارا پروگرام " entrepreneurship اور فورتھ انڈسٹریل ریوولوشنز" کے متعلق تھا۔
پروگرام کے اختتام پر ارادہ کیا گیا کہ سب منتظمین کھانا باہر کھائیں گے(😜) بھلا ایسی بات پہ کون خوش نہ ہوتا سبھی تیار بیٹھے تھے۔ کہیں سے آواز آئی کہ سحرش اور سیماب شہباز بھائی کی گاڑی میں پہنچ جاؤ، ہم باہر نکلے اور اتنے میں سر عابد اور ولید صاحب بھی آگئے اور ہم نے ہزارہ ہوٹل کی طرف رختِ سفر باندھا۔ 
راستے میں پُر مزاح گفتگو چلتی رہی اور ساتھ ساتھ مجھے فیصل آباد کے راستوں سے روشناس بھی کروایا جاتا رہا۔
وہاں پہنچ کے مرد حضرات الگ اور ہم دوشیزائیں الگ بیٹھ گئیں😜۔ کھانے میں قیمہ، مکس سبزی اور ہزارہ ہوٹل کی مشہور دال منگوائی گئی۔ ساتھ ہی ولید صاحب تشریف لائے اور مجھے یاد کروایا کہ 8 ڈشیز ہو گئی ہیں بشمول صبح کیے ہوئے ناشتے اور ایک دن پہلے کھائے ہوئے منچورین اور چکن اچاری کا ایک دفع پھر وہاں موجود سب لوگوں کو سیور کھلانے والی زیادتی کا قصہ سنایا گیا۔ وہاں موجود سب لڑکیوں نے مجھے یوں دیکھا جیسے پتہ نہیں ہم کیا عجیب چیز کھلاتے ہیں😥 (آخر کو منظر کشی ہی ایسی ہوئی)۔ لیکن ہزارہ ہوٹل کا کھانا لذیذ تھا یا شاید بھوک کی شدت تھی۔😜
کھانا کھانے کے بعد سب کو الوداع کہا اور ہم (بیلا، میں، سر عابد، ولید اور عدنان) گھنٹا گھر کی طرف چل پڑے۔ پیدل جاتے ہوئے بیلا اور سر عابد کسی اہم مسئلے پہ گفت و شنید میں مگن تھے اور ولید صاحب گائیڈ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ گھنٹا گھر پہنچنے تک مجھے فیصل آباد کی تاریخ بتائی جا چکی تھی کچھ مقامات پہ سر بھی اپنے شہر کا تعارف کرواتے رہے۔ ایک دفعہ تو ایسا لگا میں کہیں باہر سے پاکستان دیکھنے آئی ہوں۔
گھنٹا گھر پہنچنے پر مجھے وہاں کے آٹھ بازاروں کا تعارف کروایا گیا ( امین پور بازار، کچہری بازار، کارخانہ بازار، جھنگ بازار، ریل بازار، چنیوٹ بازار، مینٹگومری بازار اور ایک کا نام میں بھول گئی)۔ اسی دوران بیلا نے آئس کریم کھلانے کا اعلان کیا، آواز اتنی اونچی تو نہیں تھی پھر بھی ارسلان بھائی تک نجانے کیسے پہنچ گئی🤭 ہم سب بشمول مہران بٹ آئس کریم گئے اور وہاں کی لذیذ آئس کریم اہلِ ذوق لوگوں کی خوبصورت شاعری اور ادبی گفتگو کے ساتھ کھائی۔
 کھلی آنکھوں سے سونے کا تجربہ... 
ہم مزیدار آئس کریم سے لطف اندوز ہو چکے تو کھاری صاحب کو کہیں کام سے جانا تھا جس کے لیے وہ مہران کو لے کر نکلے، عدنان اور ارسلان بھائی کو بھی شاید ہاسٹل جانا تھا، ایونٹ کی وجہ سے سب تھک چکے تھے تو وہ بھی چلے گئے۔ پیچھے رہ گئے میں، بیلا اور ولید صاحب.. دراصل وہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ میں شکوہ کروں کہ مجھے فیصل آباد دکھانے کے بجائے جلد ہاسٹل میں قید کر دیا گیا۔ اسی لیے ہم وہاں ہی محوِ گفتگو ہو گئے۔ آغاز ہوا UAF سے اس کی تعریفیں شروع ہوئیں پھر FLF ( فیصل آباد لیٹریچر فیسٹیول) کی کہانی وہاں آئے ہوئے مہمانوں کا ذکر(جن کو صرف وہ دونوں جانتے تھے، مجھے کیا خبر🙄) اچانک خیال آیا سحرش بھی تو ساتھ ہے۔
بیلا: تم بور تو نہیں ہو رہی۔
میں: نہیں نہیں میں تو enjoy کر رہی ہوں۔
ولید: نہیں تم بور ہو رہی ہو تو بتا دو۔
بیلا: اچھا اب کوئی اور بات کر لیتے ہیں۔
اور پھر شہر کے شعراء کا ذکر ہوا۔ ارے حافی کیا لکھتا ہے، اف عمیر نجمی کے تو کیا کہنے، تم نے وہ شعر سنا (اب شعر تو مجھے یاد رہتے نہیں🤫) جون جیسا انداز تو کسی کا ہے ہی نہیں، سحرش تمہیں پتا ہے یہ سارے بڑے بڑے شاعر اور ادیب فیصل آباد سے ہی تو ہیں اور میرے جوابات اچھا، ارے واہ، گریٹ (اب اور کیا کہتی.. )
مذاق اپنی جگہ میں محظوظ ہو رہی تھی گفتگو سن کے (اچھی سامع جو ہوئی) لیکن بور بھی بہت ہوئی😜 اس کے بعد خیال آہی گیا اور ایک قصہ شروع ہوا جو دونوں مل کے مجھے سنا رہے تھے ( دوست کی یاد آرہی تھی نا😉)
جاری ہے... 
سحرش امتیاز 
ایمبیسڈر پازیٹو پاکستان 

قائد کا پاکستان

بے اثر ہو گئے سب حرف و نوا تیرے بعد
کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد
تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
ایسی بدلی تیرے کُوچے کی فضا تیرے بعد
اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی 
ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد
وقت کسی کا نہیں ہوتا اور کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا، کوئی امیر ہو یا غریب، بچہ ہو یا بڑا سب کے لیے وہی 24 گھنٹے ہوتے ہیں۔ لیکن یہی 24 گھنٹے کسی کو بہت زیادہ اور کسی کو بہت کم لگتے ہیں۔
وقت کا کم یا زیادہ ہونا اس کے صحیح استعمال پہ منحصر ہے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ان چوبیس گھنٹوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں...بروقت فیصلے کرتے ہیں اور اپنی خواہشات سے زیادہ مقدم اپنی قوم، ملک اور آنے والی نسلوں کی بہتری کو رکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں تاریخ کا باب سنہرے الفاظ میں یاد رکھتا ہے۔
انہی لوگوں میں قائداعظم محمد علی جناح کا نام سرِ فہرست ہے جنہوں نے اپنی قوم کے لیے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا، ڈٹ کے آنے والی مشکلات کا سامنا کیا۔ کیونکہ کامیابی مسلسل محنت اور وقت کے صحیح استعمال سے ہی ممکن ہے۔
اُس ملک کا خواب دیکھا جہاں مسلمان سکون سے رہیں، اسلامی اقدار کا تحفظ ہو، امن ہو، انصاف ہو.....لیکن نہیں! یہاں تو نوجوان نسل مغربی دنیا کی دلدادہ ہو گئی ہے ان کا اوڑھنا، بچھونا، کھانا پینا سب مغربی ہے جس کو اس وقت وہ ماڈرنزم (modernism) کا نام دے رہے ہیں۔ تو کہاں گیا وہ ملک جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا جسے تعبیر قائد نے دی تھی۔
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا...اب بھی غفلت کی نیند سے جاگو... اس سے پہلے کہ اس اسلامی مملکت میں کچھ بھی ویسا نہ رہے جو اس کے حاصل کرنے کی وجہ تھی۔ جس کے لیے ہزاروں جانیں قربان ہوئیں، بہنوں کی عزتیں لٹیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔
آئیں آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت کریں گے، ان اقدار کی حفاظت کریں گے جو اس کی وجۂ تخلیق ہیں۔ پاکستانی ہونے کا حق ادا کریں گے اور اپنے اجداد کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
سحرش امتیاز 
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 23 December 2018

سفرنامہ (حصہ اول) - جگتوں کی سرزمین

زندگی کے طویل سفر  میں ایک چھوٹے سفر کا اضافہ ہوا۔جی ہاں میں فیصل آباد کے سفر کی بات کر رہی ہوں۔
فیصل آباد جانا تھا اور یہ طے ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ کب نکلنا ہے۔ خیر آفس گئی اور فیصلہ یہ ہوا کہ ہم شام 4 بجے نکلیں گے۔ میں بھی پرسکون ہوگئی، کوئی تیاری بھی نہیں کی اور لمبی تان کر سو گئی۔ 
صبح آنکھ کھلی تو خبر ہوئی کہ کافی دیر ہو چکی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ مجھے 4 کی بجائے 1 بجے نکلنا تھا۔  
راستے میں ایک خاتون جو غالباً کسی اسکول کی استانی تھیں میری ساتھ والی نشست پہ براجمان تھیں۔ انھیں کہا کہ کھڑکی والی نشست میری ہے لہذا بیٹھنے دیں جواباً انھوں نے اپنی میڈیکل رپورٹ سنانی شروع کر دی اور مجھے اپنی معصومانہ خواہش دل میں ہی دبانا پڑی۔ اب انھوں نے سو کے اور میں نے بور ہو کے سفر گزارنا تھا۔ پھر میں نے اپنی سوچوں کی پٹاری کھولی اور کھو گئی تخیل کے حسین موسموں اور دلکش وادیوں میں۔ 
اچانک فون بج اٹھا ولید صاحب کی کال تھی، جگہ کا پوچھا کہ کہاں پہنچی ہو لیکن مجھے تو خبر ہی نہیں تھی
خیر اندازاً انھیں کچھ جگہ کا بتایا جس سے مجھے پتا چلا کہ میں نزدیک پہنچ چکی ہوں۔ سر ولید اور مہران مجھے رسیو کرنے اسٹاپ پہ موجود تھے۔ جہاں سے ہم ریڈ بیری پہنچے۔ بیلا اور عبدالرزاق (زید بھائی آف فیصل آباد )🙊 بھی کچھ ہی دیر میں آگئے اور گپ شپ کے ساتھ اگلے دن کی کمپیئرنگ کو حتمی شکل دی گئی۔ آخر کو  فیصل آباد والوں کی خاص تقریب تھی۔ اسی دوران سوچا جانے لگا کہ کھانا کہاں کھایا جائے اور ساتھ ہی ولید صاحب کو یاد آیا کہ ان کے اسلام آباد آنے پہ انھیں صرف savour یا حلیم گھر ہی لے کر جایا جاتا ہے پتا نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم انھیں lasania اور بٹ کڑاھی بھی لے کر جاتے ہیں(اچھائی یاد ہی کون رکھتا ہے😜) ویسے بھی اس میں قصور رہبرز کا ہے مجھ معصوم کا نہیں🙊۔ اور انہیں کیا خبر ہماری تو پسندیدہ چیزیں ہیں یہ😉۔ اس دوران بیلا اور مہران ہنسنے کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اور عبدالرزاق باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا 😜 خیر ہم نے آل طیبہ پہ کھانا کھایا اور میں بیلا کے ساتھ اس کے ہاسٹل آگئی جہاں میرا استقبال ان الفاظ کے ساتھ ہوا " hey sweetie جگتوں کی سرزمین پہ خوش آمدید " 😍 ۔ یعنی میں تیار ہو جاؤں جگتوں کے لیے🙈۔ 
ارے یاد آیا ہاسٹل آتے ہی سیماب مجھے بہت محبت سے گلے لگ کے ملیا اور جس سیماب کو میں جانتی تھی یہ تو اس سے بہت مختلف تھی اور تبھی مجھے احساس ہوا اس پہ تو بیلا نام زیادہ جچتا ہے۔ 💕
یوں باتوں باتوں میں سونے کا وقت ہو گیا اور میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ 
ایک نئی صبح... 
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں 
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
بلکل ایسا ہی ہے.. یہ قسمت ہی تھی اور میں نے اتنے اچھے لوگوں سے ملنا تھا جو اچانک ارادہ کیا اور فیصل آباد کے تین دن کے سفر پر روانہ ہوگئی ورنہ مجھے تو ایک دن کی اجازت ملنا بھی گویا ناممکن تھا۔
 اگلی صبح 7 بجے کے قریب آنکھ کھلی بیلا اٹھ چکی تھی اور میرے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ ہمیں بیلا کے اسکول جانا تھا۔ میں اٹھی تو بیلا ناشتہ کا مینو طے کرنے لگی اور کچھ ہی دیر میں فروا (بیلا کی ایک خوش مزاج دوست) ہمارے لیے سینڈویچز، انڈے، فروٹ کیک اور چائے لے آئی(یعنی ہاسٹل میں بھی اتنا اہتمام)  اور ہم نے مل کے ناشتہ کیا فروا کا اسکول جانے کا ارادہ نہیں تھا، ہمیں امید تھی کہ وہ ہمارے ایونٹ پہ ضرور آئے گی لیکن دھوکا ہو گیا😜۔ 
بیلا کو 8:30 بجے اسکول پہنچنا تھا، ہم جلدی سے تیار ہوئے اور نکل پڑے۔ ہلکی دھند اورخنک ہَوا ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی (بہت عرصے بعد صبح باہر نکلی تھی نا)۔ راستہ تھوڑا سا لمبا تھا اور بیلا نے بتایا کہ وہ روز چل کے آتی ہے میں اب تک پریشان ہوں کہ آخر وہ سمارٹ کیوں نہیں ہوئی🤔 ارے نہیں ویسے وہ بہت سمارٹ ہے میں تو کمزور ہونے کی بات کر رہی🤭
وہاں بیلا کے پرنسپل ملے یقین جانیں مجھے لگا میں عثمان بھائی (عثمان رضا جولاہا) کا مستقبل دیکھ رہی ہوں😜 دراصل ان کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا۔ انھوں نے مجھ سے میرے گاؤں کا نام پوچھا اور ساری ہسٹری انھوں نے بتائی۔ ویسے ایک الگ ہی قسم کے انسان تھے، خوش مزاج، ہنس مکھ لیکن بہت گہرے۔ انھوں نے بتایا سیماب یہاں استانی نہیں میڈم ہے (یعنی کوآرڈینیٹر😉۔ آخر دوست کس کی ہے🤭) ۔
وہاں سے ہم 10 بجے ایونٹ پہ جانے کے لیے نکلے ہمیں کنال روڈ جانا تھا یعنی اس روڈ کے پاس کنال تھی تبھی تو یہ نام رکھا گیا۔ اور ہم 10:30 بجے FCCI پہنچے۔
جاری ہے....

سحرش امتیاز 
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 26 August 2018

The Dilemma of Gender Equality!



Men and women are two essential characters of human life. Creation of Adam was not considered complete until the emergence of Eve. Some school of thought believes that men and women have hierarchical positions as men being superior.Another school of thought believes that men and women are absolutely equal, but this equality is misinterpreted as sameness.
Men and women have equal rights; they are equal in many aspects but not same. The things men can do better but women can’t do in the same manner.Women are expert in some matters but men are unable to deal with them. Some stereotypes are being used to show gender attributes, differences,and the roles of individuals or groups. The commonest female stereotypical role that is prevalent is of homemaker. It is imperative for her to put her family’s welfare before her own.She is loving, compassionate, caring, nurturing, emotional and sympathetic. The men’s role, on the other hand, is to provide basic necessities of life to women. He is also to be assertive, competitive, independent, aggressive, courageous, rational, career-oriented and pragmatic.
The modern lifestyle has very much changed the family structure, instead of implementing the decisions of one person on other. Nowadays, families can be seen taking decisions respecting each other’s views, expressing opinions openly, critiquing and encouraging equally and yet being independent and responsible.
These things show that women are equal to men which are already mentioned in our religion.Itis also the need of the time but never be the same because sameness leads to many other things which are creating difficulty for many females.Somefemales don’t like such a life where they can’t get respect or they can be treated in some rude way. Because, if we talk about gendersameness that means while travelingonpublictransport,where there is no space to sit. Then men will not leave a seat for women as they both are same but equality says that men should leave their seat in the respect of women.
That's what we are doing, confusing equality with sameness and making lives more troublesome. It’s time to understand what we actually deserve, what we should be and what we are doing.

A humble request to all females; don’t devalue yourself, be aware of your rights but don’t confuse it with sameness.
The beauty of a female is when she stays one step behind her man because Allah makes him the provider and protector for her.



Sehrish Imtiaz
Writer is Content Coordinator of Twin Cities.

Sunday, 15 July 2018

Remembering Kashmir Martyrs


                                       Contributed by: Editorial Team Twin City Chapter


              Kashmir, the heaven on earth is a part of Pakistan. Jammu Kashmir is unfortunately still the part of India, where the brutal Indians are killing the innocent Kashmiri Muslims. On 13th July 2018,Positive Pakistan with the collaboration of E-blood organized an Open house Seminar “Remembering Kashmir Martyrs” in order to pay tribute to those courageous and brave freedom fighters who have rebelled against the Indian brutality and are standing against the Indian terrorism.
 Different eminent speakers from Kashmir and Occupied Kashmir i.e.,Sahibzada Zulfiqar Ali, Dr. Syed Mujahid Gilani, Naseer Gilani, Shaista Safi (Anchor Kashmir Magazine (PTV) & Kashmir Activist), Abid Iqbal Khari,the President Positive Pakistan and, Ahmed Bin Qasim (the son of AsiyaAndrabi) also joined to deliver theirinfluential talks on this informative forum and highlighted the challenges and brutalities being faced by Kashmiri Muslims  for their freedom in the Occupied Kashmir.
The event was headed by Anchor Kashmir Magazine (PTV) & Kashmir Activist Shaista Safi. She welcomed the audience along with highlighting the significance of the topic of today's seminar. It started with the Holy name of Allah.Mr. Amir Raza the Rehbar Positive Pakistan, recited the HOLY VERSES OF QURAN. Afterword, Miss.Iqra Naseer,the Mission Holder Positive Pakistan recited the Naat. Then,the anchor invited all the guests on the stage.For the first talk,Miss Shaista called upon stage Mr.Sahabzada Zulfiqar to deliver his thoughts about Kashmir. While talking about Kashmir, Mr. Sahabzada Zulfiqar told that on the voice of a younger freedom fighter Abdul Qadeer, Kashmiris came out to get a free land where brutal Indians killed 22 young souls just to stop their voices when they were calling for Zohar prayer. They sacrificed their lives but did not stop their voices.
Ahmed Bin Qasim, further highlighted the sacrifices Kashmiris are giving just to be the part of Pakistan, it’s time to support them.He said as part of the most influential social media team,PositivePakistan, it's your duty to highlight all the challenges and brutalities being faced by Kashmiri Muslims. He said:
اس پار بھی پاکستان ہے' اس پار بھی پاکستان ہے۔
Now we have to understand that Yes! Kashmir is the part of Pakistan.

We are thankful to Naseer Gillani and Sahibzada Zulfiqar for taking out time to show their support for the Occupied Kashmir when everyone is busy in political campaigns.


Thursday, 17 May 2018

Ramadan and our Diet

contributed by: Sehrish Imtiaz

Ramadan, ninth month of Islamic calendar. The meaning of word Ramadan is scorching heat. It is the month to practice how to keep yourself away from sinful behavior as it will negate the reward of fasting. Ramadan is the time of spiritual reflection. The pre-dawn meal before the fast is called Suhur, while the meal at sunset that breaks the fast is Iftar. Muslim increase charity and prayers during Ramadan.
                      Along with prayers and following teachings of Islam it is also important to take proper diet because ramadan is not for cooking and eating delicious food  but to prioritize ibadah, taking excess of anything, especially fried food effects the metabolic processes in body as it contains excess oil. It directly affects brain and muscle power. Taking such foods on daily basis leads to weight gain, heart diseases and declines in cognitive function.
                      We should take proper diet; here proper diet means we need to take healthy food because fasting whole day drains energy if the food taken in Suhur or Iftar will not proper. The idea that greasy foods give us energy is totally incorrect. Infact, heavy oily meals make you feel more fatigued when standing for longer prayers. The right food will always be earth grown so stock up your fridge with fruits for ramadan rather than fatty, junk and fried food.

Here’s the timeless hadith of our Prophet (SAWW) regarding healthy eating habits:
A human being fills no worse vessel than his stomach. It is sufficient for a human being to eat few mouthfuls to keep his spine straight. But if he must (fill it), then one third of food, one third for drink and one third for air.” [Ibn e Majah]

Teachings of our Holy Prophet (SAWW) given 1400 years ago are still a suggestion for proper diet control, if we will truly follow this golden advice we will stay away from number of diseases. Eating mindlessly after a long break will ultimately affect the stomach. And now due to summer people drink more water at once that causes stomach ache and they will not be able to eat anything. As we all know excess of anything is bad, so, we should take everything in adequate amount. 

                        Fasting is a natural detox, it gives rest to our digestive system and energize metabolism to burn calories more efficiently. If you take excess and junk food it affects metabolism and ability to burn fat. Fasting also help to clean up the toxins and regulate the functioning of other organs of body including liver and kidney.

In this ramadan, change your eating habit and make yourself fit in the whole month to pray properly and get the true spirit. We have to keep this thing in our minds that it’s not the month of eating but of worshipping Allah in proper way to keep practicing it after ramadan as well.

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...