Showing posts with label Travelogue. Show all posts
Showing posts with label Travelogue. Show all posts

Wednesday, 26 December 2018

سفرنامہ (حصہ سوم) - عمر و عیار کی زنبیل

عمر و عیار کے قصے تو بچپن میں بہت پڑھے اور تب دل کرتا تھا ایسی ایک زنبیل ہمارے پاس بھی ہو جس میں سے با وقتِ ضرورت سب کچھ نکل آئے۔ سوچا جائے تو بہت سے لوگوں کے پاس یہ زنبیل ہوتی ہے۔ ( زیادہ سوچیں نہیں سمجھ آجائے گی کہ میں نے ایسا کیوں کہا۔)
قصہ بیلا اور ولید صاحب کی زبانی ہی سناتی ہوں آپکو۔
"تم اس سے نہیں ملی، کیا بندہ ہے وہ، سب کا دوست، سب کے لیے اچھا۔ تمھیں پتہ ہے اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے، بعض اوقات حل ایسا پیچیدہ ہوتا ہے کہ انسان مسئلہ ہی بھول جائے۔"
میں حیران تھی کہ آخر پازیٹو پاکستان کی اس شخصیت کو جاننے سے میں محروم کیسے رہ گئی۔ ویسے ایک دفعہ میں نے انھیں پازیٹو پاکستان کا حصہ بننے کے لیے میسج ہی کر ڈالا، جانتی ہی نہیں تھی نا تب اور پھر ان کے بتانے پہ جو مجھے شرمندگی ہوئی۔۔
اس کے پاس ایک ایسا *منجن* ہے جس کے ذریعے وہ ہر کام کر اور کروا لیتا ہے😳 وہ سائنسدانوں کے ساتھ سائنس دان، استادوں کے ساتھ استاد، بچوں کے ساتھ بچہ، لڑکیوں کے ساتھ لڑکی🤭 غرض وہ ایک انسان سب کچھ ہے۔ بات فیشن کی ہو یا بزنس کی، سائنس کی ہو یا ریاضی کی اس کو سب پتہ ہوتا ہے۔ کوئی اس کو کوئی کام کہہ دےتو ناممکن ہے کہ وہ انکار کرے۔ دنیا کے ہر کونے میں اس کے دوست موجود ہیں، وہ جہاں جاتا ہے لوگوں کو اپنا بنا لیتا ہے۔
میں تو سوچ میں ہی پڑ گئی کہ وہ انسان ہے یا کیا چیز۔ مطلب عمر و عیار کی زنبیل کی طرح اس کے پاس سے بھی بروقت ہر مسئلے کا حل نکل آتا۔
ایک اور بات یاد آئی... 
فوڈز اینڈ موڈز جہاں سے وہ ہر دفعہ چائے اور سپرنگ رولز ہی لیتے تھے۔ جب وہ کہیں نہ ملتے تو مطلب کسی دوست کے ساتھ وہاں ہی ہوں گے۔ اور اس بات سے ان کے استاد بھی واقف ہو چکے تھے، دراصل وہاں سگنلز نہیں آتے تھے تو جب ان کا فون نہ ملے تو مطلب وہ فوڈز اینڈ موڈز کو رونق بخش رہے ہیں۔😍
اور تو اور ان کی جس کے ساتھ بھی دوستی ہوتی ناممکن تھا کہ اس کی امی کے ساتھ جان پہچان نہ بنائیں۔ مطلب وہ دوستوں کی امیوں (آنٹیوں) کے بھی بہت لاڈلے بن جاتے کیونکہ وہ بیٹھ کے ان کے مسئلے سنتے اور ان کے حل دینے سے بھی باز نہ آتے۔
ارے آپ اب تک سمجھے نہیں میں کس کی بات کر رہی ہوں؟؟
میں کامی بھائی میرا مطلب ہے ڈاکٹر محمد کامران اکرم (برا منا جاتے پورا نام نہ لیا جائے تو) کی بات کر رہی ہوں۔
مجھے سنتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا وہ ایک شخص اکیلا ہی سب کچھ ہے، جو دور جائے تو اس کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جائے اور اس بات کی آکاسی ان کے دوست کا لہجہ کر رہا تھا۔ اچھے دوست بھی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کامران کے بارے میں بہت کم بتا پائی میں کیونکہ ہمیں سلسلہِ گفتگو منقطع کرنا پڑا تھا، سر عابد کی کال آگئی تھی اور ہمیں اپنی اگلی منزل کی طرف جانا تھا۔ (جب وقت تھا تب یہ لوگ اور باتوں میں جو لگے رہے، اپنا کیتھارسس کرنے کا یہی موقع ملا تھا)
اور لائلپور کی داستان ختم ہونے کو ہے...
سر کی کال آچکی تھی لٰہذا ہم بھی سر کے ایک دوست پازیٹو پاکستان کے سپورٹر جناب فرخ الٰہی صاحب کے گھر جانے کے لیے نکلے۔ جاتے ہوئے بھی کون سا میری جان بخشی ہو، ولید صاحب پہلے مجھے مختلف اطرف میں جاتی سڑکوں کے بارے میں بمع تاریخ بتانے لگے اور جب کچھ نیا نہیں رہا تو مختلف برنڈز کی "دکانوں" کی تعریفیں (مذاق کے طور پر) جو بھی تھا بیلا اور سر ولید کا مجھے اتنا وقت دینا مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
ہم فاروق صاحب کے گھر پہنچے جہاں ہمارا ہی انتظار ہو رہا تھا اور ہمارے جاتے ہی پہلے طعام پھر کلام والی بات پہ عمل کرتے ہوئے کھانا لگا دیا گیا۔ کھانا بھی کیا کوئی سات طرح کے کھانے تھے، جس کو متنجن یا نولکھا کہا تھا انہوں نے اور ولید صاحب نے وہاں بھی کریڈٹ لیتے ہوئے میری ڈشیز میں اضافہ کیا اور یاد کروایا کہ سیور کے بدلے 15 مختلف طرح کے کھانے کھلا چکے ہیں اور تو اور وہاں تو سر عابد نے بھی ساتھ نہ دیا انہیں یاد بھی کروایا کہ سر واپس آپ نے اسلام آباد ہی جانا ہے لیکن نہیں اس وقت تو وہ فیصل آباد تھے نا😏😏 ۔ فاروق صاحب کی فیملی سے بھی ملاقات ہوئی، ان کی تینوں بیٹیاں بہت اچھی تھیں اور ان کی والدہ بالکل دوستوں جیسی(ان کی پنجابی ذرا مشکل سے سمجھ آ رہی تھی😞) دیر ہو رہی تھی اور ہمیں واپس بھی جانا تھا لٰہذا بیلا نے سر کو یاد کروایا کے ہاسٹل پہنچنا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہمیں کسی کام سے اس تاریخی جگہ جانا تھا جہاں پریزیڈنٹ پازیٹو پاکستان جناب عابد اقبال کھاری نے جنم لیا تھا میرا مطلب ہے سر کے گھر کے پاس سے گزرنا تھا🤭 اور وہاں پہنچ کے سر ولید نے بتایا کہ گاڑی میں بیٹھ کے سر کے گھر کو دیکھنا گستاخی ہے تو میں فوراً نیچے اتر آئی۔ سر کا گھر واقعی خوبصورت تھا جس کی خوبصورتی میں اضافہ دیوار پر لگی سر کے والد صاحب کی تصاویر کر رہی تھی (جیسے فاطمہ جناح یونیورسٹی پہ تصاویر لگی ہیں بالکل ویسے)۔ وہاں سے ہم نے اپنے ہاسٹل کی راہ لی۔
ہاسٹل پہنچے تو سندس(بیلا کی چلبلی سہیلی) ہمارے پاس آئی کہ ہمارا ایونٹ کیسا رہا۔ وہ اتنی معصوم لگتی ہے کہ بس۔ اور مجھے دکھ ہے کہ میں واپسی پہ سندس اور فروا کو مل کے نہیں آ سکی😞
رات پھر سے نیند 3 بجے کے بعد آئی جس کی وجہ سے صبح بھی اٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ لیکن اٹھنا تو تھا کیونکہ 11 بجے ہمیں میٹنگ کے لیے پہنچنا تھا اور اس سے پہلے فیصل آباد کا مشہور ناشتہ بھی کرنا تھا۔
لیکن تیار ہونے سے پہلے بیلا نے میرے ہاتھ پہ مہندی لگائی، مجھے مہندی بہت پسند ہے تو بھلا میں کیسے انکار کرتی🤭
میں تیار ہونا شروع ہی ہوئی تو کال آئی مہران اور سر ولید ناشتہ کے لیے پہنچ بھی چکے تھے۔ بیلا بھی تیار تھی اور میں۔۔۔۔۔۔۔خیر ہو وہاں پہنچے اور ایک دفعہ پھر مجھے ڈشز گنوائی گئیں، اب تو میں نے خود بھی گننا شروع کر دی تھیں🤭 وہاں سے ہم سر کی بہن جو ایک لکھاری بھی ہیں ان کے گھر گئے وہاں سب رہبرز اور ایمبیسڈرز آچکے تھے۔ ایونٹ پے سب کا موقف لینا تھا اس سے پہلے اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے تلاوت، ورڈز آف وزڈم اور پھر سب کا تعارف ہوا اس کے بعد سب نے اپنی اپنی رائے دی اور جہاں جہاں اصلاح کی ضروت تھی اس پہ بھی بات کی۔ آخر میں ایونٹ انچارج عدنان صابر کی باری آئی اور مجھے پتہ چلا وہ اپنے نام کی طرح صابر بالکل بھی نہیں ہیں🤭😜 چلیں باقی باتیں رہنے دیتے ہیں۔۔۔۔😄
اب جانے کا وقت ہو رہا تھا سر نے گاڑی نکالی' بیلا کو ٹیوشن جانا تھا(ارے وہی جہاں جاتے ہوئے وہ مختلف تحریریں لکھتی ہے) ہم نے اسے ڈراپ کیا میری سیٹ بُک کروائی جو شام 5:45 کی ہوئی۔ وقت کافی تھا تو سوچا گیا کہ کھانا کھالیا جائے(یعنی گنتی میں اضافہ)  شعیب بھائی کے مشورے پہ عمل کرتے ہوئے ہم سٹون او گئے جہاں کا ماحول کافی اچھا تھا(اسلا مآباد جیسا) وہاں فرائز، سپرنگ رولز اور پیزا منگوایا۔ اب کی بار تو حد ہو گئی ولید صاحب نے کیچپ اور کولڈ ڈرنک کو بھی ڈشز میں گننا شروع کر دیا۔ سر عابد کو بھی خیال آگیا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ اب کی بار ہم بھی گن گن کے کھلائیں گے (IUKWIM) 😉 
شعیب بھائی نے کتاب "عورت معمارِانسانیت" تحفے میں دی(خوبصورت تحفہ) وقت کم رہ گیا تھا اور اب تک میں نے فیصل آباد کی سب سے خاص جگہ دیکھی نہیں تھی یعنی UAF. سر عابد، سر ولید، مہران اور میں یونیورسٹی گئے، ارے کیا منظر تھا وہاں کا۔ شام، خاموشی، خنک ہوا، چڑیوں کی چہچاہٹ اور ہر طرف سبزہ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں یہاں پہلے کیوں نہیں آئی جی چاہا کہ وقت پیچھے چلا جائے اور میں یہاں داخلہ لے لوں لیکن افسوس۔۔۔۔۔۔۔
اب گاڑی کا وقت ہو چکا تھا مجھے سٹاپ پہ ڈراپ کیا گیا اور میں نے واپسی کی راہ لی۔ شعیب بھائی کی دی ہوئی کتاب اچھی ہمسفر ثابت ہوئی۔
یقیناً فیصل آباد کے لوگ صرف جگتوں میں ہی نہیں بلکہ مہمان نوازی اور محبتوں میں بھی ماہر ہیں۔ یہ وہاں کی آب و ہوا کا ہی اثر ہےکہ میرا ایک لمبے عرصے بعد لکھنے کا دل کرنے لگا۔ شاید فیصل آباد کا پہلا اور آخری سفر ہو لیکن ناقابلِ فراموش ہے۔
آپ لوگوں کی محبتوں کو ہمیشہ یاد رکھوں گی۔
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
کون سے آسماں سے آتے ہیں
گل تو اس خاکداں سے آتے ہیں
رنگ ان میں کہاں سے آتے ہیں
تم بھی شاید وہیں سے آئے ہو
اچھے موسم جہاں سے آتے ہیں

شکریہ لائل پور♥♥
سحرش امتیاز
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 25 December 2018

سفرنامہ (حصہ دوم) - لائل پور کی کہانی

ہم FCCI پہنچے تو وہاں سب انتظامیہ پہلے سے ہی موجود تھے اور سب پازیٹیوینز اپنا اپنا کام کرنے میں مگن تھے۔ ہم تینوں بھی کمپیئرنگ میں کچھ  مزید اچھے الفاظ کا اضافہ کرنے بیٹھ گئے۔ وہاں ہی میری ملاقات فیصل آباد کے تقریباً سب ہی ٹیم ممبران سے ہوئی جن کے صرف نام ہی سن رکھے تھے( کچھ کے تو نام بھی نہیں پتہ تھے)۔ اسی دوران عبد الرزاق کو جوش آیا اور اس نے سٹیج سنبھال کر اپنی پُرجوش گفتگو سے آنے والے مہمانوں کے لہو کو گرمایا اور اٹھ جوانا پہ آئے ہوئے جوانوں کو حقیقتاً اٹھا دیا۔ 
11:30 بجے سر عابد، سید انیس اور فواد نصیر کی آمد پر پروگرام کا با قاعدہ آغاز کیا گیا۔
میرا قطعاً ارادہ نہیں تھا کہ پروگرام کی بھی تفصیل لکھوں گی لیکن مجھ سے رہا نہیں جا رہا۔ چلیں مختصراً بیان کیے دیتی ہوں۔  
سلمان نے انتہائی خوش الہانی سے قرآنِ مجید کی تلاوت کی۔ حمنہ جن کا تعلق تو ملتان سے ہے لیکن اس وقت اپنی تعلیم کے لیے فیصل آباد میں رہائش پذیر ہیں، نے اپنی خوبصورت آواز میں نعتِ رسولِ مقبولؐ سے ہمارے دلوں کو معطر کیا۔ شہباز ارشاد(رہبر) نے پازیٹو پاکستان کا جبکہ مہران مختار نے سائیبریگیڈ کا تعارف کروایا۔ اس کے بعد ولید اصغر حسینی، فواد نصیر، سید انیس، سر عابد اور مہمانِ خصوصی فرخ حبیب نے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
پروگرام کے دوران سرائیکی، پختون اور گلگتی کلچرل ڈانس بھی دکھایا گیا۔ کوئی شک نہیں کے منتظمین نے سب انتظامات بہت اچھے کیے ہوئے تھے۔ اور آنے والے مہمانوں نے بہت کچھ سیکھا کیونکہ ہمارا پروگرام " entrepreneurship اور فورتھ انڈسٹریل ریوولوشنز" کے متعلق تھا۔
پروگرام کے اختتام پر ارادہ کیا گیا کہ سب منتظمین کھانا باہر کھائیں گے(😜) بھلا ایسی بات پہ کون خوش نہ ہوتا سبھی تیار بیٹھے تھے۔ کہیں سے آواز آئی کہ سحرش اور سیماب شہباز بھائی کی گاڑی میں پہنچ جاؤ، ہم باہر نکلے اور اتنے میں سر عابد اور ولید صاحب بھی آگئے اور ہم نے ہزارہ ہوٹل کی طرف رختِ سفر باندھا۔ 
راستے میں پُر مزاح گفتگو چلتی رہی اور ساتھ ساتھ مجھے فیصل آباد کے راستوں سے روشناس بھی کروایا جاتا رہا۔
وہاں پہنچ کے مرد حضرات الگ اور ہم دوشیزائیں الگ بیٹھ گئیں😜۔ کھانے میں قیمہ، مکس سبزی اور ہزارہ ہوٹل کی مشہور دال منگوائی گئی۔ ساتھ ہی ولید صاحب تشریف لائے اور مجھے یاد کروایا کہ 8 ڈشیز ہو گئی ہیں بشمول صبح کیے ہوئے ناشتے اور ایک دن پہلے کھائے ہوئے منچورین اور چکن اچاری کا ایک دفع پھر وہاں موجود سب لوگوں کو سیور کھلانے والی زیادتی کا قصہ سنایا گیا۔ وہاں موجود سب لڑکیوں نے مجھے یوں دیکھا جیسے پتہ نہیں ہم کیا عجیب چیز کھلاتے ہیں😥 (آخر کو منظر کشی ہی ایسی ہوئی)۔ لیکن ہزارہ ہوٹل کا کھانا لذیذ تھا یا شاید بھوک کی شدت تھی۔😜
کھانا کھانے کے بعد سب کو الوداع کہا اور ہم (بیلا، میں، سر عابد، ولید اور عدنان) گھنٹا گھر کی طرف چل پڑے۔ پیدل جاتے ہوئے بیلا اور سر عابد کسی اہم مسئلے پہ گفت و شنید میں مگن تھے اور ولید صاحب گائیڈ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ گھنٹا گھر پہنچنے تک مجھے فیصل آباد کی تاریخ بتائی جا چکی تھی کچھ مقامات پہ سر بھی اپنے شہر کا تعارف کرواتے رہے۔ ایک دفعہ تو ایسا لگا میں کہیں باہر سے پاکستان دیکھنے آئی ہوں۔
گھنٹا گھر پہنچنے پر مجھے وہاں کے آٹھ بازاروں کا تعارف کروایا گیا ( امین پور بازار، کچہری بازار، کارخانہ بازار، جھنگ بازار، ریل بازار، چنیوٹ بازار، مینٹگومری بازار اور ایک کا نام میں بھول گئی)۔ اسی دوران بیلا نے آئس کریم کھلانے کا اعلان کیا، آواز اتنی اونچی تو نہیں تھی پھر بھی ارسلان بھائی تک نجانے کیسے پہنچ گئی🤭 ہم سب بشمول مہران بٹ آئس کریم گئے اور وہاں کی لذیذ آئس کریم اہلِ ذوق لوگوں کی خوبصورت شاعری اور ادبی گفتگو کے ساتھ کھائی۔
 کھلی آنکھوں سے سونے کا تجربہ... 
ہم مزیدار آئس کریم سے لطف اندوز ہو چکے تو کھاری صاحب کو کہیں کام سے جانا تھا جس کے لیے وہ مہران کو لے کر نکلے، عدنان اور ارسلان بھائی کو بھی شاید ہاسٹل جانا تھا، ایونٹ کی وجہ سے سب تھک چکے تھے تو وہ بھی چلے گئے۔ پیچھے رہ گئے میں، بیلا اور ولید صاحب.. دراصل وہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ میں شکوہ کروں کہ مجھے فیصل آباد دکھانے کے بجائے جلد ہاسٹل میں قید کر دیا گیا۔ اسی لیے ہم وہاں ہی محوِ گفتگو ہو گئے۔ آغاز ہوا UAF سے اس کی تعریفیں شروع ہوئیں پھر FLF ( فیصل آباد لیٹریچر فیسٹیول) کی کہانی وہاں آئے ہوئے مہمانوں کا ذکر(جن کو صرف وہ دونوں جانتے تھے، مجھے کیا خبر🙄) اچانک خیال آیا سحرش بھی تو ساتھ ہے۔
بیلا: تم بور تو نہیں ہو رہی۔
میں: نہیں نہیں میں تو enjoy کر رہی ہوں۔
ولید: نہیں تم بور ہو رہی ہو تو بتا دو۔
بیلا: اچھا اب کوئی اور بات کر لیتے ہیں۔
اور پھر شہر کے شعراء کا ذکر ہوا۔ ارے حافی کیا لکھتا ہے، اف عمیر نجمی کے تو کیا کہنے، تم نے وہ شعر سنا (اب شعر تو مجھے یاد رہتے نہیں🤫) جون جیسا انداز تو کسی کا ہے ہی نہیں، سحرش تمہیں پتا ہے یہ سارے بڑے بڑے شاعر اور ادیب فیصل آباد سے ہی تو ہیں اور میرے جوابات اچھا، ارے واہ، گریٹ (اب اور کیا کہتی.. )
مذاق اپنی جگہ میں محظوظ ہو رہی تھی گفتگو سن کے (اچھی سامع جو ہوئی) لیکن بور بھی بہت ہوئی😜 اس کے بعد خیال آہی گیا اور ایک قصہ شروع ہوا جو دونوں مل کے مجھے سنا رہے تھے ( دوست کی یاد آرہی تھی نا😉)
جاری ہے... 
سحرش امتیاز 
ایمبیسڈر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 23 December 2018

سفرنامہ (حصہ اول) - جگتوں کی سرزمین

زندگی کے طویل سفر  میں ایک چھوٹے سفر کا اضافہ ہوا۔جی ہاں میں فیصل آباد کے سفر کی بات کر رہی ہوں۔
فیصل آباد جانا تھا اور یہ طے ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ کب نکلنا ہے۔ خیر آفس گئی اور فیصلہ یہ ہوا کہ ہم شام 4 بجے نکلیں گے۔ میں بھی پرسکون ہوگئی، کوئی تیاری بھی نہیں کی اور لمبی تان کر سو گئی۔ 
صبح آنکھ کھلی تو خبر ہوئی کہ کافی دیر ہو چکی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ مجھے 4 کی بجائے 1 بجے نکلنا تھا۔  
راستے میں ایک خاتون جو غالباً کسی اسکول کی استانی تھیں میری ساتھ والی نشست پہ براجمان تھیں۔ انھیں کہا کہ کھڑکی والی نشست میری ہے لہذا بیٹھنے دیں جواباً انھوں نے اپنی میڈیکل رپورٹ سنانی شروع کر دی اور مجھے اپنی معصومانہ خواہش دل میں ہی دبانا پڑی۔ اب انھوں نے سو کے اور میں نے بور ہو کے سفر گزارنا تھا۔ پھر میں نے اپنی سوچوں کی پٹاری کھولی اور کھو گئی تخیل کے حسین موسموں اور دلکش وادیوں میں۔ 
اچانک فون بج اٹھا ولید صاحب کی کال تھی، جگہ کا پوچھا کہ کہاں پہنچی ہو لیکن مجھے تو خبر ہی نہیں تھی
خیر اندازاً انھیں کچھ جگہ کا بتایا جس سے مجھے پتا چلا کہ میں نزدیک پہنچ چکی ہوں۔ سر ولید اور مہران مجھے رسیو کرنے اسٹاپ پہ موجود تھے۔ جہاں سے ہم ریڈ بیری پہنچے۔ بیلا اور عبدالرزاق (زید بھائی آف فیصل آباد )🙊 بھی کچھ ہی دیر میں آگئے اور گپ شپ کے ساتھ اگلے دن کی کمپیئرنگ کو حتمی شکل دی گئی۔ آخر کو  فیصل آباد والوں کی خاص تقریب تھی۔ اسی دوران سوچا جانے لگا کہ کھانا کہاں کھایا جائے اور ساتھ ہی ولید صاحب کو یاد آیا کہ ان کے اسلام آباد آنے پہ انھیں صرف savour یا حلیم گھر ہی لے کر جایا جاتا ہے پتا نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم انھیں lasania اور بٹ کڑاھی بھی لے کر جاتے ہیں(اچھائی یاد ہی کون رکھتا ہے😜) ویسے بھی اس میں قصور رہبرز کا ہے مجھ معصوم کا نہیں🙊۔ اور انہیں کیا خبر ہماری تو پسندیدہ چیزیں ہیں یہ😉۔ اس دوران بیلا اور مہران ہنسنے کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اور عبدالرزاق باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا 😜 خیر ہم نے آل طیبہ پہ کھانا کھایا اور میں بیلا کے ساتھ اس کے ہاسٹل آگئی جہاں میرا استقبال ان الفاظ کے ساتھ ہوا " hey sweetie جگتوں کی سرزمین پہ خوش آمدید " 😍 ۔ یعنی میں تیار ہو جاؤں جگتوں کے لیے🙈۔ 
ارے یاد آیا ہاسٹل آتے ہی سیماب مجھے بہت محبت سے گلے لگ کے ملیا اور جس سیماب کو میں جانتی تھی یہ تو اس سے بہت مختلف تھی اور تبھی مجھے احساس ہوا اس پہ تو بیلا نام زیادہ جچتا ہے۔ 💕
یوں باتوں باتوں میں سونے کا وقت ہو گیا اور میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ 
ایک نئی صبح... 
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں 
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
بلکل ایسا ہی ہے.. یہ قسمت ہی تھی اور میں نے اتنے اچھے لوگوں سے ملنا تھا جو اچانک ارادہ کیا اور فیصل آباد کے تین دن کے سفر پر روانہ ہوگئی ورنہ مجھے تو ایک دن کی اجازت ملنا بھی گویا ناممکن تھا۔
 اگلی صبح 7 بجے کے قریب آنکھ کھلی بیلا اٹھ چکی تھی اور میرے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ ہمیں بیلا کے اسکول جانا تھا۔ میں اٹھی تو بیلا ناشتہ کا مینو طے کرنے لگی اور کچھ ہی دیر میں فروا (بیلا کی ایک خوش مزاج دوست) ہمارے لیے سینڈویچز، انڈے، فروٹ کیک اور چائے لے آئی(یعنی ہاسٹل میں بھی اتنا اہتمام)  اور ہم نے مل کے ناشتہ کیا فروا کا اسکول جانے کا ارادہ نہیں تھا، ہمیں امید تھی کہ وہ ہمارے ایونٹ پہ ضرور آئے گی لیکن دھوکا ہو گیا😜۔ 
بیلا کو 8:30 بجے اسکول پہنچنا تھا، ہم جلدی سے تیار ہوئے اور نکل پڑے۔ ہلکی دھند اورخنک ہَوا ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی (بہت عرصے بعد صبح باہر نکلی تھی نا)۔ راستہ تھوڑا سا لمبا تھا اور بیلا نے بتایا کہ وہ روز چل کے آتی ہے میں اب تک پریشان ہوں کہ آخر وہ سمارٹ کیوں نہیں ہوئی🤔 ارے نہیں ویسے وہ بہت سمارٹ ہے میں تو کمزور ہونے کی بات کر رہی🤭
وہاں بیلا کے پرنسپل ملے یقین جانیں مجھے لگا میں عثمان بھائی (عثمان رضا جولاہا) کا مستقبل دیکھ رہی ہوں😜 دراصل ان کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا۔ انھوں نے مجھ سے میرے گاؤں کا نام پوچھا اور ساری ہسٹری انھوں نے بتائی۔ ویسے ایک الگ ہی قسم کے انسان تھے، خوش مزاج، ہنس مکھ لیکن بہت گہرے۔ انھوں نے بتایا سیماب یہاں استانی نہیں میڈم ہے (یعنی کوآرڈینیٹر😉۔ آخر دوست کس کی ہے🤭) ۔
وہاں سے ہم 10 بجے ایونٹ پہ جانے کے لیے نکلے ہمیں کنال روڈ جانا تھا یعنی اس روڈ کے پاس کنال تھی تبھی تو یہ نام رکھا گیا۔ اور ہم 10:30 بجے FCCI پہنچے۔
جاری ہے....

سحرش امتیاز 
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 25 October 2018

الوندی کی یاد میں

محبتوں میں ہر اک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی اک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا

امید ہے سب لوگ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں اپنے اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہوں گے
آج سے تین ماہ پہلے الوندی کی تاریخ، مہینہ اور جگہ فائنل کی گئی۔ پھر یہ ہوا کہ زندگی کے یہ تین ماہ الوندی کو سوچنے اس کو پانے کے انتظار اور انتظام میں جاگتے اور بھاگتے گزر گئے
بالآخر وہ دن بھی آ گیا۔ جب ہم اسلام آباد کی خاموشی کوچھوڑ کر پہاڑوں کی طرف اندھیری سیاہ رات، ہلکی ہلکی خنکی, چاند کے ساتھ سفر کرتے ہوئے، سورج کی کرنوں کے نکلتے ہی ہم بھی ان پہاڑوں پر پہنچ گئے.
جن کے بارے میرا رب کہتا ہے
"اور جس دن چلائیں گے ہم ان پہاڑوں کو اور دیکھے گا تو  زمین کو کھلا میدان اور اکٹھا کریں گے ہم سب کو اور نہیں چھوڑیں گے ہم ان میں سے کسی ایک کو" (الکھف)
اک خیمہ بستی جو پہاڑوں کے وسط میں  دنیا کے جھمیلوں سے دور رکھ کر  اپنی آغوش میں چھپا کر کچھ دن اپنے آپ کو پانے کا گُر سکھانے کیلئے سجائی گئی تھی منتظر تھی ہماری.
الحمد للہ ثم الحمد للہ وہ پیار و محبت کی تین روزہ بستی اپنے اختتام کو ایسے پہنچی کہ دور دراز علاقوں سے آئے مختلف رنگ، نسل زبان اور مزاج سے تعلق رکھنے والوں کے دل آپس میں اک مقصد اور مشن کی خاطر اللہ تعالی نے ایسے جوڑے کہ کوئی بھی اس جگہ اور اک دوسرے کو چھوڑنے پہ آمادہ بخوشی نہیں ہوا۔
مام راہبرز، ایمبیسڈرز، مشن ہولڈرز، ممبرز، آنے والے نئے لوگوں اور بالخصوص صدر پازیٹو پاکستان عابد صاحب کو بہت بہت مبارکباد کہ جنہوں نے اس پروگرام کو بہت خوبصورت اور کامیاب بنایا۔

وقار احمد 
رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 18 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 8

آخری قسط (8)
جب سب بیٹھ چکے تو شهباز بھائی کو محسوس هوا که کوئی انهیں اپنی جیپ میں جگه نهیں دے گا لهٰزا وه هماری جیپ میں آن دھمکے. اور پھر انعم اپنے دکھتے سر اور باقی اپنی دکھتی رگوں سے نیچے کی طرف اترنے لگے. دھول سے سانس اٹکنے لگا تو ڈرائیور نے فرنٹ سیٹ کا پرده اٹھا دیا جهاں سے آتی مٹی شهباز بھائی کے نورانی چهرے کے لئے هانی کارک تھی جس سے وه بیچارے جیکٹ کے پروں میں اپنا منه چھپانے میں مصروف هوگئے اور کیوائی پهنچ کر اپنا رخ مبارک باهر نکالا. 
یهاں کچھ دیر قیام هوا تو سب کی 3 دن سے سوئی هوئی موبائیلی حِس جاگ اٹھی اور سوئچ بورڈ پر لگے چارجر کسی گرڈ اسٹیشن کا منظر پیش کرنے لگے. سب کے موبائلوں میں روح پھونک دی گئی تو هم اسلام آباد کی طرف روانه هوئے. 
بس میں بیٹھتے هی نیره نور کے بچپن کے گانے بجنے لگے جن کے فوسلز نصف صدی پهلے هونے والی شادیوں کی وڈیو میں سهرا بندی اور رخصتی پر هی ملتے هیں. هم بھی اسی اندازے سے ولید بھائی کی مستقبل بعید میں هونے والی شادی کی وڈیو میں گانے فٹ کرنے لگے جس کے هر سین میں ولید صاحب کے سر پر سنهری لڑیوں کا کُلاه اور منه پر رومال تھا. 
اور اسی شغل میں هم نے سفر تمام کیا. لیکن ان پچھلے تین دن میں جو خاص خاص مشاهده هوا ، وه درج ﺫیل هے. 
1: عثمان رضا کے مطابق فیش واش سے بھی سر دھویا جا سکتا هے. 
2: شهباز ارشاد وه واحد شخص هیں جنهوں نے اپنا سب سے زیاده خیال رکھا. فیش واش کو دیکھ کر اُن کا چهره نورانی هونے لگتا هے جسے مزید نور بخشنے کے لئے کوشش کرنے لگتے. اس کے پیچھے وجه ان کی هونے والی شادی تھی جو انهوں نے اپنے منه کو زمانے کے سردوگرم سے بچائے رکھا. 
3: اپنے کیمرے سے سب سے زیاده اپنی تصویریں بنانے کا ریکارڈ چھوٹو کو جاتا هے جن کے سر کا تو نهیں پتا مگر کان پر جوں تک نه رینگی که اُن کے ساتھ باقی حضرات بھی موجود هیں جو تصویر بنوانے کا انتظار کر رهے هیں. 
4: سپیکر پر جس لا پته شخص کا سب سے زیاده نام پکارا گیا، وه انیق الرحمان هیں. کیونکه یه هر دو منٹ کے بعد عادتاً منظر سے غائب هو جاتے تھے. 
5: سردی کو روکنے کے لیے اپنے گھر سے کمبل بھی لایا جا سکتا تھا اور گندا کیا جا سکتا تھا.
ختم شُد
نوٹ: مزید ابھی یاد نهیں رها
رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد) 

Monday, 17 September 2018

سفر نامہ: الوندی4 - قسط نمبر 7

قسط نمبر 7
جیسے جیسے شام کے سائے گہرے اور ہم گیلے پڑنے لگے، ویسے ویسے سب ایک هی بات پر دانت کچکچانے لگے که ایک اور خنک رات همیں گیلے بستروں پر گزارنی هو گی. لیکن آگ جل چکی تھی جس کے گرد کچھ لوگ گھر سے لائے گئے صاف اور سرخ کمبل میں ملبوس اُسے گندا کرنے میں مصروف تھے اور کچھ دوپٹوں میں منه لپیٹے سردی روکنے کی ناکام ترین کوشش کر رهے تھے.  باسط صاحب اور ولید بھائی نے سب کا دهیان بٹایا اور ایک کامیاب سیشن کروایا جس کے بعد هر گروپ کے ایک کم گو فرد کو 2 منٹ بولنے کا موقع دیا گیا. هماری چیف کو شاید غلط فهمی هوئی که هم کم گو واقع هوئے هیں لهٰزا همیں 2 منٹ کے لئے نامزد کیا گیا. جن میں سے ڈیڑھ منٹ هم نے کانپنے کی کوشش میں گزار دئیے.
اس رات کے کھانے میں سب سے زیاده حیران کن بات سویٹ ڈش کا ملنا تھا. جس کی توقع کم از کم پائے کی اس چوٹی پر نهیں کی جا سکتی تھی. لیکن اس کے لیے میرا اور بیلا کا لیاقت بھائی کو باجماعت شکریه. 
آخری سیشن میں مشاعره منعقد کیا گیا جس میں هر شعر کا ایک یخ ٹھنڈا جواب صرف اور صرف عثمان رضا کے پاس تھا لیکن اپنی نوعیت کا یه ایک منفرد مشاعره تھا جس میں عوام الناس کی بجائے صرف چٹانیں همه تن گوش تھیں. خیر...!!
جب رات ڈھل چکی تو سب اپنے اپنے بستروں میں ٹھٹھرنے چل پڑے اور صرف اس بات سے خود کو حوصله دیتے رهے که یه آخری رات هے، هم کل صبح کوچ کر جائیں گے.
اسی حوصلے سے فجر ادا کی اور خیمے سے سر باهر نکالا تو بارش شروع هو چکی تھی اور ایک دفعه پھر هماری چھتری کے گمنے کا زخم هرا هو گیا. اس کے بدلے میں همیں ایک سیاه رنگ کا چھاتا تھما دیا گیا مگر وه بھی صرف 1 گھنٹه همارے پاس مهمان رها اور نهیں معلوم کس کے پاس چل بسا. مگر شکر که سورج نے اپنی شکل دکھائی اور هم بھی بیٹھ کر سر زاهد کا لیکچر سننے لگے. اسی اثنامیں دوپهر هو گئی. 
جلدی سے کھانا کھایا اور اسی دوران تمام جیپیں همیں لینے پهنچ چکی تھیں. تمام خیمے لپیٹ دئیے گئے تھے اور هم بھی سامان لپیٹ کر قهوٰه پینے لگے. جس کے بعد سرٹیفیکیٹ اور انعامات تقسیم کئے گئے اور جگه کی صفائی ستھرائی کا اهتمام کیا گیا. جب سب لوگ جیپوں میں لوڈ هونے لگے تو هم بھی اپنی سرخ جیپ پر قبضه جمانے چل دئیے. 
(جاری هے)

رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Sunday, 16 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 6

قسط نمبر 6
پهاڑی بکریوں کا ریوڑ چراتا هوا بچه آسانی سے قلانچیں بھر رها تھا جیسے هم میدانوں میں گاڑیاں دوڑاتے هیں. پر هم جیسوں کے لئےبلندی جتنی قریب آتی جا رهی تھی، حوصلے اتنا هی ناراض هونے لگے تھے مگر هم نے وهاں موجود ٹاپ و ٹاپ بھاگتے گھوڑوں سے کچھ همت پکڑی اور دوباره چلنے لگے. اور یوں هی هڈیاں چٹخاتے واپس آگئے. 
واپسی پر ناشته دیکھ کر کچھ اوسان بحال هوئے مگر یه کیا؟ برف باری نے اپنا ایک چھوٹا سا نشان هماری چائے میں چھوڑ دیا تھا اور یوں هم نے 13000 فٹ کی بلندی پر ٹی کے بجائے آئس ٹی سے ناشته کیا. 
اس کے بعد سیشنز کا آغاز هوا جن کے اختتام پر همارے بچھڑے هوئے موبائل همیں واپس کر دئیے گئے. دوپهر کے کھانے میں سب سے عجیب چیز یه تھی که ایک عدد کیمره حد سے زیاده کھلے هوئے منه کی تلاش میں گھوم پھر رها تھا. بعد ازاں اُس کیمرے کے پیچھے سے ایک عدد چھوٹو کو برآمد کر لیا گیا. اس کے بعد پورا دن اسی احساس میں شام هو گئی که "خبر دار !! کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رهی هے."
(جاری هے.)
رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Thursday, 13 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 5

قسط نمبر 5
ﺫرا سی آنکھ کروٹ بدلنے پر کھلی تو سب سے پهلی کان پڑی آواز اﺫان کی تھی.  فجر کا وقت هو چکا تھا. هم بھی جلدی سے منه سر لپیٹ کر اٹھے اور منه هاتھ دھونے باهر چل دیئے جهاں پانی کا عارضی انتظام کیاگیا تھا. مگر شومئی قسمت که دور سے دیکھا تو بوتل سے نکلتی پانی کی دھار بالکل بجلی کی ننگی تار جیسی تھی تو اِس کا مطلب پاس جانے کا سوال هی پیدا نهیں هوتاتھا.  هم تو بیلا سے هاتھ چھڑا کر توبه توبه کرتے خیمے میں داخل هوئے. Wipes سے منه دھونے کی رسم ادا کی. وه بھی اس لئے که همارے هاں منه دھونے کا رواج پایا جاتا هے ورنه ایسی صورتحال میں همارے لیے تو یه ایک فیشن هی تھا. خیر تَیَمُّمْ کیا اور بستر پر هی نماز ادا کی. 
باهر نکلے تو موسم کی پهلی برفباری کے آثار موجود تھے. ایک طرف آگ جل رهی تھی اور قریب هی سر باسط قرآن کا درس دے رهے تھے. کچھ دیر بعد نقاره بجنے لگا اور سب کو میدان میں جمع کیا گیا. هائیکنگ پر جانے سے پهلے گروپس بنائے گئے اور اعلان یه هوا که سب اپنے فون گروپ لیڈر کو جمع کروا دیں. هائیں... !! یه کیا؟  تصویریں کیسے بنائیں گے؟ مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا هے. اور یقین کیجئیے حفصه کو موبائل دیتے هوئے همارے هاتھوں میں واضع لرزش تھی جو آج بھی محسوس کی جا سکتی هے. خیر هم چار و نا چار بغیر موبائل کے هی مکڑا پهاڑ کی طرف روانه هوئے. ذرا سا آگے ایک پانی کا ﺫخیره اور ڈراؤنی سی کوٹھڑی دکھائی دی. بعد ازاں معلوم پڑا که وه ڈراؤنی کوٹھری کسی مؤﺫن کی اﺫان کو ترستی ایک مسجد هے. هم نے کچھ دیر یهاں ڈیره لگایا. کیپٹن عماد نے ایک دائره بنا کر سب کی ورزش کروائی اور پھر سب کا تعارف کوهساروں کی نظر کیا گیا. اِس دوران ایک ڈرون کیمره همارا هوائی طواف کرتا رها اور هم بھی آنکھ کے زندان میں خدا کی قدرت کو قید کرتے آگے بڑهنے لگے. 
جاری ہے... 

رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد) 

Tuesday, 11 September 2018

سفرنامہ: الوندی4 - قسط نمبر 4

قسط نمبر 4
ابھی شورو غل جاری تھا که اچانک جیپ رک گئی. پتا چلا که هم اپنی منزل پر پهنچ گئے هیں. فوراً نعرے لگاتے جیپ سے اترنے لگے. سامان کے ساتھ ساتھ نگاه اٹھائی تو بس دیکھتے هی ره گئے.
اِس بلندی پر چاندنی رات میں روشن کیمپس کا ایک دائره اور اس کے درمیان جلتا آگ کا الاؤ اور باربی کیو کرتے هوئے معصوم سے لوگ... اتنا مکمل اور مبهوط کر دینے والا منظر تھا که ساری تھکان غائب هوگئی. خیر...! جلدی سے خیموں میں گھسے اور سامان ٹھکانے لگایا، مگر یه کیا...؟ هماری چھتری کهاں گئی؟.  بتھیرا ادھر اُدھر دیکھا، سب سے پوچھ لیا مگر شاید وه جیپ میں هی ره گئی تھی. صبر کے گھونٹ بھرے اور چپ کر کے آگ سینکنے لگے.
کچھ دیر بعد جب سب جمع هو چکے تو فارن پالیسی کی گرما گرم بحث چھڑ گئی جس کا آغاز عثمان بھائی اور کوریج مخدوم شهاب الدین نے کی. محفل کے برخاست هوتے هی درسترخوان لگایا گیا. مزیدار کھانے کے بعد لاهوریوں اور فیصل آبادیوں کے مابین جگتوں کا مقابله هوا. تقریباً آدھی رات بیت چکی تو اپنی نوعیت کے اِس بون فائر کا اختتام هوا اور سب اپنے اپنے خیموں میں چل دئیے. شدید ٹھنڈے اور اوس سے بھیگے بستروں پر قدم رکھتے هی هم تو ایسے بدکے جیسے کوئی غلطی سے موبائل کا فرنٹ کیمره کھول بیٹھے. مگر آل تُو جلال تُو کا ورد کرتے صبح کا انتظار کرنے لگے. ﺫرا سی آنکھ لگی بھی تو ﺫهن اِسی بات میں اُلجھا هوا تھا که "آخری دفعه میری چھتری کس کے پاس تھی بھلا؟" ...
جاری ہے... 

رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Thursday, 26 April 2018

SCO People's Forum for the Share Future of Mankind


Contributed by: Usman Raza Jolaha (Vice President, Positive Pakistan)
In the first and second week of April 2018, I went to attend The Shanghai Cooperation Organization People’s Forum co-organized by China NGO Network for International Exchanges (CNIE) and The People’s government of Shanghai province on the theme of “Promoting regional peace and cooperation, Building a community with a scared future for mankind”.
After keen observation of my 12 days over there, I did analysis about existing and rising super powers i.e. USA and China, respectively. I have been able to differentiate remarkable & contrasting differences between these two leading states.

Starting from the population difference, China has currently 1.343 billion population whereas USA has 313 million. The GDP growth of China is 9.28 and that of USA is 1.71. The count of militants performing duties in USA is 1.5 million whereas it is 2.31 million in China.
China is not confronting other states like the way USA is. And it is not imposing its power on the other states despite of the fact that China is immensely greater in its landmass, population, GDP growth and militants.
USA is waging wars on the other states and selling weapons than, which are causing heavy mass destruction all around the globe.
On the other dimension of coin, if we observe China, It is promoting peace, globalization and welfare treaties with various states. OBOR and CPEC are the recent examples.
Now coming to SCO people’s forum, the main focus of this forum was the NGOs, that was put forward by remarkable efforts regarding modern international relations and these NGOs can play a vital and significant role in bringing stability and promoting multi polarization within the world. They emphasized on cooperation between government and NGOs at public and international level so that they come closer to each other’s culture and give respect to the religion, belief and norms of one another. SCO people's forum focused on sustainable development also to resolve traditional and non-traditional issues and poverty elevation in developing states were also the main point for discussion. These scrutinies, if invoked, will bring economic sustainability and prosperity in the region.
The proposed agenda on concerning issues regarding environment should have to be deemed as common threat around the globe. China’s policy will be contemplation as a way to opulence for the cooperation of SCO and will bring stability within the states.

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...