Showing posts with label Youth. Show all posts
Showing posts with label Youth. Show all posts

Thursday, 18 April 2019

پازیٹو پاکستان جھنگ چیپٹر

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
پازیٹو پاکستان جو ایک رضاکارانہ اصلاحی تنظیم ہے جو معاشر ے میں مثبت فکرو عمل کے فروغ،شعور کی بیداری، اعلیٰ اقدار کے احیاء اور نظریہ پاکستان کے پر چار کے لیے کوشاں ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو غیر سیاسی، غیر مذہبی اور غیر منافع بخش ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کہ ایک قدیمی ضلع میں اپنی ٹیم بنانے کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کیا ۔اور یہ ضلع کوئی اور نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سلطان باہوؒ کے ہُو کی گونج بلند ہوئی، جنہوں نے آج سے سینکڑوں سال پہلے 140تصانیف مرتب کیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کی رُومانوی داستانیں رقم ہوئی۔ جہاں ٹاٹ کے سکولوں میں پڑھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام بابائے فزکس کہلائے، جنہیں دنیا کی معروف 32 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری دی۔ 8809مربع کلومیٹر کے رقبہ کے حامل ضلع جھنگ کی مٹی کے ذرے نایاب گوہر ہیں۔ میدانِ ثقافت ہو یا سیاست، علم و ادب ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی اور جہاں کی شاعری لوک ادب، زبان و ثقافت، مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے
ضلع جھنگ کے باسیوں پازٹیو پاکستان کی ٹیم کاحصہ بنیے، اپنے خطے اور قوم و ملک میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لیے۔ اور جھنگ کو مثبت تبدیلی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

کشور پروین

Tuesday, 25 December 2018

جنم دن کا تحفہ

اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا...یہاں کا ماحول یونہی گندا رہے گا...کوئی قانون نہیں....کوئی اصول نہیں...سب لوگ کرپٹ اور بے ایمان ہیں...
میں نے گاڑی میں بیٹھے اپنے دوست کے ساتھ گرما گرم بحث کرتے ہوئے کہا..میں گاڑی ڈرائیو کررہا تھا...اور میرا دوست جوس کا ٹِن منہ کو لگائے میری بات سن رہا تھا...ٹریفک سگنل پہ گاڑی رکی...میرے دوست کا ٹِن خالی ہوا....اُس نے کار کا شیشہ نیچے کیا اور خالی ٹن پیک باہر سڑک پہ اُچھال دیا..
سگنل ابھی سبز نہیں ہوا تھا...ٹریفک سارجنٹ چوک کی دوسری سمت کھڑا تھا....میں نے ایک لمحہ اُسے دیکھا اور دھیان نہ پاکر فُل سپیڈ میں گاڑی بھگادی... 
ریڈیو پہ گانے لگے ہوئے تھے...اور آج شام ہم نے سینما میں نئی انڈین مووی دیکھنے کا پلان بنایا تھا..وہی جو ابھی آئی ہے "زیرو" مگر اتنا فلاپ بزنس کرنے کے باوجود شام 4 بجے والا ٹکٹ نہیں ملا..25 دسمبر کی چھٹی تھی...ہم دونوں ذرا آؤٹنگ کے لیے نکلے تھے...مگر یہ سالا سسٹم...اس ملک میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے..
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 22 December 2018

پازیٹو پاکستان

پاکستان میں معاشرتی بہتری، مرتبۂ عمل، سیاحت،  نفس، شخصی تحسین کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں میں جذبۂ حب الوطنی جیسے حساس نظریوں پر کام کرنے کے لیے مختلف ناموں سے تنظیموں کی بنیاد رکھی گئی لیکن محدود اغراض و مقاصد کی وجہ سے استحصال کی جانب بڑھتے گئے اور کچھ نے سیاست کو پہنائے خواہش رکھا اور کچھ تو وسائل کی نا امیدی میں درکِ اسفل کی نظر ہوئیں۔
باوجود اسکے کہ فلاحی و سماجی سوچ استحکام کی طرف بڑھتی گئی اسکی خاصی وجہ یہ تھی کہ معاشرتی بہود کے لیے کچھ کرنے کا جنون کچھ لوگوں کا رختِ سفر رہا۔
سیاسی و مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی رکنیت میرے لیے طرّہ امتیاز ہے۔ اسکے سبب مجھے مختلف پلیٹ فارمز پر عملی کام کا موقع ملا اور خندہ دلی سے کام کیا اور بفضلِ اللہ تعالٰی حسبِ توفیق مصروفِ عمل بھی ہوں۔
سب کچھ اچھا ہونے کے باوجود قلبی تسکین میسر نہ تھی کیونکہ خواہش یہ تھی کہ معاشرے کے بگڑتے عکس کے ذمہّ دار ہم نوجوان طبقہ ہیں، بس خواہش تھی کہ مستحکم ادارہ ہو جو نوجوانوں میں شعور، تخلیقی سوچ، آدابِ معاشرت اور کچھ کرنے کے لیے آگے بڑھنے جیسے معاملات میں رہنمائی کرے۔
حلقہِ احباب کے توسط سے میری ملاقات شاعرِ مشرق اور خودی کی سوچ میں میرے مرشد علامہ اقبال کے شاہین اور میں کہونگا کہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی فہمی سوچ میں مستغرق صدر پازٹیو پاکستان محترم عابد اقبال کھاری صاحب سے ہوئی۔
آپ پازیٹو پاکستان کے نام سے تمام مسلکی، لسانی، تعصبات سے در کنار نوجوانوں کی تربیتی نیٹورک چلاتے ہیں۔ آپ سادہ طبیعت اور نفیس شخصیت ہیں جس کی بدولت اللہ رب العزت نے بہت نوازا ہے۔۔محترم اقبال کھاری صاحب نوجوانوں میں عقابی روح دیکھنا چاہتے ہیں اور حدِ لا متناہی تک تربیت کی سیڑھی پار کرانا چاہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں آپ کے مدلل پُرمغز خطابات اور آپکی سوچ  پازیٹو پاکستان کی شکل میں نوجوان نسل کے لیے گلدستہ ہیں جس کی خوشبو تسکینِ ِقلب ہے۔
یقیناً ابتدائی ملاقات تعرفاً ہوتی ہے کچھ عرصہ نظر میں رکھنے کے بعد پازیٹو پاکستان کو پرکھنے سے نتیجتاً اخذ یہ ہوا کہ جو لوگ علامہ اقبال کی سوچ پر گامزن ہیں وہ ضرور مضبوط نظریات کے وارث ہونگے۔
رکنیت حاصل کرنے کے بعد مختلف قسم کی تربیتی نشستیں اور سیمیناروں میں شرکت سے محسوس ہوا کہ دیر آید درست آید۔
پازیٹو پاکستان یقیناً تربیت کی گلشن سے مہکتی خوشبو کی مانند ہے جو بلاتفریق و تمیز سب کو مہکاتی ہے ۔ نوجوان نسل کی معاشرتی تربیت میں کوشاں پازیٹو پاکستان کی ٹیم قابلِ تحسین ہے۔
میں ضمناً یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سربراہ پاکستان سنی تحریک انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری صاحب کے بعد میرے لیے آئیدیل کردار صدر پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری صاحب ہے کیونکہ آپ تخلیقی سوچ کے مالک اور امت کے ہر فرد سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
پازیٹو پاکستان چاروں صوبوں کا مشترکہ فارم ہے جہاں تربیت کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیتوں سمیت کئی اصولی نظریات سے روشناس کرایا جاتا ہے جوکہ قابلِ تعریف ہیں۔
اسلامی معاشروں کی بنیادوں میں بھی سب سے بڑا کردار آدابِ معاشرت کا ہے۔ معاشرے بنتے بھی باہمی تعاون سے، محبت و اخلاص اور بھائی چارہ سے ہیں۔ ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ معاشرتی رہن سہن میں تعاون کرے، یقیناً فرداً فرداً یہ عمل ممکن ہے لیکن محدود اس لئے کہ جو کام پانچ انگلیاں کر سکتی ہیں وہ ایک نہیں۔
تو ان دشواریوں سے بچنے کے لیے پازیٹو پاکستان جیسے  پلیٹ فارمز ہیں جہاں تربیت کے ساتھ شخصی تعاون سے بول چال، میل جول، مدلل گفتگو، قومی معاملات، تعلیم و تربیت جیسے معاملات میں نکھار لایا جاتا ہے۔
پازیٹو پاکستان میرے لیے ایک کتاب ہے جس کا ہر صفحہ کوئی نہ کوئی سبق دیتا ہے تو میں لازم سمجھوں گا کہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں یعنی معاشرتی تربیت کے اس گہوارے کا حصّہ ضرور بنیں۔
شکریہ پازیٹو پاکستان
⁩نجیب زہری
ہیڈ علماءونگ اور ایمبیسڈر پازیٹو پاکستان

Friday, 7 September 2018

Youth Derived Pakistan Movement


Youth is the most energetic and enthusiastic part of a society. These young, lively, active, dynamic and vigorous men and women have high ambition and are also blessed with the energy to fulfill their dreams. Almost all the great revolution of the world had the youth or students factor in common. The creation of Pakistan too had many contributors who played a vital role in the freedom movement but the role of students, unquestionably, had been remarkable throughout.
If we turn the pages of history, the freedom movement leads the list of renowned movements of the history, strengthen by youth, especially students. The freedom movement gained momentum after the joining of students and youth under the leadership of an ambitious man, Sir Syed Ahmed Khan. Sir Syed Ahmed Khan took his students out from abyss of disintegration and rekindled the spirit of renaissance in them. Ali Garg Univeristy produced Intellectuals like Maulana Muhammad Ali, Maulana Shokat Ali, Hasrat Mohani, Syed Hussain, Rafi Ahmed Kidwal, Abdur Rab Nishtar, Molvi Abdul Haq and the freedom fighters including Zakir Hussain, Ayub  Khan and Nawabzada Liaqat Ali.
All these incredible young men did untiring efforts and proved their passion and patriotism which ultimately led them to their destination called Pakistan. Youth especially students actively participated in the movements mention ed below, and made the m successful as well.

  • The Martyrs Movement created by Syed Ah med Shaheed and Syed Ismail Shaheed. Youth from all over the subcontinent supported this movement and it ended in 1857, war of independence.
  • The Khilafat Movement which arise in 1919 and won a huge support of students.
  • All India Muslim Student Federation was created in 1937 and Muhammad Noman was the first secretary of this movement. Muhammad Noman formulated teams of Muslim students in almost every college and university and prepared the m to be active enough to fulfill the demand s put on them.
  • He had very close interaction with Muhammad Ali Jinnah and the Quaid used to visit him during every visit. This is an example of the acknowledgement of importance of students in view of Quaid-e-Azam. He always prioritized youth specially the students, as he considered them to be the future leaders of Pakistan. 
  • Pakistan Movement under the leadership of Muslim League was not supported by the masses until it got the support of All India Muslim Student s Federation, after the election n of 1935-36.
After two years of joining hands with the student’s federation, Pakistan resolution was presented and the young played a great role in the elections of 1945-46. Students volunteered from all over the sun continent and their passion was worth seeing when they escorted the protests and addresses by Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah without being afraid of losing their lives.
The students conveyed message of the need of a separate homeland through their powerful teachings and writings. Keeping in view, the services and role of youth in the form of students, Quaid-E-Azam said:
Reemember that you have to take the reins of what is being done today, in your hands tomorrow. Have you therefore trained yourself and equipped yourself enough to shoulder the responsibilities that will fall on you? If not, go ahead today. This is the proper time and I wish you every success.
Today, Pakistan’s 62% population comprises of youth, and it’s the youth who can fulfill the dream of our forefathers and write the fate of Pakistan. At the end, I want you to focus upon Quiad’s words in which he said:
My young friends I look forward to you as the real makers of misled. Do not be exploited and do not be misled. Create amongst yourself, unity and solidarity. Set an example of what youth can do. Your occupation should be in fairness to yourself, to your parents and to your state.

Waleed Asghar Hussaini
(The writer is Rehbar and National Coordinator, Positive Pakistan.)

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...