Showing posts with label Labour Day. Show all posts
Showing posts with label Labour Day. Show all posts

Friday, 3 May 2019

میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں

جو موت سے نہ ڈرتا تھا بچوں سے ڈر گیا
اک رات خالی ہاتھ جب مزدور گھر گیا۔۔!
آج صبح آنکھ کھلی تو حسب عادت ٹیلی ویژن آن کیا۔ ٹی وی پر ایک نجی نیوز چینل کا نمائندہ یوم مزدور پر مزدوروں کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ مزدور ٹی وی چینل کے نمائندہ کو اپنے درمیان پا کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنے مسائل سے اس کو آگاہ کر رہے تھے۔ اُن سب میں ایک بات مشترک تھی اور وہ یہ کہ سب کی آنکھوں میں ایک چمک تھی اور ساتھ ساتھ چہرے پر مایوسی کی جھریاں بھی نمایاں تھیں۔ آنکھوں میں چمک اس بات کی غماز تھی کہ صحافی کو اپنے درمیان پا کر اُن کے دلوں میں شاید ایک اُمید جاگی تھی کہ یہ صحافی شاید اُن کے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر نازل ہوا ہے اور اب یہ اُن سب کی آواز حکام بالا تک پہنچائے گا اور اُن کے سب مسائل ایک ایک کر کے حل ہوتے چلے جائیں گے۔ ساتھ ساتھ چہرے پر جھریوں میں موجود ایک بے یقینی کی کیفیت سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آج صرف یوم مزدور پر نیوز چینل کو کانٹینٹ کی ضرورت ہے اس لئے اُن کو اتنا پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ 
اور بادل نخواستہ اگر اس نیوز چینل کے ذریعے اُن کی آواز اہل اقتدار لوگوں تک پہنچ بھی گئی تو کیا ہوگا؟ وہ اہل اقتدار تو پہلے سے اُن کے مسائل سے آگاہ بھی ہیں اور اُن کے ان مسائل کو ایک بلیک میلنگ ٹول کے طور پر استعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ 
میں نے ٹیلی ویژن آن کیا ہوا تھا اور میری نظر بھی ٹیلی ویژن پر ہی مرکوز تھی مگر میرا ذہن اب کہیں اور پہنچ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں آج یوم مزدور کے موقع پر گھر پر چھٹی منا رہا ہوں حالانکہ میرا مزدور اور مزدوری سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ آج کی ہر تقریب کا مہمان خصوصی آج کے دن بھی اس خوف میں مبتلا لو پھوٹنے سے پہلے ہی گھر سے نکل چکا تھا کہ اگر آج عبدالحمید تھوڑا سا بھی دیر سے پہنچا تو کہیں وہ آج اپنی مزدوری سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو وہ گھر واپس کس منہ سے جائے گا؟ کیونکہ گھر سے نکلتے ہوئے اس کے کانوں میں جو پہلی آواز پڑی تھی وہ اس کے باپ کی کھانسی کی تھی جو تپ دق کا مریض تھا اور دوسری آواز اُس کی ٦ سالہ بیٹی کی تھی جو روتے ہوئے سکول جانے سے انکار کر رہی تھی اور غور کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے پاس ہوم ورک کے لئے نوٹ بک نہیں تھی اور اگر آج بھی اس نے ہوم ورک چیک نہ کروایا تو ایک بار پھر اس کو سکول میں سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غصے کی ایک لہر اُس کے تن بدن میں اُٹھی اور وہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اُس کو چار باتیں سُنانا ہی چاہتا تھا کہ باورچی خانہ سے اُس کی بیوی کی آواز آئی، "اجی سُنتے ہو! اگر آج واپسی پر آٹا لانے کے پیسے نہ ہوں تو مہربانی کر کے کھانا باہر سے ہی کھا کے آجانا اور ہمارے بارے میں نہ سوچنا ہم فاقوں کے عادی ہو چکے ہیں ایک دن مزید روٹی نہ کھائی تو مر نہیں جائیں گے"۔
بیوی کے الفاظ اُس کے کانوں سے ٹکراتے ہی عبدالحمید بھول گیا کہ اُس کو غصہ کس بات پر آیا تھا اور ایسا شرمندہ ہو کر گھر سے نکلا کہ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا۔۔ آج تو اُس نے گھر سے نکلتے ہوئے سب کو سلام بھی نہ کیا تھا اور نہ ہی بیٹی کو پیار کیا تھا۔
بیوی کے آخری الفاظ اُس کے ذہن پر ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ اور چلتے چلتے وہ کب گھر کے قریب چوک میں پہنچ گیا تھا اُس کو پتہ بھی نہ چلا تھا۔۔۔ لیکن آج وہ چوک پرپہنچا تو اُس کا ایک ساتھی مزدور اُس کے پاس آیا اور خوشی خوشی اپنی بند مٹھی اُس کے ہاتھ پر رکھ کر کھول دی، "یہ کیا ہے؟" اُس نے حیرت سے پوچھا۔۔ "وہ تم سے گزشتہ ماہ پانچ ہزار لئے تھے نہ یہ وہی پیسے واپس کر رہا ہوں کل میں گھر گیا تو بیگم نے ایک خوشخبری سُنائی کہ اُس نے مُجھ سے چھپ کر ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی جو کل ہی نکلی تھی باقی پیسے میں نے بیگم کے پاس ہی رکھوا دیئے اور تمہاری امانت الگ کر لی اب یہ تمہارے حوالے کر رہا ہوں کہ روز قیامت میرا گریبان نہ پکڑو"۔ اُس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
عبدالحمید نے کُچھ سوچتے ہوئے یہ رقم اس مزدور کو پکڑائی اور کہنے لگا، "مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے تُم میرے گھر جا کر یہ رقم اپنی بھابھی کو دے دو اُس کو کہنا کہ گھر کا راشن ڈال لے اور باقی جو پیسے بچیں اُن سے ابا کی دوائی اور گُڑیا کے اسکول کی چیزیں خرید لے مُجھے شاید کُچھ دیر ہو جائے" عبدالحمید ایک لمحے کے لئے رُک کر مسکرایا اور پھر بولا کہ "مُجھے یقیناً دیر ہی ہو چکی ہے"
عبدالحمید نے یہ کہہ کر رومال کندھے پر ڈالا اور ریلوے اسٹیشن کی جانب چل دیا۔ ساتھی مزدور نے حسب وعدہ وہ رقم عبدالحمید کے گھر پہنچا دی تھی اور اُن پیسوں سے عبدالحمید کی بیوی نے گھر میں راشن ڈال لیا اور ابا کی دوائی اور گُڑیا کی نوٹ بک بھی خرید لی اور بازار سے واپسی پر مُرغی کا نرخ دیکھا تو خوشی سے پھولی نہ سمائی کہ آج کئی ماہ بعد مرغی سستی ہوئی تھی اور اُس کے پاس پیسے بھی تھے اُس نے موقع غنیمت جان کر فوراً دو کلو مُرغی خریدی کہ عبدالحمید چکن بریانی شوق سے کھاتا تھا اور گھر جا کر جلدی جلدی سب کام نمٹا کر گُڑیا کو تاکید کی کہ ابا کو نہ بتائے کہ آج گھر پر کیا پکا ہے وہ عبدالحمید کو وہ دینا چاہتی تھی وہ کیا ہوتا ہے کمبخت مارا ہاں سرپرائز! 
بریانی پک چکی تھی لیکن آج عبدالحمید پتہ نہیں کہاں رہ گیا تھا۔ سو طرح کے وسوسے دل میں آ رہے تھے لیکن وہ ہر بار ٹال کر آیت کریمہ اور درور شریف کا ورد شروع کر دیتی۔ آخرکار اُس کا انتظار ختم ہوا اور رات گیارہ بجے کے قریب دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ 
محلے کے چند لوگ عبدالحمید کی لاش ایک چارپائی پر ڈالے دروازے پر کھڑے تھے۔ عبدالحمید نے ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کر لی تھی اُس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اور اب چاروں جانب اندھیرا پھیل چکا تھا رات تو کب کی ہو چکی تھی لیکن دراصل اندھیرا اب ہوا تھا اُس نے ہوش میں آتے ہی واپس مُڑکر گُڑیا کے ہاتھ سے بریانی کی پلیٹ پکڑی اور چولہے سے ہنڈیا اُٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دی۔۔۔
"گُڑیا بیٹا ہمیں یہ بریانی راس نہیں ہے یہ بڑے لوگوں کی خوراک ہے ہمیں بریانی راس نہیں ہے۔۔۔۔۔!" وہ بس یہی چلا رہی تھی۔

فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 1 May 2019

ہمدردی نہیں حق

اتوار کی چھٹی  گزار کے سوموار کو پھر سے کام پر جانا یا پڑھائی کے لئے جانا بہت مشکل لگ رہا ہوتا...... ہر بار کی طرح منہ بنا ہوتا جیسے یہ پہلی بار ہو رہا ہو مگر عادت جو نہیں ہو پا رہی ہوتی فطرتِ انسانی ہر شے کی زیادتی ہی طلب کرتی ہے چاہے وہ عیش و آرام ہو یا دولت.......ہاں  مگر اس پیر کو دل تھوڑا خود کو تسلی دے رہا تھا خود کو، چلو دو دن ہی جانا پڑے گا بدھ کو پھر چھٹی آ رہی ہے, جو نیند اب نہیں پوری ہوئی وہ تب پوری کر لینا.... مگر ساتھ ہی یاد  آیا آخر یہ چھٹی کیونکر ہو رہی اس سے پہلے تو دورانِ ہفتہ نہیں ہوتی تھی پھر تاریخ پہ نگاہ دوڑائی تو دیکھا یکم مئی ہے وگرنہ بچپن سے سنتے آ رہے تھے اس روز چھٹی ہوتی ہے یوم مزدور منایا جاتا ہے... ہاں بھئی وہی مزدور جو سالہاسال  محنت کرتے کبھی گدھوں کا سا بوجھ اپنے سروں پر اٹھا کر تو کبھی گدھوں پر عمارتوں سا بوجھ دھکیل رہے ہوتے کہیں لوہار بنے ہوتے کہیں ترکھان تو کہیں اینٹوں سیمنٹ ساتھ سر توڑ کوشش میں لگے ہوتے ٹھکانے لگانے میں کہیں بڑےلوگوں(ہاں بھئی وہی جن کے پاس دولت زیادہ ہوتی ہماری لُغت میں بڑا کہا جاتا نا انہیں) کے گھروں میں چاکری کر رہے ہوتے ان کے جوتے پالش کرنے سے لے کر ان کے غسل خانے صاف کرنے تک کے اور کہیں سڑک پر ریڑھی لگائے کھڑے ہوتے, ان گنت بھیس ہیں اس مزدور نامی شخص کے میں کس کس کا حوالہ دوں... اور دیکھو نا! اس مزدور کی تو کوئی ایک جنس, عمر بھی مقرر نہیں ہے یہاں بچہ, بوڑھا, جواں, مرد, عورت, لڑکی لڑکا سب ہی اس فرقہ میں شامل ہیں جن کے نام یہ دن منایا جاتا ہے..... اور دن منانے کا جوش و خروش تو دیکھئے ملک کے چھوٹے بڑے ہر سرکاری ادارہ میں چھٹی ہوتی ہے..... مگر ہاں صرف سرکاری ادارے میں ہی چھٹی ہوتی ہے تو مزدور کا تعلق تو کسی ادارہ سے نہیں، مزدور تو بس مزدور ہے... آپ اس کا دن منائیں یا اس دن اسے منائیں اسے تو کام پر جانا ہی ہو گا.۔...
مگر یہ بات مجھے ہضم نہیں ہوتی آخر کو کس لئے ہم یہ دن مناتے کس طرح سے ہم دن مناتے؟؟؟؟ بڑا آسان جواب ہے میں بچپن سے دیکھتی آ رہی ہوں، یوم مزدور ہم سب چھٹی پر ہوتے سارا دن ٹی وہ لگا کر بیھٹتے پروگرام دیکھتے ان پروگراموں میں ملک کے بڑے لوگ ہاں بھئی میرا مطلب کرسی عمارت والے لوگ بڑے تفاخر کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے سٹیج سجائے(جس کو سجایا بھی مزدور نے, جس کا سامان اٹھا کر لانے, اسے ٹھکانے پر لگانے, بڑے لوگوں کےلئے آرام دہ کرسی ٹھنڈی چھاؤں پنکھوں تک کے لئے تمام تگ و دو بھی مزدور کے ہاتھوں سرانجام پائی) کھڑے مزدور کے بارے میں لیکچر دے رہے ہوتے ہیں بہت عمدہ قسم کے فلسفے جھاڑے جا رہے ہوتے(حتی کہ ابھی گھر میں مزدور کو جھاڑ پلا کر آئے ہوتے, راستہ میں مزدورں کو غیض و غضب سے دیکھ کر آئے ہوتے) ان کی باتیں سن کر ایسا لگتا جیسے ان سا تو ہمدرد کوئی نہیں اور ہم بھی اپنی طرف سے اعلٰی تقاریر سن کر اس دن کا حق ادا کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں.... 
مگر افسوس صد افسوس
 میں کس منہ سے کہوں میں کس رو سے یہ دن مناؤں؟
گر جن کا حق میں ان کو سکھ نہ دے پاؤں....
میں کروں گی بھی کیا؟میں کر بھی کیسے سکتی... اب تو ٹیکنالوجی کا موبائل کا دور ہے میرے جیسی تمام نوجواں نسل اس روز کو کچھ الگ انداز میں مناتے صبح ہوتے ہی موبائل لیا تمام سوشل اکاؤنٹس پر سٹیٹس لگا کر, مزودر سے اظہار یکجہتی کر کے بری الذمہ (جب کہ وہ مزدور لوگ ان سوشل میڈیا جیسی چیزوں سے واقف بھی نہیں ہوں گے) بعد از لوگ چھٹی منانے نکل جاتے دوستوں کے ساتھ یا فیملی کے ساتھ کھانے پہ جا کر وہاں مزدوروں سے ہی کھانا سرو کرنے کو کہا جاتا, راستے میں گاڑی خراب ہو جائے گھر کے لیۓ سامان لانا پڑ جائے تو مزدور لگا کر اٹھوایا جاتا..... 
آئیں آج کے اس روز عہد اور کوشش کریں جن کے لئے دن منا رہے ان کو سُکھ دیں..... مزدور کے پاس جا کر مزدور کا ہاتھ بٹائیں آج یوم مزدور ہے اسے بھی بتائیں.... ورنہ یہ آپ کی کرخت تقریریں , بڑے بڑے بینرز, آپ کے سٹیٹس ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے...... 
کسی مزدور کو کام پر جاتے دیکھیں تو اسے روک کر اس دن کی دیہاڑی دے دیں
اگر آپ نے خود کام لگوایا ہوا تو آج کے دن مزدور کو چھٹی کرا دیں
آپ کے گھر آئی ملازمہ جو سارا سال آپ کے لئے کام کرتی آج اس کو بیھٹنے دیں اس کے کام خود کریں
آپ کے باورچی جو آپ کے لئے کھانا بناتے ہیں آج آپ ان کو بنا کر کھلائیں
گھر سے باہر کسی مزدور کو مشقت کرتے دیکھیں تو اس کا ہاتھ بٹائیں 

یہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹا کر کسی اللہ کے بندے کے کام آ کر آپ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور میرے وطن کے مزدور بھی اس روز کی آمد سے فیض یاب ہو پائیں گے.. 

Zil-e-Huma
Mission Holder, Positive Pakistan

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

HayMarket Tragedy کو دنیا بھر میں یوم مزدور کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔  آج دنیا بھر میں عام طور پر کام کے اوقات 8 گھنٹےتصور کئے جاتے ہیں۔ اور یہ اوقات ایک قانون کی صورت اختیار کر چکے ہیں لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا یہ عالمی تعطیل شکاگو کے ان مزدوروں کی یاد میں منائی جاتی ہے جن کو صرف اس جرم  کی  پاداش میں لقمہ اجل بنادیا گیا تھا کہ انھوں نے غیرمنصفانہ اوقات کار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ 
شکاگو کے ان چند سو مزدوروں کی قربانی کے نتیجے میں امریکہ اور پھر یورپ اوربتدریج پوری دنیا میں کام کے اوقات 8 گھنٹے تک محدود کئے گئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس قانون کی تشکیل اور عملدرآمد کے لئے کئی سو انسانوں کولقمہ اجل بنانے کے بعد یہ قانون سازی کی گئی۔ تاریخ پر نظر دوڑانے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جان بالخصوص بندہ مزدور کی جان ہمیشہ سے ہی نہایت ازاں تصور کی جاتی رہی ہے۔
افسوس صد افسوس کہ مغرب میں تو مزدور کی اجرت اور تکریم دور حاضرمیں قدرے بہتر ہے لیکن وہ پاکستان جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا عملی نمونہ ہونا چاہئے تھا آج وہاں مزدور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آج پاکستان میں ایک مزدور کی آمدن اتنی ہےکہ وہ مکان کا کرایہ اور گھر کا راشن بھی خریدنےکی قؤت نہیں رکھتا۔ بچوں کو اعلی تعلیم دلوانا تو کجاایک مزدور پرائمری سکول میں بھی داخل ہوتے ہوئےلرز اٹھتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ایک غریب باپ کا بیٹا غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے باوجود عزت کے  ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے خواب دیکھتا ہے۔ اور ایک مزدور کی بیٹی اس لئے سخت سردی میں ننگے پاؤں سکول کے گراؤنڈ میں کھڑی ساتھی طالبات سے نظریں چراتی ہے کہ اس کا باپ اس کی سکول کی فیس  بروقت جمع نہیں کروا سکا۔
اورایک مزدور آج بھی صرف ایک دن کام نہ ملنے پر اپنے بچوں کو بھوکا سلانے پر مجبور ہوتا ہے۔    
میں خون بیچ کے روٹی خریدلایا ہوں
امیرشہر بتا یہ حلال ہے کہ نہیں۔۔۔۔
آج مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں مزدور یونین مزدوروں کے حقوق کی محافظ سمجھی جاتی ہیں لیکن  یہ یونینز بھی صرف ووٹ لینے کے لئے پیش پیش ہوتی ہیں مگر جیسے ہی انتخابات  کا دور ختم ہوتا ہے ان یونینز کے عہدیدار بھی ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتےہیں۔  اور پھر 4 یا 5 سال بعد اگلے الیکشن کے موقع پر نظر آتے ہیں یا پھر اگر خدانخواستہ کوئی مزدور انتقال کر جائے تو اس کے پسماندگان کو دو یا ڈھائی لاکھ روپے اس کے گھر پر کفن دفن کے اخراجات کا کہہ کر دینے آجاتے  ہیں اور ساتھ میں وفات پاجانے والے مزدور کے بیٹے کو نوکری بھی دلوا دی جاتی ہے جو دراصل مستقبل میں آنے والے تمام الیکشنز میں ووٹ کی پیشگی قیمت سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔۔
غرضیکہ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات۔۔۔
سید فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Wednesday, 2 May 2018

Celebrating Labor day: (Heroes of Everyday)

Contributed by: Saadia Khalid
Labor Day is an annual day off to celebrate the achievements of laborer worldwide. The community of laborers are the most respectable and dignified community of the world and they strongly believed that economic and social sector cannot progress without them.


Unfortunately, the struggles, problems and issues of Laborers in Pakistan receive little attention. This issue is not glamorous enough for the mass media to be highlighted and nor does it drive up ratings. All the political parties are having their own agenda and busy in degrading each other rather than coming up with policies to ease the burden of laborers community. In all fairness, a country in the middle of a battle against violent religious extremism and facing issues like low quality of education and health sector has other priorities. The fact that this Labor Day will be observed like every other public holiday is a sad reflection of our society where everyone is busy in making their lives luxurious and joyous.  


Still with little hope for humanity in our country, some organizations are working for spreading happiness and smiles among deprived ones without any gain.  With this enthusiasm and aim for true happiness, Positive Pakistan Welfare Wing of Lahore Chapter has celebrated the labor day with laborers working at Orange Train Line and pay tribute to their endless struggle and hard work to face the challenges of this harsh world.



When the burning sun is on peak of its revenge in month of May, Lahore team has reached the orange train line construction site in afternoon time to distribute packs of chilled juices, water and biscuits among laborers.  Our team believed that a small positive deed has power to change the world and no matter how small effort is, it can change someone day or life drastically. Similarly, while distributing juices and food, laborers feel pleased that people do care and they come to spend their precious time with them. This small contribution from our side for laborers has definitely give them motivation to work for positivity and source of inspiration for others and their smiles and polite gestures are evidence of this.



Being Muslims, we need to understand that Labor has got lot of importance in Islam. In a Hadith, Holy Prophet (SAW) said “The Labor is the friend of God” it shows that how much importance Islam is giving to the Labor. Holy Prophet (Peace be upon him) worked with his own hands. He loved to work with his own hands for himself and for others as well. Islam is against the exploitation of workers. It is in favor of giving wages according to Labor done. Holy Prophet (Peace be upon him) said “Give wages to Laborer before his sweat is dried”. Islam also emphasis for lawful earning. And the lawful earning in the eyes of Islam is that which is earned by the hard work, the person who earns his livelihood with Labor of his own is righteous person and rightness person is honorable before Allah almighty. So, it is high time to realize that we should not consider laborers as low class or should not hate them as Labor struggle and rights are critical elements in a society that aspires to move forward, and on this Labor Day, it is pivotal that we remember their sacrifices.




Monday, 30 April 2018

The Day We Finally Chanted For The Tireless Soul

Contributed by: Rummana Basit Mir


There are 365 days in a year, many of them are celebrated for a particular reason. 1st May is officially celebrated as The Labor day in Pakistan. It was officially acknowledged in 1972. This day is celebrated in the appreciation of the labor, his efforts and hard work that truly is the backbone for the development of a country’s economy. In fact, without this diligent labor, a country can’t prosper. In Pakistan, this day is a national holiday in all the sectors and many seminars are conducted to recognize the efforts of the laborers in the meantime looking for the ways to give them a better lifestyle.




Perceiving from the above discussion, some questions are to be answered practically:

  • Why is the laborer doing his labor even on the Labor day?
  • Why in a well organized seminars, any of the laborer is hard to see?
  • Why the lifestyle of a laborer is still wretched when the whole day is celebrated to acknowledge these great men’s efforts?

In addition, why do we really celebrate this day _ This Holiday?


These questions can be answered if only the ice around our hearts is finally melted.
Above board, isn’t it ironic that the labor in our country is living under the poverty level. The price of his whole day’s diligent work is not even worth a drop of his sweat. We all are very much aware of the Prophet Muhammad’s (PBUH) saying that “Pay the worker his wages before his sweat has dried” How many of us follow this teaching of our beloved Prophet? It breaks my heart to say that very few of us do. It is such a piteous fact that families of the workmen yearn for proper food and reliable shelter. Moreover, most brutally, the child of a laborer is born a laborer without any bright future. We don’t have the answer for the laborer’s family when one has silently disappeared under a mine and has never come back home.



The labor day is celebrated to respect the laborers and to give them their rights. It is clear to see how oblivious a laborer is of his rights when the whole nation is enjoying a holiday in their name while they do their day jobs.


We always accuse the government for it’s inaptness. Although it is important that the government should pay attention to this matter but where are we standing? And what are our responsibilities? What we really do on this day is to serve laborers with our empty words and hollow slogans; but let’s not this time, let us come out and hold a laborer’s hand, give him his daily wage and bring him to that session in which his rights are being declared. Make him aware of his rights so that he  could stand for them for the rest of his days. Let us kindle the light of hope on this day as we do need to remember “ This holiday has been brought to you by the blood, sweat and tears of the Labor Movement.”

Labour Day and its Importance

Contributed by: Fathima Ajmin Ali

Labour Day is a public holiday in Pakistan which is annually held on 1st May and it’s also known as May Day. Labourers and workers are the real heroes of every Nation. Labour Day are observed in most of the countries including Pakistan to recognize workers accomplishment and encourage social rights. Labour Day is patent by marches, rallies and employees.So labourers marches across Pakistan arrange seminars and rallies in which rallies leaders delivers speeches stress the importance of the Labour Day and the rights of the Labourers. The entire day pass by voices of the people and showing their slogans. Reported by timeanddate.com that Pakistan first Labour Policy was devised in 1972, in which May 1 was declared an official holiday. This policy was then formulated the creation of the Social Security Network, Old Age Benefit Schemes and Workers Welfare Fund. And it also reported by The Nation that Pakistan also became a member of the (ILO) right after its independence in 1947.The problem of Laborers can’t be resolved only by celebrating this day unless if measures are taken for their basic human rights, wellbeing and schooling conveniences.As we know there are millions of people who work in fields and workshops but they are not registered with any institution.And at last the rich enjoy the benefit of their labour. Most people also spend this holiday in games, sleep and other enjoyment but forgetting the rights of the Labourers and most importantly the Child labourers whose foremost need is education. So as a honest citizen of our country we must speak for Labours rights as to have a prosperous nation because we can only have a better nation only by the hard work of our Labours. As the quote of the greatest people say “Come forward as servants of Islam, organize the people economically, socially, educationally and politically and I am sure that you will be a power that will be accepted by everybody”
“Labour is the superior of  capital, and deserves much the higher consideration” by Abraham Lincoln”.

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...