Showing posts with label Rabia Latif. Show all posts
Showing posts with label Rabia Latif. Show all posts

Tuesday, 18 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 8

آخری قسط (8)
جب سب بیٹھ چکے تو شهباز بھائی کو محسوس هوا که کوئی انهیں اپنی جیپ میں جگه نهیں دے گا لهٰزا وه هماری جیپ میں آن دھمکے. اور پھر انعم اپنے دکھتے سر اور باقی اپنی دکھتی رگوں سے نیچے کی طرف اترنے لگے. دھول سے سانس اٹکنے لگا تو ڈرائیور نے فرنٹ سیٹ کا پرده اٹھا دیا جهاں سے آتی مٹی شهباز بھائی کے نورانی چهرے کے لئے هانی کارک تھی جس سے وه بیچارے جیکٹ کے پروں میں اپنا منه چھپانے میں مصروف هوگئے اور کیوائی پهنچ کر اپنا رخ مبارک باهر نکالا. 
یهاں کچھ دیر قیام هوا تو سب کی 3 دن سے سوئی هوئی موبائیلی حِس جاگ اٹھی اور سوئچ بورڈ پر لگے چارجر کسی گرڈ اسٹیشن کا منظر پیش کرنے لگے. سب کے موبائلوں میں روح پھونک دی گئی تو هم اسلام آباد کی طرف روانه هوئے. 
بس میں بیٹھتے هی نیره نور کے بچپن کے گانے بجنے لگے جن کے فوسلز نصف صدی پهلے هونے والی شادیوں کی وڈیو میں سهرا بندی اور رخصتی پر هی ملتے هیں. هم بھی اسی اندازے سے ولید بھائی کی مستقبل بعید میں هونے والی شادی کی وڈیو میں گانے فٹ کرنے لگے جس کے هر سین میں ولید صاحب کے سر پر سنهری لڑیوں کا کُلاه اور منه پر رومال تھا. 
اور اسی شغل میں هم نے سفر تمام کیا. لیکن ان پچھلے تین دن میں جو خاص خاص مشاهده هوا ، وه درج ﺫیل هے. 
1: عثمان رضا کے مطابق فیش واش سے بھی سر دھویا جا سکتا هے. 
2: شهباز ارشاد وه واحد شخص هیں جنهوں نے اپنا سب سے زیاده خیال رکھا. فیش واش کو دیکھ کر اُن کا چهره نورانی هونے لگتا هے جسے مزید نور بخشنے کے لئے کوشش کرنے لگتے. اس کے پیچھے وجه ان کی هونے والی شادی تھی جو انهوں نے اپنے منه کو زمانے کے سردوگرم سے بچائے رکھا. 
3: اپنے کیمرے سے سب سے زیاده اپنی تصویریں بنانے کا ریکارڈ چھوٹو کو جاتا هے جن کے سر کا تو نهیں پتا مگر کان پر جوں تک نه رینگی که اُن کے ساتھ باقی حضرات بھی موجود هیں جو تصویر بنوانے کا انتظار کر رهے هیں. 
4: سپیکر پر جس لا پته شخص کا سب سے زیاده نام پکارا گیا، وه انیق الرحمان هیں. کیونکه یه هر دو منٹ کے بعد عادتاً منظر سے غائب هو جاتے تھے. 
5: سردی کو روکنے کے لیے اپنے گھر سے کمبل بھی لایا جا سکتا تھا اور گندا کیا جا سکتا تھا.
ختم شُد
نوٹ: مزید ابھی یاد نهیں رها
رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد) 

Monday, 17 September 2018

سفر نامہ: الوندی4 - قسط نمبر 7

قسط نمبر 7
جیسے جیسے شام کے سائے گہرے اور ہم گیلے پڑنے لگے، ویسے ویسے سب ایک هی بات پر دانت کچکچانے لگے که ایک اور خنک رات همیں گیلے بستروں پر گزارنی هو گی. لیکن آگ جل چکی تھی جس کے گرد کچھ لوگ گھر سے لائے گئے صاف اور سرخ کمبل میں ملبوس اُسے گندا کرنے میں مصروف تھے اور کچھ دوپٹوں میں منه لپیٹے سردی روکنے کی ناکام ترین کوشش کر رهے تھے.  باسط صاحب اور ولید بھائی نے سب کا دهیان بٹایا اور ایک کامیاب سیشن کروایا جس کے بعد هر گروپ کے ایک کم گو فرد کو 2 منٹ بولنے کا موقع دیا گیا. هماری چیف کو شاید غلط فهمی هوئی که هم کم گو واقع هوئے هیں لهٰزا همیں 2 منٹ کے لئے نامزد کیا گیا. جن میں سے ڈیڑھ منٹ هم نے کانپنے کی کوشش میں گزار دئیے.
اس رات کے کھانے میں سب سے زیاده حیران کن بات سویٹ ڈش کا ملنا تھا. جس کی توقع کم از کم پائے کی اس چوٹی پر نهیں کی جا سکتی تھی. لیکن اس کے لیے میرا اور بیلا کا لیاقت بھائی کو باجماعت شکریه. 
آخری سیشن میں مشاعره منعقد کیا گیا جس میں هر شعر کا ایک یخ ٹھنڈا جواب صرف اور صرف عثمان رضا کے پاس تھا لیکن اپنی نوعیت کا یه ایک منفرد مشاعره تھا جس میں عوام الناس کی بجائے صرف چٹانیں همه تن گوش تھیں. خیر...!!
جب رات ڈھل چکی تو سب اپنے اپنے بستروں میں ٹھٹھرنے چل پڑے اور صرف اس بات سے خود کو حوصله دیتے رهے که یه آخری رات هے، هم کل صبح کوچ کر جائیں گے.
اسی حوصلے سے فجر ادا کی اور خیمے سے سر باهر نکالا تو بارش شروع هو چکی تھی اور ایک دفعه پھر هماری چھتری کے گمنے کا زخم هرا هو گیا. اس کے بدلے میں همیں ایک سیاه رنگ کا چھاتا تھما دیا گیا مگر وه بھی صرف 1 گھنٹه همارے پاس مهمان رها اور نهیں معلوم کس کے پاس چل بسا. مگر شکر که سورج نے اپنی شکل دکھائی اور هم بھی بیٹھ کر سر زاهد کا لیکچر سننے لگے. اسی اثنامیں دوپهر هو گئی. 
جلدی سے کھانا کھایا اور اسی دوران تمام جیپیں همیں لینے پهنچ چکی تھیں. تمام خیمے لپیٹ دئیے گئے تھے اور هم بھی سامان لپیٹ کر قهوٰه پینے لگے. جس کے بعد سرٹیفیکیٹ اور انعامات تقسیم کئے گئے اور جگه کی صفائی ستھرائی کا اهتمام کیا گیا. جب سب لوگ جیپوں میں لوڈ هونے لگے تو هم بھی اپنی سرخ جیپ پر قبضه جمانے چل دئیے. 
(جاری هے)

رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Sunday, 16 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 6

قسط نمبر 6
پهاڑی بکریوں کا ریوڑ چراتا هوا بچه آسانی سے قلانچیں بھر رها تھا جیسے هم میدانوں میں گاڑیاں دوڑاتے هیں. پر هم جیسوں کے لئےبلندی جتنی قریب آتی جا رهی تھی، حوصلے اتنا هی ناراض هونے لگے تھے مگر هم نے وهاں موجود ٹاپ و ٹاپ بھاگتے گھوڑوں سے کچھ همت پکڑی اور دوباره چلنے لگے. اور یوں هی هڈیاں چٹخاتے واپس آگئے. 
واپسی پر ناشته دیکھ کر کچھ اوسان بحال هوئے مگر یه کیا؟ برف باری نے اپنا ایک چھوٹا سا نشان هماری چائے میں چھوڑ دیا تھا اور یوں هم نے 13000 فٹ کی بلندی پر ٹی کے بجائے آئس ٹی سے ناشته کیا. 
اس کے بعد سیشنز کا آغاز هوا جن کے اختتام پر همارے بچھڑے هوئے موبائل همیں واپس کر دئیے گئے. دوپهر کے کھانے میں سب سے عجیب چیز یه تھی که ایک عدد کیمره حد سے زیاده کھلے هوئے منه کی تلاش میں گھوم پھر رها تھا. بعد ازاں اُس کیمرے کے پیچھے سے ایک عدد چھوٹو کو برآمد کر لیا گیا. اس کے بعد پورا دن اسی احساس میں شام هو گئی که "خبر دار !! کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رهی هے."
(جاری هے.)
رابعه لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Thursday, 13 September 2018

سفر نامہ: الوندی 4 - قسط نمبر 5

قسط نمبر 5
ﺫرا سی آنکھ کروٹ بدلنے پر کھلی تو سب سے پهلی کان پڑی آواز اﺫان کی تھی.  فجر کا وقت هو چکا تھا. هم بھی جلدی سے منه سر لپیٹ کر اٹھے اور منه هاتھ دھونے باهر چل دیئے جهاں پانی کا عارضی انتظام کیاگیا تھا. مگر شومئی قسمت که دور سے دیکھا تو بوتل سے نکلتی پانی کی دھار بالکل بجلی کی ننگی تار جیسی تھی تو اِس کا مطلب پاس جانے کا سوال هی پیدا نهیں هوتاتھا.  هم تو بیلا سے هاتھ چھڑا کر توبه توبه کرتے خیمے میں داخل هوئے. Wipes سے منه دھونے کی رسم ادا کی. وه بھی اس لئے که همارے هاں منه دھونے کا رواج پایا جاتا هے ورنه ایسی صورتحال میں همارے لیے تو یه ایک فیشن هی تھا. خیر تَیَمُّمْ کیا اور بستر پر هی نماز ادا کی. 
باهر نکلے تو موسم کی پهلی برفباری کے آثار موجود تھے. ایک طرف آگ جل رهی تھی اور قریب هی سر باسط قرآن کا درس دے رهے تھے. کچھ دیر بعد نقاره بجنے لگا اور سب کو میدان میں جمع کیا گیا. هائیکنگ پر جانے سے پهلے گروپس بنائے گئے اور اعلان یه هوا که سب اپنے فون گروپ لیڈر کو جمع کروا دیں. هائیں... !! یه کیا؟  تصویریں کیسے بنائیں گے؟ مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا هے. اور یقین کیجئیے حفصه کو موبائل دیتے هوئے همارے هاتھوں میں واضع لرزش تھی جو آج بھی محسوس کی جا سکتی هے. خیر هم چار و نا چار بغیر موبائل کے هی مکڑا پهاڑ کی طرف روانه هوئے. ذرا سا آگے ایک پانی کا ﺫخیره اور ڈراؤنی سی کوٹھڑی دکھائی دی. بعد ازاں معلوم پڑا که وه ڈراؤنی کوٹھری کسی مؤﺫن کی اﺫان کو ترستی ایک مسجد هے. هم نے کچھ دیر یهاں ڈیره لگایا. کیپٹن عماد نے ایک دائره بنا کر سب کی ورزش کروائی اور پھر سب کا تعارف کوهساروں کی نظر کیا گیا. اِس دوران ایک ڈرون کیمره همارا هوائی طواف کرتا رها اور هم بھی آنکھ کے زندان میں خدا کی قدرت کو قید کرتے آگے بڑهنے لگے. 
جاری ہے... 

رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد) 

Tuesday, 11 September 2018

سفرنامہ: الوندی4 - قسط نمبر 4

قسط نمبر 4
ابھی شورو غل جاری تھا که اچانک جیپ رک گئی. پتا چلا که هم اپنی منزل پر پهنچ گئے هیں. فوراً نعرے لگاتے جیپ سے اترنے لگے. سامان کے ساتھ ساتھ نگاه اٹھائی تو بس دیکھتے هی ره گئے.
اِس بلندی پر چاندنی رات میں روشن کیمپس کا ایک دائره اور اس کے درمیان جلتا آگ کا الاؤ اور باربی کیو کرتے هوئے معصوم سے لوگ... اتنا مکمل اور مبهوط کر دینے والا منظر تھا که ساری تھکان غائب هوگئی. خیر...! جلدی سے خیموں میں گھسے اور سامان ٹھکانے لگایا، مگر یه کیا...؟ هماری چھتری کهاں گئی؟.  بتھیرا ادھر اُدھر دیکھا، سب سے پوچھ لیا مگر شاید وه جیپ میں هی ره گئی تھی. صبر کے گھونٹ بھرے اور چپ کر کے آگ سینکنے لگے.
کچھ دیر بعد جب سب جمع هو چکے تو فارن پالیسی کی گرما گرم بحث چھڑ گئی جس کا آغاز عثمان بھائی اور کوریج مخدوم شهاب الدین نے کی. محفل کے برخاست هوتے هی درسترخوان لگایا گیا. مزیدار کھانے کے بعد لاهوریوں اور فیصل آبادیوں کے مابین جگتوں کا مقابله هوا. تقریباً آدھی رات بیت چکی تو اپنی نوعیت کے اِس بون فائر کا اختتام هوا اور سب اپنے اپنے خیموں میں چل دئیے. شدید ٹھنڈے اور اوس سے بھیگے بستروں پر قدم رکھتے هی هم تو ایسے بدکے جیسے کوئی غلطی سے موبائل کا فرنٹ کیمره کھول بیٹھے. مگر آل تُو جلال تُو کا ورد کرتے صبح کا انتظار کرنے لگے. ﺫرا سی آنکھ لگی بھی تو ﺫهن اِسی بات میں اُلجھا هوا تھا که "آخری دفعه میری چھتری کس کے پاس تھی بھلا؟" ...
جاری ہے... 

رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

سفرنامہ: الوندی4 - قسط نمبر 3

قسط نمبر 3
تھوڑی دیر بعد رنگ برنگی جیپوں کی ایک پیاری سی لائن لگ گئی. هم بھی ایک سرخ چمچماتی جیپ میں بھر دئیے گئے. جس کی کھڑکیاں تو کیا کھڑکیوں کے پردے تک ندارد تھے. حنا آپی اپنے مُنے اور فیملی کے ساتھ صفِ اول میں بیٹھ گئیں (فیملی صاحب کا نام یاد نهیں). کچھ دیر بعد شهباز بھائی بھی کسی ناگهانی آفت کی طرح نازل هوئے مگر انهیں بھی کسی نه کسی طرح فِٹ کر لیا گیا. مگر انهیں دیکھ کر مُنے نے جو رونا شروع کیا...که چپ هونے میں نه آیا. پته نهیں کیوں؟؟...
ڈرائیور نے اندھیرے میں اندھا دھند فائرنگ... میرا مطلب ڈرائیونگ شروع کر دی تھی. کناروں پر بیٹھنے والی معصوم عوام هر جھٹکے پر "هائے، اوئی، آؤچ" کا سائرن بجاتی رهی مگر ڈرائیور انکل پر اس کا مطلق اثر نه هوا. ﺫرا آگے آئے توLeopard Zone کا بورڈ دکھائی دیا. انعم نے چلتی گاڑی سے بھی کئی جھاڑیوں کو هلتے هوئے دیکھ لیا تھا. سب نے کم از کم ایک دفعه Leopard کی آمد کو محسوس کیا. اچانک ثنا کی چیخ بلند هوئی اورساتھ هی وه شمائیله کی گود میں آگری.  اُس کے مطابق شاید کوئی شیر جیپ کا راسته کاٹ گیا تھا. فوراً ﺫهن میں خیال آیا که یه جانور بندوں کونهیں بلکه بندروں کو کھانا زیاده پسند کرتا هے. تو همیں اپنی چھوڑ دوسروں کی فکر پڑ گئی. انعم نے واکی ٹاکی پر فوراً چھوٹُو کو اطلاع کی اور اُسے باهر لٹکنے سے خبر دار کیا. 
مزید آگےگئے تو باربی کیو زون شروع هو گیا. ﺫرا حوصله هوا اور اپنی اپنی نشستوں پر واپس ٹک گئے. کچھ دیر بعد ایک خوبصورت سے ریسٹ هاؤس کے باهر جیپ رکی. خوشی کے مارے آدھے باهر هی لٹک پڑے که شائید همارا پڑاؤ اِس شاندار جگه پر هے. مگر 5 منٹ کی خوشی کے بعد اطلاع ملی که آگے چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی اینٹری هو رهی هے اِسلئیے احتیاطاً یهاں رهنے کی خوش فهمی سے باهر نکل آئیں کیونکه همارا انتظام پائے کے پهاڑوں پر هو چکا تھا. منه بسور کر چپ هو رهے که "تو شاهیں هے بسیرا کر پهاڑوں کی چٹانوں پر". باقی تمام سفر چپ چاپ بیٹھ کر بجتے دانتوں کا لطف لیتے رهے. شهباز بھائی مسلسل منه پر کپڑا جمائے بیٹھے تھے.  کیونکه جیسے هی آنچل سَرکتا، مُنا رونا شروع کر دیتا تھا.  پته نهیں کیوں... ؟؟؟
جاری ہے... 

رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Monday, 10 September 2018

سفر نامہ: الوندی4 - قسط نمبر 2

قسط نمبر 2
ابھی سوئے هی تھے که هلکے جھٹکوں اور کھٹکوں سے آنکھ کھل گئی. موبائل کے لئے ادھر اُدھر هاتھ مارا تو یاد آیا وه تو چارجنگ پر لگایا تھا. سوچا، چلو!  100 فیصد چارج هو گیا هو گا. خوشی خوشی دیکھا تو وه 19 فیصد پر زندگی کی آخری سانسیں لے رها تھا. اصل صدمه تو یه تھا که پیچھے سے سوئچ هی بند تھا 😵 .  خیر صبر کا کلمه پڑهتے چپ چاپ تیار هو کر باهر نکلے. ایک دیسی بس کلچر کا ثبوت اور آملیٹ رنگ کی ایک بس سِری پائے جانے کو تیار کھڑی تھی. جلدی جلدی سب لڑکیوں کو اُس میں فِٹ کیا اور سفر شروع کیا گیا.
اِس دفعه حالت غیر هونے سے پهلے هی هم سٹیٹس دے چکے تھے، سو طبیعت بحال رهی. کچھ دیر بعد گاڑی ایک پٹرول پمپ په رکی. هم نے بھی خود کو هوا لگوائی اور دوباره گاڑی میں سوار هو گئے. گھنٹه بھر تو چپ رهے که شائید یهاں ناشتے کا رواج نهیں پایا جاتا، مگر اُس کے بعد تقریری جوش  چڑها هی تھا که: صدرِ عالی وقار!  بھوک تهزیب کے آداب بھلا دیتی هے مگر اِس سے پهلے که هماری گُل افشانی آگے بڑهتی، بس کو ناشتے کے اعلان کے ساتھ روک دیا گیا. 
پھر حویلیاں، ایبٹ آباد اور مختلف جگهوں سے هوتے، اترتے چڑهتے اور مختلف مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرتے بالاکوٹ جا کر دم لیا.  ٹین سے بنے گھروں کو دیکھتے دیکھتے ایک دم احساس هوا که ارے!  هم تو دریائے کنهار کے پُل پر کھڑے هیں جسے دیکھنے کے مارے شوق کے گاڑی سے تقریباً آدھے باهر هی لٹک گئے مگر بیلا نے همیں فوراً اندر کھینچ لیا اور هم آگے کی طرف روانه هوئے. 
اگلا پڑاؤ کیوائی تھا. ایک ریسٹ هاؤس نما جگه پر هم اُس آملیٹ... اوه!  میرا مطلب هے اپنی زرد بس سے باهر نکلے اور ایک کمرے کی جانب بڑهے. ایک دم دور سے دیکھا تو الیکٹریسٹی بورڈ کا گُماں گزرا. هجوم کو چیرتے جلدی سے وهاں پهنچے اور اُسے چھو کر دیکھا تو وه واقعی سوئچ تھا. هم تو مارے خوشی کے اُسے دیکھتے هی ره گئے مگر بیلا نے فوراً چٹکی کاٹی اور بولی: "اِس کی پوجا کرنا بند کرو اور فون چارجنگ پر لگاؤ"🔌.  خدا کا شکر ادا کرنے کو آسمان کی جانب هاتھ اٹھائے اور اوپر دیکھا تو پنکھا بند تھا. تب جا کر احساس هوا که ارئے! همیں گرمی کیوں نهیں لگ رهی 😂. انعم سے ﺫکر کیا تو کهنے لگی، "پاگل!  یه ٹھنڈا علاقه هے". کپکپانے کی ایکٹنگ شروع کرنے هی لگے تھے که مردان خانے سے کھانے کا بلاوا آگیا جهاں اعلان کیا گیا که تاریکی کی وجه سے هائیکنگ کی بجائے آگے کا سفر جیپ پر کیا جائے گا.  هم نے بھی جلدی سے زادِ راه کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر کیا اور جیپ کا انتظار کرنے لگے. 
جاری هے... 
رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)

سفر نامہ: الوندی4 - قسط نمبر 1

قسط نمبر 1
کچھ دنوں سے جب بھی وٹس ایپ چلاتے تو ولید بھائی یا چھوٹُو میں سے کسی ایک کا الوندی کے لئے میسج آیا ہوتا. گھنٹوں تصویر کو دیکھ دیکھ کے آل اِز ویل کا ورد کرتے رہے. مگر اندرونِ دل ہولتا رہا کہ کب کلاسز شروع هوں، هم فیصل آباد آئیں اور ایک سال سے پازیٹو پاکستان کے ساتھ التوا میں پڑے رشتے کو اس ٹُور سے دوباره استوار کیا جائے. 
بھلا هو جامعه زرعیه کا که روانگی سے تین دن قبل کلاسز شروع کر دیں اور یوں آوارگی کی کچھ صورت نظر آئی.
روانگی سے 10 منٹ قبل کیمپس سے واپس آئے، بیگ سے رجسٹر نکالا، کوٹ اندر ٹھونسا اور بیلا کے ساتھ چھتری ٹیکتے هوئے براسته الطیبه آئس بار بس اسٹیشن پهنچے. تمام احباب سے ملاقات هوئی. کچھ نئے چهرے بھی دیکھنے کو ملے جن کا تفصیلی تعارف شهباز ارشاد نے گاڑی میں بٹھا کر الوهاب مائیک سے کروایا جو وضع قطع سے کسی عروسی لباس سے مشابه تھا. اس کی خاصیت یه تھی که اس پر خالص زرّی اور تِلّے کا کام کیا گیا تھا. بعد ازاں اِسی مائیک سے سب کا نام یاد کروانے کی رسم ادا کی گئی. جس کا فائده یه هوا که کسی کو اوئے کہہ کے بلانے کی بجائے اس کے نام سے پکارنے لگے. 
سفر میں یونهی بیٹھے بیٹھے احساس هوا که جی کچھ خراب سا هے. اچانک سر چکرانے لگا. دھڑکن تیز سے تیز تر هونے لگی. جب اچھی خاصی موت پڑنے لگی تو اچانک ڈوبتے هوئے دل نے صدا لگائی که ارے بھئی تم نے ابھی ٹریولنگ ٹو اسلام آباد کا سٹیٹس نهیں لگایا. جلدی سے سٹیٹس دیا تو کهیں جا کر طبیعت بحال هوئی اور هم کچھ سیدھے هو کر بیٹھے اور چیونگم چباتے هوئے اسلام آباد پهنچے. حفصه اور ثمینه نے پیارے پیارے بستروں کے ساتھ همارا استقبال کیا جن پر هم فوراً لم لیٹ هوگئے. مگر اس مدهوشی میں بھی فون چارجنگ پر لگانا نه بھولے. یه الگ بات هے که سوئچ کا بٹن دبانا یاد نه رها تھا. 
 جاری ہے...

رابعہ لطیف
(مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان فیصل آباد)
https://www.facebook.com/events/2160008324228814/

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...