Showing posts with label Tafseer Abbas. Show all posts
Showing posts with label Tafseer Abbas. Show all posts

Thursday, 17 January 2019

سائیڈ رول

 دیکھی جانے والی فلموں میں ہمیں ہیرو کی مکمل کہانی دکھائی جاتی ہے اور سائیڈ رولز کی زندگی بہت ہی مختصر کر کے دکھائی جاتی ہے اور ہمیں بھی یہی لگتا ہے کہ  تمام تر پریشانیاں، نئے تجربات، نئے مواقع، ناکام ہوجانے کے بعد ایک بہت بڑی کامیابی، ایک اچھی  ہمسفر کا ملنا، اسکی ازدواجی زندگی میں دھوکا ہونا اور تمام تر نشاط افزاء لمحات صرف ہیرو کی ہی زندگی میں آ سکتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے دن کا بیشتر حصہ سیاسی لیڈرز کے متعلق بات کرنے میں گزار دیتے ہیں اور انکی زندگیوں کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ خود کو بے وقعت جاننے لگتے ہیں۔ اور اسکا لاشعوری اثر ہماری حقیقی زندگی پہ کس طرح پڑتا ہے ہم اسکو کبھی ملحوظِ خاطر ہی نہیں لاتے۔
ہمارے دوستوں میں بھی ایک ایسا دوست موجود ہوتا ہے۔ جسے ہم اپنی کہانی کا سائیڈ رول تصور کرتے ہیں۔ اور    جسے ہم سائیڈ رول تصو ر کررہے ہوتے ہیں آگے اسکی بھی ایک مکمل  کہانی ہوتی ہے۔ اور اُسکی کہانی میں بھی ایک سائیڈ رول موجود ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ بتدریج یونہی جاری و ساری رہتا ہے۔
چونکہ اپنی کہانی میں ہیرو ہم خود ہوتے ہیں اس لئے ہمیں کوئی دوسرا ہیرو مل ہی نہیں پاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے سب سائیڈ رول میں ہی چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب  اس کا اثر کیا ہوتا ہے کہ ہم خود کو خود کے تصور کیے ہوئے اونچے مقام پہ رکھ لیتے ہیں اور خود کو باقی سب سے جدا بھی تصور کرنے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں خود کے علاوہ کسی کی بیماری و پریشانی نہ محسوس ہوتی ہے اور نہ نظر آتی ہے۔ آپ اور میں جب سرکاری ہسپتال جاتے ہیں اور اُدھر جا بجا مریض پڑے نظر آتے ہیں تو ہم انکو دیکھ کر ڈر تو ضرور جاتے ہیں۔ مگر کچھ چھُپی ہوئی سی بیزاری بھی محسوس ہوتی ہے۔
ایسا اس لئے ہے کہ ہم خود کو کسی اور دنیا کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ جو بیمار لوگ ہیں انکا کام ہی بیمار ہونا ہے اور یہ اسی وجہ سے یہاں موجود ہیں۔ شاید ہم انہیں ایک  الگ ڈیپارٹمنٹ کے لوگ تصور کر لیتے ہیں جو بیمار ہونے کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔
ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ تب بھی ہوتا ہے جب ہم  کچھ بھیک مانگنے والوں کو سڑک کی سائیڈ پہ بیٹھا دیکھتے ہیں۔ کیا اُنکو دیکھ کر بھی تو ہمیں یہی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ لوگ بھیک مانگنے کیلئے ہی بنے ہیں۔
یارو! مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے کوئی بھی ہمیشہ بھیک مانگنے یا بیمار ہونے کے لئے نہیں بنا ہے۔ یقین مان لو اُسکے پاس ایسی کوئی سند نہیں ہے۔ ہم میں سے ہی لوگ اپنی اپنی باری پہ بیمار ہو کر ہسپتال پہنچتے ہیں۔ اور ہم میں سے ہی کچھ لوگ روڈ پر بھیک مانگتے پائے جاتے ہیں۔ اور یقین  ہمیں تب آتا ہے جب ہم خود اپنی ٹوٹی ٹانگ لیکر اسی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں جدھر ہمیں خود کے علاوہ سب مریض نظر آتے تھے۔ اور جب ہم ایک تجربے سے گزر جاتے ہیں تو پھر ہم پہ حقیقت عیاں ہوتی ہے ۔ اور پھر وہ حقیقت ہم دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر افسوس  کوئی آپکو سننا ہی نہیں چاہتا اور جب اس شخص پہ بھی وہ حقیقت کھل جاتی ہے تو وہ بھی آپکی صف میں آجاتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ تجربے کا ہے کیونکہ آپ اور میں کسی کی ٹھوکر سے تو سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ مگر جب تک خود اس ٹھوکر سے مستفید نہ ہو جائیں۔
ایک آنکھوں دیکھا  قصہ آ پکو سنانا چاہوں گا۔ میرے بڑے بھائی صاحب جنکا بزنس اسلام آباد کے ایک بڑے ہی خوبصورت علاقے ایف ٹن مرکز میں تھا۔ اسلام آباد جیسا کہ خود بھی خوبصورت اور  اداؤں والا شہر ہے تو وہاں پہ زیادہ ترلوگ بھی کچھ اسی طرز کے آتے ہیں۔ جن کیلئے عام لوگوں سے بات کرنا یا انکو انسان سمجھنا ذرا مشکل سا کام ہوتا ہے۔ میں سب کی نہیں کچھ قیمتی اور مہنگے لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔ میرے پاس میرے  کچھ قمیض تھے اور میں انکی آلٹر کروانے کی غرض سے ایک ایسی مارکیٹ میں اترا جو بیسمنٹ میں بنی ہوئی تھی۔ وہاں تقریباََ ہر دکان کے باہر ایک کڑھائی کی مشین والا یا ہاتھ سے کپڑوں پر ملبوسی کام کرنے والا اپنا ایک چھوٹا سا اڈہ لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ اور سب آوازیں مل کر ایک نئی طرز کی آواز یا شور تھا جسے میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اسی دوران میں نے ایک درزی کی دکان پہ دو حضرات کو جھگڑتے دیکھا۔ چونکہ مجھے بھی درزی سے ہی کام تھا تو میں دکان کے باہر ہی ایک سٹول پر بیٹھ گیا۔
ایک برانڈڈ سوٹ اور ٹائی میں ملبوس شخص جو کہ شاید اپنے دفتر سے سیدھا ادھر ہی آیا تھا۔ وہ اس درزی سے لڑ رہا تھا کہ تم نے میری بیوی کے کپڑے تیار کیوں نہیں کئے جبکہ تمھارا وعدہ دو دن پہلے کا تھا اور آج میرا دوسرا چکر ہے۔
دوسرے بھائی صاحب کا کہنا تھا کہ میری بیوی کی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے مجھے مجبوراََ دکان کو دو دن  بند رکھنا پڑا اور میں کل شام تک آپکے کپڑے تیار کردوں گا۔
اسکے جواب میں دوسرے بھائی صاحب نے کہا کہ کیا بکواس ہے تم لوگوں کے ہاں ہر روز کوئی بیمار یا مرتا ہی رہتا ہے۔ اسکی اس بات پر وہ دکان دار بھڑک اٹھا اور کہنے لگا جناب  بیماری اور موت تو صرف اسی کے ہاتھ میں ہے جس نے آپکو زیادہ پیسہ دیدیا اور مجھے ابھی تک نہیں دیا۔
آپ میں اور مجھ میں فرق صرف پیسے کاہے یہ پیسے کا فرق نکل جائے تو آپ مجھ جیسے عام آدمی سے بھی کہیں گئے گزرے ہیں۔ یہ صرف پیسہ ہے جو  آپکے غرور میں شامل ہے۔ اس دوران بات کرتے ہوئے اسکی زبان کانپ رہی تھی مگر میں نے محسوس کیا وہ اس شخص سے ڈر نہیں رہا تھا بلکہ وہ واقعی ہی  اپنی حالت مجبوری اور بیوی کی طبعیت  کی وجہ سے پریشان دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے کہا میں کوشش کرتا ہوں آج رات کو ہی میں آپکا کام مکمل کردوں اور آپکو انتظار کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے میرا لڑکا آپکے گھر پہ ہی دے جائے گا ابھی مہربانی فرما کر تشریف لے جائیے۔ اس کے بولنے کے دوران وہ شخص ایک بات بھی نہ بول سکا اور اسی دوران اسکا ڈرائیور بھاگتا ہوا آیا اور بولا سَر اوپر بی بی جی کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ شخص وہاں سے بھاگتا ہو چلا گیا۔
اس روز ایک بات سمجھ آ گئی اصل حقیقت غرور اور ہماری  سوچ میں پوشیدہ ہے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
''اگر تمہیں کوئی چیز چھوٹی نظر آ رہی ہے تو یقیناََ  تم اسے دور سے دیکھ رہے ہو یا غرور سے''
یارو! اصل بات ہماری سوچ کی ہے جو کبھی ہمیں ہیرو بنا دیتی ہے اور ہم خود کو سب سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں اور کبھی فلم کا ولن بنا دیتی ہے کہ ہم خود کو ہی برا ترین تصور کرنے لگتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھنا کہ حضرت  آدم ؑ سے لیکر اور اس وقت تک جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ہر ایک شخص کی ایک مکمل کہانی ہے کوئی بھی سائیڈ رول کے لئے پیدا نہیں ہوا ہے۔
اگر آپ اپنی کہانی میں سائیڈ رول ادا کررہے ہیں تو اسکی وجہ آپ خود ہیں۔ آ پ بھی اپنی زندگی میں ہیرو بن سکتے ہیں۔ مگر صرف اپنے اعمال اور سوچ کی بنیاد پر۔
جیسا کہ ہمارے نبی محمد مُصطفٰےﷺ اس کائنات کے سب سے بڑے اور افضل ہیرو ہیں جو اپنی زندگی  میں بھی ہیرو  تھےاور آج ہم سب کی زندگی کے بھی ہیرو ہیں۔
میں اور آپ  بھی دوسروں کی کہانی کے ہیرو بن سکتے ہیں اگر ہم  اپنی زندگی میں تمام سائیڈ رول سمجھنے والوں کو  بھی اپنی زندگی میں ہیرو کا رول دے دیں اور ہیرو کی طرح   جینے کا راستہ دکھا دیں۔
مگر ایک بات واضح رہے کہ سب سے پہلے آپکو خود کو  ایک مثبت  اور سچا ہیرو بنانا ہے۔ اسکے بعد ہی آپ کسی اور کو وہ رول دینے کے قابل ہو سکیں گے۔
''کیونکہ خالی برتن سے آپ کچھ بھی نہیں بانٹ سکتےتو آپکو پہلے اپنے برتن کو بھرنا ضروری ہے''
اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خود ہی سائیڈ رول میں رہنا پسند کرتے شاید وہ سامنے آنے سے ڈرتے ہیں یا سامنا کرنے سے یا پھر وہ خود کی اہمیت ہی نہیں جان پاتے۔ مگر ایک بات ذہن نشین رہے کسی کو ہیرو کا رول دیکر اور خود  اسکے سائیڈ رول میں آجانا بھی بزرگی ہے۔
ایک بات جان اور سمجھ لیجئے جس طرح ہماری ماں ہمیں کمزور اور ناکام دیکھ کر خوش نہیں ہو سکتی۔ عین اسی طرح بلکہ اسے بھی کہیں زیادہ ہمارا خدا بھی ہماری ناکامی اور کمزوری پر ناخوش ہوتا ہے۔
اگر ہماری ماں کے اختیار میں سب کچھ ہو تو وہ ہمیں کبھی بھی خالی نہیں رہنے دے گی اور جبکہ ہمارے خدا کے پاس تمام تر اختیارات ہیں تو ہم کیسے خالی رہ سکتے ہیں۔ وہ تو ہمارے کشکول اور دلوں کو ہمیشہ اپنی رحمتوں اور خزانوں سے بھرنے کیلئے تیار ہے۔ بشرطیکہ ہم اسے اپنا جان کر مانگ سکیں اور کچھ نہ بھی مانگ سکیں تو صرف مانگنے کا طریقہ ہی مانگ لیں تو بھی سب مل جائے گا۔
اس نے اپنے بندوں کو اتنا ہلکا نہیں بنایا جتنا کہ وہ خود کو سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اس بات کو نا جانے کیوں بھول جاتا ہے کہ خدا  اپنے بندوں کی ہمیشہ فکر میں ہے۔ لیکن صرف وہ بندہ ہے جو اس سادہ سی بات سے  بے خبر ہو کر خود کو ذلیل اور رسوا کر رہا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا ہے کہ ''کمزور تو صرف میں ہوں جبکہ میرا رب تو بڑی قوتوں والا ہے''
اور اسکے ہاں تو سب ہیرو ہیں کوئی بھی سائیڈ رول نہیں۔
دعا ہے کہ اللہ ہم سب کے دلوں کو خیر اور محبت کی جانب موڑ دے اور بیشک وہ ہر چیز کا حاکم ہے آپکا اور ہمارا خدا نگہبان۔
سید تفسیر عباس رضوی 

Saturday, 17 November 2018

ظالم ابنِ آدمؑ


حضرت علیؑ فرماتےہیں:
’’اے ابنِ آدمؑ  اگر تمہیں ایک کھروچ بھی آتی ہے یا تمھارے جسم پہ خارش بھی ہوتی ہے تو وہ بھی تمھارے خدا کی طرف سے ہے اور اُسکا بھی ایک مقصد ہے‘‘۔
ہماری زندگی میں مشکلات کا آنا ایک فطری عمل ہے کیونکہ اگر آپ زندگی کے دریا میں ہیں تو پتھروں سے ٹکرائیں گے ہی  اور ایسا ہونا  منفی نہیں فطری ہے۔مگر  انسان اتنا بے صبر ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی مشکل درپیش آجائے تو بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر  ہاتھ پاؤں مارنے لگتا ہے اور اسے مزید مشکل بنا لیتا ہے۔
اور اس وقت کو بھول جاتا ہے جب وہ آسانی میں تھا اور آج ذرا سی مشکل آنے پہ  شکایت کرنے لگتا ہے۔ یہاں پر ایک بات واضح کرتا ہو آگے بڑوھونگا کہ مشکل میں ہاتھ پاؤں مارنا بھی فطری ہے یا یوں سمجھ لیجئے آپ سمندر میں ڈوب رہے ہیں تو جان بچانے کی خاطر ہاتھ پاؤں تو ماریں گے ہی۔
مگر اب جبکہ ہم جانتے ہیں  کہ درپیش مسلۂ  جانی نقصان نہیں کر سکتا تو ہمیں موجودہ صورتحال کو اپنے خدا کی طرف سے آزمائش سمجھ کر  صبر کرنا چاہیے۔
'' تم کیا کھونے پہ رو رہے ہو کیا جو کچھ تمھارے پاس موجود ہے وہ تمہیں سکون دینے اور ہنسنے کیلئے کافی نہیں''
حضرت محمدﷺ فرماتے ہیں:
’’اگر ہمارا ایک مومن پہاڑ کی چوٹی پہ بھی چلا جائے اور خیال کرے کہ اب کوئی مجھے نقصان نہ پہنچا سکے گا تو خدا وہاں پہ بھی ایک شخص بھیجے گا جو اسے نقصان پہنچائے گا اور خدا اس مومن کو اس تکلیف کے عوض اجر عطا کرتا ہے‘‘۔
بحیثیت مسلمان  ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایک پتا بھی اسکی مرضی کےبغیر حرکت نہیں کر سکتا تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ اسکے بندے کو کوئی تکلیف پہنچا دے اور اسےخبر بھی نہ ہو۔ یقیناََ اسے ہر شے کی خبر ہے اور جس   چیز کو ہم تکلیف سمجھ رہے ہیں وہ   تو ہمیں حرکت دینے کا ایک زریعہ ہے  ایک پیغام ہے جسے ہم سمجھ نہیں پاتے۔ اگر  گھوڑوں کی دوڑ میں گھڑ سوار اپنے جانور کو ضرب نا دیگا تو وہ جیتے گا کیسے ۔بس مسٔلہ یہ ہے کہ صرف  مالک جانتا ہے ضرب کیوں  اورکب دینی ہے اور کہاں پہنچانا ہے۔ اور جب ہم ایک منزل پہ پہنچ جاتے ہیں تب ہمیں خیال آتا ہے کہ اس وقت ہم  کتنے  مایوس اور نا شکر ہو گئے تھے اور پھر انسان سمجھ پاتا ہے کہ وہ ضرب نہیں ہدایت تھی  ۔ اگر  ہر انسان منزل پہ پہنچنے سے پہلے کچھ صبر کر لے  اور ہر تکلیف کو اسکا تحفہ سمجھ کر قبول کر لے اور اسکا شکر ادا کرتے رہے تو سب مسٔلے خود ہی حل ہو جائیں۔ 
لیکن یہ ایک نظرنہ آنے والی بیماری ہے جو بچپن سے  ہمارے ساتھ پرورش پاتی رہی ہے۔ جب ہم بچے تھے تو ہمیں یہ سکھایا گیا کہ خدا سے اپنے ابو کے رزق کے لئے دعا کرو، اپنے دادا دادی کی صحت کے لئے دعا کرو وغیرہ وغیرہ۔
کیا کسی نے یہ کہا کہ تمھارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں  اس کے لئے بھی اپنے رب کو یاد کر کے شکر ادا کرو، کیا کسی نے سکھایا کہ اگر تم بیماری میں ہو تو اس کے لئے بھی اسکا شکر ادا کرنا واجب ہے کہ اس نے ہمیں کسی قابل سمجھ کر بیماری عطا کی اور اب وہ ہمارے گناہوں کو دھودیگا۔
یہ وہ تمام باتیں تھی جو گھر کے مدرسے سے سکھائی جانا ضروری تھیں پر افسوس کہ ہم نے مشکل اور بیماری میں صرف شکایت کرنا ہی سیکھا نہ کہ صبر کرنا اور وہی ہم آگے سکھا رہے ہیں۔
حضرت رابعہ بصریؒ کے زمانے میں ایک شخص درد سے کراہتا ہوا  انکی آرام گاہ پہ حاضر ہوا تو آپ نے انکا حال دریافت کیا اور پوچھا کہ اے شخص تونے یہ پٹی اپنے سَر پہ کیوں باندھ رکھی ہے وہ شخص کہتا ہے میرے سَر میں بہت درد ہے بس اسی وجہ سے یہ پٹی باندھی ہے۔
رابعہ بصریؒ  فرماتی ہیں کیا جب تو  سکون میں تھا  تو  تب بھی شکرانے کی پٹی باندھی تھی اور اب  ذرا سی تکلیف میں آیا تو شکایت کرنے لگا۔
اے مجھے پڑھنے اور سننے  والو میں بس اتنا کہنا چاہونگا؛
''جو کچھ بھی مل رہا ہے خواہ  دکھ ہو یا  سکھ ہو اُسے خاموشی  و   احترام سے قبول کرلو کیونکہ فرق اسے نہیں پڑتا کیا ملا ہے کیا حصے میں آیا ہے  فرق تو اسے پڑتا ہے کس سے ملا ہے کس نے دیا ہے۔''
بعض اوقات انسان  مشکل آنے پہ اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ شاید خدا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے جو  یہ مشکل درپیش آئی ہےمگر ایسا نہیں ہے خدا کبھی بھی اپنے بندوں کو تکلیف نہیں دیتا  مگر آزمائش اور  اس دنیا سے سب کا جانا تو طے شدہ امر ہے۔
حضرت علیؑ   فرماتے ہیں:
’’اے ابنِ آدمؑ اگر درپیش مشکل کی وجہ سے تم خدا سے دور ہو گئے ہو تو سمجھ لو کہ یہ تمھارے گناہوں کی سزا ہے اور اگر اس مشکل کے آنے سے تم اور بھی اپنے رب کو پکارنے لگے ہو تو یہ تمھارے رب کی طرف سے تم پہ آزمائش ہے۔‘‘
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا  اپنے مومن بندوں کو آزمائش کے زریعے آزماتا ہے بس  یہ انسان ہے جو  ذرا سی ظاہری پریشانی پہ رونے اور شکوہ کرنے لگتا ہے۔
آپ یہ دیکھ لیجئے جیسے سورج و چاند کا اپنے مقررہ وقت پہ طلوع و غروب ہونا، ہواؤں کا چلنا و رکنا، بارش کا ہونا، ایک موسم کے بعد دوسرے موسم کا آنا یہ سب کچھ اپنے اپنے مقررہ وقت پہ ہوتا آ رہا ہے۔ لیکن اگر  موسم کی خرابی کے باعث سورج  نہ نکلے، ہواؤں کا چلنا بند ہو جائے اور زمین کو سورج کی روشنی میسر نہ ہو تو  انسان فوراََ سے چیخ و پکار کرنے لگتا ہے۔
اور اگر ابرِ رحمت نہ برسے تو میدانوں میں نمازِ استسقاء پڑھنے نکل پڑتا ہے مگر وہ شخص اس وقت نمازِ شکرانہ پڑھنے کیوں نہیں نکلا جب سب کچھ ٹھیک تھا اور آج ذراسی نظام  میں تبدیلی کیا ہوئی تو وہ رونے لگا۔ کیونکہ وہ اس نظام  اور ترتیب کا عادی ہو چکا تھا اور اسے اپنا حق سمجھنے لگا تھا  مگر جب خدا   اپنی قدرت اور احسانات کا احساس دلوانے چاہے  تو وہ اپنے نظام میں  ہلکی سی تبدیلی لا کر انسان کو یہ سوچنے پہ مجبور کردیتا ہے کہ اسکی کیا اہمیت ہے۔
حقیقت جانو تو ایک بات بتاؤں انسان واقعی ہی بڑا ظالم  و مطلبی ہے۔ وہ آسانی میں اسے پکارنا ہی نہیں چاہتا اور جب  ہر طرف سے خود کو  لاچاری میں گھرا پاتا ہے تو اس سے زیادہ کوئی مظلوم بھی نہیں لگتا  جس میں آپ اور میں سب شامل ہیں  اور ہمارا پروردگار اس قدر رحمٰن ہے کہ اسے ہماری اس حالت پہ  رحم آجاتا ہے اور وہ اپنی رحمتوں کے خزانے اپنے بندوں پر کھول دیتا ہے۔
وہ بھی کیا کرے ہم اس کے بندے جو ہیں وہ ہم سے پیار ہی اتنا کرتا ہے۔ مگر وہ بھی چاہتا ہے کہ میرے بندے  مجھے بنا مطلب کے بھی یاد کریں با لکل ویسے ہی جیسے ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہم سے  بے غرض پیار کریں۔
 ہمیں کتنا برا محسوس ہوتا ہے جب ہمارا  کوئی عزیز ہمیں مدتوں بعد فون کرے اور ہم خوش ہو رہے ہوں کہ اس نے ہمیں یاد رکھا ہے اور کچھ ہی دیر کے بعد وہ اپنا کوئی کام بتادے تو ہم فوراََ سے کہ دیتے ہیں   آج یاد بھی کیا تو اپنے کام سے۔
لیکن ہم اپنے خدا کیساتھ کیا کر رہے ہیں ہم بھی تو  اسے اپنے کام سے ہی یاد کرتے ہیں۔ جبکہ محبت کا تقاضا تو یہ کہتا ہے کہ اپنے محبوب کا حال دریافت کرتے رہو ہو سکتا ہے تمھارا پوچھ لینا  اسے مسرت عطا کردے۔
مگر وہ بڑا ہی رحم دل رب ہے جو اپنے بندوں کی سن بھی لیتا ہے اور   ہمارے مسکے لگانے پہ مسکرا بھی جاتا ہے  اورپھر معاف بھی کردیتا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اسکی مخلوق اسے دور ہو جائے اور اسے بات نہ کرے۔ وہ ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی ایسا سبب بنا دیتا ہے جسے ہمارا اسے رشتہ بنا ہی رہتا ہے۔
''شاید وہ ایک بہت ہی اچھا رشتے داربھی  ہے''
لیکن رشتے داری میں تو لین دین کرنا بھی ضروری ہے اور اسے اچھے سلیقے سے نبھانا بھی ضروری ہے۔کوئی بات پری لگنے یا سمجھ نہ آنے پر خاموش اور صبر کرنا بھی ضروری ہے۔
 مگر ہماری کیا اوقات کہ ہم اسے کچھ دے بھی سکیں اورہم نے تو لین دین کے ترازو میں سے صرف لین ہی  سیکھا ہے۔  لیکن وہ خود   بھی تو کہتا ہے کوئی ایسا ہے جو اپنے رب کو قرض دیکر مقروض کرے۔ 
اب جبکہ اس نے ہمیں اس قابل سمجھا ہے تو ہماری کیا اوقات کہ ہم خود کو  ہلکا لیں ۔اورہم بھی کیا کریں   اب اسے مقروض جو کرنے والے ہیں جو سب سے بڑا اور قوتوں والا ہے، جو سب کو نوازنے  والا ہے، اور اب تو ہمارا رشتے دار ہونے والا ہے۔
مگر میں سوچتا ہوں کے اے میرے والی، اے میرے مالک، اے میرے  رازق،اے میرے رب ایسا کیا ہے جو میں تجھے پیش کرسکوں اور تجھے اپنا مقروض کرلوں۔ ایسی وہ کیا بھاری شے ہے، ایسا کونسا خزانہ ہے جو تجھے پیش کیا جائے جبکہ تو تمام خزانوں کا مالک ہے۔
ہم نے سنا ہے جب تم چاہو کہ تمھارا رب تم سے بات کرے تو  قرآن پاک پڑھ لیا کرو۔
اور ہمارا رب فرماتا ہے''اے میرے بندے  تو اپنے ر ب کو اپنی مسکراہٹ کیوں نہیں بھیجتا۔ تو چاہتا ہے کہ تیرا رب تجھ سے خوش رہے تو میری مخلوق کو کیوں خوش نہیں رکھتا۔ تو چاہتا ہے کہ مجھے کچھ دے تو میری مخلوق کچھ کیوں نہیں دیتا۔''
''تو مجھے مقروض کرنا چاہتا ہے تو میری مخلوق کو قرضہ حسنہ کیوں نہیں دیتا۔جو مجھ سے رشتے داری چاہتا ہے تو  جو رشتے میں نے تجھے عطا کیے ہیں تو انکو صحیح کیوں نہیں نبھاتا''۔
''اے میرے بندے سن اور سمجھ لے   تو چاہتا ہے کہ میں تجھ سے پیار کروں تو میری مخلوق سے ویسے پیار رکھ جیسے تو مجھ سے چاہتا ہے۔ اور تیرا رب تو چاہتا ہے کہ  ہر بندہ  مجھے مقروض کرلے اور جب تیرا خدا اپنا قرض اتارے گا  تو  سود سمیت اتارے گا کیوں کہ تیرے رب کے ہاں سود حرام نہیں کیونکہ تمھارا سود اور ہے اور میرا سود اور ہے ۔اور تیرا رب جو  اور جیسے چاہے  ویسے اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے۔''
''اور تمھاری طرف سے بھیجی ہوئی ہر چیز میرے پاس ایک کھیت میں  پلتی اور پرورش پاتی ہے   اور جب تمہیں وہ چیزیں لوٹاؤنگا تو تم اسے کئی گنا پاؤ گے۔ کیونکہ یہ میرا قانون ہے تم زمین میں ایک گندم کا بیج بوتے ہو اور میں اسے کئی گنا کر کے لوٹاتا      ہوں بس تم  شکر اور صبر پہ قائم رہو ''۔
یہاں پہ آپکو ایک قصہ سنانا چاہونگا جو یقیناََ ہمیں صبر وشکر کو سمجھنے میں مدد دیگا۔
ایک شخص بایزید بسطامیؒ  (نام کی مکمل تصدیق نہ ہونے پہ معافی چاہتا ہوں)کی خدمت میں حاضر ہوا  جو رزق کے باعث پریشان تھا۔ تو آپ نے اسکا حال دریافت کیا تو وہ کہتاہے  کرم ہے خدا  کا   مل جائے تو شکر کرتا ہوں نا ملے تو صبر کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں ایسا تو  بغداد کے کتے بھی کرتے ہیں مل جائے تو شکر کرتے ہیں  نا ملے تو صبر پہ رہتے ہیں۔ وہ شخص کچھ پریشان ہوا اور اپنی پریشانی کو دور کرنے کے لئے آپ کا حال دریافت کیا  کہ فرمائیے کیسی گزر رہی ہے تو  آپ فرماتے ہیں مل جائے تو صدقہ کرتے ہیں اور نہ ملے تو شُکر کرتے ہیں''۔
یقیناََ ایک عام انسان اور اولیاء،اوصیاء،امام و انبیاء کی سوچ وفکر میں  ایک واضح فرق ہوتا ہے جو اُنہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز  کرتا ہے۔
ہم نے آج تک یہی سیکھا تھا  کہ مل جانے پہ شکر کرنا ہے اور نا ملنے پہ صبر کرنا ہے اور حقیقت میں ہم لوگ صبر بھی شکوے کی صورت میں کر رہے ہوتے ہیں کہ چل ٹھیک ہے مالک جیسے تیری مرضی  ۔ یہ بیان ہم ایسے دیتے ہیں جیسے  ہم خود بھی بہت کچھ کر سکتے تھے پر تیری مرضی ہے تو ہم خاموش ہیں۔
اور پھر اپنی مرادیں پوری کرنے کیلئے ہم منت بھی مانگتے ہیں اور منت بھی  اپنی پسند کی آسان سی۔۔ اے خدا میری یہ مراد پوری ہو جائے تو میں سوا سو روپے کی نیاز دونگا۔  اور کچھ پیسوں کی منت مان کر ہم  اپنی بال کو خدا کے کوٹ میں پھینک دیتے ہیں۔ اور اپنی زمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں کہ بس میں نے اپنا کام کردیا  ہےاور اب اے خدا سب کچھ تجھ پہ ہے دیکھ میں نے تو منت بھی مان لی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم  سوا سو نماز پڑھنے کی منت کیوں نہیں مانگتے اس طرح ہم خدا کو بھی یاد کرتے رہیں گے اور وہ توکہتاہے تم میرا زکر کرو میں تمھارا زکر کرونگا۔ کیا آپ نہیں چاہو گے  آپ کا زکر بھی ہو تا رہے اور اور آپکی منت کی عرضی بھی بار بار پہنچتی رہے۔ لیکن انہی مشکلوں سے بچنے کیلئے ہو تو پیسوں کی منت مانگی ہے۔
  اورمراد پوری ہو  جانے پہ اتنا خوش ہوتے ہیں کہ شکر کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔ وہ منت پوری کرنا یاد ہی نہیں رہتا اور کچھ ہفتوں کے بعد سَر پہ پڑی زمہ داری اتار دیجاتی ہے اور وہ نیاز بھی خود ہی کھا لی جاتی ہے۔
بس انسان ہر پل  اسکی نعمتوں سے مستفید ہونے میں لگا ہوا ہے اور اسکی خوشی اور رضا ڈھونڈنے سے غافل ہو چکا ہے۔
جبکہ خدا تو چاہتا ہے کہ حاصل شدہ نعمتوں کو دوسروں میں بانٹ دو چونکہ وہ بانٹنے  کے عمل اور  بانٹنے والے کو بہت پسند کرتا ہے آپکے پاس اسکی راہ میں بانٹنے کیلئے کچھ بھی ہو تو دریغ مت کریں  شرمائیں مت بیشک وہ ایک روٹی ،ایک گلاس پانی یا ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو۔
  ''اے انسان تو کن چکروں میں کھو گیا تجھے  بیت الخلاء  سے باہر آتے وقت دایاں قدم باہر رکھنا  تو یاد ہے پر تو دائیں ہاتھ سے بانٹنا کیسے بھول گیا''
''اور بیشک وہ بانٹی گئی چیز کی مقدار نہیں  بلکہ بانٹنے والی کی نیت دیکھتا ہے۔''
دعا ہے کہ خدا تعاٰلی  ہم سب کے دلوں کو خیر ، محبت اور راہِ حق کی طرف پھیر دے اور بیشک وہ دلوں میں محبت پیدا کرنے پہ قادر ہے۔
آپکا اور ہمارا اللہ نگہبان 
سید تفسیر عباس رضوی

Saturday, 6 October 2018

حصہ داری - مثبت پاکستان


ہمارے معاشرے میں جب کوئی خدمت ِخلق کا ارادہ کرتا ہے تو وہ فوراََ ہی کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک پرندہ بھی اڑان بھرنے سے پہلے اپنے پرَوں کو چھوٹی چھوٹی جنبش دیتا ہے۔اور پھر ہوا کے دوش پہ اڑتا پھرتا ہے۔
انسان کو کتنی ہی اونچی چھلانگ کیوں نہ لگانی ہو لیکن زمین کا سہارا لئے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ مشہور چینی کہاوت ہے کہ ایک ۱۰۰ سالہ بوڑھا ایک بلند ترین پہاڑ سے نیچے اتر رہا تھا تو ایک نوجوان نے اسے دیکھا تو پوچھا آپ نے یہ پہاڑ کیسے سَر کر دکھایا؟ توبوڑھے شخص کا جواب قابل تعریف تھا۔'' اس نے کہا کہ میرا ہر بڑھتا ہوا قدم اس پہاڑ کی جانب ہی رہا''
اب بات کر لیتے ہیں ایک عام پاکستانی یا  ایک شہری کی جو انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوئے عبدالستار ایدھی بننا چاہتا ہے پر وہ اس رتبے کی بلندی دیکھتے ہوئے خود کو بہت چھوٹا محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور بہتری کی طرف اٹھائے جانے والے قدموں کو وہیں روک لیتا ہے ۔ایک بات یہاں پر واضح کرنا ضروری ہے کہ جب آپ کسی کی مدد کرنے کیلئے قدم بڑھاتے ہو تو آپکا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ آپکو تو بس اتنا کرنا ہے جتنی آپکی استطاعت ہے۔
عبدالستار ایدھی نے بھی اس سلسلے کا آغاز ایک بچے کی پرورش سے کیا تھا اور وہی انکا پہلا قدم تھا۔ پھر قدم سے قدم ملتے گئے اور انکے اُس سفر کے دوران بہت سے لوگ انکے ہمسفر ہوتے گئے ۔اور پھر وہ ایک مکمل کاروان کی صورت اختیار کر گیا۔
اب کیا اگر ہم ہزاروں لوگوں کی پرورش نہیں کر سکتے تو کیا ہم ایک بچے کی زمہ داری بھی نہیں لے سکتے؟
ہم اگر سینکڑوں لوگوں کو سونے کیلئے بستر نہیں دے سکتے تو کیا ہم کسی ایک کے سونے کا بہتر انتظام بھی نہیں کر سکتے۔
ہمارے ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اسی عزم اور خالص نیت کیساتھ ایک قدم اٹھایا تھا اور آج سینکڑوں قدم انکے ہمراہ ہیں۔
اسکی سب سے بڑی مثال ہمیں ماسٹر ایوب کی زندگی سے ملتی ہے جو تیس سال کے زائد عرصے سے ایف سکس اسلام آباد کے ایک پارک میں بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا سفر ایک بچے سے شروع کیا تھا اور آج سینکڑوں بچے ان سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اورکئی ہزارعلم حاصل کر کے جا چکے ہیں۔
اب اگر کوئی شہری اس ملک میں اپنا حصہ ڈالنا چاہے تو کیا وہ پہلے انتظار کرے گا کہ میرے پاس پہلے ماسٹر ایوب کے برابر کلاس ہو جائے تو پھر کچھ سوچوں گا۔
ہر گز نہیں آپ آج ہی ایک بچے کو اپنے گھر بلائیں اور اسے تعلیم دینا شروع کریں۔
'' کیونکہ زندگی سوچنے کا نام نہیں کچھ کر دکھانے کا نام ہے اور جو کرنا وہ آج کرنا ہے''
ایسا بھی ممکن ہے کہ انسانی ہمدردی کے ناتے آپ ہسپتال بنوانے کی خواہش رکھتے ہوں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہ کر سکیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ پانی کا فلٹریشن پلانٹ لگانا چاہتے ہوں، غریبوں کیلئے دستر خوان لگانا چاہتے ہوں مگر اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔
اور دل میں خوش بھی ہوتے رہیں کہ میں بہت اچھا جذبہ رکھتا ہوں۔ پر کیا  اگر آپ ہسپتال نہیں بنوا سکتے تو کیا کسی ایک غریب کا علاج بھی نہیں کروا سکتے؟
اگر ہم فلٹریشن پلانٹ نہیں لگا سکتے تو کیا ہم گھر کے باہر پانی کا کولر بھی نہیں رکھ سکتے ؟
اگر ہم ملک ریاض کی طرح ایک بہت بڑا دستر خوان نہیں لگا سکتے تو کیا ہم کسی ایک غریب کو روز کھانا بھی نہیں کھلا سکتے ؟
ہمارے پاس جتنے بھی موجودہ وسائل ہیں ہمیں ان ہی سے آغاز کرنا ہے ۔
''جب ہم اسکی مخلوق کی مدد کرتے ہیں تو وہ ہماری مدد کی مقدار نہیں نیت دیکھتا ہے''
حضرت علی کرم الللہ وجہ فرماتے ہیں
''تمکو تمھارے عمل کے بدلے وہ کچھ نہیں ملتا جو تمہیں تمھاری نیت کے عوض ملتا ہے۔ کیونکہ عمل میں دکھاوا آجاتا ہے اور نیت دکھاوے سے پاک ہے''
اور اگر آپ کم وسائل کیساتھ ہی کچھ اچھا شروع کرنا چاہتے ہو تے ہوتو وہ ایسا ہے جیسے آپ نے ایک قدم حرکت دینے کیلئے بڑھایا ہو اور پھر دوسرا قدم اٹھانا آپکی مجبوری بن جاتا ہے۔ کیونکہ آپکا مالک چاہتا ہے کہ آپ آگے بڑھو۔
تو آپ کبھی بھی یہ خیال مت کرو کہ آگے کیا ہوگا آپ صرف اتنا دیکھ سکتے ہو جتنا آپکی گاڑی کی ہیڈ لائیٹس آپکو دکھا رہی ہیں۔ اور جو ذات آگے کا دیکھ رہی ہے وہ یہ بھی جانتی ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔بس آپ قدم بڑھاتے رہیے اس  ا مید کیساتھ کہ جس نے آپکے پہلے تمام مسائل حل کر دیے تھے وہ آج بھی بگڑی ضرور بنا دے گا۔
پروین سعید سورنجی کراچی کی رہائشی خاتون نے جب لوگوں کوبھوک سے بدحال دیکھا تو انکے لئے کچھ کرنے کا عزم کیا۔ اور پہلے دن اپنے گھر پہ صرف پانچ لوگوں کو بلا کر کھانا کھلایا اور یہ نہ سوچا کہ اگر کل کو دس لوگ آگئے تو انکے کھانے کا انتظام کہاں سے ہوگا۔ اور آج سینکڑوں لوگ ہر روز انکے گھر پہ کھانا کھانے کے لئے آتے ہیں اور اب رب تعالیٰ مختلف لوگوں کو وسیلہ بناکر انکی مدد کررہا ہے۔
اگر آپ اس معاشرے میں اس ملک میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہو تو کوئی آپکو روک نہیں سکتا اور آپکے لئے بہت مواقع ہیں۔
عید کے دنوں میں جب ہم سب خریداری میں مصروف ہوتے ہیں تو ہمارےرینجز، پولیس آفیسرز اور دیگر سکیورٹی اہلکار اپنی اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم انکو ایک پھول دے دیں یا انکو سیلوٹ کر لیں تو آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپکا وہ دس روپے کا پھول اور اسے عزت میں کیا گیا سلام اسے کتنی خوشی دے سکتا ہے۔
آپ اس معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیں تو...
صفائی کرنیوالے کو شاباشی دیکر بھی کر سکتے ہیں
پٹرول پمپ پر موجود شخص کو مسکراہٹ بھرا سلام کر کے بھی ڈال سکتے ہیں۔
آپکے پاس پیسہ نہیں تو کیا ہوا اخلاق تو ہے، اور آپ چاہتے ہو کہ آپکو خوشی ملے تو آپ لوگوں میں خوشی بانٹنے کا عمل شروع کر دیجئے۔
چلیں آئیں اور اس معاشرے میں اپنی حصہ داری اپنے گھر سے شروع کریں اپنے کمرے کی صفائی خود کریں، اپنے کھانے کی پلیٹ کو خود صاف کر یں، پانی بجلی کو ضرورت سے کم  استعمال کریں۔
اگر آپ ایک بالٹی پانی کم استعمال کرتے ہیں تو وہ کسی کے گھر میں استعمال ہو سکتا ہے۔اگر آپ ایک بلب اپنے گھر میں بند کردیں تو وہ کسی اور کے گھر میں روشنی دے سکتا ہے۔
''اگر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں تو ہماری حصہ داری یہ بھی ہوگی کہ ہم کسی کا ساتھ دے دیں اسکا ہاتھ بن کر''
اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے تو ہم تنقید کرنا بند کر کے بھی اس معاشرے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں کیونکہ کسی کو خوش رہنے کا حق دینا ہماری اسلامی ومعاشرتی ذمہ داری میں شامل ہے۔
''کیونکہ اگر ہم گاڑی کو دھکا لگانے سے انکار کر چکے ہیں تو اسکے آگے رکاوٹ بن کر کھڑے ہونے کا حق بھی نہیں رکھتے''
اس ملک کو بلند خیال انسانوں کی ضرورت ہے جو ایک مثبت سوچ پیدا کر سکیں اور یہی سوچ ایک مثبت (پازیٹو) پاکستان بنانے میں مدد دے گی۔
ہم سب کا بلندخیال پاکستان
سلام پاکستان

سید تفسیر عباس رضوی

Friday, 7 September 2018

کھردرے الفاظ

کافروں سے قرض لینا حلال ، انکے دیے ہوئے پیسے سے ملکی مُعشیت استحکام کرنا حلال، انکی تہزیب، انکے فیشن، انکے ایجاد کردہ کھانے کھانا سب حلال ہے پر اسی کافر سے مشورہ لینا حرام ہو گیا۔
بیشک قادیانی نا منظور ہے پر ہم نا منظوری چوائیس پر کیسے کرنے لگ گئے۔ نا منظور کرنا ہے تو خالص ہو کر نامنظور کرنا ہے۔ بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر ہر چیز سے کرنا ہے! 
سب محب وطن امریکہ مردہ آباد کہتے ہیں اور انہی لوگوں کے بچے امریکن ڈگریز لے کر پاکستان میں آتے ہیں اور اسی ڈگری کا رعب جماتے ہیں۔
ہم لوگ کس قسم کی زندگی جی رہے ہیں، کیسے پاکستانی ہیں، کس سے ڈر رہے ہیں، کس کو امپریس کرنا چاہتے ہیں،اور کیا پیغام دیکر جا رہے ہیں۔ انڈیا سب سے بڑا دشمن بھی ہے اور کترینہ کیف سے محبت بھی اتنی ہی شدت پر ہے۔
امریکہ مردہ آباد بھی ہے پر پڑھائی کا معیار امریکن چاہیے، کیسی نفرت کر رہے ہیں ہم۔ ہمیں لوگوں سے نفرت ہے یا خود سے۔
14 اگست کے موقع پر امریکہ میں جشن آزادی کے جلوس نکلے ہوئے نظر آئے اور کچھ لوگوں نے اسے بہت سراہا اور کہا ایسی آزادی ہونی چاہئیے۔
پر میں یہاں پر ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کیا ہم عیسائی برادری کو بھی ایک ایسا جلوس نکالنے کی اجازت دیں گے۔
کیا ہم امریکن شہریوں کو انکا دن بھی اس ملک میں منانے کی اجازت دیں گے۔ وہاں ہم خود غرض کیسے ہو سکتے ہیں، وہاں ہماری سوچ کی آزادی کہاں گئی۔
اصل میں ہم صرف جسم سے آزاد ہیں اور ذہن سے ابھی بھی قید ہیں۔ اور ہم نے خود کو خودہی قید رکھا ہوا ہے۔ ہم خود کی ذات کے قیدی ہیں۔ انسان قید نہ ہونا چاہے تو وہ سلاخوں کے پیچھے رہ کر بھی قید نہیں رہ سکتا۔
کوئی ہمارے دین کو نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ ہم اپنے دین پر قائم ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی ہمارے عقیدے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ عقیدہ ہمارے دل کی جاگیر ہے کسی امیر کے گھر کا قالین نہیں۔
کوئی ہمارے دل میں گھس کر ہمارے عقیدے کو چرا نہیں سکتا۔ اس ملک کو جتنا نقصان پہنچنا تھا وہ اس ملک میں موجود مذہب کے ٹھیکیدار پہنچا چکے ہیں۔ ہماری ذات کو نقصان پہنچانے والے صرف ہم خود ہیں اگر ہم خود کے کنٹرول میں ہوں تو کوئی ہمیں اپنے کنٹرول میں نہیں کر سکتا۔
وہ ذات کہ جسکی وجہ سے یہ کائنات تخلیق کی گئی اور پھر اسی کے سبب ہم سب وجود میں لائے گئے وہ ہیں ہمارے محمد صلی اللہ علیہ و سلم بڑی شان والے۔ انکی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے ہزاروں راز رکھتا ہے۔
کیا انہوں نے کافروں کے ساتھ شرط نہیں رکھی تھی کہ اگر تم میں سے ہر ایک دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے گا تو وہ آزاد ہے۔
کیا وہ ان کافروں سے صفائی کا کام نہیں لے سکتے کیا وہ ان سے کھیتی باڑی کا کام نہیں لا سکتے تھے.. سب لے سکتے تھے پر انہوں نے ان سے ایک عظیم کام کروانا چاہا یعنی علم سکھانا، سبق پڑھانا۔ ہمیں کیا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا؟ 
تا کہ اگر کل کو ہمیں کسی کافر سے مدد لینی پڑ جائے تو ہمیں شرمانا نہیں ہے اور اس میں کوئی عُذر نہیں ہے۔
اب ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ کیا ہم اتنے عقلمند ہیں کہ انکی بات کو رد کردیں اور اپنی عقل کو ترجیح دیں؟
سن لو ، جان لو  اور سمجھ لو کوئی تب تک علم نہیں پا سکتا جب تک وہ نہ چاہے، کوئی چاہ بھی نہیں سکتا اگر اسکی چاہ نہ ہو تو تم اور میں کیا ہیں یار۔ صرف پانی کے بلبلے سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔
اور ہم میں سے ہر ایک دین کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے اور سمجھتا ہے دین صرف اسی کی وجہ سے بچ سکتا ہے۔ جو خود کو ایک چھینک آنے سےبھی نہیں بچا سکتا وہ دین کو بچانے چلا ہے۔
فرض کر لیجئے ہم ایک سفر پر ہیں اور اس دوران گاڑی خراب ہو جاتی ہے اور جو شخص ٹھیک کرنے کے لئے آیا  ہے وہ ذات کا قادیانی ہے تو  ہم کیا کریں گے؟ آگے چلئے اب ایک حادثہ ہو چکا ہے اور علاج کرنے والا ڈاکٹر بھی قادیانی ہے۔ آگے چلئے اب جس جگہ پر قیام پذیر ہیں وہاں پر کھانا بنانے والا شخص قادیانی ہوتو ہم ان تمام صورتوں میں کیا کریں گے... 
ذرا سوچئے!! 
ہم اگر مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے وہ کمال الللہ تعالی کا ہے۔ ہم بھی قادیانی ہی ہوتے اگر قادیانی کے گھر میں پیدا ہوئے ہوتے۔ ہم بھی عیسائی ہوتے اگر عیسائی گھر میں پیدا ہوئے ہوتے۔
مذہب انسان کو جدا نہیں کرتا ہے جو چیز ہمیں جدا کرنے والی ہے وہ سوچ ہے۔ جیسے کہ مولانا رومی فرماتے ہیں ''اصل حقیقت تو تیری سوچ ہے باقی تو سب ہڈیاں اور گوشت ہے'' 
اگر ہمیں خود کو جدا کرنا ہے تو ہمیں اچھی سوچ کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔اور وہی سوچ ہمیں ایک اچھا مسلمان بنائے گی؛  ایک آزاد خیال مسلمان ، ایک ایسا مسلمان جو غیر ممالک میں فخر سے اپنا مذہب بتا سکے گا۔
پر انسان کو نہ جانے کس بات پر غرور ہے جو اسے سکون ہی نہیں لینے دیتا۔  ہمیں نفرت کرنے کا حق کس نے دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں غیر ملک میں آزادی ،عزت و احترام ملے پر ہم اپنے ملک میں کسی کو وہ چیز دینے کے لئے تیار نہیں ہیں.. 
ہم اپنے ملک میں عیسائی برادری کو اپنے تہواروں میں شامل نہیں کرتے ان سے کچھ لیکر کھانا پسند نہیں کرتے ۔ مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے غیر ممالک میں مسلمانوں کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔ کیا ہم نہیں چاہتےکہ ہمیں ہر جگہ پر عزت ملے اگر ہاں تو ہمیں دوسروں کو بھی عزت دینی پڑے گی۔
ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں محبت کرے پر ہم بدلے میں محبت دینے کو تیار نہیں ہو۔ یہ کیسا انصاف ہے جو ہم اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔ جس عزت کی امید ہم کسی غیر سے رکھتے ہیں اتنی ہی عزت ہمیں اسی غیر کو بھی دینی ہو گی۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر اکھٹے پانی  پیتے ہوں ۔ میری شیر اور بکری سے مراد طاقت ور اور کمزور ہیں۔
دوسروں کا خیال اس امید سے رکھیے کہ ہمارا مالک ہمارا اور بھی خیال رکھے گا، دوسروں کو خوشی اس نیت سے دیجیے کہ اس سے ہمیں خوشی ملے گی۔اس پاکستان کو ہم نے ایک ہنستا و مسکراتا ہوا پاکستان بنانا ہے۔
ہم سب کا پاکستان سلام پاکستان۔

سید تفسیر عباس رضوی

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...