Showing posts with label Farhan ul Hassan. Show all posts
Showing posts with label Farhan ul Hassan. Show all posts

Sunday, 16 June 2019

باپ۔۔۔ ایک عظیم ہستی

پُرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا۔۔
خوشی نے دل سا دُکھایا تو باپ رونے لگا۔۔
یہ رات کھانستے رہتے ہیں کوفت ہوتی ہے۔۔
بہو نے سب میں جتایا تو باپ رونے لگا۔۔!
بہن روانگی سے پہلے پیار لینے گئی۔۔
جو کُچھ بھی دے نہ پایا تو باپ رونے لگا۔۔
بٹھا کے رکشہ میں کل شب روانہ کرتے ہوئے۔۔
دیا جو میں نے کرایہ تو باپ رونے لگا۔۔!
سات سال پہلے میں نے اپنے ابا کا چہرہ آخری بار دیکھا تھا، یوں لگتا ہے جیسے سات گھنٹے یا سات منٹ پہلے کی بات ہو۔ انسان کے والدین اُس کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتے ہیں اس بات کا اندازہ اُن کی زندگی میں لگایا نہیں جا سکتا، اُن کی اہمیت کا اندازہ اُن کے چلے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔
آج ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کا میچ شروع ہوا تو مُجھے شدت سے اپنے ابا کی یاد آنا شروع ہوگئی۔ مُجھے یاد ہے بچپن میں جب کبھی پاکستان بھارت کا میچ ہوتا تھا تو میرے ابا اُس دن دنیا کا ہر کام چھوڑ کر ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ جاتے تھے، ایسے میں جب کبھی وسیم اکرم، وقار یونس یا شعیب اختر کوئی وکٹ لیتے تو ابا کی آواز پورے گھر میں گونجتی تھی اور جب شاہد آفریدی یا سعید انور پہلی بال پر چھکا مارتے ہوِئے یا پھر باہر نکلتی ہوئی بال کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہوئے آؤٹ ہو جاتے تو وہ چند ناقابلِ سماعت اور ناقابلِ بیان القابات سے نوازتے...
مُجھے یاد ہے اُس دور میں انضمام الحق یا وسیم اکرم میں سے اگر کوئی وکٹ پر موجود ہوتا تو پاکستان کی جیت یقینی سمجھی جاتی تھی۔ اور میں اکثر اپنے ابا کو تنگ کرنے کے لیئے کہتا تھا کہ اگلی گیند پر انضمام الحق آؤٹ ہو جائے گا اور جب کبھی خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو پھر میں جہاں کہیں ہوتا ایک چپل گھومتی ہوئی آتی اور میں بچتا ہوا کمرے سے باہر نکل جاتا اور جب تک میچ کا کوئی نتیجہ نہیں آ جاتا میں کمرے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
جب بچپن سے نوجوانی میں داخل ہوا اور نوکری کا آغاز کیا تو مُجھے اپنے والد صاحب کی ایک بات سے بہت کوفت ہوتی تھی کہ میں شام کو آفس سے فارغ ہو کر ایک دو دوستوں کے ہمراہ راول ڈیم، ایوب پارک یا کسی اور جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا تھا ابا کی کال آتی تو کہتا کہ میں نو بجے تک گھر آجاؤں گا۔ اور وہ میری بات مان جاتے تھے، ٹھیک نو بجے ابا کی کال دوبارہ آنا شروع ہوتی تو میں موبائل آف کر دیتا تھا، پھر گیارہ بجے یا بارہ بجے کے قریب جب موبائل آن کرتا تو سب سے پہلی کال ابا کی ہوتی تھی مطلب اس دوران وہ لگاتار کال کرتے رہتے تھے۔ جب میری موٹرسائیکل گلی میں داخل ہوتی تھی تو وہ گھر کا گیٹ کھول کر میرے انتظار میں کھڑے ہوتے تھے، میں دروازے پر پہنچ کر اُن کو کہتا کہ آپ میرا انتظار نہ کیا کریں آپ سو جایا کریں میرے پاس گھر کی چابی ہوتی ہے میں اندر آسکتا ہوں آپ ویسے ہی بے آرام ہوتے ہیں۔۔۔ اور وہ پیار سے میرے گال پر ہاتھ پھیر کر ایک ہی بات کہتے کہ "بیٹا جس دن میں نہیں ہوں گا تو تمہیں پتہ چلے گا"۔۔ یا پھر "بیٹا جس دن خود باپ بنو گے اُس دن سمجھ آئے گی۔۔۔"۔
پھر یکم مئی 2012 کو میرے والد صاحب اچانک ایک دل کے دورے کے باعث اس دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے اور پھر اُس سے اگلے دن جب میں گھر گیا تو کوئی میرے انتظار میں دروازہ کھول کر نہیں کھڑا تھا۔ مُجھے اُس دن اندازہ ہوا کہ اب میں کیا کھو چکا ہوں۔ پھر وہ دن اور آج کا دن کوئی میرے انتظار میں دروازہ کھول کر کھڑا نہیں ہوتا۔
جب کبھی آفس میں کام کا بوجھ ذیادہ ہوتا یا کوئی اور پریشانی ہوتی تو میرے ابا میری پریشانی بھانپ کر اکیلے میں میرے پاس آتے اور میرے گال پر ہاتھ رکھ کر کہتے "کیا ہو گیا ہے بیٹا؟ کیوں پریشان ہو؟ میں ہوں نا! چھوڑ دے نوکری۔۔۔" اُن کا اتنا کہنا ہوتا اور میری ہر پریشانی ختم ہو جاتی۔ 
آج سات سال ہو گئے پریشانیاں اب بھی آتی ہیں مگر کوئی ہاتھ گال پر محسوس نہیں ہوتا، کان یہ سُننے کو بیقرار رہتے ہیں کہ "بیٹا کیا ہو گیا؟ پریشان نہ ہو۔۔۔ میں ہوں نا۔۔!"۔۔
باپ دنیا کی دھوپ میں ایک سایہ دار گھنا درخت ہے مگر اس درخت کی اہمیت کا اندازہ عموماً اس درخت کی چھاؤں ختم ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔۔
مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپ
اور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو
پہلے تو اس نے غم کے فوائد  بیاں کیے
پھر وقفہ لے کے کہنے لگا  خوش رہا کرو
(عباس تابش) 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے والدین کا سایہ آپ لوگوں کے سر پر تا دیر قائم رکھے، آمین!
سید فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Monday, 3 June 2019

تاریخ ساز سفر

یہ 1947 کے شروع کے چند ماہ کی بات ہے جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اُس کی ہندوستان کو یکجا رکھنے کی تمام کوششیں بیکار ہیں اور برصغیر کے مقامی اب آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ آزادی صرف گورے سے نہیں تھی بلکہ وہ برصغیر کی تقسیم چاہتے تھے تاکہ یہاں کے باسی اپنی زندگی اپنے رسوم و رواج کے مطابق بغیر کسی روک ٹوک یا فساد کے بغیر گزار سکیں۔
آخرِ کار جب ماؤنٹ بیٹن کی تمام کوششیں ناکام ہوتی ہوئی نظر آنے لگیں تو اُس نے ازمے کے ذمہ یہ کام لگایا کہ اب وہ برصغیر کی تقسیم پر کام شروع کر دے۔ تاکہ حکومت برصغیر کے مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں دی جا سکے، پلان کے فائنل ہونے تک اس پلان کی رازداری کو یقینی بنانے کی تاکید بھی کی گئی۔
اپریل 1947 میں ہونے والی گورنرکانفرنس میں پلان فائنل کیا گیا اور اگلے ہی ماہ مئی میں یہ پلان حتمی منظوری کے لیئے برطانیہ بھجوا دیا گیا جہاں برطانوی حکومت نے اس پلان کی منظوری دے دی۔ 31 مئی 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن برطانیہ سے واپس برصغیر پہنچا اور آتے ساتھ ہی اُس نے ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا، 2 جون کو یہ اجلاس ہوا جس میں انگریز عہدیداروں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مقامی لیڈران بھی موجود تھے جن میں نہرو، پٹیل، سردار عبدالرب نشتر، کریپلانی کے علاوہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان بھی موجود تھے۔ اس اجلاس میں برصغیر کے تمام صف اول کے لیڈران کے سامنے ایک پلان رکھا گیا جس کو سب نے اکثریت رائے کے ساتھ منظور کر لیا۔ یہ پلان 3 جون کو منظر عام پر لایا گیا اس ہی وجہ سے اس کو 3 جون کا پلان بھی کہا جاتا ہے، اس پلان کے چند چیدہ چیدہ نکات یہ تھےٖ:
x پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ممبران ایک میٹنگ کریں گے جس میں پنجاب کی تقسیم پر بحث کی جائے گی اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے بھی تقسیم کے حق میں رائے دی تو معاملہ از خود گورنر جنرل کے پاس چلا جائے گا جو ایک کمیشن قائم کرے گا جس کو اختیار ہو گا کہ وہ مسلم اکثریت اور غیر مسلم اکثریتی علاقوں کی حدود کا تعین کرے۔
x سندھ اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ وہ موجودہ حکومت میں رہے گی یا پھر نئی ریاست کا حصہ بن کر نئی اسمبلی کے طور پر کام کرے گی۔
x شمال مغربی سرحدی صوبہ کے مستقبل کے لیئے یہ طے کیا گیا کہ اس صوبہ میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے گا اور اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے صوبہ کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا تاہم ریفرنڈم 1946 میں ہونے والے ریفرنڈم کے الیکٹورل کالج کے ذریعے کروائے جائیں گے۔
x بلوچستان کو بھی اس کانفرنس میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔
x بنگال کی تقسیم کے لیئے یہ طے کیا گیا کہ سلہٹ میں ریفرنڈم کروایا جائے گا جس میں بنگال کے نمائندگان اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ موجودہ نظام میں رہتے ہوِئے بھارتی ریاست آسام کا حصہ رہیں گے یا پھر آسام سے الگ ہو کر نئے قائم ہونے والے مشرقی بنگال کا حصہ بنیں گے۔
یہ قرارداد تقسیم ہند کی ابتداء تھی تاہم نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سازش کے ساتھ مسلم لیڈران کو دھوکہ دیا اور گاندھی کو اعتماد میں لے کر تقسیم میں چال بازی سے کام لیا اور مسلم لیڈران کو مجبوراً آخری وقت پر صرف اس لیئے پلان منظور کرنا پڑا کہ اگر پلان میں تاخیر ہوتی تو اس کا فائدہ کسی صورت پاکستان کو نہ ہونا تھا۔
پھر اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر منتخب ہوئے جبکہ وزیراعظم کے لیئے لیاقت علی خان سے بہتر انتخاب کوئی ہو بھی نہیں سکتا تھا، ٹھیک دو ماہ بعد ماہِ رمضان میں آخری عشرے کی ستائیسویں شب 14 اگست 1947 کو برصغیر پاک و ہند دو ریاستیں بن کر دنیا کے نقشے پر اُبھریں جن میں سے ایک ہندوستان کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ حصے کو دنیا میں پاکستان کے نام سے شناخت ملی۔
پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے صدر کے طور پر قائداعظم بلا مقابلہ منتخب پو گئے۔

پھر ایک نیا امتحان شروع ہوا جس میں اُس وقت کے تمام لوگوں کا برابر کا حصہ تھا کسی ماں نے اپنی شیر خوار اولاد کو موت کی نیند سُلا دیا جبکہ کسی بھائی کے سامنے اُس کی جوان بہن کی عصمت دری کی گئی لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنا سب کُچھ چھوڑ کر ایک اسلامی فلاحی ریاست کی جانب چل پڑے ان لوگوں میں کئی بزرگ بھی شامل تھے جو یہ جانتے تھے کہ آزادی کے دوران ہونے والے فسادات میں اگر وہ بچ بھی گئے تو وہ ذیادہ دیر آزاد فضا میں زندہ نہیں رہ پائیں گے لیکن اُن کے دلوں میں ایک یقین تھا کہ اُن کی اولاد اور آنے والی نسلیں ایک آزاد فضاء میں سانس لیں گی۔ وہ بے دھڑک دینی فرائض سرانجام دیں گے جہاں اُن کی ماں بہنوں کی عزت و آبرو محفوط ہو گی۔ 

اسی پاکستان میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں بہت سے ہیروز دیئے جن میں روشن خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، ارفع کریم، وسیم اکرم، جاوید میانداد، ماجد خان، عبدالحفیظ کاردار، حنیف محمد، عمران خان، شاہد خان آفریدی، یونس خان نے دنیا میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا یہاں میں نے ایک نام شامل نہیں کیا۔ وہ نام ان سب سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اپنی مثال آپ ہے۔ 
میں 2 جون 2015 کو راولپنڈی میں ایک مشہور بازار چوہڑ چوک میں کھڑا اپنے ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا کہ چوہڑ چوک میں واقع ایک پٹرول پمپ کے باہر ایک آدمی کھڑا تھا میں نے اُس آدمی کو دیکھا تو مُجھے اُس کی شکل کُچھ جانی پہچانی سے لگی وہ آدمی میری توجہ کو بھانپ گیا اور میری طرف بڑھ کر سلام کے لیئے ہاتھ آگے بڑھایا، میں نے نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا اور دریافت کیا کہ کیا میں اس آدمی کو جانتا ہوں؟ اُس آدمی نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ شاید آپ نے مُجھے کہیں دیکھا ہو دنیا میں ایک شکل کے کئی لوگ ہوتے پیں، میں اُن کی بات پر مطمئن ہو گیا لیکن ذہن ابھی تک منتشر تھا اُنھوں نے مُجھ سے میرے بارے میں کُچھ سوال کیئے اور میرے مُستقبل کے لیئے دعا کی اتنے میں ایک موٹرسائیکل پر ایک نوجوان آیا اور وہ اُس کا تعارف مُجھ سے کروانے لگے، "یہ میرا بیٹا ہے! ایف ایس سی کا طالب علم ہے یہ مُجھے روزانہ یہاں سے گھر لے جانے کے لیئے موٹرسائیکل پر آتا ہے"۔ 
میں نے اُن کے موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے پہلے ہی ایک شکوہ کیا کہ آپ نے مُجھ سے تو سب کُچھ پوچھ لیا اپنے بارے میں کُچھ نہیں بتایا۔ وہ کہنے لگے، "بیٹا میں یہاں ڈولفن سنوکر کلب میں کوچ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں اور اس کے عوض مُجھے ماہانہ بیس ہزار روپے مل جاتے ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے عزت کے ساتھ گزر بسر ہو رہا ہے"۔۔ یہ کہہ کر وہ موٹر سائیکل کی طرف بڑھنے لگے اور میرے سے ہاتھ ملایا تو میں نے اُن کا ہاتھ نہایت مضبوطی کے ساتھ جکڑ لیا، "آپ محمد یوسف ہیں؟ پاکستان کی شان تین بار عالمی چیمپیئن اسنوکر کی دنیا کا ایک لیجنڈ!"۔ وہ میری بات کے جواب میں مسکرائے اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ اور موٹرسائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے۔ میں اپنی زندگی میں اتنے بڑے لیجنڈ سے ملوں گا یہ کبھی نہیں سوچا تھا لیکن ان حالات میں ہوگا وہ لیجنڈ یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ بات آج بھی یاد آتی ہے تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے!
ایک آدمی جس نے تقریباً دو عشرے پاکستان کا پرچم دنیا میں لہرایا پاکستان کی حکومت نے اس کو بدلے میں کیا دیا؟ بیس ہزار کی ایک پرائیویٹ کلب میں نوکری؟۔
میں نے سوچا کہ یہ ہرگز وہ اسلامی فلاحی ریاست نہیں ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا جہاں اپنے محسنوں کو سڑکوں پر دھکے کھانے کے لیئے چھوڑ دیا گیا ہے!
میں آج اہل اقتدار لوگوں سے التجاء کرتا ہوں کہ اپنے محسنوں کی قدر کریں یہ ہماری عزت ہیں انھوں نے اپنی پوری زندگی ہمیں دی ہے خدارا ان کو ایک با عزت زندگی گزارنے میں مدد کریں اور اب تو ہمارے ملک کے سربراہ بھی ایک کھلاڑی ہیں اُن کو چاہیئے کہ ایسے اقدامات کریں کہ پھر کوئی حنیف محمد کی طرح کسمپرسی کے عالم میں نہ مرے۔ اور روزِ قیامت اپنے بانیان کو منہ دکھانے کے قابل ہوں ہم لوگ کہ ہم نے اُن کے پاکستان میں اسلامی نظام نافز کیا، اپنے محسنوں کی قدر کی اُن کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہیں کیا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے حکمران اپنے محسنوں کی قدر کرنا سیکھیں اور اُن کو عزت دیں جنھوں نے پاکستان کا نام وہاں روشن کیا جہاں لوگ پاکستان کے نام سے واقف تک نہیں تھے۔

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹیو پاکستان

Monday, 27 May 2019

یومِ تکبیر

آج سے قریب 21 برس قبل ایک شام اشفاق احمد، منیر احمد خان، ایئر چیف مارشل پرویز مہدی قریشی، ایڈمرل فصیح بخاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل جہانگیر کرامت، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، وزیر خزانہ سرتاج عزیز، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر مشاہد حسین سید، سول و ملٹری قیادت اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ایک میٹنگ میں اس بات پر غور کر رہے تھے کہ اگر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب ایٹمی دھماکوں کی صورت میں دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ چند دن قبل جی ایٹ سربراہ کانفرنس نے پاکستان کو اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اگر بھارتی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جن میں عالمی برادری کی طرف سے بائیکاٹ اور پابندیاں شامل تھیں۔
ایسے میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر مشاہد حسین سید وہ پہلی آواز بنے جس نے عالمی دباؤ برداشت کر کے ایٹمی دھماکوں کا جواب ایٹمی دھماکوں سے دینے کا مشورہ دیا۔ اور پھر اس میٹنگ میں موجود دیگر لوگوں نے اُن کا ساتھ دیتے ہوئے حکومت کو ایک دلیرانہ فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ ایسے میں ایٹمی سائنسدانوں سے جب اُن کی رائے مانگی گئی تو اُنھوں نے یک زباں ہو کر کہا کہ دھماکے کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی حکومت کا فیصلہ ہونا چاہیئے لیکن وہ حکومت کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ حکومت اگر دھماکے کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اُس کو کسی قسم کی سُبکی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
پھر اگلے ہی روز 28 مئی 1998 کو پاکستان کی تمام اعلیٰ سول اور ملٹری قیادت بلوچستان کے علاقہ چاغی میں موجود تھی جہاں پاکستان نے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے دُشمن کے اوسان خطا کر دیئے۔ اور بھارت جو اس قسم کے رد عمل کی بالکل توقع نہیں کر رہا تھا پاکستان کے دھماکوں کے نتیجے میں سہم گیا۔
بحرحال پاکستان کو ان ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا کے کئی ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان پر کئی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ وہ وقت پاکستان کے لیئے ایک بے حد مشکل وقت تھا جب دشمن تو دشمن پاکستان کے کئِی دوست ممالک نے پاکستان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان ان دھماکوں کے نتیجے میں دنیا کی ساتویں جبکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر سامنے آیا۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے لیکن پاکستان نے یہ طاقت کبھی جارحیت کے لیئے نہ ہی استعمال کی اور نہ ہی کبھی مستقبل میں ایسا کرے گا۔ بلکہ پاکستان نے ایٹمی تجربات اس لیئے کیئے کہ خطہ کو جنگ سے دور رکھا جائے۔ اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جائے۔ 
28 مئی 1999 کو ملک میں پہلی مرتبہ یومِ تکبیر سرکاری طور پر منایا گیا اور اس کے بعد سے آج تک ہر سال یومِ تکبیر نہایت شان و شوکت سے منایا جاتا ہے، ملک کے طول و عرض میں دن کا آغاز توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اور ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ملکوں کی تاریخ میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب مشکل فیصلے لینے ضروری ہو جاتے ہیں اور یہ فیصلے وقتی طور پر مشکل ضرور ہوتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمام مشکلات کا خاتمہ بھی ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان پر سے تمام پابندیاں ہٹ چکی ہیں اور دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ نہ صرف کاروبار کر رہے ہیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، سی پیک اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ سی پیک اور OBOR ایسے پراجیکٹ ہیں جن کے ذریعے پاکستان ترقی کی منازل نہایت تیزی کے ساتھ طے کر رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہاکستان دنیا کی ایک عظیم معیشت ہو گا۔ پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ابھی صرف 70 سال کا عرصہ ہوا ہے اور اس قلیل عرصہ میں پاکستان نے دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ جن لوگوں کو یورپ اور امریکہ کے سامنے پاکستان کُچھ نظر نہیں آتا اُن لوگوں سے میری التجاء ہے کہ وہ ذرا دنیا کی تاریخ پرایک سرسری سی نگاہ دوڑائیں۔ وہ امریکہ جو آج ورلڈ پاور ہے وہاں آج سے تین سو سال پہلے قتل و غارت گری عام تھی لاقانونیت کی انتہا تھی اور وہ برطانیہ جس کی مثالیں آج ہمارے یہاں دی جاتی ہیں وہاں آج سے دو ڈھائی سو برس پہلے غنڈہ گردی کا راج تھا قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ 
پاکستان کا مقابلہ اس لیئے بھی دنیا کے دوسرے ممالک سے نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اپنی نوعیت کا دوسرا ملک ہے جو دنیا کے مختلف حصوں سے مسلمانوں کو لا کر آباد کیا گیا، دنیا میں ملکوں کی تاریخ میں سال دنوں کے برابر ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے پاکستان ابھی ایک نوزائیدہ ملک ہے جو اپنی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور چھوٹی سی تاریخ میں تین جنگیں لڑنے اور دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو عشروں سے برسرِ پیکار ہے اور اس جنگ میں عالمی امداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہر سال چند سو مہاجرین کو قبول کرتے ہیں اور دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی یہ تعداد ہزاروں میں بھی نہیں ہے جبکہ پاکستان ایک غریب ملک ہونے کے با وجود لاکھوں افغان مہاجرین کو گزشتہ تین عشروں سے سنبھالے ہوئِے ہے اور دنیا میں واحد ملک پاکستان ہے جہاں افغان مہاجرین کو کاروبار کی اجازت ہے ورنہ دنیا کے کسی بھی اور ملک میں مہاجرین کر کاروبار کی اجازت نہیں ہوتی اور وہ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ کیمپس میں اقوام متحدہ کی امداد پر زندگی گزارتے ہیں اگر ہم ان سب چیزوں کا بغور معائنہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارا ملک محدود وسائل کے باوجود کتنا بوجھ برداشت کیئے ہوئے ہے۔ اور مُجھے یقین ہے کہ جلد ہمارا ملک پاکستان ایک عظیم الشان ریاست کی صورت میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار کیا جائے گا، پاکستان آج بھی دنیا کا سب سے خوبصورت ملک ہے اور آئندہ بھی ایک عظیم الشان مستقبل پاکستان کا منتظر ہے!
پاکستان زندہ باد!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 11 May 2019

ماں

؎ ایک مُدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اِک بار کہا تھا "مُجھے ڈر لگتا ہے"

کاغذ اور پینسل اُٹھا کر لکھنے بیٹھا تو زندگی میں پہلی مرتبہ الفاظ کم پڑ گئے ہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا لکھوں اور کہاں سے آغاز کروں۔ ماں کتنا خوبصورت رشتہ ہے یہ مُجھ سمیت اُن تمام لوگوں سے کوئی پوچھے جو ماں کا نام آتے ہی احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ تین برس سے جب کبھی ماں کے بارے میں بات ہوتی ہے تو ایک چہرہ میری نظروں کے سامنے گھومنا شروع ہو جاتا ہے۔ بےقراری اور بے بسی کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ 
کاش کہ میرے بس میں ہوتا کہ میں گزرے ہوئے لمحات کو واپس لانے کی قدرت رکھتا تو وہ تمام لمحات واپس لے آتا جو میں نے اپنی ماں کے ساتھ گزارے۔ آج تین برس بعد بھی میں اپنی ماں کے ہاتھ کا لمس اپنے گال پر محسوس کرتا ہوں تو پریشانی اچانک ہی جیسے غائب ہو جاتی ہے۔ دنیا کی وہ واحد ہستی جو میرے چلنے کے انداز اور میری ہنسی میں چھپی پریشانی کو بھانپ لیتی تھی۔ میں گھر سے کوسوں دور کسی تکلیف میں ہوتا تو گھر پر موجود میری ماں کو پتہ چل جاتا تھا۔ 
آج جب میں لکھنے بیٹھا تو میں پہلی مرتبہ یہ نہیں جانتا تھا کہ میں نہ لکھنا کیا ہے، کیونکہ میری گزشتہ تمام تحاریر قارئین کے لیے تھیں جبکہ یہ تحریر میرے اندر چھپے ہوئے غبار کو دھونے کی ایک ناکام کوشش ہے ناکام کوشش اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ خلا کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ اپنا سب کُچھ لُٹا کر بھی میں اپنی ماں کی ایک جھلک نہیں دیکھ سکتا۔ اب اس دنیا میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ میری خاموشی میں پنہاں میری پریشانیاں مُجھ سے بہتر جانتی ہے، اب کوئی مجھے زبردستی روٹی کھانے کا نہیں کہتا۔ اب کوئی میری ہلکی سی خراش پر تڑپتا نہیں ہے۔
زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ اُن کے چھن جانے پر ہوتا ہے، یہی حال رشتوں کا بھی ہے اور ان رشتوں میں سرِفہرست والدین کا رشتہ ہے۔ 
میں ہمیشہ سے اپنی ماں کی ایک عادت سے چڑتا تھا اور روزانہ ایک ہی بات کہتا تھا "امی مجھے بھوک نہیں ہے آپ فکر نہ کریں جب بھوک لگے گی تو خود کھانا کھا لوں گا" اور میری ماں کا ایک ہی جواب ہوتا تھا "بیٹا جب میں نہیں ہوں گی تو تمہیں اندازہ ہوگا"۔۔
پھر ایک تاریک ترین رات وہ مجھے اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئیں وہ رات اتنی تاریک تھی کہ آج بھی سوچتا ہوں تو دل کانپ اُٹھتا ہے۔۔۔۔ پھر وہ دن اور آج کا دن کسی کو میرے کھانا کھانے یا نہ کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی مُجھے بار بار کھانا کھانے کا نہیں کہتا اور آج میرے کان یہ سُننے کے لیے بےتاب رہتے ہیں کہ "بیٹا کھانا کھا لو! اچھا بھوک نہیں ہے تو تھوڑا سا کھا لو، دیکھو تمہاری پسند کے دال چاول بنائے ہیں بیٹا کُچھ تو کھا لو، اچھا ٹھیک ہے تُم نہیں کھا رہے تو میں بھی نہیں کھا رہی کھانا"۔ 
اور پھر وہ جب تک مُجھے کھانا نہیں کھلا دیتی تھیں تب تک چین سے نہیں بیٹھتی تھیں۔
میری پسند نا پسند مُجھ سے بہتر میری ماں جانتی تھی۔ میں اپنی زندگی کی کئی باتیں خود بھول چکا ہوتا تھا مگر میری ماں کو میری زندگی سے جُڑی ہر بات یاد رہتی تھی، میری ماں مُجھے اکثر کہتی تھیں کہ مُجھے بیٹے نہیں پسند، مُجھے بیٹے کی کبھی خواہش نہیں رہی۔ اور میں اُن کی اس بات پر اندر ہی اندر کُڑھتا تھا جلتا تھا پھر ایک دن اُنھوں نے اکیلے میں مُجھے بتایا کہ وہ زندگی بھر مُجھ سے ایک بات چھپاتی رہیں تھیں اور وہ یہ بات تھی کہ دنیا کی ہر ماں کی طرح اُن کو بھی بیٹا چاہیئے تھا اور وہ میرے پیدا ہونے پر جتنا خوش ہوئی تھیں پھر کبھی اُتنا خوش نہیں ہوئیں۔۔۔۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی تھی پہلی بار میری ماں نے مُجھے بتایا تھا کہ میں اُن کی خواہش تھا اُس دن میں اتنا خوش تھا کہ میں پوری رات سو نہیں پایا تھا، کبھی چادر میں منہ چھپا کہ رونا شروع کر دیتا اور کبھی مُسکرانا شروع کر دیتا۔۔۔۔ وہ خوشی کا آخری دن تھا، وہ روشنی کا آخری دن تھا، وہ میری ماں کی زندگی کا آخری دن تھا اور وہ نقطۂ آغاز تھا ایک تاریک رات کا، کبھی نہ ختم ہونے والی تاریکی کا، ایسی رات جس کی کوئی صبح ہی نہیں تھی ایسی تاریکی جسے دنیا کی کوئی شمع، کوئی مشعل نہیں بُجھا سکتے۔ 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ میری ماں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور آپ سب کے سروں پر والدین کا سایہ تا دیر قائم رکھے، آمین یا رب العالمین!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Wednesday, 8 May 2019

کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید۔۔
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔۔!
زبان، فن، ٹیکنالوجی غرض یہ کہ دنیا کی ہر چیز ارتقاء کے مرحلے میں ہے۔ آج بیٹھے بیٹھے میں نے سوچا کہ وقت غیر محسوس طریقے سے کتنی جلدی بدلتا ہے۔ مثال کے طور پر آج 2019 میں سمارٹ فونز کی دنیا میں اگر ہمارا کوئی دوست یا رشتہ دار ہمیں کچھ دن کال نہیں کرتا تو ہم اس سے ناراض ہو جاتے ہیں یا پھر اگر کوئی ہماری کال ریسیو نہ کرے تو ہم اس کے ساتھ جینا مرنا ہی ختم کر دیتے ہیں۔
اب ذرا بیسویں صدی کے آخری چند سالوں کا آج کے دور سے ایک تقابلی موازنہ کر لیتے ہیں۔ آج سے قریب دو عشرے قبل  بہت کم لوگوں کے پاس لمبے اینٹینے والے موبائل فون ہوا کرتے تھے یہ موبائل ذیادہ تر گھر پر چارجنگ پر ہی لگے رہا کرتے تھے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے ملک میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرنے والا ہے اور ان لوگوں کو پیشگی اطلاع مل چکی ہے۔ یا پھر صاحب موبائل پاکستان سے امریکہ پیدل سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔لیکن آپ لوگ غلط سوچ رہے ہیں۔
آج سے 20 سال قبل اگر کوئی غلطی سے بھی کسی کی کال موبائل پر ریسیو کر لیتا تو کال کرنے والے کو غشی کے دورے پڑنے شروع ہو جاتے تھے۔ دوسری جانب جو کال ریسیو کرتا تھا وہ کال کرنے والے کو ایسے ایسے القابات سے نوازتا تھا جو میں ایک اسلامی ریاست کے نوجوانوں کے میگزین میں بیان بھی نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس دور میں کال ریسیو کرنے پر بھی رومنگ چارجز ادا کرنے پڑتے تھے۔
آج اکیسویں صدی میں کمپیوٹر گھر گھر کی زینت بن چکا ہے۔ بڑوں سے لے کر بچوں تک سب اس پر یکساں عبور رکھتے ہیں.
بیسویں صدی کے آخری چند سالوں میں پانچ فٹ اونچا اور دو فٹ چوڑا کمپیوٹر 10 کلومیٹر کے رقبہ میں کسی ایک گھر میں ہوا کرتا تھا جس کی فلاپی ڈسک ہی کم و بیش ڈھائی کلو کی ہوا کرتی تھی۔
میں شاید فرط جذبات میں کچھ ذیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کر گیا، چلیں ہر چیز کو 50 فیصد پر لے آئیں یا بس 25 فیصد آخری اس سے کم ہرگز نہیں ہوگا۔ اور بچوں کے لیئے کمپیوٹر آن کرنے کے لیئے ایک شرط ہوا کرتی تھی کہ گھر کے تمام بزرگوں کے سامنے وہ سوپر ماریو یا کونٹرا گیم کھیلیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بچہ اکیلے میں انٹرنیٹ استعمال کر لےاور اس کے ذہن پر کوئی منفی اثرات مرتب ہو جائیں۔ ان سادہ لوح بزرگوں کو کون سمجھاتا کہ بغیر ٹیلی فون لائن کے اس دور میں انٹرنیٹ استعمال کرنا ناممکن ہوا کرتا تھا اور وہ لوگ خود فون سننے کے لیئے دو گلیاں چھوڑ کر مائی حمیداں کے گھر جایا کرتے تھے جن کا پوتا کچھ عرصہ قبل ولایت سے لوٹا تھا۔
غرض یہ کہ ہر دور کے اپنے کچھ تقاضے ہیں آج جو قابل قبول ہے وہ آج سے کچھ عرصہ قبل ہرگز قابل قبول نہ تھا اور آج جو گناہ تصور کیا جاتا ہے کچھ وقت بعد رسوم و روایات کا حصہ ہو گا۔
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے!!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹیو پاکستان

Friday, 3 May 2019

میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں

جو موت سے نہ ڈرتا تھا بچوں سے ڈر گیا
اک رات خالی ہاتھ جب مزدور گھر گیا۔۔!
آج صبح آنکھ کھلی تو حسب عادت ٹیلی ویژن آن کیا۔ ٹی وی پر ایک نجی نیوز چینل کا نمائندہ یوم مزدور پر مزدوروں کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ مزدور ٹی وی چینل کے نمائندہ کو اپنے درمیان پا کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنے مسائل سے اس کو آگاہ کر رہے تھے۔ اُن سب میں ایک بات مشترک تھی اور وہ یہ کہ سب کی آنکھوں میں ایک چمک تھی اور ساتھ ساتھ چہرے پر مایوسی کی جھریاں بھی نمایاں تھیں۔ آنکھوں میں چمک اس بات کی غماز تھی کہ صحافی کو اپنے درمیان پا کر اُن کے دلوں میں شاید ایک اُمید جاگی تھی کہ یہ صحافی شاید اُن کے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر نازل ہوا ہے اور اب یہ اُن سب کی آواز حکام بالا تک پہنچائے گا اور اُن کے سب مسائل ایک ایک کر کے حل ہوتے چلے جائیں گے۔ ساتھ ساتھ چہرے پر جھریوں میں موجود ایک بے یقینی کی کیفیت سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آج صرف یوم مزدور پر نیوز چینل کو کانٹینٹ کی ضرورت ہے اس لئے اُن کو اتنا پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ 
اور بادل نخواستہ اگر اس نیوز چینل کے ذریعے اُن کی آواز اہل اقتدار لوگوں تک پہنچ بھی گئی تو کیا ہوگا؟ وہ اہل اقتدار تو پہلے سے اُن کے مسائل سے آگاہ بھی ہیں اور اُن کے ان مسائل کو ایک بلیک میلنگ ٹول کے طور پر استعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ 
میں نے ٹیلی ویژن آن کیا ہوا تھا اور میری نظر بھی ٹیلی ویژن پر ہی مرکوز تھی مگر میرا ذہن اب کہیں اور پہنچ چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں آج یوم مزدور کے موقع پر گھر پر چھٹی منا رہا ہوں حالانکہ میرا مزدور اور مزدوری سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ آج کی ہر تقریب کا مہمان خصوصی آج کے دن بھی اس خوف میں مبتلا لو پھوٹنے سے پہلے ہی گھر سے نکل چکا تھا کہ اگر آج عبدالحمید تھوڑا سا بھی دیر سے پہنچا تو کہیں وہ آج اپنی مزدوری سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو وہ گھر واپس کس منہ سے جائے گا؟ کیونکہ گھر سے نکلتے ہوئے اس کے کانوں میں جو پہلی آواز پڑی تھی وہ اس کے باپ کی کھانسی کی تھی جو تپ دق کا مریض تھا اور دوسری آواز اُس کی ٦ سالہ بیٹی کی تھی جو روتے ہوئے سکول جانے سے انکار کر رہی تھی اور غور کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے پاس ہوم ورک کے لئے نوٹ بک نہیں تھی اور اگر آج بھی اس نے ہوم ورک چیک نہ کروایا تو ایک بار پھر اس کو سکول میں سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غصے کی ایک لہر اُس کے تن بدن میں اُٹھی اور وہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اُس کو چار باتیں سُنانا ہی چاہتا تھا کہ باورچی خانہ سے اُس کی بیوی کی آواز آئی، "اجی سُنتے ہو! اگر آج واپسی پر آٹا لانے کے پیسے نہ ہوں تو مہربانی کر کے کھانا باہر سے ہی کھا کے آجانا اور ہمارے بارے میں نہ سوچنا ہم فاقوں کے عادی ہو چکے ہیں ایک دن مزید روٹی نہ کھائی تو مر نہیں جائیں گے"۔
بیوی کے الفاظ اُس کے کانوں سے ٹکراتے ہی عبدالحمید بھول گیا کہ اُس کو غصہ کس بات پر آیا تھا اور ایسا شرمندہ ہو کر گھر سے نکلا کہ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا۔۔ آج تو اُس نے گھر سے نکلتے ہوئے سب کو سلام بھی نہ کیا تھا اور نہ ہی بیٹی کو پیار کیا تھا۔
بیوی کے آخری الفاظ اُس کے ذہن پر ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ اور چلتے چلتے وہ کب گھر کے قریب چوک میں پہنچ گیا تھا اُس کو پتہ بھی نہ چلا تھا۔۔۔ لیکن آج وہ چوک پرپہنچا تو اُس کا ایک ساتھی مزدور اُس کے پاس آیا اور خوشی خوشی اپنی بند مٹھی اُس کے ہاتھ پر رکھ کر کھول دی، "یہ کیا ہے؟" اُس نے حیرت سے پوچھا۔۔ "وہ تم سے گزشتہ ماہ پانچ ہزار لئے تھے نہ یہ وہی پیسے واپس کر رہا ہوں کل میں گھر گیا تو بیگم نے ایک خوشخبری سُنائی کہ اُس نے مُجھ سے چھپ کر ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی جو کل ہی نکلی تھی باقی پیسے میں نے بیگم کے پاس ہی رکھوا دیئے اور تمہاری امانت الگ کر لی اب یہ تمہارے حوالے کر رہا ہوں کہ روز قیامت میرا گریبان نہ پکڑو"۔ اُس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
عبدالحمید نے کُچھ سوچتے ہوئے یہ رقم اس مزدور کو پکڑائی اور کہنے لگا، "مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے تُم میرے گھر جا کر یہ رقم اپنی بھابھی کو دے دو اُس کو کہنا کہ گھر کا راشن ڈال لے اور باقی جو پیسے بچیں اُن سے ابا کی دوائی اور گُڑیا کے اسکول کی چیزیں خرید لے مُجھے شاید کُچھ دیر ہو جائے" عبدالحمید ایک لمحے کے لئے رُک کر مسکرایا اور پھر بولا کہ "مُجھے یقیناً دیر ہی ہو چکی ہے"
عبدالحمید نے یہ کہہ کر رومال کندھے پر ڈالا اور ریلوے اسٹیشن کی جانب چل دیا۔ ساتھی مزدور نے حسب وعدہ وہ رقم عبدالحمید کے گھر پہنچا دی تھی اور اُن پیسوں سے عبدالحمید کی بیوی نے گھر میں راشن ڈال لیا اور ابا کی دوائی اور گُڑیا کی نوٹ بک بھی خرید لی اور بازار سے واپسی پر مُرغی کا نرخ دیکھا تو خوشی سے پھولی نہ سمائی کہ آج کئی ماہ بعد مرغی سستی ہوئی تھی اور اُس کے پاس پیسے بھی تھے اُس نے موقع غنیمت جان کر فوراً دو کلو مُرغی خریدی کہ عبدالحمید چکن بریانی شوق سے کھاتا تھا اور گھر جا کر جلدی جلدی سب کام نمٹا کر گُڑیا کو تاکید کی کہ ابا کو نہ بتائے کہ آج گھر پر کیا پکا ہے وہ عبدالحمید کو وہ دینا چاہتی تھی وہ کیا ہوتا ہے کمبخت مارا ہاں سرپرائز! 
بریانی پک چکی تھی لیکن آج عبدالحمید پتہ نہیں کہاں رہ گیا تھا۔ سو طرح کے وسوسے دل میں آ رہے تھے لیکن وہ ہر بار ٹال کر آیت کریمہ اور درور شریف کا ورد شروع کر دیتی۔ آخرکار اُس کا انتظار ختم ہوا اور رات گیارہ بجے کے قریب دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ 
محلے کے چند لوگ عبدالحمید کی لاش ایک چارپائی پر ڈالے دروازے پر کھڑے تھے۔ عبدالحمید نے ٹرین کے سامنے آ کر خودکشی کر لی تھی اُس کا جسم دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اور اب چاروں جانب اندھیرا پھیل چکا تھا رات تو کب کی ہو چکی تھی لیکن دراصل اندھیرا اب ہوا تھا اُس نے ہوش میں آتے ہی واپس مُڑکر گُڑیا کے ہاتھ سے بریانی کی پلیٹ پکڑی اور چولہے سے ہنڈیا اُٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دی۔۔۔
"گُڑیا بیٹا ہمیں یہ بریانی راس نہیں ہے یہ بڑے لوگوں کی خوراک ہے ہمیں بریانی راس نہیں ہے۔۔۔۔۔!" وہ بس یہی چلا رہی تھی۔

فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...