Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Thursday, 25 April 2019

اسلام کا مزاج

کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب کے دوران ایک خاتون کھانے کے وقفے میں زبردستی سٹیج پہ چڑھ آئیں اور اصرار کرنے لگیں کہ انہوں نے سورہ رحمٰن تھیراپی لوگوں کو بتانی ہے انہیں وقت دیا جائے....
شائستگی سے انکار کیا گیا کہ وقت ناکافی ہے تو چیخنے چلانے اور لعن طعن پہ اُتر آئیں کہ باقی کام چھوڑو یہ اللّٰہ کا کلام پڑھواو یہ زیادہ ضروری ہے...
یہی کام آنا ہے دنیا داری کا کوئی فائدہ نہیں...
بہتیرا سمجھایا کہ ہم بھی اللّٰہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے ہی یہاں موجود ہیں...مگر ان کی ایک ہی ہٹ...
کہ نہیں اُن کی بات زیادہ ضروری ہے اور ہم کون ہوتے ہیں انہیں کلام پڑھنے سے روکنے والے.......خدا ہمیں پوچھے گا...
ہم تو ان کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئے......🤐
خیر بڑی مشکل جان چھڑوائی....
اس ذہنیت کے لوگوں پہ مجھے غصے سے زیادہ ترس آتا ہے....جو عمر بھر اپنے تئیں بہترین مبلغ بنے درحقیقت لوگوں کے لیے کوفت اور بیزاری کا باعث بن رہے ہوتے ہیں.....😬
اور جنہیں شاعر کی زبان میں راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے بلکہ بعض اوقات تو راستے میں بھی نہیں ہوتی!!
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ایک بات یاد آگئی ہے کہ 
"اسلام کا مزاج داعیانہ ہے، فاتحانہ نہیں"
اور ایک داعی اپنے ساتھیوں اور لوگوں کا خیرخواہ ہوتا ہے...ان کے مزاج کو سمجھ کر اس پہ چلنے والا....اُن میں سے ہوتا ہے.....الگ نہیں ہوتا....
اگر آپ کے اردگرد رہنے والے آپ کو اپنا دوست اپنا ہمدرد اور خیرخواہ ہی نہ سمجھیں تو وہ آپ کی زبردستی کی راگنی تو نہیں سنیں گے نا......
خدارا دینِ اسلام پہ رحم کریں......

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Friday, 8 March 2019

زندگی کا سوزِدروں

ایک مضبوط اور کامیاب عورت کے پیچھے بہت سارے ٹوٹے ارمان، آنسو، شک و شبہات، طعنے اور نکتہ چینی ہوتی ہے۔ دنیا والے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ... 
تم کمزور ہو اور تم یہ نہیں کر سکتی۔ خاندان کی عزت کا خیال کر لو۔  تمہاری شادی کیسے ہو گی۔ ہم تمہارے جہیز کے پیسے پڑھائی پر لگا رہے ہیں... نوکری کر کے کیوں ہماری عزت کا جنازہ نکالنا ہے... بھائی یا باپ مر گیا جو تم کماؤ گی۔ کوئی عورت کیسے کاروبار کر سکتی ہے... تم اکیلے سفر نہیں کر سکتی... بیرون ملک پڑھنے سے تمہارے کردار اور اقدار پر اثر پڑے گا...
اپنی مرضی سے  شادی!! اس سے شرم ناک بات کیا ہو سکتی ہے... جانتی ہو لڑکیوں کے پاس اتنا دماغ نہیں ہوتا کہ وہ رائے دے سکیں... تمہاری جرات کیسے ہوئی کوئی فیصلہ لینے کی... شادی کے بعد اپنے ارمان پورے کرنا... سسرال ہی تمہارا اصل گھر ہے...!! 
 اور سب سے بڑھ کر "لوگ کیا کہیں گے؟" 
 ایسی باتیں ایک خود مختار لڑکی کی حوصلہ شکنی نہیں کر سکتیں۔ وہ جانتی ہے کی دنیا کی جنگ کیسے لڑنی بے۔ اسے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ خود کو  ہارنے نہیں دیتی۔ ایسی عورتیں ہی قوم کی تقدیر سنوارتی ہیں۔ آج عورتوں کے عالمی دن پر میرا ایسی ہر عورت کو سلام....
اقبال نے کہا تھا...
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ،
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں

سعدیہ خالد
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان

Saturday, 2 March 2019

اے طائرِ لاہوتی

بڑے بزرگوں سے سنا تھا کہ رزق کا اثر خون میں ہوتا ہے اور نسلوں تک جاتا ہے......
رزقِ حرام اور حلال کا تصور صرف پیشوں تک محدود نہیں بلکہ ایک حلال پیشے میں نیت کی خرابی اُسے حرام بنادیتی ہے.....!!
آج صبح سکول جاتے ہوئے فٹ پاتھ پہ بیٹھے ایک بوڑھے فقیر کے پاس ایک اُسی عمر کے بوڑھے بزرگ اپنی سائیکل روک کر کھڑے ہوئے اور چند نوٹ اُسے تھمادیے.....میری نظر اُس پیسے دینے والے بزرگ پہ پڑی تو مجھے بڑی حیرت بھری مسرّت ہوئی....😍...وہ بابا جی میرے ہاسٹل کی گلی میں ریڑھی پہ کیلے بیچتے ہیں....روز میں انہیں وہاں کھڑا دیکھتی ہوں....کبھی بغیر ضرورت کے بھی کچھ پھل خریدوں تو ایک دو کیلے اضافی ڈال دیتے ہیں...اور ایک دو بار بقایا نہ لینا چاہا تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے واپس کردیا....💗
ایک ہی عمر کے دو بزرگوں کے اندازِ زندگی دیکھ کر رزق عبادت کا تصور پھر سے ذہن میں آگیا.....رزقِ حلال واقعی عین عبادت ہے....💖 
"الکاسب حبیب اللّٰہ".....
کوشش کیا کریں کبھی بغیر ضرورت بھی ایسے لوگوں سے کچھ خرید لایا کریں....
میرے چچا جان کی عادت ہے کہ وہ روزشام مختلف ریڑھیوں سے بہت سا گلا سڑا پھل خرید لاتے ہیں....
یہ ان کی خاموش مدد ہوسکتی ہے.....بقول شاعر 
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو...
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں!!
بس سٹینڈ پہ ناریل، نمکو، رسالے بیچنے والے بہت سے لوگ....جوتا پالش کرنے والے بچے....چند پھل ریڑھی پہ سجائے ضعیف....یہ سب ہماری توجہ اور مدد کے اصل حقدار ہیں!!
ان کا خیال رکھیے....
اور اپنا بھی....مالک آپ سے راضی ہو!! 

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Monday, 25 February 2019

دھنک کے چار رنگ

💚سگریٹ پیتے لڑکے کو ابا جی نے منع کیا تو وہ ابا جی سے چھپ کے پینے لگا.....
میری کسی دوست سے کسی موضوع پہ بحث ہوئی تو اُس نے دلیل پہ قائل ہونے کے باوجود مجھے سٹیٹس سے hide کرنا شروع کردیا....😄  
لوگوں سے دوستی کر لیں...خالص ناصحانہ رویہ اس دور میں چِڑ اور بے زاری پیدا کرتا ہے بہتری نہیں!!

💚 سوشل میڈیا انسان کی شخصیت کا آئینہ دار تو ہو سکتا ہے مگر اس کی لائف سٹوری نہیں.....(ممکن ہے کسی نے اپنی مرضی کی رائے بنانا چاہی ہو 😋)
خوامخواہ اُلٹے مطلب نہ نکالا کریں!

💚 سب سے قیمتی چیز جو آپ کسی کو دے سکتے ہیں وہ وقت ہے......لوگوں کو وقت دیں....انسانوں کو موضوعات بنائیں!!

💚 ہر بات عقل کے ترازو میں تولنا ضروری نہیں....کبھی کبھی بےوقوفانہ باتیں اور حرکتیں بھی relax رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں....انسان کے اندر کا بچہ  خوش ہوتا ہے.....خوشی کا مادی اور عقلی وجود ہونا ضروری نہیں!!

اپنا خیال رکھیں...بارش ہورہی ہے....موسم خوشگوار ہے....موڈ بھی اچھا ہونا چاہئیے....تازہ نکھرا دھنک جیسا.....
اللّٰہ پاک آپ کی زندگی سے مسائل کے گہرے بادل دور لے جائے...

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 23 February 2019

ایک زود اثر کاسمیٹک

فیس بک کی دیوار پہ چسپاں ایک تصویر نظر سے گزری جس میں ایک پٹی بندھا پاؤں احباب سے دعاوں کی درخواست کررہا تھا....
یاد نہیں محترم تھے یا محترمہ....مگر بہت سے "دردِ دل" رکھنے والے ہمدرد بہن بھائیوں نے دعاؤں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے پیر پہ بندھی پٹی کے خدو خال پہ بھی اظہارِ خیال کیا....🤔
دیوار چونکہ دیوارِ چین کو بھی مات دیتی ہے سو چسپاں اشتہاروں کی بھی بھرمار نظر آتی ہے....
کچھ آگے چلے تو ایک پوسٹ ملی جس پہ ایک دکھی محترمہ 49 دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر "بروکن" یا شاید "disappoint" محسوس کررہی تھیں...لیکن جونہی ہمدرد تسلی دینے کو پوچھتے کیا ہوا...تو نزاکت سے کہہ دیا جاتا..."نتھنگ سپیشل"......🤔
اسی طرح کی بیشتر تحریریں اور تصویریں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں جن میں اپنے غم کے بھرپور اظہار کے بعد لکھا ہوتا ہے...."اپنا غم کسی کے سامنے نہ بیان کرو...لوگ تو گرے ہوئے مکان کی اینٹیں تک اُٹھا لے جاتے ہیں"
حالانکہ ہم اس سے متفق نہیں کہ لوگ اتنے فارغ ہوں کہ چند اینٹیں اٹھانے آپ کے گرے مکان پہ تشریف لائیں....
مفتی نے کہا تھا "دکھ ایک زود اثر کاسمیٹک ہے"..... ہاں ہے....مگر ایسا کاسمیٹک جو آپ کو خوبصورت بناتا ہے نہ کہ پیسٹری.....
غم اظہار کا توجہ کا محتاج ضرور ہے مگر اُسے نمائش کے لیے سرِ بازار مت سجائیں....ورنہ آپ اپنی حیثیت کھو دیں گے....مخلوقِ خدا کی نظر میں بھی اور خدا کی بھی...دنیا کے میلے میں آنسوؤں کا کوئی کاروبار نہیں...("دیوداس" کے پروڈیوسر میری اس بات سے اختلاف کرسکتے ہیں....😄)
خوشی بانٹیں....خوش رہیں...اور غم کو ظرف اور وقار کے ساتھ جھیلیں....
ناصر کاظمی نے کہا تھا نا...
پی جا ایّام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے!!💞



سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 13 February 2019

دوستوں کا گروپ بیھٹا گپ شپ کر رہا تھا کب سے یوں ہی ادھر اُدھر کی باتیں چھڑی ہوئی تھیں، اب تو سب باتیں کر کر کے تھک سے بھی گئے تھے اتنے میں ایک بولی چلو بہت ہو گئی باتیں اب کچھ نیا کرتے ہی.... سب پوچھنے لگیں.. ہاں بتاؤ کیا کیا؟ وہ ایک بولی اب ہم گانے لگا کے سنتے اور انجوائے کرتے ہیں سب اس آئیڈیا پر خوش ہو گئیں.. مگر وہاں پر ہی حاعفہ بھی بیھٹی تھی جو اس فیصلہ سے کچھ خائف سی ہو گئی کہنے لگی آپ لوگ آئیڈیا بدل لو مجھے گانے سننا نہیں پسند۔
سب بہت حیران ہو کے دیکھنے لگیں اس میں کیا ہے یار کچھ نہیں ہوتا ہم تو سنیں گے... حاعفہ نے بات بنتی نہ دیکھی تو وہاں سے اٹھ کر چل پڑی کہ میں مزید آپ لوگوں کے ساتھ محفل میں شریک نہیں ہو سکتی... سب اس کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھنے لگیں اور پھر اپنی ہی مستی میں مصروف ہو گئیں...
کچھ دن بعد پھر دوستوں کا تفریح کے لئے فنکشن میں جانے کا پروگرام بن گیا جہاں پر ناچ گانے وغیرہ کا انتظام کیا گیا تھا اب سب جو جا رہی تھیں تو حاعفہ بھی انکے گروپ کا حصہ ہے.. اسے بھی سب کہنے لگیں چلو ہمارے ساتھ مگر وہ انکار کیے گئی.. نہیں میں نہیں جا سکتی وہاں گانوں کی محفل ہو گی اور مجھے گانے سننا نہیں پسند سب دوستوں کو غصہ آ گیا کہ کم از کم ہماری خاطر ہی ساتھ آ جاؤ...
حاعفہ بولی اگر ایسا ہی ہے تو آپ لوگ بھی میری خاطر ہی مت جاؤ اس محفل میں، مگر وہ تو ارادہ باندھ چکی تھیں کہاں رکنے والی تھیں اور حاعفہ کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں...
رات کو واپسی پر سب حاعفہ سے سخت ناراض تھیں کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں گئی۔ سب ایک ایک کر کے اپنے کمروں میں چلی گئیں مگر حیا وہیں رک گئی.. حاعفہ کے پاس....
حیا پوچھنے لگی حاعفہ کیوں کرتی ہو ایسا.. دیکھو سب کو ناراض کر دیا، تم کیوں نہیں ہمارے ساتھ چلتی ہو.. تمہیں گانوں سے کیا مسئلہ اس میں برائی ہی کیا ہے آخر؟
حاعفہ: دیکھو حیا میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ گناہ ہوتا گانے سننے سے اس لیے میں نہیں سن سکتی
حیا: کیا گناہ ہوتا ہے؟
حاعفہ: میں تمہیں آج کچھ وجوہات بتاتی ہوں، جنکی وجہ سے میں گانے سننا نہیں پسند کرتی..
میں گانے اس لئے نہیں سنتی کیونکہ میرے اللّٰہ کو نہیں پسند ایسی موسیقی سننا جو آپ کو مدہوش کر دے یا نشہ سا ڈال دے اور گانے سنتے ہوئے ہماری کیفیت ایسے ہی ہو جاتی نا؟
حیا: (ہاں میں سر ہلایا)
حاعفہ: تو مجھے گانے سننا اس لئے نہیں پسند کہ جو چیز میرے اللہ کو نہیں پسند میں وہ کیسے کر سکتی پسند؟
مجھے گانے سننا اس لئے بھی نہیں پسند کیوں کہ مجھے تلاوت اور نعت سننا پسند ہے.. تو دیکھو نا میں اپنے کانوں کو کیسے گوارا ہونے دیتی کہ وہ ایک بار اللہ کا پسندیدہ کلام سنیں قرآن اور پھر ان ہی کانوں میں موسیقی کی آواز بھی جائے!!!
نہیں مجھے اپنے کانوں کے ساتھ بھی یہ ظلم نہیں پسند میں انکو ایک ہی جگہ پابند رکھنا چاہتی تاکہ روز قیامت میری گواہی دے سکیں...
اور پتا تمہیں پتا سب سے بڑی وجہ کیا ہے نہ سننے کی؟
حیا: کیا؟
حاعفہ: روز قیامت حساب کتاب کے بعد میرا اللّٰہ اور بنی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی آواز میں گانا سنائیں گے اور اتنی خوبصورت آواز ہو گی کہ ہر سننے والا اس میں مدہوش ہو جائے گا... مگر ان گانوں کی آواز ان کانوں میں نہ جا پائے گی جو دنیا میں گانے سنتے تھے اور ان لوگوں کے کانوں میں سیسا پگھلا کر ڈال دیا جائے گا..
لیکن مجھے اللّٰہ کی آواز میں سننے کا بہت شوق ہے نا اس لئے بھی میں اپنے کانوں کو دنیاوی گانوں سے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں...
میں اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز میں سننے کے لئے بے تاب ہوں....
بس یہی کچھ وجوہات ہیں حیا جو مجھے روکے ہوئے ہیں اسی لئے تم سب کو بھی ناراض کر دیتی ہوں لیکن میں یہ چاہتی ہوں آپ لوگ مجھ سے ناراض ہونے کے بجائے میرا ساتھ دو... دیکھو قرآن کریم سننے میں بہت لطف ہے جب دل کرے تو قرآن سن لیا کرو..
حیا: حاعفہ تم نے تو سچ میں میرے دل کی بند کھڑکی کھول دی مجھے نہیں معلوم تھا پہلے انشاءاللہ اب میں بھی نہیں سنوں گی اور سب کو بھی ہم دونوں منع کریں گے..
حاعفہ: ماشااللہ.. یہ ہوئی نا بات چلو اب سو جاتے ہیں پھر صبح جاگ کے ان سب کو بھی راضی کرنا ہے۔
حیا: ہاں چلو ٹھیک ہے.. اللّٰہ حافظ شب بخیر..
حاعفہ اب پُر سکون ہو گئی تھی اسکی ایک دوست تو اس کا ساتھ دینے پر راضی ہوئی امید ہے باقی بھی اب مان لیں گی انشاءاللہ...

ظلِ ہما
کیپٹن سائبریگیڈ سکواڈ پازیٹو پاکستان

Tuesday, 12 February 2019

آداب معاشرت

ہاسٹل میں جب میں نے پہلی بار  قرآن کلاس لی تو جو پہلی سورت ہمیں پڑھائی گئی وہ سورت حجرات تھی........💗
پھر لقمان...عنکبوت....اور پھر مزید.....
میرے ذہن میں سوال تھا کہ پہلے سپارے سے شروع کرنے کے بجائے ہم پہلے ان سورتوں کا مطالعہ کیوں کررہے ہیں...لیکن سورت مکمل کرنے کے بعد جواب خودبخود سامنے آگیا....
یہ چند سورتیں وہ سورتیں ہیں جن میں معاشرتی آداب اور حقوق العباد کے حوالے سے اہم اہم باتیں پوائنٹس میں بتائی گئی ہیں....
اور کسی بھی قرآن کے طالب علم کو سب سے پہلے یہی چیزیں سیکھنا ضروری ہیں....بحیثیت مسلمان...اور بحیثیت انسان بھی...کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو بہترین انسان بھی ہو....محض کلمہ گو نہ ہو...
بہرحال...بات ہورہی تھی میری پہلی سورت کی...."حجرات"....❤
سورة حجرات دو اہم نکات پہ مبنی ہے...
1- رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
2- ان سے محبت جو آپ صہ سے محبت کرتے ہیں...یعنی مسلمان
انہی دو نکات کے حوالے سے سورت میں 9 معاشرتی آداب بتائے گئے ہیں...
روزمرہ زندگی کے آداب (daily etiquettes) سکھانے والی سورتوں میں یہ بنیادی سورت ہے....❣
چھبیسویں پارے کی یہ سورت بہت چھوٹی سی ہے....2 رکوع اور اٹھارہ آیات پہ مشتمل....یعنی ایک نشست میں پڑھی جانے والی...💕
تو کسی نشست میں بیٹھیے اور دیکھیے کہ وہ 9 باتیں کونسی ہیں...جن کی وجہ سے اس سورت کو معاشرتی آداب کے سبق کے طور پہ پڑھایا جانا چاہئیے....❣
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 10 February 2019

سکرین سے باہر

ٹیوشن چھُوٹی تو آج عرصے بعد ڈھلتی دوپہر میں کھلا آسمان دیکھنے کو ملا....
یار اچھی چیزیں ہیں یہ بھی....
نیلا...سیاہی مائل نیلا....ہلکا نیلا...اور کہیں کہیں سے سفید....اور وُسعت.....جہاں تک نظر کی حد ہے دیکھتے چلے جائیں....
کہیں کہیں ٹکڑیوں میں سفید دھنکی ہوئی روئی جیسے بادل... ❤
سورج...روشن...چمکدار.... سردیوں کی بھلی دھوپ جو ماں کے لمس کی طرح نرم اور شفیق اور تھپکی دینے والی  ہوتی ہے...💖
پنکھ کھولے اُڑتے پرندے...کہیں ٹکڑیوں میں کہیں ایک دو....بے فکر....بے نیاز....💕
سامنے مسجد کے مینار کے پیچھے سے جھانکتے پیڑوں میں سے ایک کم پتوں اور زیادہ شاخوں والا پیڑ....جس کی شاخیں خالی ہونے کے باوجود قدرت کا حسین آرٹ ورک لگ رہی ہیں...💗
بیک گراونڈ میں کہیں دور سے آتی ہوئی اذان کی دھیمی آواز.....💞
اور حتّیٰ کہ گلی کے آخر تک جانے والی اونچی نیچی چھتوں سے جڑی چھتیں بھی.....(کبھی کسی زمانے میں نانا جان کے گھر سے چھتیں پھلانگتے ہوئے گلی کے آخر تک کھیتوں کی طرف چلے جایا کرتے تھے....تب اظہر فراغ کی زبان میں...
دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا)
بہت خوبصورت ہے یار یہ سب بھی...بند اے-سی والے سجے سجائے اور ہر سہولت سے آراستہ کمروں سے بھی زیادہ شاید....
اور سکرین کی دنیا سے باہر!
شام ڈھلتی تھی تو تایا جان کی چھت پہ روزانہ بلاناغہ نیلی پری پیلی پری، برف پانی، سٹاپو، کوکلا چھپاکی، مہمان مہمان، اور گڑیا کی شادی جیسے ڈھیروں کھیل کھیلتے تھے.....
آوٹ ڈور گیمز.....
ان ڈور گیمز سے زیادہ اچھے ہیں یار!!
قدرتی مناظر مصنوعی سے زیادہ خوبصورت ہیں....
کبھی کبھی سکرین کی دنیا...بند فرنشڈ کمروں...اور "سوفیسٹیکیٹڈ" (پیچیدہ) زندگی سے نکل کر باہر جھانکیں...اچھا لگے گا! 💝

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 5 February 2019

کشمیر

شکریہ کشمیر! تم نے ہمیں چھٹی کا ایک اور دن عنایت کیا....
روزمرہ کی روٹین سے ہم تنگ آچکے تھے....آج سیر و تفریح کے لیے مووی دیکھنے جانے کا پلان تھا مگر یہ ریلیاں.....
پاگل لوگ...خوامخواہ سڑکوں پہ وقت ضائع کررہے ہیں...پرائے مسئلے میں ٹانگ اڑانے کا کیا فائدہ....
لو دیکھو....یہ کسی جگہ سیمینار بھی ہے کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کا....یہ چند سرپھرے جو ابھی بھی کشمیر کے پروگرام کرتے پھررہے ہیں...
ان بےوقوفوں کی وجہ سے اب تک ہمارے بچوں کو کشمیر کا نام یاد ہے....
مگر سنو کشمیر! تم ان کی باتوں کو سیرئیس مت لینا...یہ بھلا کر ہی کیا سکتے ہیں...میں حقیقت پسند ہوں..تمہیں بتادوں کہ 5 فروری تو ریلیکسیشن کا اور نئی موویز دیکھنے کا دن ہوتا ہے....مگر یہ کم بخت کچھ لوگ ابھی بھی اس ضد پہ اڑے ہیں کہ تمہاری آزادی کی بات کریں گے....
بول کے لکھ کے... اور تو اور سٹیٹس لگا کے تمہارا ذکر چھیڑ دیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو یاد رہے کشمیر اپنی آزادی کی جنگ لڑرہا ہے اور کشمیر میں مسلمان رہتے ہیں...ہمارے جسم کا حصہ...
اب انہیں بھلا کون سمجھائے!!
(نوٹ: غور ضرور کیجیے گا کہ آپ کو کشمیر یاد ہے یا نہیں)
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 3 February 2019

کیا کہیں گے لوگ

ایک جملہ جو ہم سب بولتے ہیں....ایک بات جو سب کی زندگیوں کا روگ بنی ہوئی ہے....
*کیا کہیں گے لوگ*.....
کون لوگ؟؟؟
آپ....
جی ہاں آپ...جو پڑھ رہے ہیں!! 
میں...جو لکھ رہی ہوں....
ہم سب....ہمی تو ہیں وہ *لوگ* جن سے ہم تنگ ہیں....
ایک دوسرے کی زندگیوں میں بے جا مداخلت....نکتہ چینی....تجسس...غلط گمان....غیر ضروری تبصرے....
کہیں کسی اور سیارے سے نہیں آتی یہ "لوگ" نامی مخلوق....یہیں کی ہے....آپ اور میں....ہم سب....
پھر شکوہ کیسا اور شکایت کس سے....🤔
قرآن جو زندگی کی کتاب ہے....اپنے مخاطب کو صاف الفاظ میں سکھاتی ہے..."ولا تجسسو"....
(اور ٹوہ میں نہ رہو)
اور پھر....
"اجتنبو کثیرا من الظن. ان بعض الظن اثم"
بہت زیادہ گمان نہ کرو...کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں.
(سورت حجرات)
یقین کیجیے اس مسئلے کا صرف اسی صورت سدِ باب کیا جاسکتا ہے...اگر ہم "کیا کہیں گے لوگ" کہتے ہوئے آئینے میں جھانک لیں!
آپ کی ایک غلط بیانی کسی کی زندگی بھر کی پریشانی بن سکتی ہے...آپ کا ایک بے تکا اندازہ کسی کو ہیرو سے ولن بنا سکتا ہے....آپ کا ایک غیر تصدیق شدہ جملہ بہتان بن سکتا ہے....
کسی بادشاہ کے دربار میں ایک درباری بھاگتا آیا اور بھرے دربار میں بولا...بادشاہ سلامت آپ کی بیٹی چلی گئی ہے...
بادشاہ نے سر جھکا لیا....
لوگ اٹھ کے چلے گئے تو جملہ مکمل ہوا...اپنے شوہر کے ساتھ...
مگر اب کیا....بھرے مجمع نے تو کچھ کا کچھ سنا...اور پھر خود سے نتیجہ بھی اخذ کر لیا....!!
بولیں...تو بولنے سے پہلے بات کو تول لیں...ورنہ بات آپ کو بے مول کردے گی!!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 30 January 2019

خاموشی کی آواز

یہ خامشی وہ بلا ہے کہ چیخ اٹھے اگر
 تو سننے والوں کے کانوں سے خون بہتا ہے 
(جہانزیب ساحر)
آدمی صدیوں سے بولتا آیا ہے اور آواز سے شناسا رہا ہے...مگر خاموشی وہ آواز ہے جسے سننے کا ہنر بہت کم لوگوں کو آتا ہے....اور درحقیقت یہی ہنر سماعت کی اصل ہے...
 خاموشی عادت نہیں ہوتی خاموشی تو کسی وجہ سے ہوتی ہے ایسی وجہ جو نہ تو انسان کہہ ہی سکتا ہے اور نہ  اسے سہہ سکتا ہے۔ خاموشی وہ تاوان  ہے جسکی ادائیگی تاحیات کرنا پڑتی ہے، انسان چاہتا ہے کہ وہ بولے لیکن کس سے؟ کس سے کہے وہ سب جسے سن کے کوئی اسے پرکھے نہ بس اسے سن لے..... منصف بن کر صحیح اور غلط کے ترازو میں تولے نہ بلکہ صرف سنتا ہی جائے۔ انسان اسی تلاش میں بھٹکتا ہے...اور پھر تھک کر اپنا مخاطب خود کو بنالیتا ہے... خود سے کہتا ہے، خود کو سنتا ہے... خاموشی آواز کرتی ہے وہ آواز جسکے شاہد لوگ بنتے ہیں اور وہ آپکو آدم بیزار کہنے لگتے ہیں لیکن وہ اس تلخ حقیقت سے واقف نہیں ہوتے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے کہتے تھک گئے....مگر کوئی سامع نہ ملا.... اور جو ملا بھی تو محض اس لیے کہ فیصلہ کر سکے...تبصرہ کرسکے....منصف بن سکے....نہ کہ بوجھ ہلکا کرے!

اگر ہم پرکھے بغیر صرف سننے کی عادت ڈال لیں تو نجانے کتنے ہی لوگ خاموشی اختیار کرنے کی بجائے کہہ دینے کی عادت ڈال لیں اور سماج میں خاموشی کی آواز نہیں بلکے لوگوں کی ہسنے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔

صائمہ اعجاز
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 29 January 2019

تعلق کی ڈور

جب کبھی میں کسی کے منہ سے یہ جملہ سنوں کہ...
مجھے اپنے ماموں کے گھر گئے پانچ سال ہوگئے ہیں...
یا
چچا لوگوں کا گھر ہماری گلی میں ہی ہے مگر سات سال پہلے میں ان کے گھر گئی تھی..وغیرہ.. وغیرہ...
تو مجھے بہت حیرانی اور اس سے زیادہ افسوس ہوتا ہے....
اگرچہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری زندگیوں میں غیر ضروری ٹانگ اٹکانے والے اور تنقیدی ایکسرا کرتی نظروں سے دیکھنے والے زیادہ تر ہمارے رشتہ دار ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی....پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں...
لوگوں سے گُھلنا ملنا....رشتے اور تعلق نبھانا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے!! 
پھر ایک چیز اور کہ تعلقات کسی شرط پہ نہ نبھائیں.....کیا ہوا جو وہ نہیں آیا...ہم چلے جاتے ہیں...
اور کیا ہوا جو انہوں نے فون نہیں کیا....ہم کر لیتے ہیں!! 🙂
اپنی جَڑوں سے جُڑے رہنے میں ہی ہماری بقا ہے اور خوبصورتی بھی💖
چند ایک ٹِپس....🙂🙃 
💌 ہر عید تہوار پہ معمول بنالیں سب رشتہ داروں کو فون کرنے کا
💌 مہینے میں ایک بار اپنے سارے دوست احباب سے حال احوال دریافت کرلیا کریں تاکہ ربط بنا رہے!
💌 موسم گرما اور سردیوں کی چھٹیوں کو گھر پہ ضائع نہ کریں...مہمان بلا لیں یا مہمان بن جائیں 🙃
💌 جن لوگوں سے عرصہ دراز سے کبھی نہیں ملے...ان سے کچھ وقت فرصت کا نکال کر مل لیں....غمی کے موقعے کا انتظار نہ کریں! ☹
💌 صلح میں پہل کرنا ہی اصل ظرف ہے...
مفہومِ حدیث ہے  کہ جو حق پہ ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے میں اس کے لیے جنت میں ایک گھر کا ضامن ہوں💖
رشتوں کی ڈور کو چھوٹنے نہ دیجیے......اور کسی کے لیے نہ سہی خدا کی رضا کے لیے!!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 24 January 2019

درد کا امرت

کچھ دن پہلے ایک انگریزی کتاب کا سرِ ورق نظر سے گزرا..
"The nectar of pain"
درد کا امرت
نیکٹر..اردو میں "امرت".. اصل جوہر کو کہتے ہیں
اور عربی میں اس کے لیے "رحیق" کا لفظ استعمال ہوتا ہے....جنت کی خالص شراب.....اصل رس....
دراصل درد بھی ایک نعمت ہے.....اگر اس سے امرت کشید کرنا آتا ہو..
اس کا اپنا ایک ذائقہ ہے..
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی
خدا نے خود تک آنے کے بہت سے راستے بنائے ہوئے ہیں...ان میں سب سے زیادہ محبوب رستہ اُس کے لیے درد کا راستہ ہے....تبھی تو اُس نے ہمیشہ اپنے پیارے اپنے محبوب...اپنے عزیز لوگوں کو سب سے زیادہ آزمایا....حالانکہ انسانی فطرت اس سے بالکل اُلٹ ہے....ہم جن سے پیار کرتے ہیں...انہیں کسی بھی قیمت پہ دُکھ میں مبتلا نہیں کرتے...
مگر اُس کے اپنے طریقے ہیں...وہ جنہیں سب سے زیادہ چاہتا ہے اُنہیں سب سے زیادہ آزمائش میں مبتلا کرتا ہے...
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا... 
اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
دنیا کے بڑے بڑے شاہکار ہمیشہ درد کی کوکھ سے جنم لیے ہیں...♥
ممتاز مفتی نے ایک جگہ لکھا تھا....بانسری میں چھید ہوں تو سُر پیدا ہوتا ہے...
درد کو رائیگاں نہ جانے دیجیے...
اس سے کام لیجیے......!! وہ کام...جو سہولت نہیں کرسکتی!
سیماب عارف 
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان

Thursday, 17 January 2019

سائیڈ رول

 دیکھی جانے والی فلموں میں ہمیں ہیرو کی مکمل کہانی دکھائی جاتی ہے اور سائیڈ رولز کی زندگی بہت ہی مختصر کر کے دکھائی جاتی ہے اور ہمیں بھی یہی لگتا ہے کہ  تمام تر پریشانیاں، نئے تجربات، نئے مواقع، ناکام ہوجانے کے بعد ایک بہت بڑی کامیابی، ایک اچھی  ہمسفر کا ملنا، اسکی ازدواجی زندگی میں دھوکا ہونا اور تمام تر نشاط افزاء لمحات صرف ہیرو کی ہی زندگی میں آ سکتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے دن کا بیشتر حصہ سیاسی لیڈرز کے متعلق بات کرنے میں گزار دیتے ہیں اور انکی زندگیوں کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ خود کو بے وقعت جاننے لگتے ہیں۔ اور اسکا لاشعوری اثر ہماری حقیقی زندگی پہ کس طرح پڑتا ہے ہم اسکو کبھی ملحوظِ خاطر ہی نہیں لاتے۔
ہمارے دوستوں میں بھی ایک ایسا دوست موجود ہوتا ہے۔ جسے ہم اپنی کہانی کا سائیڈ رول تصور کرتے ہیں۔ اور    جسے ہم سائیڈ رول تصو ر کررہے ہوتے ہیں آگے اسکی بھی ایک مکمل  کہانی ہوتی ہے۔ اور اُسکی کہانی میں بھی ایک سائیڈ رول موجود ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ بتدریج یونہی جاری و ساری رہتا ہے۔
چونکہ اپنی کہانی میں ہیرو ہم خود ہوتے ہیں اس لئے ہمیں کوئی دوسرا ہیرو مل ہی نہیں پاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے سب سائیڈ رول میں ہی چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب  اس کا اثر کیا ہوتا ہے کہ ہم خود کو خود کے تصور کیے ہوئے اونچے مقام پہ رکھ لیتے ہیں اور خود کو باقی سب سے جدا بھی تصور کرنے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں خود کے علاوہ کسی کی بیماری و پریشانی نہ محسوس ہوتی ہے اور نہ نظر آتی ہے۔ آپ اور میں جب سرکاری ہسپتال جاتے ہیں اور اُدھر جا بجا مریض پڑے نظر آتے ہیں تو ہم انکو دیکھ کر ڈر تو ضرور جاتے ہیں۔ مگر کچھ چھُپی ہوئی سی بیزاری بھی محسوس ہوتی ہے۔
ایسا اس لئے ہے کہ ہم خود کو کسی اور دنیا کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ جو بیمار لوگ ہیں انکا کام ہی بیمار ہونا ہے اور یہ اسی وجہ سے یہاں موجود ہیں۔ شاید ہم انہیں ایک  الگ ڈیپارٹمنٹ کے لوگ تصور کر لیتے ہیں جو بیمار ہونے کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔
ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ تب بھی ہوتا ہے جب ہم  کچھ بھیک مانگنے والوں کو سڑک کی سائیڈ پہ بیٹھا دیکھتے ہیں۔ کیا اُنکو دیکھ کر بھی تو ہمیں یہی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ لوگ بھیک مانگنے کیلئے ہی بنے ہیں۔
یارو! مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے کوئی بھی ہمیشہ بھیک مانگنے یا بیمار ہونے کے لئے نہیں بنا ہے۔ یقین مان لو اُسکے پاس ایسی کوئی سند نہیں ہے۔ ہم میں سے ہی لوگ اپنی اپنی باری پہ بیمار ہو کر ہسپتال پہنچتے ہیں۔ اور ہم میں سے ہی کچھ لوگ روڈ پر بھیک مانگتے پائے جاتے ہیں۔ اور یقین  ہمیں تب آتا ہے جب ہم خود اپنی ٹوٹی ٹانگ لیکر اسی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں جدھر ہمیں خود کے علاوہ سب مریض نظر آتے تھے۔ اور جب ہم ایک تجربے سے گزر جاتے ہیں تو پھر ہم پہ حقیقت عیاں ہوتی ہے ۔ اور پھر وہ حقیقت ہم دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر افسوس  کوئی آپکو سننا ہی نہیں چاہتا اور جب اس شخص پہ بھی وہ حقیقت کھل جاتی ہے تو وہ بھی آپکی صف میں آجاتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ تجربے کا ہے کیونکہ آپ اور میں کسی کی ٹھوکر سے تو سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ مگر جب تک خود اس ٹھوکر سے مستفید نہ ہو جائیں۔
ایک آنکھوں دیکھا  قصہ آ پکو سنانا چاہوں گا۔ میرے بڑے بھائی صاحب جنکا بزنس اسلام آباد کے ایک بڑے ہی خوبصورت علاقے ایف ٹن مرکز میں تھا۔ اسلام آباد جیسا کہ خود بھی خوبصورت اور  اداؤں والا شہر ہے تو وہاں پہ زیادہ ترلوگ بھی کچھ اسی طرز کے آتے ہیں۔ جن کیلئے عام لوگوں سے بات کرنا یا انکو انسان سمجھنا ذرا مشکل سا کام ہوتا ہے۔ میں سب کی نہیں کچھ قیمتی اور مہنگے لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔ میرے پاس میرے  کچھ قمیض تھے اور میں انکی آلٹر کروانے کی غرض سے ایک ایسی مارکیٹ میں اترا جو بیسمنٹ میں بنی ہوئی تھی۔ وہاں تقریباََ ہر دکان کے باہر ایک کڑھائی کی مشین والا یا ہاتھ سے کپڑوں پر ملبوسی کام کرنے والا اپنا ایک چھوٹا سا اڈہ لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ اور سب آوازیں مل کر ایک نئی طرز کی آواز یا شور تھا جسے میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ اسی دوران میں نے ایک درزی کی دکان پہ دو حضرات کو جھگڑتے دیکھا۔ چونکہ مجھے بھی درزی سے ہی کام تھا تو میں دکان کے باہر ہی ایک سٹول پر بیٹھ گیا۔
ایک برانڈڈ سوٹ اور ٹائی میں ملبوس شخص جو کہ شاید اپنے دفتر سے سیدھا ادھر ہی آیا تھا۔ وہ اس درزی سے لڑ رہا تھا کہ تم نے میری بیوی کے کپڑے تیار کیوں نہیں کئے جبکہ تمھارا وعدہ دو دن پہلے کا تھا اور آج میرا دوسرا چکر ہے۔
دوسرے بھائی صاحب کا کہنا تھا کہ میری بیوی کی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے مجھے مجبوراََ دکان کو دو دن  بند رکھنا پڑا اور میں کل شام تک آپکے کپڑے تیار کردوں گا۔
اسکے جواب میں دوسرے بھائی صاحب نے کہا کہ کیا بکواس ہے تم لوگوں کے ہاں ہر روز کوئی بیمار یا مرتا ہی رہتا ہے۔ اسکی اس بات پر وہ دکان دار بھڑک اٹھا اور کہنے لگا جناب  بیماری اور موت تو صرف اسی کے ہاتھ میں ہے جس نے آپکو زیادہ پیسہ دیدیا اور مجھے ابھی تک نہیں دیا۔
آپ میں اور مجھ میں فرق صرف پیسے کاہے یہ پیسے کا فرق نکل جائے تو آپ مجھ جیسے عام آدمی سے بھی کہیں گئے گزرے ہیں۔ یہ صرف پیسہ ہے جو  آپکے غرور میں شامل ہے۔ اس دوران بات کرتے ہوئے اسکی زبان کانپ رہی تھی مگر میں نے محسوس کیا وہ اس شخص سے ڈر نہیں رہا تھا بلکہ وہ واقعی ہی  اپنی حالت مجبوری اور بیوی کی طبعیت  کی وجہ سے پریشان دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے کہا میں کوشش کرتا ہوں آج رات کو ہی میں آپکا کام مکمل کردوں اور آپکو انتظار کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے میرا لڑکا آپکے گھر پہ ہی دے جائے گا ابھی مہربانی فرما کر تشریف لے جائیے۔ اس کے بولنے کے دوران وہ شخص ایک بات بھی نہ بول سکا اور اسی دوران اسکا ڈرائیور بھاگتا ہوا آیا اور بولا سَر اوپر بی بی جی کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ شخص وہاں سے بھاگتا ہو چلا گیا۔
اس روز ایک بات سمجھ آ گئی اصل حقیقت غرور اور ہماری  سوچ میں پوشیدہ ہے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
''اگر تمہیں کوئی چیز چھوٹی نظر آ رہی ہے تو یقیناََ  تم اسے دور سے دیکھ رہے ہو یا غرور سے''
یارو! اصل بات ہماری سوچ کی ہے جو کبھی ہمیں ہیرو بنا دیتی ہے اور ہم خود کو سب سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں اور کبھی فلم کا ولن بنا دیتی ہے کہ ہم خود کو ہی برا ترین تصور کرنے لگتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھنا کہ حضرت  آدم ؑ سے لیکر اور اس وقت تک جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ہر ایک شخص کی ایک مکمل کہانی ہے کوئی بھی سائیڈ رول کے لئے پیدا نہیں ہوا ہے۔
اگر آپ اپنی کہانی میں سائیڈ رول ادا کررہے ہیں تو اسکی وجہ آپ خود ہیں۔ آ پ بھی اپنی زندگی میں ہیرو بن سکتے ہیں۔ مگر صرف اپنے اعمال اور سوچ کی بنیاد پر۔
جیسا کہ ہمارے نبی محمد مُصطفٰےﷺ اس کائنات کے سب سے بڑے اور افضل ہیرو ہیں جو اپنی زندگی  میں بھی ہیرو  تھےاور آج ہم سب کی زندگی کے بھی ہیرو ہیں۔
میں اور آپ  بھی دوسروں کی کہانی کے ہیرو بن سکتے ہیں اگر ہم  اپنی زندگی میں تمام سائیڈ رول سمجھنے والوں کو  بھی اپنی زندگی میں ہیرو کا رول دے دیں اور ہیرو کی طرح   جینے کا راستہ دکھا دیں۔
مگر ایک بات واضح رہے کہ سب سے پہلے آپکو خود کو  ایک مثبت  اور سچا ہیرو بنانا ہے۔ اسکے بعد ہی آپ کسی اور کو وہ رول دینے کے قابل ہو سکیں گے۔
''کیونکہ خالی برتن سے آپ کچھ بھی نہیں بانٹ سکتےتو آپکو پہلے اپنے برتن کو بھرنا ضروری ہے''
اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خود ہی سائیڈ رول میں رہنا پسند کرتے شاید وہ سامنے آنے سے ڈرتے ہیں یا سامنا کرنے سے یا پھر وہ خود کی اہمیت ہی نہیں جان پاتے۔ مگر ایک بات ذہن نشین رہے کسی کو ہیرو کا رول دیکر اور خود  اسکے سائیڈ رول میں آجانا بھی بزرگی ہے۔
ایک بات جان اور سمجھ لیجئے جس طرح ہماری ماں ہمیں کمزور اور ناکام دیکھ کر خوش نہیں ہو سکتی۔ عین اسی طرح بلکہ اسے بھی کہیں زیادہ ہمارا خدا بھی ہماری ناکامی اور کمزوری پر ناخوش ہوتا ہے۔
اگر ہماری ماں کے اختیار میں سب کچھ ہو تو وہ ہمیں کبھی بھی خالی نہیں رہنے دے گی اور جبکہ ہمارے خدا کے پاس تمام تر اختیارات ہیں تو ہم کیسے خالی رہ سکتے ہیں۔ وہ تو ہمارے کشکول اور دلوں کو ہمیشہ اپنی رحمتوں اور خزانوں سے بھرنے کیلئے تیار ہے۔ بشرطیکہ ہم اسے اپنا جان کر مانگ سکیں اور کچھ نہ بھی مانگ سکیں تو صرف مانگنے کا طریقہ ہی مانگ لیں تو بھی سب مل جائے گا۔
اس نے اپنے بندوں کو اتنا ہلکا نہیں بنایا جتنا کہ وہ خود کو سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اس بات کو نا جانے کیوں بھول جاتا ہے کہ خدا  اپنے بندوں کی ہمیشہ فکر میں ہے۔ لیکن صرف وہ بندہ ہے جو اس سادہ سی بات سے  بے خبر ہو کر خود کو ذلیل اور رسوا کر رہا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا ہے کہ ''کمزور تو صرف میں ہوں جبکہ میرا رب تو بڑی قوتوں والا ہے''
اور اسکے ہاں تو سب ہیرو ہیں کوئی بھی سائیڈ رول نہیں۔
دعا ہے کہ اللہ ہم سب کے دلوں کو خیر اور محبت کی جانب موڑ دے اور بیشک وہ ہر چیز کا حاکم ہے آپکا اور ہمارا خدا نگہبان۔
سید تفسیر عباس رضوی 

Wednesday, 16 January 2019

الله بڑا ہے ...

اللّٰہ بڑا ہے.....
بس وہی تو بڑا ہے.....بڑائی صرف اُسی کے لیے ہے....
لاکھوں کروڑوں سیاروں اور ان کی دنیاؤں کا مالک.....سب سے بڑا سب سے عظیم....پھر بھی کروڑوں کہکشاوں کے لاکھوں سیاروں میں سے ایک سیارہ زمین کی حدود میں ہزاروں ملکوں میں سے کسی ایک ملک...اور اس ایک ملک کے سینکڑوں شہروں میں سے کسی ایک شہر...اور اس ایک شہر کے بہت سے لوگوں میں سے دور ایک گوشے میں بسنے والی ایک لڑکی کے دل کے حال سے واقف ہے....♥
یار کیا کمال بات ہے نا.....اور اُس سے بھی کمال پتہ کیا...کہ جس طرح اتنی بڑی کائنات میں اُس ایک لڑکی کے دل کے کونے میں چھپی بات جانتا ہے...اُسی طرح....بالکل ایک سے فوکس کے ساتھ آپ کے دل کا حال بھی جانتا ہے...💓
اور صرف آپ پہ ختم نہیں...اس کائنات کی حدود میں بسنے والے ہر انسان کے دل کے اُسی طرح قریب ہے....💖
محسوس کیجیے...

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 15 January 2019

اک ذرا سا چھیڑیے

بھیڑ میں چلتے ہوئے آنٹی کو کاندھا لگ گیا تو وہ چیخنے لگیں..."اندھی ہو"..
کچن میں دھو کے رکھے گئے کپ میں کوئی چائے پی گیا تو کپ کے مالک کی آواز "یہ کون کمینہ....."
گدھا گاڑی والا کار والے کے سامنے آگیا اور کار کے مالک کا اتر کر گدھا گاڑی والے سے جھگڑا... تُو تکار اتنی بڑھی کہ گاڑی سے پستول نکال کر چلادی گئی....
پہلی دو مثالیں روزمرہ کے کچھ دنوں کی ہیں...اور تیسری مثال گزشتہ برس گوجرانوالہ شہر میں پیش آنے والے ایک واقعے کی...
ہر ایک غصے میں....ہر دوسرا چیخ چِلّا رہا ہے.....سب آبلے کی طرح پُھوٹ بہنے کو تیار.....
زبان کی خندق کھولے ہڑپ جانے کے لیے تیار.....اور ضرورت پڑنے پہ ہاتھ جانوروں کی طرح کھلے چھوڑ دینے پہ بھی...
اُف!!! عدم برداشت کی کوئی حد نہیں...
لوگ بھرے بیٹھے ہیں...اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے ہوتا ہے کیا.....!!
ہاں...مان لیا...کہ حالات نے سخت دل بنا دیا ہے....یا پریشانیوں کا غبار زیادہ ہے...وغیرہ وغیرہ....مگر یار...کون یہاں غم سے آزاد ہے...
کس کا جیون صرف سکھ ہی سکھ لیے ہے...کس کو مسائل کا سامنا نہیں....کون پریشانی نہیں جھیل رہا...
کیا کہا؟؟ آپ کی پریشانیاں زیادہ بڑی ہیں...یقین جانیے سب کے لیے ان کے مسائل اتنے ہی بڑے ہیں...اس کے باوجود کوئی بھی اپنے مسائل کسی دوسرے کے مسائل سے exchange نہیں کرنا چاہے گا....
سو...اپنے غلط رویوں کو....عدم برداشت کو....حالات کی مجبوری کا نام نہ دیجیے.....
اپنی کڑوی زبان کے لیے سچ کا ملمع استعمال نہ کریں....💔
اپنے دل دکھانے والے رویوں کے لیے "straight forward" کی اصطلاح نہ اپنائیں....💔
دلوں کی سختی سے پناہ مانگیں....زبان کی نرمی اپنانے کی کوشش کریں....خود کو کبھی کبھی آنسوؤں کا پانی دے کر زرخیز کر لیا کریں....♥
حِلم اور درگزر کا رویہ اپنانے کی کوشش ضرور کریں.....❤ ورنہ معاشرے کا حبس مزید بڑھ جائے گا!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Monday, 7 January 2019

سوشل میڈیا

کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے ہاتھ میں اس وقت کیا ہے؟؟ 
اب آپ سوچ رہے ہوں گے وہی جس کی وجہ سے دن رات ماں سے طعنے سنتے ہیں...😜
جی ہاں! یہی....😄 لیکن یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے....یقین کیجیے یہ ایک جدید ہتھیار ہے.....کیونکہ جنگیں اب میدانوں کے بجائے سکرین پہ لڑی جارہی ہیں....
شہروں اور ملکوں پہ حملہ بعد میں ہوتا ہے....سوچ اور نظریات پہ پہلے....
آپ کے خیالات..
آپ کے عقائد....
آپ کے نظریات....
اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والے اعمال تک....سوشل میڈیا کے ذریعے قابو کیے جاسکتے ہیں....دورِ حاضر کا سب سے بڑا جن ہے سوشل میڈیا.....
ایک کلِک...آپ کی نیکی بھی شمار ہو سکتا ہے اور خطا بھی....
لوگوں کی آراء اس کی وجہ سے بنتی بگڑتی ہیں....
محض معلومات اور تفریحی مواد کا پلندہ نہیں یہ.....یہ وائرس ہے.....جس کی مدد سے ہر صحیح غلط کو منٹوں میں پھیلایا جاسکتا ہے....
سو اسے صرف وقت گزاری کا ذریعہ نہ سمجھیں....
سوشل میڈیا جدید دور کا ایسا ٹُول (آلہ) ہے جس سے آپ لوگوں کے اذہان کی مرمت کرسکتے ہیں...
خدارا اس پہ سنجیدگی سے سوچیے....!!
سوشل میڈیا آپ کے لیےمحض تفریح اور وقت گزاری کا ذریعہ نہ ہو...بلکہ کسی فلاح کسی بہتری کے لیے استعمال ہو....اوروں کی نہ سہی...اپنی ہی سہی!!
سوچیے گا ضرور!


سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹوپاکستان 

Saturday, 5 January 2019

احساس

یہ گاؤں اپنی روایتوں سے جڑا ہوا ہے
یہاں کے بچے دھنک کے رنگوں سے کھیلتے ہیں

کسی کو ان کی مثال دینے سے پہلے سوچو
یہ زندگی کے مشاہدے میں ابھی نئے ہیں
(زہرا قرار)
زندگی کا ذائقہ.....کافی کے کپ کی طرح اُنسیت مانگتا ہے....
چیزیں توجہ مانگتی ہیں....گملے میں لگا پودا ایک دن کی کوتاہی سے مرجھانے لگتا ہے.....
کھڑکی کے شیشے پہ پڑی گرد صاف نہ کی جائے تو باہر کا نظارہ نہیں کیا جاسکتا....
مشاہدے کی آنکھ بینا نہ ہو تو پیڑ صرف پیڑ ہیں....دکھ میں سانجھی نہیں...
اور بینا ہو تو خشک پتے کی چرمراہٹ بھی دل پہ لگتی ہے....
آدمی بس دو جمع دو چار میں دلچسپی رکھتا ہو تو آسمان کو ڈھانپے شفق میں کیا خوبصورتی.....اور چیزوں کو زُووم کر کے دیکھنے والا ہو تو چٹانوں کی دراڑوں میں اُگے سبزے پہ سبحان اللّٰہ کہہ اُٹھے....💕
کسے دکھ نہیں یار.....سب یہاں اپنے اپنے سینوں میں اپنے اپنے حصے کی آگ لیے پھررہے ہیں....مگر پھر بھی شکر کرنے کو بہت کچھ ہے♥.....محسوس کرنے کو بہت سے احساس....توجہ دینے کو بہت سی چیزیں....
"میسّر" پہ شکر کرنا سیکھ لیں.....ورنہ خوشی سڑک پہ دور سے نظر آنے والے پانی کی طرح آپ کو بھگائے گی....مگر ہوگی نہیں!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 3 January 2019

سکرین شاٹ

کچھ عرصہ پہلے کسی "خیرخواہ" نے کسی دوسرے "خیرخواہ" کی ایسی گفتگو کے سکرین شاٹ لے کر بھیجے جو میرے لیے ناگوار تھی... 
میں نے انہیں منع کیا کہ آئندہ وہ کسی کو میری برائی کرتا سنیں تو مجھ تک نہ پہنچائیں...چہ جائیکہ کسی اصلاح کی ضرورت ہو...
والد صاحب بچپن سے ایک بات سمجھایا کرتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کے سامنے کسی کی آپ کے بارے میں کہی گئی ناگوار بات آپ سے کرے...تو وہ آپ کا دوست نہیں...کیونکہ اُس نے دو لوگوں میں بددلی اور نفرت پیدا کی ہے....
ان دنوں ایک عجیب رواج چل نکلا ہے....راز افشانی کا....جسے "سکرین شاٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے....
کسی کی گفتگو کو " as it is" دوسروں کے سامنے رکھنا...
دو لوگوں کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو....اس گفتگو کا بیک گراونڈ، لہجہ، بات، کچھ بھی تیسرے بندے کو کبھی بھی صحیح سے سمجھ نہیں آسکتی یوں سکرین شاٹس پڑھ کے...اور  بغیر کسی ناگزیر وجہ کے بتانا اخلاقی طور پہ بددیانتی ہے...
میں کبھی کبھی حیران ہوتی ہوں ہم کوئی بھی سکرین شاٹ publicly کیسے شئیر کردیتے ہیں...چہ جائیکہ وہ بات کرنا اشد ضروری نہ ہو جائے...اس میں بھی احتیاط کی جاسکتی ہے...صرف متعلقہ بندے تک شئیر کر کے...
ورنہ سابقے لاحقے ہٹا کے بات کی یا سنی جائے تو ہیرو سے ولن اور وِلن سے ہیرو بن سکتا ہے...
مالکِ دو جہاں خبیر و علیم ہے مگر اُس کی رحمت اپنے بندوں کے راز عیاں نہیں کرتی....کوشش کیجیے...جہاں ضروری نہ ہو وہاں ہم دو افراد میں آپس کی بات کسی تیسرے سے نہ کہیں....کیونکہ ہمارا ہر فرد سے تعلق ایک جیسا نہیں ہوتا نہ ہی لہجہ، انداز اور وجہ فون میسجز سے اخذ کی جاسکتی ہے! 

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

شکستہ ہو تو عزیز تر ہے

چاک پہ مٹی کا دائرہ گھماتے ہوئے کوزہ گر کے ہاتھ کی ذرا سی لرزش کوزے میں ٹیڑھ پیدا کردیتی ہے... 
بھٹی میں صحیح سے نہ پکے تو برتن کچا رہ جاتا ہے..جلد ٹوٹ جانے والا...
بازار اُسے قبول نہیں کرتا..💔
دل بھی چاک پہ گھومتے کوزوں کی طرح نازک ہوتے ہیں...کوئی چُوک کوئی بے دھیانی کوئی لرزش ہوئی....اور کوزہ گیا...💔
مگر قدرت کی ادا بڑی نرالی ہے....وہ ان خستہ حال کوزوں کو زیادہ عزیز رکھتی ہے...💕
اقبال نے کہا تھا.. 
نہ بچا بچا کے تُو رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ...
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں..!! 💕
اپنے شکستہ وجود...یا ٹوٹے دلوں کو بے مول نہ جانیے....
انہیں خدا سے جوڑیے....مالک سے اپنے دکھ سکھ کرنے کی عادت ڈالیں...لڑیں جھگڑیں...نخرے کریں..لاڈ اُٹھوائیں..مگر تعلق ضرور رکھیں..♥
لاتعلقی نہ پیدا ہونے دیں...

نوٹ: (ٹوٹنے سے مراد محض محبت میں ناکامی کے نتیجے میں دل میں تیر کی شکل کے ساتھ ٹپکتے خون کے قطروں والی تصویر ہی نہیں...😜
Be mature!! 😄
By the way...us main bhi koi harj nhi.. 😋)

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...