Showing posts with label Abid Iqbal Khari. Show all posts
Showing posts with label Abid Iqbal Khari. Show all posts

Friday, 25 October 2019

ترک اور کرد مسئلے کا تاریخی پسِ منظر


کرد، کردستان، کردش، یہ وہ الفاظ ہے جن سے کرد قوم کی پہچان ہوتی ہے تاریخ کے جبر نے اس پہچان پر بڑا ظلم ڈھایا ہے کرد قدیم اقوامِ عالم میں تاریخی نام رکھتے ہیں ثقافتی پہچان ہو یا قومی پہچان کردوں نے ہمیشہ سے اپنی جداگانہ حیثیت حاصل کی ہے۔
سنہ 1916 میں جہاں برطانیہ اور فرانس نے خفیہ معاہدے کے ذریعے کردستان جہاں ساڑھے تین کروڑ کرد آباد تھے کو چار ملکوں میں تقسیم کیا جن میں ترکی، ایران، عراق، شام، شامل ہے بعد میں کچھ کردوں کو آرمینیا میں بھی تقسیم کیا آرمینیا کو ملا کر پانچ ممالک بنتے ہیں جہاں کردوں کو تقسیم کیا گیا۔ اس جبری تقسیم سے کرد منتشر ہوئے اتنی بڑی تعداد میں بھی خالی ملک یعنی اپنی ریاست سے محروم ہوگئے اس کے باوجود کردوں نے اپنی ثقافت و تہذیب ، روایت و تاریخ اور مشترکہ زبان کی بدولت اپنے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھا-

اسلامک انسائیکلو پیڈیا کے مطابق کردستان کا علاقہ تین لاکھ بیانوے ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے ترکی کردستان کے جو مشہور شہر ہیں ان میں نصیبین، رفا، دیار بکر، شانلی، موش، بِتلس، وان، جزیرہ ابن عمر، دیارِ بکر اور جزیرہ ابن عمر یہ دونوں علاقے دریائے دجلہ کے کنارے پر واقع ہیں اور اتفاق یہ ہے کہ دریائے دجلہ ترکی، ایران، اور شام کے کرد علاقوں کے درمیان بہتا ہے جو کہ کرد ریاست کے لئے بہت بڑی اہمیت کے قابل ہے۔
عراقی کردستان کے مشہور شہر جس نام سے آباد ہے وہ یہ ہیں اربیل اور سلیمانیہ، اربیل تو عراق میں کردوں کا دار الخلافہ ہے، ایرانی کردستان جن علاقوں پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں سننداج، مہ، ایلام، اور کرمان شاہ، شام میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 12.00 مربع کلومیٹر ہے۔ عراق میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 65.000 مربع کلومیٹر ہے۔ ایران میں واقعہ کرد علاقے کا رقبہ 1.25.000 مربع کلومیٹر ہے۔ ترکی میں واقع کرد علاقے کا رقبہ 1.90.000 مربع کلومیٹر ہے۔
کردوں کی پونے دو کروڑ کی آبادی ترکی میں آباد ہے، ایک کروڑ کی آبادی ایران میں ،عراق میں پچپن لاکھ اور شام پچیس لاکھ کرد آباد ہیں۔
کرد ساتویں صدی میں ایمان لائے اور اسلام میں داخل ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ صلیبی جنگوں میں فاتح صلاح الدین ایوبی بھی کرد تھے اور اس مسلم فاتح کی قوم آج جبر و تشدّد میں زندگی بسر کر رہی ہے سلطنت عثمانیہ میں کرد خانہ بدوشوں کے نام سے جانے جاتے تھے ستم ظریفی یہ ہے کہ 1920ء میں مشرقی وسطیٰ میں سیورے معاہدے کے مطابق عراق، شام، کویت آذاد ریاستیں بن گئی اور اسی معاہدے میں کردستان کو آذاد ریاست کا درجہ دینے کے لئے وعدہ کیا گیا لیکن ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت آنے کے بعد خفیہ معاہدے کے تحت ایران، عراق اور ترکی نے کردستان کو آذاد ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

کردوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے انکی محرومیاں بڑھتی گئی عراق میں صدام حسین کی حکومت گرنے کے بعد کردوں کو نئی پالیسی کے تحت خود مختاری دی گئی لیکن باقی تین ممالک میں انہیں اقلیت کے درجے میں رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ کردوں کی تاریخ ان ممالک میں بغاوتوں سے بھری پڑی ہے - 1925ء میں جب کردوں نے ترکی میں شیخ سعید کی قیادت میں بغاوت کی تو ترکی نے کردوں کے خلاف پالیسی بنائی کہ کردوں کی تشخص ختم کی جائے اس پالیسی کے تحت ترکی نے کردوں کی زبان و ثقافت پر پابندی لگا کر انہیں پہاڑی ترک قرار دے کر ترک معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کی جس کے خلاف کردوں نے شدید مزاہمت کی تحریک چلائی۔

ان محرومیوں کو دیکھتے ہوئے عبداللہ اوجلان نے 1970ء میں کرد طلباء کو یکجاء کرنا شروع کیا اور کرد طلباء کو اپنی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے تبلیغ دی اور تمام ممالک کے کردوں سے رابطے بڑھانے شروع کیئے بعد ازاں عبداللہ اوجلان نے 1978ء میں کردوں کی سیاسی جماعت بنائی جسے کردستان ورکرز پارٹی کا نام دیا گیا جسکا کردی نام PKK . PRTI KARKERANI KURDESTAN یہ پارٹی سیاسی میدان میں اپنا نام بنانے لگا کافی حلقوں پر سیاسی تنقید بھی کی۔
کردستان ورکرز پارٹی نے کرد سردار میمت جیلال بوسیک کو قتل کیا صفائی پیش کی کہ میمت کرد کسانوں کا استحصال کرنے میں آگے آگے تھا اور ترکی سے خفیہ معاہدے کرتا تھا کردوں کے خلاف-اور پی کے کے نے میمت کے خلاف واضح ثبوت بھی پیش کیئے تھے۔

1984ء میں اس جماعت نے ترکی کے جبری قبضے کے خلاف مزاحمت کی جس کا مقصد کردستان کو ایک آزاد ریاست بنانا تھا جس پر ترکی حکومت نے نے کردوں کو کچلنے کی ٹھان لی بعد ازاں ترکی نے اس جماعت پی کے کے کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے لئے یورپی یونین سے لابنگ شروع کی سرمایہ دارانہ تمام ممالک نے ترکی کا ساتھ دیتے ہوئے کردستان ورکرز پارٹی کو 2اپریل 2004 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور اپنے ممالک میں اس کے کام پر پابندی عائد کی -اس سے پہلے 1980ء میں پی کے کے نے فرانس میں ترکی کی سفارتخانے پر حملہ کیا اس حملے کے بعد عالمی سطح پر پی کے کے نے ترکی کے مفادات کو اپنا ہدف بنایا ترکی سمیت بیلجئم، فرانس اور عراق میں کردستان ورکرز پارٹی نے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے ترکی کو لوہے کے چنے چبوائے - 1990ء میں جب ترکی نے شام سے اس بنیاد پر جنگ کی دھمکی دی کہ وہ پی کے کے کی حمایت چھوڑے جس کے بعد کردستان ورکرز پارٹی نے اپنی ریاست کے حصول کے لئے ترکی کے خلاف خود کش حملے شروع کیئے۔
اپنی نوعیت کی تنظیموں میں پی کے کے ایسی تنظیم ہے جس میں 40% فیصد خواتین گوریلا ہیں اور اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کارکن جس طرح ہتھیاروں سے لیس ہوتا ہے اسی طرح زہنی طور پر نظریاتی افکار سے بھی واقف ہوتا ہے۔

2018 کے بعد اب پھر ترکی نے شامی کردوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی شروع کی ہے ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کردوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ کردوں میں جو دہشت گرد تنظیمیں ہیں انکے خلاف آپریشن کر رہا ہے جن میں پی کے کے اور وائی پی جے شامل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آپریشن کردوں کے خلاف ہے کیونکہ کرد شروع دن سے پی کے کے اور وائی پی جے کی حمایت کر رہے ہیں جس کی وجہ عراق و ایران اور ترکی سمیت کردستان میں بسنے والے تمام کرد اپنی آذاد ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

کردوں کی اپنی فوج اور اپنا نظام ہے بلکہ انکی اپنی جیلیں بھی ہیں یاد رہے کہ جب داعش نے شام پر حملہ کیا تو شام سے داعش کو بھی کردوں نے اتحادی فوج کے ساتھ ختم کیا حالانکہ ابھی بھی بڑی تعداد میں کردی جیلوں میں بہت سے خطرناک داعش کے دہشت گرد قید ہیں حالیہ دنوں میں جب امریکہ نے شام چھوڑنے کا اعلان کیا تو ترکی کو موقع ملا ترکی نے اعلان کیا کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک ہیں ترکی انکے خلاف آپریشن کرے گا-

ترکی کردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے لئے دو مؤقف رکھتا ہے:
پہلا، ترکی کہتا ہے کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک ہیں سوال بنتا ہے کہ اگر خطرناک ہیں تو یورپی یونین سمیت مسلم ممالک نے انکی فوج کو کیوں اپنا اتحادی بنایا داعش کے خلاف اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرد عالمی امن کے لئے خطرناک نہیں بلکہ ترکی کے لئے خطرناک ہیں جس کی وجہ کردوں کا اپنی آذادی کے لئے ترکی سے جنگ ہے۔

دوسرا، ترکی کہتا ہے کہ شامی سرحد کے اندر ایک محفوظ علاقہ بنایا جائے جو کہ شامی سرحد پر کرد علاقہ ہے 32 کلو میٹر پر مشتمل ہے ترکی کہتا ہے اس علاقے کو آپریشن کر کے کرد جنگجوؤں سے خالی کروں گا اور اس علاقے میں شامی پناہ گزینوں کو لاؤں گا جو ترکی میں30 لاکھ شامی مہاجرین ہیں ان میں سے 20 لاکھ کو میں اس علاقے میں جگہ دوں گا دوسری طرف شام ترکی سے کہہ رہا ہے کہ میرے شامی مہاجرین مجھے دو میں خود انہیں جگہ دونگا اس علاقے میں آپریشن کی ضرورت نہیں لیکن ترکی شامی مہاجرین شام کو نہیں دے رہا ترکی کہتا ہے میں آپریشن ضرور کروں گا، 
اب سوال یہ بنتا ہے کہ مہاجرین شام کے ہیں شام بارہا کہہ چکا ہے کہ میرے مہاجرین مجھے دو ترکی کیوں نہیں دیتا؟ ترکی آپریشن پر بضد کیوں ہے؟ ترکی کو یورپی یونین سمیت کئی مسلم ممالک نے کہا کہ یہ عمل غلط ہے طیب اردگان نے کہا کہ اب کسی نے اس آپریشن کی مخالفت کی تو میں 20 لاکھ شامی مہاجرین انکے ملک بھیجوں گا ترکی آخری حربہ بلیک میلنگ استعمال کر رہا ہے۔

ترکی ان دنوں ترکی کردستان میں کردوں کے ایک گاؤں کو خالی کراکر ترکی کی تاریخ کا بڑا ڈیم بنانے جارہا ہے جس کی تجارتی راہداری و سیاحتی راہداری کردوں کے علاقوں سے گزرتی ہے جس کے لئے کردوں کو کچلنا ضروری ہے ورنہ وہ اپنے علاقے میں مزاحمت کریں گے اور ترکی کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔

یقیناً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ترکی اور کردوں کی جنگ امن اور دہشتگردی کی جنگ نہیں بلکہ یہ معیشت کی جنگ ہے اکنامک وار ہے عالمی سیاسی جنگ کا ایک اہم جز ہے جس سے ترکی کی مفادات جڑی ہیں دوسری طرف کردوں کی مزاحمت اپنی آذاد ریاست کے لئے ہے جو انکا بنیادی حق ہے۔

ساڑھے تین کروڑ پر مشتمل کردوں کی آذادی کی جزبوں کو کوئی سامراجی طاقت دبا نہیں سکتی - جہاں عربستان سے جداگانه حیثیت میں اردن، قطر، کویت کو الگ الگ ریاستیں بنا دی گئی وہاں کردوں کی کثیر تعداد کی بنیاد پر انکی اپنی ریاست ضروری ہے اکیسویں صدی میں انکا وہ حق کردوں کو ضروری دیا جائے جو سیورے معاہدے میں ان سے چھین لیا گیا تھا عراق، ایران اور ترکی کو چاہئے کہ وہ کردستان کو آذادی دیں پھر بطور مسلم ممالک اسکی مدد بھی کریں اور کردستان کی آذادی کو تسلیم کریں تواتر سے خونریزی کے بجائے امن و محبت، دین اسلام اور وقت کا تقاضا ہے۔

نجیب اللّٰہ زہری

Tuesday, 22 October 2019

بہترین انسان اور حکمران

سکول میں انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی "دی وزڈم آف چائنہ" جس میں شہزادہ کو اس کا استاد کہتا ہے، "ایک بہترین حکمران کے لیئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان سنی آوازیں بھی سن سکے". میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ صلاحیت ایک بہترین حکمران کے لیئے ہی ضروری نہیں بلکہ ایک بہترین انسان بننے کے لیئے ضروری ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بہترین انسان بننا نہیں چاہتے اور بہترین حکمران بننے کے خواب دہکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ بہترین انسان بن پاتے ہیں نہ ہی بہترین حکمران، اور بدقسمتی سے اگر ہم حکمران بن بھی جائیں تو بدترین حکمران بن کر اپنی محکوم عوام کو بزور شمشیر یہ باور کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہم بہترین حکمران ہیں۔ 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید۔۔
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔۔!
کہا جاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ ارتقاء کے مراحل میں رہتی ہے، انسانی سوچ بھی ارتقاء میں رہتی ہے لیکن یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ارتقاء سے کس حد تک مستفید ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارا ذہن تو پختگی حاصل کر لیتا ہے لیکن ہماری سوچ میں بالیدگی نظر نہیں آتی۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سوچ میں خودکفیل ہوتے ہیں، ایسے لوگ دنیا کے غموں اور تفکرات کے باوجود خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں اور حقیقی مسرت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ لوگ نہ ہی حطمہ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی حاویہ کی فکر ان کو ستاتی ہے، کیونکہ جب انسان فکر و سوچ کی پختگی حاصل کرتا ہے اس سے کچھ پہلے لاشعوری طور اس کو ایمان کی پختگی بھی حاصل ہوجاتی ہے اور پھر وہ نہ ہی مال و دولت جمع کرتا ہے اور نہ ناپ تول میں کمی۔۔ اور پھر اس کو وہ تمام صلاحیتیں بحکم ربی عطا کی جاتی ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ ان سنی آوازیں بھی با آسانی سن لیتا ہے اور دل میں موجود خشیت الہی اس کو ظالم بھی نہیں بننے دیتی۔ اور جب وہ انسانیت کی اس معراج کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کو حکمرانی بھی عطا کر دی جاتی ہے دنیاوی نہیں حقیقی حکمرانی، کیونکہ دنیاوی حکمرانی اس کے سامنے کھیل تماشہ بن چکی ہوتی ہے اور یہاں سے شروع ہوتا ہے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر۔۔۔!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Thursday, 19 September 2019

ذاتی تجزیہ

مُعاشرہ سُدھارنے کیلٸے آغاز خُود سے کریں
یہ محض ایک مقُولا نہیں بلکہ ایک ایسی رنجیدہ حقیقت ہے کہ جِسے جانتے تو سب ہیں پر مانتا کوٸی نہیں۔
جی ہاں، یہ با لکل یُونہی ہے جیسے آج کا بدنصیب مُسلمان اللہ تعالٰیکوتو مانتا ہے پر اللہ تعالٰیکینہیں مانتا۔
اورایسا صرف اسی لیے ہے کہ آج کا انسان اس بات سے ہی انجان ہے کہ مُعاشرہ ہوتا کیا ہے۔ یہ کیسے بنتا ہے۔ کون سے عوامل ہیں جو اِس کو بنانے یا بگاڑنے میں اثرانداز ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کا ہر انسان اپنی ذات کے لیے بہترین وکیل اور دوسروں کے لیے بہترین منصف کا دعوے دار ہے یعنی ہم یہ تسلیم کرنے کو راضی ہی نہیں کہ ہم نے غفلت برتی اور اگر ایسا ہی ہے تو اس معاشرے کی بدحالی کا زمہ دار آخر کون ہے؟
یاد رہے کہ کوٸی بھی انسان ماں کے پیٹ سے مُلّا یا ڈاکُو بن کر نہیں آتا یہ مُعاشرہ ہی ہے جو اُسکی تربیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ وہی مُعاشرہ جسکی ترجمانی آپ، میں اور ہم سب کرتے ہیں۔
جی بالکُل... یہ ہم خُود ہی ہیں جو مِل کر ایک مُعاشرہ تعمیر کرتے ہیں وہ مُعاشرہ جس میں فردِ واحد کی وہی اہمیت ہے جو کسی سیڑھی میں پیوست اُس step کی ہوتی ہے جو اپنی جگہ پر رہتے ہُوے ہماری بُلندی میں اضافہ کرتا ہے سو ہمیں بھی اِسی طرح مُعاشرے میں رہتے ہوئے اِس کے وقار کو بُلندی سے ہمکِنار کرنے کی کاوِش میں لگے رہنا چاہیے۔
لہٰذا اپنی اہمیت کو جانیے اور اِس مُعاشرے اور اِس مُلک و مِلت کی تعمیر میں اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کریں!
خُداوند کریم آپ کا حامی و ناصر ہو۔ا
زیشان علوی

Wednesday, 28 August 2019

لوکل بمقابلہ برینڈ

پچھلے دنوں ایک نوزائیدہ کالج میں جاب کے لیے جانے کا اتفاق ہوا....جسے ابھی جنم لیے مہینہ ہی گزرا تھا.....
ادارے کے پرنسپل صاحب نے فائل پکڑتے ہوئے پہلا سوال داغا...
"کتنا تجربہ ہے"
ہم نے متانت سے جواب دیا تجربہ تو غلطی سے سیکھنے کا نام ہے...ابھی کسی نے غلطی کرنے کا موقع نہیں دیا....🤪
جناب نے ہمیں گھور کر کہا آپ کا پہلے کسی کالج میں پڑھانے کا تجربہ نہیں ہے....
ہم نے جواب دیا جناب تجربہ بازار سےتو ملتا نہیں...کوئی تو پہلا کالج ہوتا ہے...جہاں سے شروع کیا جاتا ہے کیریر کا سفر....
بولے...آپ کسی "لوکل کالج " میں اپلائے کریں پہلے.....
پوچھا "لوکل کالج کسے کہتے ہیں....
جواب ملا....یہی جو گلی محلوں میں کھلے ہوتے ہیں....چھوٹے موٹے....
گستاخ سوال پھر زبان پہ آ ٹپکا....
گلی محلے میں کھلا کالج لوکل...اور مین روڈ پہ کھلا ہوا برینڈ.....🤔😅
اور چھوٹے موٹے کا اندازہ کیسے لگایا جائے....عمارت کے سائز سے....طلبہ کی تعداد سے یا کالج کی chain نہ ہونے سے.....
اور اگر ہم یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں کہ " لوکل کالج" کونسا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کالج خود کو "لوکل" سمجھتا ہے یا نہیں🤔🤔🤔
معاملہ اب صاحب کی برداشت سے باہر ہو چلا تھا....ہنکار کر بولے....اب یہ آپ کا مسئلہ ہے....
اور ہم اپنا مسئلہ اٹھا کر تشریف لے آئے....
گھر آ کر ڈکشنری کھولی اور لوکل کا مطلب دیکھا تو ہمارے علم پہ تصدیقی مہر لگ گئی کہ... لوکل کا مطلب تو مقامی" ہوتا ہے....یعنی آپ جس شہر کے رہنے والے ہیں وہاں کی چیزیں آپ کے لیے لوکل ہیں....مطلب مقامی....
اس حساب سے تو مندرجہ بالا کالج بھی "لوکل" ہی تھا....
دوسری طرف "برینڈ" کا مطلب نکلا "جلی ہوئی لکڑی کا داغ/ یا داغ کر نشان لگانا..."
تو بھلا نشان زدہ ہونے سے "بہتر ہونے" کا سرٹیفکیٹ کیسے مل جاتا ہے.....
نام ہی کافی ہے کا فارمولا میرے نزدیک بالکل غلط ہے....اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نام کمانا پڑتا ہے مگر "برینڈ" بن جانے کے بعد آپ ہر چیز میں "بہترین" ہو جاتے ہیں یہ کہیں نہیں لکھا....
خیر یہ برینڈڈ رویہ اب زندگی کے ہر شعبے میں دیکھنے کو ملتا ہے.....کپڑے، جوتے، ضرورت کا سامان...تعلیم اور شاید "رویوں" میں بھی....
بچپن میں اماں بازار جایا کرتیں تو ایک تھان سے کپڑا اتروا کر لاتیں اور دو تین بچوں کے اکٹھے کپڑے سی لیا کرتیں....
ویسے تو اب بھی یہی روایت ہے البتہ تھان الگ الگ ہوگئے ہیں اور ہم وردی سے باہر نکل آئے....😄
زمانے نے کروٹ لی اور کپڑوں اور جوتوں کے لیے تھان اور دکانوں کے بجائے پلازہ اور مال کھل گئے.....جہاں دکانیں تو وہی ضرورت کی اشیاء کی تھیں مگر نام اب مولوی انکل کی دکان, پٹھان کی دکان اور خان مارکیٹ جیسے ناموں سے نکل کر کھادی, لائم لائٹ اور نشاط جیسے ناموں میں منتقل ہوگئے....
پتہ چلا کہ یہ برینڈ کا زمانہ ہے....
اور اگر کسی کپڑے کا تعلق فلاں برینڈ سے ہے تو اُسے بہترین اور قیمتی کہا جائے گا....خواہ اس کی بنت اور پٹھان انکل کپڑے والے کے تھان کی بُنت ایک جیسی کیوں نہ ہو.....
یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اس سے ایک قدم آگے یہ بھی طے کرلیا گیا کہ پٹھان انکل کی دکان سے کپڑے خریدنے والے اور برینڈ کی دکان سے خرید کر پہننے والے انسانوں میں بھی بہترین اور کمتر کا مقابلہ ہوگا.....
یہ بات ابھی تک ہضم نہیں ہوسکی....😒
پھر یہ ٹرینڈ کپڑوں جوتوں اور ضرورت کی دوسری اشیاء سے نکل کر انسانوں تک جا پہنچا.....
یعنی نامور انسان کا ہر کام اور ہر بات بہترین ہی گنی جائے گی....گویا "نام ہی کافی ہے" کی پیروی کرتے ہوئے کام پر سے توجہ کم ہوتی گئی....😒
یہ رویہ دوسرے بہت سے شعبوں کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی پھیل گیا....
جو ادیب اور شاعر ایک بار مشہور ہوگیا اس کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بےکار تخلیق کیوں نہ کرے اس پہ بلا سوچےسمجھے داد دینا فرض ٹھہرا.....
اس بات سے انکار نہیں کہ نام بنانے اور برینڈ بننے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے....مگر یہ محنت اس پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ہونی چاہئیے....ورنہ ہم کپڑوں جوتوں سے لے کر انسانوں تک خوبصورت لفافوں میں گلی سڑی اشیاء خریدتے رہیں گے......نہ صرف خریدتے رہیں گے اس پر خوش بھی ہوتے رہیں گے.....

سیماب عارف
رہبر اور ایڈیٹر ای-میگزین پازیٹو پاکستان 

Sunday, 16 June 2019

باپ۔۔۔ ایک عظیم ہستی

پُرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا۔۔
خوشی نے دل سا دُکھایا تو باپ رونے لگا۔۔
یہ رات کھانستے رہتے ہیں کوفت ہوتی ہے۔۔
بہو نے سب میں جتایا تو باپ رونے لگا۔۔!
بہن روانگی سے پہلے پیار لینے گئی۔۔
جو کُچھ بھی دے نہ پایا تو باپ رونے لگا۔۔
بٹھا کے رکشہ میں کل شب روانہ کرتے ہوئے۔۔
دیا جو میں نے کرایہ تو باپ رونے لگا۔۔!
سات سال پہلے میں نے اپنے ابا کا چہرہ آخری بار دیکھا تھا، یوں لگتا ہے جیسے سات گھنٹے یا سات منٹ پہلے کی بات ہو۔ انسان کے والدین اُس کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتے ہیں اس بات کا اندازہ اُن کی زندگی میں لگایا نہیں جا سکتا، اُن کی اہمیت کا اندازہ اُن کے چلے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔
آج ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کا میچ شروع ہوا تو مُجھے شدت سے اپنے ابا کی یاد آنا شروع ہوگئی۔ مُجھے یاد ہے بچپن میں جب کبھی پاکستان بھارت کا میچ ہوتا تھا تو میرے ابا اُس دن دنیا کا ہر کام چھوڑ کر ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ جاتے تھے، ایسے میں جب کبھی وسیم اکرم، وقار یونس یا شعیب اختر کوئی وکٹ لیتے تو ابا کی آواز پورے گھر میں گونجتی تھی اور جب شاہد آفریدی یا سعید انور پہلی بال پر چھکا مارتے ہوِئے یا پھر باہر نکلتی ہوئی بال کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہوئے آؤٹ ہو جاتے تو وہ چند ناقابلِ سماعت اور ناقابلِ بیان القابات سے نوازتے...
مُجھے یاد ہے اُس دور میں انضمام الحق یا وسیم اکرم میں سے اگر کوئی وکٹ پر موجود ہوتا تو پاکستان کی جیت یقینی سمجھی جاتی تھی۔ اور میں اکثر اپنے ابا کو تنگ کرنے کے لیئے کہتا تھا کہ اگلی گیند پر انضمام الحق آؤٹ ہو جائے گا اور جب کبھی خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو پھر میں جہاں کہیں ہوتا ایک چپل گھومتی ہوئی آتی اور میں بچتا ہوا کمرے سے باہر نکل جاتا اور جب تک میچ کا کوئی نتیجہ نہیں آ جاتا میں کمرے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
جب بچپن سے نوجوانی میں داخل ہوا اور نوکری کا آغاز کیا تو مُجھے اپنے والد صاحب کی ایک بات سے بہت کوفت ہوتی تھی کہ میں شام کو آفس سے فارغ ہو کر ایک دو دوستوں کے ہمراہ راول ڈیم، ایوب پارک یا کسی اور جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا تھا ابا کی کال آتی تو کہتا کہ میں نو بجے تک گھر آجاؤں گا۔ اور وہ میری بات مان جاتے تھے، ٹھیک نو بجے ابا کی کال دوبارہ آنا شروع ہوتی تو میں موبائل آف کر دیتا تھا، پھر گیارہ بجے یا بارہ بجے کے قریب جب موبائل آن کرتا تو سب سے پہلی کال ابا کی ہوتی تھی مطلب اس دوران وہ لگاتار کال کرتے رہتے تھے۔ جب میری موٹرسائیکل گلی میں داخل ہوتی تھی تو وہ گھر کا گیٹ کھول کر میرے انتظار میں کھڑے ہوتے تھے، میں دروازے پر پہنچ کر اُن کو کہتا کہ آپ میرا انتظار نہ کیا کریں آپ سو جایا کریں میرے پاس گھر کی چابی ہوتی ہے میں اندر آسکتا ہوں آپ ویسے ہی بے آرام ہوتے ہیں۔۔۔ اور وہ پیار سے میرے گال پر ہاتھ پھیر کر ایک ہی بات کہتے کہ "بیٹا جس دن میں نہیں ہوں گا تو تمہیں پتہ چلے گا"۔۔ یا پھر "بیٹا جس دن خود باپ بنو گے اُس دن سمجھ آئے گی۔۔۔"۔
پھر یکم مئی 2012 کو میرے والد صاحب اچانک ایک دل کے دورے کے باعث اس دارِ فانی سے رُخصت ہو گئے اور پھر اُس سے اگلے دن جب میں گھر گیا تو کوئی میرے انتظار میں دروازہ کھول کر نہیں کھڑا تھا۔ مُجھے اُس دن اندازہ ہوا کہ اب میں کیا کھو چکا ہوں۔ پھر وہ دن اور آج کا دن کوئی میرے انتظار میں دروازہ کھول کر کھڑا نہیں ہوتا۔
جب کبھی آفس میں کام کا بوجھ ذیادہ ہوتا یا کوئی اور پریشانی ہوتی تو میرے ابا میری پریشانی بھانپ کر اکیلے میں میرے پاس آتے اور میرے گال پر ہاتھ رکھ کر کہتے "کیا ہو گیا ہے بیٹا؟ کیوں پریشان ہو؟ میں ہوں نا! چھوڑ دے نوکری۔۔۔" اُن کا اتنا کہنا ہوتا اور میری ہر پریشانی ختم ہو جاتی۔ 
آج سات سال ہو گئے پریشانیاں اب بھی آتی ہیں مگر کوئی ہاتھ گال پر محسوس نہیں ہوتا، کان یہ سُننے کو بیقرار رہتے ہیں کہ "بیٹا کیا ہو گیا؟ پریشان نہ ہو۔۔۔ میں ہوں نا۔۔!"۔۔
باپ دنیا کی دھوپ میں ایک سایہ دار گھنا درخت ہے مگر اس درخت کی اہمیت کا اندازہ عموماً اس درخت کی چھاؤں ختم ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔۔
مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپ
اور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو
پہلے تو اس نے غم کے فوائد  بیاں کیے
پھر وقفہ لے کے کہنے لگا  خوش رہا کرو
(عباس تابش) 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے والدین کا سایہ آپ لوگوں کے سر پر تا دیر قائم رکھے، آمین!
سید فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Monday, 3 June 2019

تاریخ ساز سفر

یہ 1947 کے شروع کے چند ماہ کی بات ہے جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اُس کی ہندوستان کو یکجا رکھنے کی تمام کوششیں بیکار ہیں اور برصغیر کے مقامی اب آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ آزادی صرف گورے سے نہیں تھی بلکہ وہ برصغیر کی تقسیم چاہتے تھے تاکہ یہاں کے باسی اپنی زندگی اپنے رسوم و رواج کے مطابق بغیر کسی روک ٹوک یا فساد کے بغیر گزار سکیں۔
آخرِ کار جب ماؤنٹ بیٹن کی تمام کوششیں ناکام ہوتی ہوئی نظر آنے لگیں تو اُس نے ازمے کے ذمہ یہ کام لگایا کہ اب وہ برصغیر کی تقسیم پر کام شروع کر دے۔ تاکہ حکومت برصغیر کے مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں دی جا سکے، پلان کے فائنل ہونے تک اس پلان کی رازداری کو یقینی بنانے کی تاکید بھی کی گئی۔
اپریل 1947 میں ہونے والی گورنرکانفرنس میں پلان فائنل کیا گیا اور اگلے ہی ماہ مئی میں یہ پلان حتمی منظوری کے لیئے برطانیہ بھجوا دیا گیا جہاں برطانوی حکومت نے اس پلان کی منظوری دے دی۔ 31 مئی 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن برطانیہ سے واپس برصغیر پہنچا اور آتے ساتھ ہی اُس نے ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کیا، 2 جون کو یہ اجلاس ہوا جس میں انگریز عہدیداروں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مقامی لیڈران بھی موجود تھے جن میں نہرو، پٹیل، سردار عبدالرب نشتر، کریپلانی کے علاوہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان بھی موجود تھے۔ اس اجلاس میں برصغیر کے تمام صف اول کے لیڈران کے سامنے ایک پلان رکھا گیا جس کو سب نے اکثریت رائے کے ساتھ منظور کر لیا۔ یہ پلان 3 جون کو منظر عام پر لایا گیا اس ہی وجہ سے اس کو 3 جون کا پلان بھی کہا جاتا ہے، اس پلان کے چند چیدہ چیدہ نکات یہ تھےٖ:
x پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ممبران ایک میٹنگ کریں گے جس میں پنجاب کی تقسیم پر بحث کی جائے گی اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے بھی تقسیم کے حق میں رائے دی تو معاملہ از خود گورنر جنرل کے پاس چلا جائے گا جو ایک کمیشن قائم کرے گا جس کو اختیار ہو گا کہ وہ مسلم اکثریت اور غیر مسلم اکثریتی علاقوں کی حدود کا تعین کرے۔
x سندھ اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ وہ موجودہ حکومت میں رہے گی یا پھر نئی ریاست کا حصہ بن کر نئی اسمبلی کے طور پر کام کرے گی۔
x شمال مغربی سرحدی صوبہ کے مستقبل کے لیئے یہ طے کیا گیا کہ اس صوبہ میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے گا اور اکثریتی رائے کا احترام کرتے ہوئے صوبہ کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا تاہم ریفرنڈم 1946 میں ہونے والے ریفرنڈم کے الیکٹورل کالج کے ذریعے کروائے جائیں گے۔
x بلوچستان کو بھی اس کانفرنس میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا۔
x بنگال کی تقسیم کے لیئے یہ طے کیا گیا کہ سلہٹ میں ریفرنڈم کروایا جائے گا جس میں بنگال کے نمائندگان اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ موجودہ نظام میں رہتے ہوِئے بھارتی ریاست آسام کا حصہ رہیں گے یا پھر آسام سے الگ ہو کر نئے قائم ہونے والے مشرقی بنگال کا حصہ بنیں گے۔
یہ قرارداد تقسیم ہند کی ابتداء تھی تاہم نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سازش کے ساتھ مسلم لیڈران کو دھوکہ دیا اور گاندھی کو اعتماد میں لے کر تقسیم میں چال بازی سے کام لیا اور مسلم لیڈران کو مجبوراً آخری وقت پر صرف اس لیئے پلان منظور کرنا پڑا کہ اگر پلان میں تاخیر ہوتی تو اس کا فائدہ کسی صورت پاکستان کو نہ ہونا تھا۔
پھر اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر منتخب ہوئے جبکہ وزیراعظم کے لیئے لیاقت علی خان سے بہتر انتخاب کوئی ہو بھی نہیں سکتا تھا، ٹھیک دو ماہ بعد ماہِ رمضان میں آخری عشرے کی ستائیسویں شب 14 اگست 1947 کو برصغیر پاک و ہند دو ریاستیں بن کر دنیا کے نقشے پر اُبھریں جن میں سے ایک ہندوستان کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ حصے کو دنیا میں پاکستان کے نام سے شناخت ملی۔
پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے صدر کے طور پر قائداعظم بلا مقابلہ منتخب پو گئے۔

پھر ایک نیا امتحان شروع ہوا جس میں اُس وقت کے تمام لوگوں کا برابر کا حصہ تھا کسی ماں نے اپنی شیر خوار اولاد کو موت کی نیند سُلا دیا جبکہ کسی بھائی کے سامنے اُس کی جوان بہن کی عصمت دری کی گئی لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنا سب کُچھ چھوڑ کر ایک اسلامی فلاحی ریاست کی جانب چل پڑے ان لوگوں میں کئی بزرگ بھی شامل تھے جو یہ جانتے تھے کہ آزادی کے دوران ہونے والے فسادات میں اگر وہ بچ بھی گئے تو وہ ذیادہ دیر آزاد فضا میں زندہ نہیں رہ پائیں گے لیکن اُن کے دلوں میں ایک یقین تھا کہ اُن کی اولاد اور آنے والی نسلیں ایک آزاد فضاء میں سانس لیں گی۔ وہ بے دھڑک دینی فرائض سرانجام دیں گے جہاں اُن کی ماں بہنوں کی عزت و آبرو محفوط ہو گی۔ 

اسی پاکستان میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں بہت سے ہیروز دیئے جن میں روشن خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، ارفع کریم، وسیم اکرم، جاوید میانداد، ماجد خان، عبدالحفیظ کاردار، حنیف محمد، عمران خان، شاہد خان آفریدی، یونس خان نے دنیا میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا یہاں میں نے ایک نام شامل نہیں کیا۔ وہ نام ان سب سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اپنی مثال آپ ہے۔ 
میں 2 جون 2015 کو راولپنڈی میں ایک مشہور بازار چوہڑ چوک میں کھڑا اپنے ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا کہ چوہڑ چوک میں واقع ایک پٹرول پمپ کے باہر ایک آدمی کھڑا تھا میں نے اُس آدمی کو دیکھا تو مُجھے اُس کی شکل کُچھ جانی پہچانی سے لگی وہ آدمی میری توجہ کو بھانپ گیا اور میری طرف بڑھ کر سلام کے لیئے ہاتھ آگے بڑھایا، میں نے نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا اور دریافت کیا کہ کیا میں اس آدمی کو جانتا ہوں؟ اُس آدمی نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ شاید آپ نے مُجھے کہیں دیکھا ہو دنیا میں ایک شکل کے کئی لوگ ہوتے پیں، میں اُن کی بات پر مطمئن ہو گیا لیکن ذہن ابھی تک منتشر تھا اُنھوں نے مُجھ سے میرے بارے میں کُچھ سوال کیئے اور میرے مُستقبل کے لیئے دعا کی اتنے میں ایک موٹرسائیکل پر ایک نوجوان آیا اور وہ اُس کا تعارف مُجھ سے کروانے لگے، "یہ میرا بیٹا ہے! ایف ایس سی کا طالب علم ہے یہ مُجھے روزانہ یہاں سے گھر لے جانے کے لیئے موٹرسائیکل پر آتا ہے"۔ 
میں نے اُن کے موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے پہلے ہی ایک شکوہ کیا کہ آپ نے مُجھ سے تو سب کُچھ پوچھ لیا اپنے بارے میں کُچھ نہیں بتایا۔ وہ کہنے لگے، "بیٹا میں یہاں ڈولفن سنوکر کلب میں کوچ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں اور اس کے عوض مُجھے ماہانہ بیس ہزار روپے مل جاتے ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے عزت کے ساتھ گزر بسر ہو رہا ہے"۔۔ یہ کہہ کر وہ موٹر سائیکل کی طرف بڑھنے لگے اور میرے سے ہاتھ ملایا تو میں نے اُن کا ہاتھ نہایت مضبوطی کے ساتھ جکڑ لیا، "آپ محمد یوسف ہیں؟ پاکستان کی شان تین بار عالمی چیمپیئن اسنوکر کی دنیا کا ایک لیجنڈ!"۔ وہ میری بات کے جواب میں مسکرائے اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ اور موٹرسائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے۔ میں اپنی زندگی میں اتنے بڑے لیجنڈ سے ملوں گا یہ کبھی نہیں سوچا تھا لیکن ان حالات میں ہوگا وہ لیجنڈ یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ بات آج بھی یاد آتی ہے تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے!
ایک آدمی جس نے تقریباً دو عشرے پاکستان کا پرچم دنیا میں لہرایا پاکستان کی حکومت نے اس کو بدلے میں کیا دیا؟ بیس ہزار کی ایک پرائیویٹ کلب میں نوکری؟۔
میں نے سوچا کہ یہ ہرگز وہ اسلامی فلاحی ریاست نہیں ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا جہاں اپنے محسنوں کو سڑکوں پر دھکے کھانے کے لیئے چھوڑ دیا گیا ہے!
میں آج اہل اقتدار لوگوں سے التجاء کرتا ہوں کہ اپنے محسنوں کی قدر کریں یہ ہماری عزت ہیں انھوں نے اپنی پوری زندگی ہمیں دی ہے خدارا ان کو ایک با عزت زندگی گزارنے میں مدد کریں اور اب تو ہمارے ملک کے سربراہ بھی ایک کھلاڑی ہیں اُن کو چاہیئے کہ ایسے اقدامات کریں کہ پھر کوئی حنیف محمد کی طرح کسمپرسی کے عالم میں نہ مرے۔ اور روزِ قیامت اپنے بانیان کو منہ دکھانے کے قابل ہوں ہم لوگ کہ ہم نے اُن کے پاکستان میں اسلامی نظام نافز کیا، اپنے محسنوں کی قدر کی اُن کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہیں کیا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے حکمران اپنے محسنوں کی قدر کرنا سیکھیں اور اُن کو عزت دیں جنھوں نے پاکستان کا نام وہاں روشن کیا جہاں لوگ پاکستان کے نام سے واقف تک نہیں تھے۔

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹیو پاکستان

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...