Showing posts with label Zille Huma. Show all posts
Showing posts with label Zille Huma. Show all posts

Wednesday, 1 May 2019

ہمدردی نہیں حق

اتوار کی چھٹی  گزار کے سوموار کو پھر سے کام پر جانا یا پڑھائی کے لئے جانا بہت مشکل لگ رہا ہوتا...... ہر بار کی طرح منہ بنا ہوتا جیسے یہ پہلی بار ہو رہا ہو مگر عادت جو نہیں ہو پا رہی ہوتی فطرتِ انسانی ہر شے کی زیادتی ہی طلب کرتی ہے چاہے وہ عیش و آرام ہو یا دولت.......ہاں  مگر اس پیر کو دل تھوڑا خود کو تسلی دے رہا تھا خود کو، چلو دو دن ہی جانا پڑے گا بدھ کو پھر چھٹی آ رہی ہے, جو نیند اب نہیں پوری ہوئی وہ تب پوری کر لینا.... مگر ساتھ ہی یاد  آیا آخر یہ چھٹی کیونکر ہو رہی اس سے پہلے تو دورانِ ہفتہ نہیں ہوتی تھی پھر تاریخ پہ نگاہ دوڑائی تو دیکھا یکم مئی ہے وگرنہ بچپن سے سنتے آ رہے تھے اس روز چھٹی ہوتی ہے یوم مزدور منایا جاتا ہے... ہاں بھئی وہی مزدور جو سالہاسال  محنت کرتے کبھی گدھوں کا سا بوجھ اپنے سروں پر اٹھا کر تو کبھی گدھوں پر عمارتوں سا بوجھ دھکیل رہے ہوتے کہیں لوہار بنے ہوتے کہیں ترکھان تو کہیں اینٹوں سیمنٹ ساتھ سر توڑ کوشش میں لگے ہوتے ٹھکانے لگانے میں کہیں بڑےلوگوں(ہاں بھئی وہی جن کے پاس دولت زیادہ ہوتی ہماری لُغت میں بڑا کہا جاتا نا انہیں) کے گھروں میں چاکری کر رہے ہوتے ان کے جوتے پالش کرنے سے لے کر ان کے غسل خانے صاف کرنے تک کے اور کہیں سڑک پر ریڑھی لگائے کھڑے ہوتے, ان گنت بھیس ہیں اس مزدور نامی شخص کے میں کس کس کا حوالہ دوں... اور دیکھو نا! اس مزدور کی تو کوئی ایک جنس, عمر بھی مقرر نہیں ہے یہاں بچہ, بوڑھا, جواں, مرد, عورت, لڑکی لڑکا سب ہی اس فرقہ میں شامل ہیں جن کے نام یہ دن منایا جاتا ہے..... اور دن منانے کا جوش و خروش تو دیکھئے ملک کے چھوٹے بڑے ہر سرکاری ادارہ میں چھٹی ہوتی ہے..... مگر ہاں صرف سرکاری ادارے میں ہی چھٹی ہوتی ہے تو مزدور کا تعلق تو کسی ادارہ سے نہیں، مزدور تو بس مزدور ہے... آپ اس کا دن منائیں یا اس دن اسے منائیں اسے تو کام پر جانا ہی ہو گا.۔...
مگر یہ بات مجھے ہضم نہیں ہوتی آخر کو کس لئے ہم یہ دن مناتے کس طرح سے ہم دن مناتے؟؟؟؟ بڑا آسان جواب ہے میں بچپن سے دیکھتی آ رہی ہوں، یوم مزدور ہم سب چھٹی پر ہوتے سارا دن ٹی وہ لگا کر بیھٹتے پروگرام دیکھتے ان پروگراموں میں ملک کے بڑے لوگ ہاں بھئی میرا مطلب کرسی عمارت والے لوگ بڑے تفاخر کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے سٹیج سجائے(جس کو سجایا بھی مزدور نے, جس کا سامان اٹھا کر لانے, اسے ٹھکانے پر لگانے, بڑے لوگوں کےلئے آرام دہ کرسی ٹھنڈی چھاؤں پنکھوں تک کے لئے تمام تگ و دو بھی مزدور کے ہاتھوں سرانجام پائی) کھڑے مزدور کے بارے میں لیکچر دے رہے ہوتے ہیں بہت عمدہ قسم کے فلسفے جھاڑے جا رہے ہوتے(حتی کہ ابھی گھر میں مزدور کو جھاڑ پلا کر آئے ہوتے, راستہ میں مزدورں کو غیض و غضب سے دیکھ کر آئے ہوتے) ان کی باتیں سن کر ایسا لگتا جیسے ان سا تو ہمدرد کوئی نہیں اور ہم بھی اپنی طرف سے اعلٰی تقاریر سن کر اس دن کا حق ادا کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں.... 
مگر افسوس صد افسوس
 میں کس منہ سے کہوں میں کس رو سے یہ دن مناؤں؟
گر جن کا حق میں ان کو سکھ نہ دے پاؤں....
میں کروں گی بھی کیا؟میں کر بھی کیسے سکتی... اب تو ٹیکنالوجی کا موبائل کا دور ہے میرے جیسی تمام نوجواں نسل اس روز کو کچھ الگ انداز میں مناتے صبح ہوتے ہی موبائل لیا تمام سوشل اکاؤنٹس پر سٹیٹس لگا کر, مزودر سے اظہار یکجہتی کر کے بری الذمہ (جب کہ وہ مزدور لوگ ان سوشل میڈیا جیسی چیزوں سے واقف بھی نہیں ہوں گے) بعد از لوگ چھٹی منانے نکل جاتے دوستوں کے ساتھ یا فیملی کے ساتھ کھانے پہ جا کر وہاں مزدوروں سے ہی کھانا سرو کرنے کو کہا جاتا, راستے میں گاڑی خراب ہو جائے گھر کے لیۓ سامان لانا پڑ جائے تو مزدور لگا کر اٹھوایا جاتا..... 
آئیں آج کے اس روز عہد اور کوشش کریں جن کے لئے دن منا رہے ان کو سُکھ دیں..... مزدور کے پاس جا کر مزدور کا ہاتھ بٹائیں آج یوم مزدور ہے اسے بھی بتائیں.... ورنہ یہ آپ کی کرخت تقریریں , بڑے بڑے بینرز, آپ کے سٹیٹس ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے...... 
کسی مزدور کو کام پر جاتے دیکھیں تو اسے روک کر اس دن کی دیہاڑی دے دیں
اگر آپ نے خود کام لگوایا ہوا تو آج کے دن مزدور کو چھٹی کرا دیں
آپ کے گھر آئی ملازمہ جو سارا سال آپ کے لئے کام کرتی آج اس کو بیھٹنے دیں اس کے کام خود کریں
آپ کے باورچی جو آپ کے لئے کھانا بناتے ہیں آج آپ ان کو بنا کر کھلائیں
گھر سے باہر کسی مزدور کو مشقت کرتے دیکھیں تو اس کا ہاتھ بٹائیں 

یہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹا کر کسی اللہ کے بندے کے کام آ کر آپ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور میرے وطن کے مزدور بھی اس روز کی آمد سے فیض یاب ہو پائیں گے.. 

Zil-e-Huma
Mission Holder, Positive Pakistan

Wednesday, 13 February 2019

دوستوں کا گروپ بیھٹا گپ شپ کر رہا تھا کب سے یوں ہی ادھر اُدھر کی باتیں چھڑی ہوئی تھیں، اب تو سب باتیں کر کر کے تھک سے بھی گئے تھے اتنے میں ایک بولی چلو بہت ہو گئی باتیں اب کچھ نیا کرتے ہی.... سب پوچھنے لگیں.. ہاں بتاؤ کیا کیا؟ وہ ایک بولی اب ہم گانے لگا کے سنتے اور انجوائے کرتے ہیں سب اس آئیڈیا پر خوش ہو گئیں.. مگر وہاں پر ہی حاعفہ بھی بیھٹی تھی جو اس فیصلہ سے کچھ خائف سی ہو گئی کہنے لگی آپ لوگ آئیڈیا بدل لو مجھے گانے سننا نہیں پسند۔
سب بہت حیران ہو کے دیکھنے لگیں اس میں کیا ہے یار کچھ نہیں ہوتا ہم تو سنیں گے... حاعفہ نے بات بنتی نہ دیکھی تو وہاں سے اٹھ کر چل پڑی کہ میں مزید آپ لوگوں کے ساتھ محفل میں شریک نہیں ہو سکتی... سب اس کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھنے لگیں اور پھر اپنی ہی مستی میں مصروف ہو گئیں...
کچھ دن بعد پھر دوستوں کا تفریح کے لئے فنکشن میں جانے کا پروگرام بن گیا جہاں پر ناچ گانے وغیرہ کا انتظام کیا گیا تھا اب سب جو جا رہی تھیں تو حاعفہ بھی انکے گروپ کا حصہ ہے.. اسے بھی سب کہنے لگیں چلو ہمارے ساتھ مگر وہ انکار کیے گئی.. نہیں میں نہیں جا سکتی وہاں گانوں کی محفل ہو گی اور مجھے گانے سننا نہیں پسند سب دوستوں کو غصہ آ گیا کہ کم از کم ہماری خاطر ہی ساتھ آ جاؤ...
حاعفہ بولی اگر ایسا ہی ہے تو آپ لوگ بھی میری خاطر ہی مت جاؤ اس محفل میں، مگر وہ تو ارادہ باندھ چکی تھیں کہاں رکنے والی تھیں اور حاعفہ کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں...
رات کو واپسی پر سب حاعفہ سے سخت ناراض تھیں کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں گئی۔ سب ایک ایک کر کے اپنے کمروں میں چلی گئیں مگر حیا وہیں رک گئی.. حاعفہ کے پاس....
حیا پوچھنے لگی حاعفہ کیوں کرتی ہو ایسا.. دیکھو سب کو ناراض کر دیا، تم کیوں نہیں ہمارے ساتھ چلتی ہو.. تمہیں گانوں سے کیا مسئلہ اس میں برائی ہی کیا ہے آخر؟
حاعفہ: دیکھو حیا میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ گناہ ہوتا گانے سننے سے اس لیے میں نہیں سن سکتی
حیا: کیا گناہ ہوتا ہے؟
حاعفہ: میں تمہیں آج کچھ وجوہات بتاتی ہوں، جنکی وجہ سے میں گانے سننا نہیں پسند کرتی..
میں گانے اس لئے نہیں سنتی کیونکہ میرے اللّٰہ کو نہیں پسند ایسی موسیقی سننا جو آپ کو مدہوش کر دے یا نشہ سا ڈال دے اور گانے سنتے ہوئے ہماری کیفیت ایسے ہی ہو جاتی نا؟
حیا: (ہاں میں سر ہلایا)
حاعفہ: تو مجھے گانے سننا اس لئے نہیں پسند کہ جو چیز میرے اللہ کو نہیں پسند میں وہ کیسے کر سکتی پسند؟
مجھے گانے سننا اس لئے بھی نہیں پسند کیوں کہ مجھے تلاوت اور نعت سننا پسند ہے.. تو دیکھو نا میں اپنے کانوں کو کیسے گوارا ہونے دیتی کہ وہ ایک بار اللہ کا پسندیدہ کلام سنیں قرآن اور پھر ان ہی کانوں میں موسیقی کی آواز بھی جائے!!!
نہیں مجھے اپنے کانوں کے ساتھ بھی یہ ظلم نہیں پسند میں انکو ایک ہی جگہ پابند رکھنا چاہتی تاکہ روز قیامت میری گواہی دے سکیں...
اور پتا تمہیں پتا سب سے بڑی وجہ کیا ہے نہ سننے کی؟
حیا: کیا؟
حاعفہ: روز قیامت حساب کتاب کے بعد میرا اللّٰہ اور بنی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی آواز میں گانا سنائیں گے اور اتنی خوبصورت آواز ہو گی کہ ہر سننے والا اس میں مدہوش ہو جائے گا... مگر ان گانوں کی آواز ان کانوں میں نہ جا پائے گی جو دنیا میں گانے سنتے تھے اور ان لوگوں کے کانوں میں سیسا پگھلا کر ڈال دیا جائے گا..
لیکن مجھے اللّٰہ کی آواز میں سننے کا بہت شوق ہے نا اس لئے بھی میں اپنے کانوں کو دنیاوی گانوں سے محفوظ رکھنا چاہتی ہوں...
میں اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز میں سننے کے لئے بے تاب ہوں....
بس یہی کچھ وجوہات ہیں حیا جو مجھے روکے ہوئے ہیں اسی لئے تم سب کو بھی ناراض کر دیتی ہوں لیکن میں یہ چاہتی ہوں آپ لوگ مجھ سے ناراض ہونے کے بجائے میرا ساتھ دو... دیکھو قرآن کریم سننے میں بہت لطف ہے جب دل کرے تو قرآن سن لیا کرو..
حیا: حاعفہ تم نے تو سچ میں میرے دل کی بند کھڑکی کھول دی مجھے نہیں معلوم تھا پہلے انشاءاللہ اب میں بھی نہیں سنوں گی اور سب کو بھی ہم دونوں منع کریں گے..
حاعفہ: ماشااللہ.. یہ ہوئی نا بات چلو اب سو جاتے ہیں پھر صبح جاگ کے ان سب کو بھی راضی کرنا ہے۔
حیا: ہاں چلو ٹھیک ہے.. اللّٰہ حافظ شب بخیر..
حاعفہ اب پُر سکون ہو گئی تھی اسکی ایک دوست تو اس کا ساتھ دینے پر راضی ہوئی امید ہے باقی بھی اب مان لیں گی انشاءاللہ...

ظلِ ہما
کیپٹن سائبریگیڈ سکواڈ پازیٹو پاکستان

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...