Showing posts with label Waqar Ahmad. Show all posts
Showing posts with label Waqar Ahmad. Show all posts

Thursday, 25 October 2018

الوندی کی یاد میں

محبتوں میں ہر اک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی اک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا

امید ہے سب لوگ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں اپنے اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہوں گے
آج سے تین ماہ پہلے الوندی کی تاریخ، مہینہ اور جگہ فائنل کی گئی۔ پھر یہ ہوا کہ زندگی کے یہ تین ماہ الوندی کو سوچنے اس کو پانے کے انتظار اور انتظام میں جاگتے اور بھاگتے گزر گئے
بالآخر وہ دن بھی آ گیا۔ جب ہم اسلام آباد کی خاموشی کوچھوڑ کر پہاڑوں کی طرف اندھیری سیاہ رات، ہلکی ہلکی خنکی, چاند کے ساتھ سفر کرتے ہوئے، سورج کی کرنوں کے نکلتے ہی ہم بھی ان پہاڑوں پر پہنچ گئے.
جن کے بارے میرا رب کہتا ہے
"اور جس دن چلائیں گے ہم ان پہاڑوں کو اور دیکھے گا تو  زمین کو کھلا میدان اور اکٹھا کریں گے ہم سب کو اور نہیں چھوڑیں گے ہم ان میں سے کسی ایک کو" (الکھف)
اک خیمہ بستی جو پہاڑوں کے وسط میں  دنیا کے جھمیلوں سے دور رکھ کر  اپنی آغوش میں چھپا کر کچھ دن اپنے آپ کو پانے کا گُر سکھانے کیلئے سجائی گئی تھی منتظر تھی ہماری.
الحمد للہ ثم الحمد للہ وہ پیار و محبت کی تین روزہ بستی اپنے اختتام کو ایسے پہنچی کہ دور دراز علاقوں سے آئے مختلف رنگ، نسل زبان اور مزاج سے تعلق رکھنے والوں کے دل آپس میں اک مقصد اور مشن کی خاطر اللہ تعالی نے ایسے جوڑے کہ کوئی بھی اس جگہ اور اک دوسرے کو چھوڑنے پہ آمادہ بخوشی نہیں ہوا۔
مام راہبرز، ایمبیسڈرز، مشن ہولڈرز، ممبرز، آنے والے نئے لوگوں اور بالخصوص صدر پازیٹو پاکستان عابد صاحب کو بہت بہت مبارکباد کہ جنہوں نے اس پروگرام کو بہت خوبصورت اور کامیاب بنایا۔

وقار احمد 
رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 24 October 2018

ایک یادگار سفر

بل کھاتی سڑک، گاڑی آہستہ آہستہ سریلے شور کی جانب تیزی سے اترائی اترتے محو پرواز تھی۔ جوں جوں موڑ کم ہو رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے
"میں نکلا او گڈی لے کے، اوہ رستے پر سڑک میں، اک موڑ آیا.. میں اتھے دل چھوڑ آیا"
 اس شور کی سیٹیاں کانوں میں تیز سے تیز تر ہو رہی تھیں
اتنے میں حی علی الصلاح، حی علی الفلاح کی خوبصورت آوازیں پہاڑوں سے ٹکراتے فضاء میں گونج رہی تھیں
ارے اٹھو بھائی!
دیکھو گاڑی کہاں آ رکی ہے۔ صاف و شفاف کنہار  کی موجیں اپنے  پورے جوبن پہ صبح کی سفیدی میں پتھروں سے ٹکراتی ایسے رقص پیش کر رہی تھیں جیسے کوئی ناگ بین کی سروں پہ مست ہوئے اپنا پھن پھیلائے جھوم رہا ہو
گاڑی سے باہر نکلتے ہی سردی اچانک شریر میں کسی انجکشن کی سوئی کی طرح چبھی اور جسم پہ کانٹے سے  ابھرنے لگے۔
جی ہاں، دل کو تھامیے اور ہوش سنبھالیے، آنکھوں کو ملتے ہوئے زور سے کھولیے۔ نہ تو آپ نیند میں ہیں، نہ ہی خواب دیکھ رہے ہیں۔
یہ جمعہ کا دن تھا۔ جب گاڑی فجر کے وقت شاہ اسماعیل شہید  کے شہر بالا کوٹ جا کر نماز کیلئے رکی تو وضو کرنے سے پہلے ہر کوئی ٹونٹی کھولے کھڑا رہا کہ
شاید تیرے دل میں اتر جائے میری بات
کے مصداق پانی گرم آ جائے...
نماز کے مختصر وقفہ، چائے کی چسکیاں اور اب تک کے سفر کو کسی مدلل تجزیہ کار کی مانند اک دوجے سے شیئر کرنے کے بعد گاڑی  اگلے پڑاؤ کیلئے روانہ ہوگئی۔
یادیں بس یادیں رہ جاتی ہیں!
کوئی آیا ہے ذرا آنکھ تو کھولو.. 
اچانک گاڑی رکی تو گاڑی میں سوئے مسافر نیند ہی نیند میں ہڑبڑا اٹھے۔ کیا ہوا ہے۔ کیوں رک گئے ہیں۔ ابھی تو سوئے تھے۔ نیند بھی پوری نہیں ہوئی۔ جسم تھکاوٹ سے ٹوٹ رہا ہے آنکھیں ملتے، انگڑائیاں لیتے کسی کے منہ سے کچھ تو کسی کے منہ سے کوئی جملہ نکلا.. 
جب ذرا ہوش میں آئے اور سب کو گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا تو بادل نخواستہ سب ہی تھکے ہارے, منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے باہر آ گئے۔ لیکن باہر کے منظر نے سب کو مبہوت کر دیا ۔ جیسے سب سکتے میں آ گئے ہوں۔ کچھ کہنا، بولنا چاہتے ہوں لیکن ابھی پورا یقین نہیں آ رہا تھا تو آنکھوں کو مَلتے اور زور سے کھول کے ارد گرد کے ماحول کو دیکھنے لگے۔ جہاں کھڑے تھے وہاں شمال کی جانب اک خوبصورت وادی، جہاں پھلوں سے لدے درخت لہلہا رہے تھے۔ خوش رنگ پھولوں نے اپنی خوشبو سے ہوا کو بھی اپنے جادوئی سحر میں جکڑا ہوا تھا۔ ترو تازہ اور ٹھنڈی ہوا نے جہاں روح کو معطر کیا وہیں جسم کے اندر سرایت کرتے ہوئے جلد کے اوپر کانٹوں کی صورت ابھرنے لگی۔ صاف شفاف چشموں کا پتھروں پہ رقص اور کوئل کی خوبصورت کوک، چیڑ کے لمبے سرسبز، بانس نما درخت سر مست جھومتے ہوئے جیسے تالیاں بجا کر آنے والوں کا استقبال کر رہے ہوں۔ چڑیا کا بچہ ابھی گھونسلے سے باہر نکلنے کی ہمت باندھ رہا تھا. 
جی ہاں، یہ 28 ستمبر اگلی جمعرات کی صبح ہے اور ہم الوندی کیلئے شوگراں لینڈ کر چکے ہیں( انشاءاللہ) مسافر اپنے بیلٹ کھول کر اپنا اپنا سامان اٹھا لیں اور اگلی ہدایات کا انتظار کریں. 
اک خوبصورت صبح میں خوبصورت جگہ پر آپکو خوش آمدید کہتے ہیں.. 

وقار احمد 
رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 23 October 2018

میرے ایمان کے ساتھی

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں 
1-  ایک وہ جن میں اخلاق کی کمی مگر مہارت/قابلیت میں میں بہت زبردست ہوتے ہیں
2-  دوسرے وہ جو اعلیٰ اخلاقی اقدار، مہارت/قابلیت میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں 
ہمارے نئے بننے والے دونوں راہبرز سیماب عارف اور عبداللہ دوسری قسم میں آتے ہیں۔ جو اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ تعلیمی، دنیاوی، تنظیمی مہارت اور قابلیت میں بھی ہم سب سے بہتر ہیں 
آپ دونوں کو "تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے
سلوگن رکھنے والی تنظیم کے ہراول دستے میں اپنا سکہ منوانے کیلئے خوش آمدید کہتا ہوں 
لیکن میرے ایمان کے ساتھیو! 
یہ آپ کی منزل نہیں ہے۔ کیونکہ منزلوں پہ پہنچ کر تو مزہ ختم ہو جاتا ہے 
مزہ تو رستے کی تنگ و تاریک, خاردار جھاڑیوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے, پر پیچ و خم کھاتی پگڈنڈیوں، دنیا کی رنگینیوں سے ضرورت کے مطابق لطف اٹھانے، طائف کے پتھر کھانے شعب ابی طالب کی تنگ و تاریک  گھاٹیوں میں محصور رہنے، تپتی، کوئلہ جیسی ریت پہ احد احد کہنے میں ہے  
میرے ایمان کے ساتھیو! 
داعی کو تو دریا کی مانند ہونا چاہیے۔ جیسے دریا کو جہاں رستہ ملتا ہے تو اپنے آپ کو پھیلا دیتا ہے۔ جہاں زرخیز زمین ملے تو سیراب کرتا جاتا ہے۔  پتھریلی زمیں  ہو تو وقت ضائع کیے پتھروں کو تر کرتے گزر جاتا ہے۔ پہاڑ آ جائیں تو چیر کے رستہ بنا لیتا ہے۔ رستہ تنگ ہو جائے تو اپنے آپ کو سمیٹ کے گزر جاتا ہے۔ اور کھڑا ہو جائے تو ڈیم کی صورت میں فصلوں کو سیراب کر کے انسانیت کیلئے باعث نفع بن جاتا ہے 
اے میرے ایمان کے ساتھیو! 
وقت کم اور چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ کرنے کے بہت کام ابھی باقی ہیں۔ دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں۔ ابھی تو کروڑوں نوجوان جن تک پہنچنا, ساتھ لے کر چلنا ہے۔  نئی اور خوبصورت بوتلوں میں شراب پیش کرنے والے, نوجوان نسل کو تہذیبوں میں الجھا کر اپنے کلچر اور اسلامی روایات سے دور کرنے والے بہت سے کھلاڑی و مداری میدان میں ہیں جن کا ہمیں قدم پھونک پھونک کے مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں آپ سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں امید ہے آپ ہماری ہمت و حوصلہ  بنو  گے, دست و بازو بنو گے, کسی دکھ اور غم میں ہماری ڈھارس باندھو گے۔ بیک وقت اک راہبر اور دریاں بچھانے والے بے لوث کارکن دونوں صورتوں میں پسند و نا پسند, شخصیت پرستی کے معیار سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف مشن,مقصد اور رضائے الہی کے حصول کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرو گے  
خدا تمہیں اپنی پناہ میں رکھے۔ تکبر و غرور کے کسی انجانے طوفاں سے باخبر رکھے۔ 
بہت بہت مبارک اور استقامت 

وقار احمد 
راہبر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...