Showing posts with label Quaid-e-Azam. Show all posts
Showing posts with label Quaid-e-Azam. Show all posts

Tuesday, 25 December 2018

جنم دن کا تحفہ

اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا...یہاں کا ماحول یونہی گندا رہے گا...کوئی قانون نہیں....کوئی اصول نہیں...سب لوگ کرپٹ اور بے ایمان ہیں...
میں نے گاڑی میں بیٹھے اپنے دوست کے ساتھ گرما گرم بحث کرتے ہوئے کہا..میں گاڑی ڈرائیو کررہا تھا...اور میرا دوست جوس کا ٹِن منہ کو لگائے میری بات سن رہا تھا...ٹریفک سگنل پہ گاڑی رکی...میرے دوست کا ٹِن خالی ہوا....اُس نے کار کا شیشہ نیچے کیا اور خالی ٹن پیک باہر سڑک پہ اُچھال دیا..
سگنل ابھی سبز نہیں ہوا تھا...ٹریفک سارجنٹ چوک کی دوسری سمت کھڑا تھا....میں نے ایک لمحہ اُسے دیکھا اور دھیان نہ پاکر فُل سپیڈ میں گاڑی بھگادی... 
ریڈیو پہ گانے لگے ہوئے تھے...اور آج شام ہم نے سینما میں نئی انڈین مووی دیکھنے کا پلان بنایا تھا..وہی جو ابھی آئی ہے "زیرو" مگر اتنا فلاپ بزنس کرنے کے باوجود شام 4 بجے والا ٹکٹ نہیں ملا..25 دسمبر کی چھٹی تھی...ہم دونوں ذرا آؤٹنگ کے لیے نکلے تھے...مگر یہ سالا سسٹم...اس ملک میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے..
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

قائد کا پاکستان

بے اثر ہو گئے سب حرف و نوا تیرے بعد
کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد
تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
ایسی بدلی تیرے کُوچے کی فضا تیرے بعد
اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی 
ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد
وقت کسی کا نہیں ہوتا اور کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا، کوئی امیر ہو یا غریب، بچہ ہو یا بڑا سب کے لیے وہی 24 گھنٹے ہوتے ہیں۔ لیکن یہی 24 گھنٹے کسی کو بہت زیادہ اور کسی کو بہت کم لگتے ہیں۔
وقت کا کم یا زیادہ ہونا اس کے صحیح استعمال پہ منحصر ہے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو ان چوبیس گھنٹوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں...بروقت فیصلے کرتے ہیں اور اپنی خواہشات سے زیادہ مقدم اپنی قوم، ملک اور آنے والی نسلوں کی بہتری کو رکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں تاریخ کا باب سنہرے الفاظ میں یاد رکھتا ہے۔
انہی لوگوں میں قائداعظم محمد علی جناح کا نام سرِ فہرست ہے جنہوں نے اپنی قوم کے لیے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا، ڈٹ کے آنے والی مشکلات کا سامنا کیا۔ کیونکہ کامیابی مسلسل محنت اور وقت کے صحیح استعمال سے ہی ممکن ہے۔
اُس ملک کا خواب دیکھا جہاں مسلمان سکون سے رہیں، اسلامی اقدار کا تحفظ ہو، امن ہو، انصاف ہو.....لیکن نہیں! یہاں تو نوجوان نسل مغربی دنیا کی دلدادہ ہو گئی ہے ان کا اوڑھنا، بچھونا، کھانا پینا سب مغربی ہے جس کو اس وقت وہ ماڈرنزم (modernism) کا نام دے رہے ہیں۔ تو کہاں گیا وہ ملک جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا جسے تعبیر قائد نے دی تھی۔
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا...اب بھی غفلت کی نیند سے جاگو... اس سے پہلے کہ اس اسلامی مملکت میں کچھ بھی ویسا نہ رہے جو اس کے حاصل کرنے کی وجہ تھی۔ جس کے لیے ہزاروں جانیں قربان ہوئیں، بہنوں کی عزتیں لٹیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔
آئیں آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت کریں گے، ان اقدار کی حفاظت کریں گے جو اس کی وجۂ تخلیق ہیں۔ پاکستانی ہونے کا حق ادا کریں گے اور اپنے اجداد کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
سحرش امتیاز 
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...