Wednesday, 1 May 2019

ہمدردی نہیں حق

اتوار کی چھٹی  گزار کے سوموار کو پھر سے کام پر جانا یا پڑھائی کے لئے جانا بہت مشکل لگ رہا ہوتا...... ہر بار کی طرح منہ بنا ہوتا جیسے یہ پہلی بار ہو رہا ہو مگر عادت جو نہیں ہو پا رہی ہوتی فطرتِ انسانی ہر شے کی زیادتی ہی طلب کرتی ہے چاہے وہ عیش و آرام ہو یا دولت.......ہاں  مگر اس پیر کو دل تھوڑا خود کو تسلی دے رہا تھا خود کو، چلو دو دن ہی جانا پڑے گا بدھ کو پھر چھٹی آ رہی ہے, جو نیند اب نہیں پوری ہوئی وہ تب پوری کر لینا.... مگر ساتھ ہی یاد  آیا آخر یہ چھٹی کیونکر ہو رہی اس سے پہلے تو دورانِ ہفتہ نہیں ہوتی تھی پھر تاریخ پہ نگاہ دوڑائی تو دیکھا یکم مئی ہے وگرنہ بچپن سے سنتے آ رہے تھے اس روز چھٹی ہوتی ہے یوم مزدور منایا جاتا ہے... ہاں بھئی وہی مزدور جو سالہاسال  محنت کرتے کبھی گدھوں کا سا بوجھ اپنے سروں پر اٹھا کر تو کبھی گدھوں پر عمارتوں سا بوجھ دھکیل رہے ہوتے کہیں لوہار بنے ہوتے کہیں ترکھان تو کہیں اینٹوں سیمنٹ ساتھ سر توڑ کوشش میں لگے ہوتے ٹھکانے لگانے میں کہیں بڑےلوگوں(ہاں بھئی وہی جن کے پاس دولت زیادہ ہوتی ہماری لُغت میں بڑا کہا جاتا نا انہیں) کے گھروں میں چاکری کر رہے ہوتے ان کے جوتے پالش کرنے سے لے کر ان کے غسل خانے صاف کرنے تک کے اور کہیں سڑک پر ریڑھی لگائے کھڑے ہوتے, ان گنت بھیس ہیں اس مزدور نامی شخص کے میں کس کس کا حوالہ دوں... اور دیکھو نا! اس مزدور کی تو کوئی ایک جنس, عمر بھی مقرر نہیں ہے یہاں بچہ, بوڑھا, جواں, مرد, عورت, لڑکی لڑکا سب ہی اس فرقہ میں شامل ہیں جن کے نام یہ دن منایا جاتا ہے..... اور دن منانے کا جوش و خروش تو دیکھئے ملک کے چھوٹے بڑے ہر سرکاری ادارہ میں چھٹی ہوتی ہے..... مگر ہاں صرف سرکاری ادارے میں ہی چھٹی ہوتی ہے تو مزدور کا تعلق تو کسی ادارہ سے نہیں، مزدور تو بس مزدور ہے... آپ اس کا دن منائیں یا اس دن اسے منائیں اسے تو کام پر جانا ہی ہو گا.۔...
مگر یہ بات مجھے ہضم نہیں ہوتی آخر کو کس لئے ہم یہ دن مناتے کس طرح سے ہم دن مناتے؟؟؟؟ بڑا آسان جواب ہے میں بچپن سے دیکھتی آ رہی ہوں، یوم مزدور ہم سب چھٹی پر ہوتے سارا دن ٹی وہ لگا کر بیھٹتے پروگرام دیکھتے ان پروگراموں میں ملک کے بڑے لوگ ہاں بھئی میرا مطلب کرسی عمارت والے لوگ بڑے تفاخر کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے سٹیج سجائے(جس کو سجایا بھی مزدور نے, جس کا سامان اٹھا کر لانے, اسے ٹھکانے پر لگانے, بڑے لوگوں کےلئے آرام دہ کرسی ٹھنڈی چھاؤں پنکھوں تک کے لئے تمام تگ و دو بھی مزدور کے ہاتھوں سرانجام پائی) کھڑے مزدور کے بارے میں لیکچر دے رہے ہوتے ہیں بہت عمدہ قسم کے فلسفے جھاڑے جا رہے ہوتے(حتی کہ ابھی گھر میں مزدور کو جھاڑ پلا کر آئے ہوتے, راستہ میں مزدورں کو غیض و غضب سے دیکھ کر آئے ہوتے) ان کی باتیں سن کر ایسا لگتا جیسے ان سا تو ہمدرد کوئی نہیں اور ہم بھی اپنی طرف سے اعلٰی تقاریر سن کر اس دن کا حق ادا کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں.... 
مگر افسوس صد افسوس
 میں کس منہ سے کہوں میں کس رو سے یہ دن مناؤں؟
گر جن کا حق میں ان کو سکھ نہ دے پاؤں....
میں کروں گی بھی کیا؟میں کر بھی کیسے سکتی... اب تو ٹیکنالوجی کا موبائل کا دور ہے میرے جیسی تمام نوجواں نسل اس روز کو کچھ الگ انداز میں مناتے صبح ہوتے ہی موبائل لیا تمام سوشل اکاؤنٹس پر سٹیٹس لگا کر, مزودر سے اظہار یکجہتی کر کے بری الذمہ (جب کہ وہ مزدور لوگ ان سوشل میڈیا جیسی چیزوں سے واقف بھی نہیں ہوں گے) بعد از لوگ چھٹی منانے نکل جاتے دوستوں کے ساتھ یا فیملی کے ساتھ کھانے پہ جا کر وہاں مزدوروں سے ہی کھانا سرو کرنے کو کہا جاتا, راستے میں گاڑی خراب ہو جائے گھر کے لیۓ سامان لانا پڑ جائے تو مزدور لگا کر اٹھوایا جاتا..... 
آئیں آج کے اس روز عہد اور کوشش کریں جن کے لئے دن منا رہے ان کو سُکھ دیں..... مزدور کے پاس جا کر مزدور کا ہاتھ بٹائیں آج یوم مزدور ہے اسے بھی بتائیں.... ورنہ یہ آپ کی کرخت تقریریں , بڑے بڑے بینرز, آپ کے سٹیٹس ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے...... 
کسی مزدور کو کام پر جاتے دیکھیں تو اسے روک کر اس دن کی دیہاڑی دے دیں
اگر آپ نے خود کام لگوایا ہوا تو آج کے دن مزدور کو چھٹی کرا دیں
آپ کے گھر آئی ملازمہ جو سارا سال آپ کے لئے کام کرتی آج اس کو بیھٹنے دیں اس کے کام خود کریں
آپ کے باورچی جو آپ کے لئے کھانا بناتے ہیں آج آپ ان کو بنا کر کھلائیں
گھر سے باہر کسی مزدور کو مشقت کرتے دیکھیں تو اس کا ہاتھ بٹائیں 

یہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹا کر کسی اللہ کے بندے کے کام آ کر آپ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور میرے وطن کے مزدور بھی اس روز کی آمد سے فیض یاب ہو پائیں گے.. 

Zil-e-Huma
Mission Holder, Positive Pakistan

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

HayMarket Tragedy کو دنیا بھر میں یوم مزدور کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔  آج دنیا بھر میں عام طور پر کام کے اوقات 8 گھنٹےتصور کئے جاتے ہیں۔ اور یہ اوقات ایک قانون کی صورت اختیار کر چکے ہیں لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا یہ عالمی تعطیل شکاگو کے ان مزدوروں کی یاد میں منائی جاتی ہے جن کو صرف اس جرم  کی  پاداش میں لقمہ اجل بنادیا گیا تھا کہ انھوں نے غیرمنصفانہ اوقات کار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ 
شکاگو کے ان چند سو مزدوروں کی قربانی کے نتیجے میں امریکہ اور پھر یورپ اوربتدریج پوری دنیا میں کام کے اوقات 8 گھنٹے تک محدود کئے گئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس قانون کی تشکیل اور عملدرآمد کے لئے کئی سو انسانوں کولقمہ اجل بنانے کے بعد یہ قانون سازی کی گئی۔ تاریخ پر نظر دوڑانے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جان بالخصوص بندہ مزدور کی جان ہمیشہ سے ہی نہایت ازاں تصور کی جاتی رہی ہے۔
افسوس صد افسوس کہ مغرب میں تو مزدور کی اجرت اور تکریم دور حاضرمیں قدرے بہتر ہے لیکن وہ پاکستان جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا عملی نمونہ ہونا چاہئے تھا آج وہاں مزدور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آج پاکستان میں ایک مزدور کی آمدن اتنی ہےکہ وہ مکان کا کرایہ اور گھر کا راشن بھی خریدنےکی قؤت نہیں رکھتا۔ بچوں کو اعلی تعلیم دلوانا تو کجاایک مزدور پرائمری سکول میں بھی داخل ہوتے ہوئےلرز اٹھتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ایک غریب باپ کا بیٹا غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے باوجود عزت کے  ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے خواب دیکھتا ہے۔ اور ایک مزدور کی بیٹی اس لئے سخت سردی میں ننگے پاؤں سکول کے گراؤنڈ میں کھڑی ساتھی طالبات سے نظریں چراتی ہے کہ اس کا باپ اس کی سکول کی فیس  بروقت جمع نہیں کروا سکا۔
اورایک مزدور آج بھی صرف ایک دن کام نہ ملنے پر اپنے بچوں کو بھوکا سلانے پر مجبور ہوتا ہے۔    
میں خون بیچ کے روٹی خریدلایا ہوں
امیرشہر بتا یہ حلال ہے کہ نہیں۔۔۔۔
آج مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں مزدور یونین مزدوروں کے حقوق کی محافظ سمجھی جاتی ہیں لیکن  یہ یونینز بھی صرف ووٹ لینے کے لئے پیش پیش ہوتی ہیں مگر جیسے ہی انتخابات  کا دور ختم ہوتا ہے ان یونینز کے عہدیدار بھی ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتےہیں۔  اور پھر 4 یا 5 سال بعد اگلے الیکشن کے موقع پر نظر آتے ہیں یا پھر اگر خدانخواستہ کوئی مزدور انتقال کر جائے تو اس کے پسماندگان کو دو یا ڈھائی لاکھ روپے اس کے گھر پر کفن دفن کے اخراجات کا کہہ کر دینے آجاتے  ہیں اور ساتھ میں وفات پاجانے والے مزدور کے بیٹے کو نوکری بھی دلوا دی جاتی ہے جو دراصل مستقبل میں آنے والے تمام الیکشنز میں ووٹ کی پیشگی قیمت سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔۔
غرضیکہ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات۔۔۔
سید فرحان الحسن 
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Sunday, 28 April 2019

شوکا لاپرواہ

نصیب آزما چکا ہوں، قسمت آزما رہا ہوں
کسی بے وفا کی خاطر رکشہ چلا رہا ہوں....
نظر رکشے پہ لکھے شعر پہ پڑی....ڈرائیور کم عمر سا لڑکا تھا بمشکل انیس بیس برس...
خدا معلوم اس عمر میں کون سے نصیب آزمانے کے بعد قسمت کے پیچھے بھاگ رہا تھا....اور کس بے وفا نے ماں کے لعل کو رکشہ چلانے پہ مجبور کیا تھا....🤔
مغرب میں جس عمر میں نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں...کچھ نہ کچھ کیریر گولز کی طرف ہوتے ہیں ہمارے ہاں ابھی تک ماں کا چاند یا تو دو کتابیں تھامے برائے نام ڈگری کرتا ہوا ابا جی کے پیسے پہ عیش کررہا ہوتا ہے....
یا ساتویں آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد کسی بے وفا کی خاطر رکشہ چلا رہا ہوتا ہے.....🤦‍
(اب براہِ مہربانی یہ لیکچر نہ دیا جائے کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا...ہم رکشہ چلانے کے بالکل بھی خلاف نہیں اگر یہ واقعی ماں باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیے چلایا جارہا ہے)
لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ کم عمر بچے ناکام عاشق بنے پڑھائی میں عدم توجہ....بےکاری کے دن رات لیے....ٹک ٹاک کی ویڈیوز کے "ویوز" پہ فخر سے سینہ چوڑا کرنے والی مخلوق اور میسجز اور اب سوشل میڈیا پہ میسر سستی شاعری کے سٹیٹس لگائے اپنے تئیں دیوداس بنے ہوتے ہیں...(دیوداس ہمارا پسندیدہ کردار ہرگز نہیں ہے....)🙅
اس پہ بالی وڈ کی فلموں نے عشق میں مرجانے کے سوا کچھ نیا دیا ہی نہیں اس مخلوق کو.....
سو ان کی زندگی کے مقاصد انہی مسائل میں اُلجھے رہنا اور عمر گزار دینا ہے.....
پھر المیہ یہ ہے کہ ہمارے "بڑے" بھی نام نہاد تصوف کی پُڑیا میں  لپیٹ کے ہیر رانجھا کے قصے سنتے ہیں....ڈراموں فلموں میں ہیرو کے حمایتی بن کر انہماک سے دیکھتے ہیں پر ان بچوں کے مسائل کو سمجھنا اور سلجھانا انہیں غیر ضروری لگتا ہے....🤐
انہی خیالوں میں اُلجھے ہوئے بائیک کی تیز آواز سنائی دیتی ہے....ایک لڑکا گریبان کھولے... بغیر سائلنسر کی بائیک پہ ون وہیلنگ کرتا ہوا زووووں کر کے گزرتا ہے....بائیک کے پیچھے لکھا ہے...
*شوکا لاپرواہ*🤦‍
کس قسم کا سٹف دے رہے ہیں آپ آنے والے دور کو.....
کیا کریں گے یہ بچے اس معاشرے کے لیے جب وہ اپنے لیے ہی کارآمد نہ ہوں....
خدارا انہیں سمجھیں...ان سے بات کر کے ان کے مسائل سلجھائیں....ورنہ ہمارے شوکے لاپرواہی میں نسلوں کی نسلیں خراب کرتے رہیں گے....
اللّٰہ رحم کرے...

سیماب عارف
 ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 25 April 2019

اسلام کا مزاج

کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب کے دوران ایک خاتون کھانے کے وقفے میں زبردستی سٹیج پہ چڑھ آئیں اور اصرار کرنے لگیں کہ انہوں نے سورہ رحمٰن تھیراپی لوگوں کو بتانی ہے انہیں وقت دیا جائے....
شائستگی سے انکار کیا گیا کہ وقت ناکافی ہے تو چیخنے چلانے اور لعن طعن پہ اُتر آئیں کہ باقی کام چھوڑو یہ اللّٰہ کا کلام پڑھواو یہ زیادہ ضروری ہے...
یہی کام آنا ہے دنیا داری کا کوئی فائدہ نہیں...
بہتیرا سمجھایا کہ ہم بھی اللّٰہ کی مخلوق کی بھلائی کے لیے ہی یہاں موجود ہیں...مگر ان کی ایک ہی ہٹ...
کہ نہیں اُن کی بات زیادہ ضروری ہے اور ہم کون ہوتے ہیں انہیں کلام پڑھنے سے روکنے والے.......خدا ہمیں پوچھے گا...
ہم تو ان کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئے......🤐
خیر بڑی مشکل جان چھڑوائی....
اس ذہنیت کے لوگوں پہ مجھے غصے سے زیادہ ترس آتا ہے....جو عمر بھر اپنے تئیں بہترین مبلغ بنے درحقیقت لوگوں کے لیے کوفت اور بیزاری کا باعث بن رہے ہوتے ہیں.....😬
اور جنہیں شاعر کی زبان میں راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہے بلکہ بعض اوقات تو راستے میں بھی نہیں ہوتی!!
ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ایک بات یاد آگئی ہے کہ 
"اسلام کا مزاج داعیانہ ہے، فاتحانہ نہیں"
اور ایک داعی اپنے ساتھیوں اور لوگوں کا خیرخواہ ہوتا ہے...ان کے مزاج کو سمجھ کر اس پہ چلنے والا....اُن میں سے ہوتا ہے.....الگ نہیں ہوتا....
اگر آپ کے اردگرد رہنے والے آپ کو اپنا دوست اپنا ہمدرد اور خیرخواہ ہی نہ سمجھیں تو وہ آپ کی زبردستی کی راگنی تو نہیں سنیں گے نا......
خدارا دینِ اسلام پہ رحم کریں......

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Sunday, 21 April 2019

Say to Stay Connected


We think about the problems, keep grudges and pretend to be OK once meet the people whom we're having problems with.
This turns out creating creep, a lot of creep inside us...moving us towards nothing than tensions.
So, quick question.....
What to do???

Ummmm..... Talk... Yay... Let's talk
Speak out your heart
Say out loud (actually not loud) but Say it.
Half of the problems gone once we talk about it, once we discuss it. May be the other person has a different perspective on the situation or maybe it's just a kick off time...
So start talking, putting up the problems on a table of discussion and let the purity of the emotions remain beautiful...

Saima Ijaz
 The author is a blogger & the Deputy Coordinator  Positive Pakistan, Lahore Chapter


ایک ملاقات

آج رات میری ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی ہے جو تنِ تنہا اپنی قوم کے لیے بقا کا سبب بنے....ان کا بتایا ہوا ہر رستہ منزلوں کا تسلسل تھا.... تاریخ کے پچھلے پانچ سو سالوں میں ان کی قوم میں ان جیسا سوچنے والا پیدا نہیں ہوا..... ان کا خاموش رہنا گردُوں میں اضطراب کا سبب بنا اور ان کا بولنا زمیں پر ایک قوم اور ایک وطن کے تشکیل کا باعث بنا...
جی ہاں... میری ملاقات علامہ محمد اقبال سے ہوئی ہے..
اقبال... ہمیشہ کی طرح اس ملاقات میں بھی خاموش... سنجیدہ.... اور ایک گہری سوچ میں گم نظر آئے.... میں نے عقیدت سے سلام کیا اور حال احوال دریافت کیا... انہوں نے مثبت انداز میں جواب دیا... میں نے بتایا کہ میں پاکستان میں رہتا ہوں... اس ملک میں جس کی خواہش آپ نے ظاہر کی تھی.... یہ سنتے ہی اقبال نے سنجیدگی سے اپنا چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا...اقبال کی آنکھوں میں نمی تھی اور لبوں پر معمولی مگر پراُمید سا تبسم...
اقبال بظاہر تو خاموش تھے مگر ایک لمحے کو مجھے یوں محسوس ہوا کہ اقبال کے اندر گونجنے والی ہر چیخ مجھے سنائی دے رہی ہے... اقبال کے تبسم کا تاثر مجھ پر یوں پڑنے لگا جیسے مدتوں سے ہجر سہتے ہوئے شخص کو وصل کی اُمّید کا خیال آنے لگے... جیسے مِیلوں دور سے یوسف کی خوشبو یعقوب کو آنے لگے... جیسے سالوں کی بنجر زمین سبزہ اُگانے کی خواہش ظاہر کرنے لگے.... اقبال خوش تھے.... اقبال خدا کے حضور شکرگزار تھے...... اقبال پرامید تھے..... اور اقبال شدید مضطرب بھی تھے...
طویل خاموشی کے بعد اقبال نے ایک گہری آہ بھری اور کہنے لگے : " برخوردار! خود پر رسولِ خدا کے فیض کی کیفیت حاوی رکھنا۔"
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے.... مگر میرے دل میں ایک شور سا اُٹھنے لگا.... میرے اوسان خطا ہونے لگے اور کندھوں پر اپنی پوری تہذیب کا بوجھ محسوس ہونے لگا... میرا یہ احساس شدید ہونے لگا کہ جس گھر کی التجا اقبال نے کی تھی... اب تک صرف اس کی پہلی اینٹ رکھی گئی ہے... اقبال یہ تو جانتے تھے کہ یہ گھر سالوں نہیں صدیوں میں تعمیر ہوگا مگر وہ اس بات پر نہایت بے چین تھے کہ اس گھر کی تعمیر روک کیوں دی گئی ہے؟؟
میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ انہوں نے تعجب بھرے لہجے میں فرمایا: "کیا تم زندہ رہنے کی خواہش رکھتے ہو؟"
ان کا یہ کہنا تھا کہ میں شدید چونکا... اور میری آنکھ کھل گئی۔

زین نوید
ہیڈ ریڈرز کلب پازیٹو پاکستان

Thursday, 18 April 2019

پازیٹو پاکستان جھنگ چیپٹر

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
پازیٹو پاکستان جو ایک رضاکارانہ اصلاحی تنظیم ہے جو معاشر ے میں مثبت فکرو عمل کے فروغ،شعور کی بیداری، اعلیٰ اقدار کے احیاء اور نظریہ پاکستان کے پر چار کے لیے کوشاں ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو غیر سیاسی، غیر مذہبی اور غیر منافع بخش ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کہ ایک قدیمی ضلع میں اپنی ٹیم بنانے کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کیا ۔اور یہ ضلع کوئی اور نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سلطان باہوؒ کے ہُو کی گونج بلند ہوئی، جنہوں نے آج سے سینکڑوں سال پہلے 140تصانیف مرتب کیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کی رُومانوی داستانیں رقم ہوئی۔ جہاں ٹاٹ کے سکولوں میں پڑھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام بابائے فزکس کہلائے، جنہیں دنیا کی معروف 32 یونیورسٹیوں نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری دی۔ 8809مربع کلومیٹر کے رقبہ کے حامل ضلع جھنگ کی مٹی کے ذرے نایاب گوہر ہیں۔ میدانِ ثقافت ہو یا سیاست، علم و ادب ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی اور جہاں کی شاعری لوک ادب، زبان و ثقافت، مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے
ضلع جھنگ کے باسیوں پازٹیو پاکستان کی ٹیم کاحصہ بنیے، اپنے خطے اور قوم و ملک میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لیے۔ اور جھنگ کو مثبت تبدیلی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

کشور پروین

سوال کی گستاخی

آذر اور اس کے ساتھی جب میلے سے لوٹے اور تمام بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا اور کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کاندھے پہ...تو کہنے لگے یقیناً یہ ابراہیم کا کام ہے...
ابراہیم علیہ السلام نے کہا کلہاڑا تو بڑے بت کے کاندھے پہ ہے تم لوگ اسی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے.....
مگر یہ سچ انہیں ہضم نہ ہوا اور وہ لوگ سوال کی گستاخی برداشت نہ کرسکے....
سوال کی گستاخی ....ہر اُس شخص کے لیے ناقابلِ معافی ہوتی ہے جو کسی جھوٹے زعم میں بڑا بنا ہوتا ہے...
ہر بڑا "بڑا" نہیں ہوتا.....اور نہ ہر چھوٹا "چھوٹا"....
ہاں ٹھیک ہے اُتنی تمہاری عمر نہیں جتنا میرا تجربہ والی بات بھی ٹھیک ہے.......لیکن!!
کبھی کبھار کم عمری کی ذہانت بھی تجربے کو مات دے سکتی ہے....ایسا نہ ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کم عمر نوجوان سے ابو جہل جیسے " بڑے" خائف نہ ہوتے....
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ سچ جاننے کے باوجود بھی وہ اس لیے نہیں مانتے تھے کہ انہیں لگتا تھا یہ ہمارا بھتیجا...کم عمر نوجوان....ہماری بات کو غلط کیسے کہہ سکتا ہے....اپنی ہتک سمجھتے تھے...تبھی تو معجزات دیکھ کر بھی ہٹ دھرم رہے....
آج کے دور میں "جنریشن گیپ" کی ایک بڑی وجہ سوال سے گھبرانا ہے....
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوال کو دبا کر آپ اپنی عزت نہیں بچارہے بلکہ آنے والے دور کے ایک نئے انسان کو خود سے اور دور کررہے ہیں.....
اگر آپ کے پاس جواب نہیں ہے تو اعتراف کر کے بڑے بن جائیں...ورنہ آپ کا قد آپ کی نسلوں میں چھوٹا پڑتا جائے گا!!...

سیماب عارف
ایڈیٹر میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 23 March 2019

حق اور استحقاق

سفیر عباس صاحب ہمارے باٹنی کے استاد تھے....جتنے اچھے طریقے سے پڑھاتے تھے اتنے ہی احسن انداز میں زندگی سکھاتے تھے....میں BSc کے بعد ان سے کبھی نہیں ملی...نہ کبھی رابطہ ہوا...مگر ان کے سکھائے کچھ سبق اب بھی بہت جگہوں پہ کام آتے ہیں💗
ان میں ایک بہترین سبق جو مجھے زندگی میں کبھی کسی دوسری جگہ نہیں ملا...وہ تھا حق اور استحقاق کا فرق..💖
Difference between right and privilege
کوئی آپ کا حق نہ دے تو احتجاج کریں ناراض ہوں...بنتا ہے..
لیکن جہاں آپ کا حق نہیں...صرف استحقاق استعمال کررہے ہیں تو آپ کا ناراض ہونا نہیں بنتا..
انہی کی دی مثال دوہرا رہی ہوں...اگر کوئی دوست گاڑی میں لاہور جارہا ہے....اور آپ اسے کہتے ہیں کہ گاڑی خالی ہی ہے مجھے بھی لاہور جانا ہے... مجھے ساتھ لیتے جاؤ...اور وہ انکار کردے...تو آپ کا ناراض ہونا نہیں بنتا... یہ اُس کا فرض اور آپ کا حق نہیں تھا...
اخلاقیات کا تقاضا شاید یہی ہو کہ اُسے انکار نہیں کرنا چاہئیے تھا...لیکن اگر وہ انکار کردے تو آپ کو ناراضگی کا حق نہیں...کیونکہ یہ privilege  تھا...right نہیں!!🙂
زندگی میں جب کبھی میں نے کسی کی بات پہ برا ماننا چاہا اس سبق نے ہمیشہ میرا راستہ روک دیا.....اور بہت سے تعلقات بچالیے...💞💕
خدا آپ کا حامی و ناصر ہو....

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

قلم کتاب- قسط چہارم

ایک شخص غزل لے کر اخبار کے دفتر گیا...ایڈیٹر لینا نہیں چاہتا تھا سو اُس نے غالباً پڑھےبغیر رد کردی....وہ شخص دفتر سے باہر نکل کر کہنے لگا....لو جی غالب کی نہیں چھپی تو اپنی کیا چھپنی تھی....
😄یہ کہانی کہیں سنی تھی...معلوم نہیں سچ ہے یاجھوٹ...لیکن فی زمانہ شہرت کی پیمائش اس بات سے بھی کی جاسکتی ہے کہ اپنے مشہور اشعار سرچ search کریں....جتنے زیادہ ناموں سے آپ کو ملیں سمجھیے اتنی شہرت بڑھتی گئی😜
شاعر کا نام مٹادینے والا عارضہ نزلہ زکام کی طرح بہت پھیلا ہوا اور سدا بہار ہے...ایسے مریض جونہی کسی شاعر کا شعر کاپی کرتے ہیں سب سے پہلے نیچے لکھا شاعر کا نام مٹائیں گے....یا اگر سکرین شاٹ لیں تو crop کر کے شاعر/لکھاری کا نام کاٹ لیں گے...
مرض جوں جوں بڑھتا جاتا ہے...مریض شاعر کا نام نکالنے کے بعد اپنا نام بطور شاعر لکھنے لگتا ہے.....اور شاعر کا تخلص مٹا کر اپنے نام سے مقطع بنالیتے ہیں....
اور آخری سٹیج کے مریض تو زبردستی... شاعر کا تذکیر کا صیغہ ہٹا کر تانیث اور تانیث کا صیغہ ہٹا کر تذکیر لگا لیتے ہیں۔
ایسے ایک صاحب نے ہماری پوری غزل میں سے سوچتی، رہی، تھی وغیرہ نکال کر سوچتا، رہا اور تھا لگا کر غزل لکھی اور پورے اعتماد سے محفل میں سنائی بھی...
اس بات سے انکار نہیں کہ تصویر چرائی جا سکتی ہے فن نہیں....مگر پھر بھی ایک اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے آپ کی...کہ اجمل کا شعر سجاد اور فیروز کا حبیب کے کھاتے میں نہ ڈالا کریں....
(ناموں کی مماثلت محض اتفاقی ہوگی) 
اگر کوئی شاعر یا لکھاری اپنے لکھے کے نیچے اپنا ہی نام لکھا دیکھنا چاہتا ہے تو اسے آپ خودپسندی نہیں کہہ سکتے...یہ اُس کا حق ہے!!
نوٹ:شیطان آپ کو شئیر کرنے سے روکے گا ضرور😜

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Thursday, 21 March 2019

قلم کتاب ۔ قسط سوم

کچھ دن پہلے چھوٹی بہن کو ایک کالج فیلو منیبہ نے فرمائش کی کہ تمہارے ابو شعر لکھتے ہیں تو انہیں کہو ایک نظم منیبہ پہ بھی لکھ دیں...گویا منیبہ نہ ہوئیں محترمہ فاطمہ جناح ہوگئیں....
(یہ مذاق نہیں تھا محترمہ واقعی سنجیدہ تھیں...😄)
یہ صرف ایک محترمہ کا قصہ ہے....اکثر وبیشتر ایسے بہت سی محترمائیں اور محترم فرمائش لیے آتے ہیں...کہ انہیں کسی مقابلے میں حصہ لینا ہے فلاں مصرعے پہ ایک غزل لکھ دی جائے یا فلاں عنوان پہ نظم......
ایسی کسی بھی فرمائش پہ ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے..
"یار یہ ایسی باتیں کیسے کر لیتے ہیں🤔😆"
اس سے بڑی ادبی بددیانتی یا مذاق میرے نزدیک کوئی نہیں....بھئی اگر آپ شاعری نہیں کر سکتے تو مت کریں...کوئی مجبوری ہے کیا.....اتنی جرأت کیسے کرلیتے ہیں آپ کسی کے شعر کو اپنا بتا کے....محض ایک جیت کے لیے🤔 نہیں...یہ جیت نہیں ہے!!
یہی نہیں...کچھ کی فرمائش منیبہ کی طرح اُن کی ذات شریف پہ نظم لکھ دینے کی ہوتی ہے!! اتنی خود پسندی...اور وہ بھی دھڑلّے سے....🤔
قدرت نے ہر فرد میں ٹیلنٹ رکھا ہے...💖کوئی نہ کوئی خوبی...💗.....کوئی بولنے میں اچھا ہے کوئی لکھنے میں....کوئی کسی اور کام میں....😍
ضروری نہیں کہ آپ صرف شعر کہہ کے ہی باذوق کہلوا سکتے ہیں... اگر آپ شعر نہیں کہہ سکتے تو کوئی بات نہیں...اتنا اوکھا ہونے کی کیا ضرورت ہے....خدا نے اور کچھ ہنر دیا ہوگا آپ کو....اُسے پہچانیں...اور  پھر نکھارنے کی کوشش کریں!! مگر خدارا ادب کے ساتھ اتنی بے ادبی کا برتاؤ نہ کریں...
مالک اپنی امان میں رکھے....امین

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...