Tuesday, 22 October 2019

بہترین انسان اور حکمران

سکول میں انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی "دی وزڈم آف چائنہ" جس میں شہزادہ کو اس کا استاد کہتا ہے، "ایک بہترین حکمران کے لیئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان سنی آوازیں بھی سن سکے". میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ صلاحیت ایک بہترین حکمران کے لیئے ہی ضروری نہیں بلکہ ایک بہترین انسان بننے کے لیئے ضروری ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بہترین انسان بننا نہیں چاہتے اور بہترین حکمران بننے کے خواب دہکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ بہترین انسان بن پاتے ہیں نہ ہی بہترین حکمران، اور بدقسمتی سے اگر ہم حکمران بن بھی جائیں تو بدترین حکمران بن کر اپنی محکوم عوام کو بزور شمشیر یہ باور کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہم بہترین حکمران ہیں۔ 
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید۔۔
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔۔!
کہا جاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ ارتقاء کے مراحل میں رہتی ہے، انسانی سوچ بھی ارتقاء میں رہتی ہے لیکن یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ارتقاء سے کس حد تک مستفید ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمارا ذہن تو پختگی حاصل کر لیتا ہے لیکن ہماری سوچ میں بالیدگی نظر نہیں آتی۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سوچ میں خودکفیل ہوتے ہیں، ایسے لوگ دنیا کے غموں اور تفکرات کے باوجود خوش رہنا سیکھ جاتے ہیں اور حقیقی مسرت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ لوگ نہ ہی حطمہ سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی حاویہ کی فکر ان کو ستاتی ہے، کیونکہ جب انسان فکر و سوچ کی پختگی حاصل کرتا ہے اس سے کچھ پہلے لاشعوری طور اس کو ایمان کی پختگی بھی حاصل ہوجاتی ہے اور پھر وہ نہ ہی مال و دولت جمع کرتا ہے اور نہ ناپ تول میں کمی۔۔ اور پھر اس کو وہ تمام صلاحیتیں بحکم ربی عطا کی جاتی ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ ان سنی آوازیں بھی با آسانی سن لیتا ہے اور دل میں موجود خشیت الہی اس کو ظالم بھی نہیں بننے دیتی۔ اور جب وہ انسانیت کی اس معراج کو حاصل کر لیتا ہے تو اس کو حکمرانی بھی عطا کر دی جاتی ہے دنیاوی نہیں حقیقی حکمرانی، کیونکہ دنیاوی حکمرانی اس کے سامنے کھیل تماشہ بن چکی ہوتی ہے اور یہاں سے شروع ہوتا ہے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر۔۔۔!

سید فرحان الحسن
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان

Thursday, 19 September 2019

ذاتی تجزیہ

”مُعاشرہ سُدھارنے کیلٸے آغاز خُود سے کریں“
یہ محض ایک مقُولا نہیں بلکہ ایک ایسی رنجیدہ حقیقت ہے کہ جِسے جانتے تو سب ہیں پر مانتا کوٸی نہیں۔
جی ہاں، یہ با لکل یُونہی ہے جیسے آج کا بدنصیب مُسلمان اللہ تعالٰی ”کو“ تو مانتا ہے پر اللہ تعالٰی ”کی“ نہیں مانتا۔
اورایسا صرف اسی لیے ہے کہ آج کا انسان اس بات سے ہی انجان ہے کہ مُعاشرہ ہوتا کیا ہے۔ یہ کیسے بنتا ہے۔ کون سے عوامل ہیں جو اِس کو بنانے یا بگاڑنے میں اثرانداز ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کا ہر انسان اپنی ذات کے لیے بہترین وکیل اور دوسروں کے لیے بہترین منصف کا دعوے دار ہے یعنی ہم یہ تسلیم کرنے کو راضی ہی نہیں کہ ہم نے غفلت برتی اور اگر ایسا ہی ہے تو اس معاشرے کی بدحالی کا زمہ دار آخر کون ہے؟
یاد رہے کہ کوٸی بھی انسان ماں کے پیٹ سے مُلّا یا ڈاکُو بن کر نہیں آتا یہ مُعاشرہ ہی ہے جو اُسکی تربیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ وہی مُعاشرہ جسکی ترجمانی آپ، میں اور ہم سب کرتے ہیں۔
جی بالکُل... یہ ہم خُود ہی ہیں جو مِل کر ایک مُعاشرہ تعمیر کرتے ہیں وہ مُعاشرہ جس میں فردِ واحد کی وہی اہمیت ہے جو کسی سیڑھی میں پیوست اُس step کی ہوتی ہے جو اپنی جگہ پر رہتے ہُوے ہماری بُلندی میں اضافہ کرتا ہے سو ہمیں بھی اِسی طرح مُعاشرے میں رہتے ہوئے اِس کے وقار کو بُلندی سے ہمکِنار کرنے کی کاوِش میں لگے رہنا چاہیے۔
لہٰذا اپنی اہمیت کو جانیے اور اِس مُعاشرے اور اِس مُلک و مِلت کی تعمیر میں اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کریں!
خُداوند کریم آپ کا حامی و ناصر ہو۔ا
زیشان علوی

Tuesday, 10 September 2019

India’s Failed attempt to Land Moon and Memes in Pakistan! What’s the Actual Lesson!



According to official sources, India failed in its attempt to be the 4th country to make a soft landing on the moon when its lander crashed on the lunar surface. The lander diverged from its intended path 1.3 miles (2.1 kilometers) above the surface of the moon and lost communication with Earth on early Saturday.
Honestly speaking, I would say that it is more of a success than failing because WOW, such a less margin and other 190 countries haven't even touched that yet!
India has always been way better and very smart in technology. Their technological ideas and implementation could be seen in a few of their TV shows, cartoons, movies, etc. Space technology was their real priority, evidently. Fresh blood coming to serve and work on technology shows that their seniors are making space for bright minds rather than ruling the institutions.
On the other hand, Pakistan lacks MANY things.
1. We all know who, our Minister is for Science and Technology and his non serious attitude.
2. BUT WAIT, is it only a matter of 6 months that Pakistan needed to be along INDIA?
3. NO! We have been facing terrorism, crime, poverty and political instability, lack of basic education and much more since last 72 years.
4. We are economically unstable
5. Our teachers don't TEACH. I am sorry but yes. Our teachers make us remember some facts just for the sake of exams. They do not encourage the students to go for practical work and more inventions.
6. The stubborn seniors in institutions don't let their juniors grow.
7. Our youth is wasting their time with some useless things that is hindering them to use their minds with science or any other field.
8. The unemployment! Our youth has no time to think extra or work extra. They have to just get a job and earn and feed the family. They have no time to work on their dreams or for a bigger purpose.
PAKISTAN HAS MORE POTENTIAL THAN INDIA but the TALENT IS GETTING WASTED.
 Now let's come to the memes Pakistani Boys and Girls were making on Indian failed Attempt.
  It is not the first time or not just Pakistan, who trolling the rival on failing something. It is something happening from last 72 years when even there was no social media. All the trolling was very entertaining though.
But here's what I have to say.
1. We didn't even try that attempt though. Why are we making fun of India? Have we reached the sun already?
2. The critics said the same as my first point that our youth should just shut up etc. and focus on their technology. WHAT? Does our youth have access? We are literally uninformed of the opportunities in science and technology. There are not enough institutions. The existing institutions are just giving out degrees. The working spaces of technology are good for nothing because we lack funds, we lack resources and we lack fresh minds. And fresh minds can't reach that easily because of the selfish seniors.
Then what else we can do making the memes? But again, we have to be reasonable and give it a break. We are not Newton ourselves.  And also, they make memes on us too...
The issue is not the memes or trolls now. The matter is, WE NEED TO WORK ON TECHNOLOGY AND OUR EDUCATION SYSTEM in order to be somewhere.

Khaula Waqas
The author is a blogger, Dy. Designing Head & mission holder Positive Pakistan


Friday, 6 September 2019

OUR SOLDIERS, OUR PRIDE


عقابوں کے تسلط پر فضائیں فخر کرتی ہیں
خودی کے راز دانوں پر دعائیں فخر کرتی ہیں
بطن سے جن کے بیٹے پیدا ہوں محمود عالم سے
وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ مائیں فخر کرتی ہیں

Defence Day is celebrated across Pakistan every year on 6th September ,where we pay our heartiest tribute to our national heroes, being Ghazis or Shuhada.
This year, we are specially associating this day with our Kashmiri brothers and sisters, who are defending their piece of land and fighting a very struggling battle since  last 72 years.
Independence is the greatest blessing and the defence of sovereignty and freedom is no doubt the most strenuous and challenging.
We sleep everyday with safety and not a single thought about our country's sovereignty because we have this strong belief that our Armed forces are second to none and that they are defending us on every front.
Let us not forget that relaxation is not in the blood of our soldiers or pilots, who are sacrificing their lives to defend this dear homeland.
Let us not forget that Kashmiris are wounded. Their smiles have faded away and their dreams have shattered.
Let's show the world that this nation is standing with Kashmiris till their last breath.
Let's prove to the world, that this force is unsurpassable
This is the time to be together on one purpose. May Allah bless us with Unity. This is the time to take action. May Allah bless these soldiers with that courage of Khalid Bin Waleed and Ali ul Murtaza. If this is the time to sacrifice, may Allah bless the shuhda with the honor to set examples like Karbala. and lay their lives in front for no power but Allah.
If this is the time to be strong and ready for the sacrifices, may the mothers and sisters be blessed with some part of courage like Fatima (RA).
.
May Allah show his special mercy to Pakistan and IOK. Aameen.
.
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ ء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو


Khaula Waqas
The author is a blogger, DY. Designing Head & mission holder Positive Pakistan

Wednesday, 28 August 2019

لوکل بمقابلہ برینڈ

پچھلے دنوں ایک نوزائیدہ کالج میں جاب کے لیے جانے کا اتفاق ہوا....جسے ابھی جنم لیے مہینہ ہی گزرا تھا.....
ادارے کے پرنسپل صاحب نے فائل پکڑتے ہوئے پہلا سوال داغا...
"کتنا تجربہ ہے"
ہم نے متانت سے جواب دیا تجربہ تو غلطی سے سیکھنے کا نام ہے...ابھی کسی نے غلطی کرنے کا موقع نہیں دیا....🤪
جناب نے ہمیں گھور کر کہا آپ کا پہلے کسی کالج میں پڑھانے کا تجربہ نہیں ہے....
ہم نے جواب دیا جناب تجربہ بازار سےتو ملتا نہیں...کوئی تو پہلا کالج ہوتا ہے...جہاں سے شروع کیا جاتا ہے کیریر کا سفر....
بولے...آپ کسی "لوکل کالج " میں اپلائے کریں پہلے.....
پوچھا "لوکل کالج کسے کہتے ہیں....
جواب ملا....یہی جو گلی محلوں میں کھلے ہوتے ہیں....چھوٹے موٹے....
گستاخ سوال پھر زبان پہ آ ٹپکا....
گلی محلے میں کھلا کالج لوکل...اور مین روڈ پہ کھلا ہوا برینڈ.....🤔😅
اور چھوٹے موٹے کا اندازہ کیسے لگایا جائے....عمارت کے سائز سے....طلبہ کی تعداد سے یا کالج کی chain نہ ہونے سے.....
اور اگر ہم یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں کہ " لوکل کالج" کونسا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کالج خود کو "لوکل" سمجھتا ہے یا نہیں🤔🤔🤔
معاملہ اب صاحب کی برداشت سے باہر ہو چلا تھا....ہنکار کر بولے....اب یہ آپ کا مسئلہ ہے....
اور ہم اپنا مسئلہ اٹھا کر تشریف لے آئے....
گھر آ کر ڈکشنری کھولی اور لوکل کا مطلب دیکھا تو ہمارے علم پہ تصدیقی مہر لگ گئی کہ... لوکل کا مطلب تو مقامی" ہوتا ہے....یعنی آپ جس شہر کے رہنے والے ہیں وہاں کی چیزیں آپ کے لیے لوکل ہیں....مطلب مقامی....
اس حساب سے تو مندرجہ بالا کالج بھی "لوکل" ہی تھا....
دوسری طرف "برینڈ" کا مطلب نکلا "جلی ہوئی لکڑی کا داغ/ یا داغ کر نشان لگانا..."
تو بھلا نشان زدہ ہونے سے "بہتر ہونے" کا سرٹیفکیٹ کیسے مل جاتا ہے.....
نام ہی کافی ہے کا فارمولا میرے نزدیک بالکل غلط ہے....اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نام کمانا پڑتا ہے مگر "برینڈ" بن جانے کے بعد آپ ہر چیز میں "بہترین" ہو جاتے ہیں یہ کہیں نہیں لکھا....
خیر یہ برینڈڈ رویہ اب زندگی کے ہر شعبے میں دیکھنے کو ملتا ہے.....کپڑے، جوتے، ضرورت کا سامان...تعلیم اور شاید "رویوں" میں بھی....
بچپن میں اماں بازار جایا کرتیں تو ایک تھان سے کپڑا اتروا کر لاتیں اور دو تین بچوں کے اکٹھے کپڑے سی لیا کرتیں....
ویسے تو اب بھی یہی روایت ہے البتہ تھان الگ الگ ہوگئے ہیں اور ہم وردی سے باہر نکل آئے....😄
زمانے نے کروٹ لی اور کپڑوں اور جوتوں کے لیے تھان اور دکانوں کے بجائے پلازہ اور مال کھل گئے.....جہاں دکانیں تو وہی ضرورت کی اشیاء کی تھیں مگر نام اب مولوی انکل کی دکان, پٹھان کی دکان اور خان مارکیٹ جیسے ناموں سے نکل کر کھادی, لائم لائٹ اور نشاط جیسے ناموں میں منتقل ہوگئے....
پتہ چلا کہ یہ برینڈ کا زمانہ ہے....
اور اگر کسی کپڑے کا تعلق فلاں برینڈ سے ہے تو اُسے بہترین اور قیمتی کہا جائے گا....خواہ اس کی بنت اور پٹھان انکل کپڑے والے کے تھان کی بُنت ایک جیسی کیوں نہ ہو.....
یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر اس سے ایک قدم آگے یہ بھی طے کرلیا گیا کہ پٹھان انکل کی دکان سے کپڑے خریدنے والے اور برینڈ کی دکان سے خرید کر پہننے والے انسانوں میں بھی بہترین اور کمتر کا مقابلہ ہوگا.....
یہ بات ابھی تک ہضم نہیں ہوسکی....😒
پھر یہ ٹرینڈ کپڑوں جوتوں اور ضرورت کی دوسری اشیاء سے نکل کر انسانوں تک جا پہنچا.....
یعنی نامور انسان کا ہر کام اور ہر بات بہترین ہی گنی جائے گی....گویا "نام ہی کافی ہے" کی پیروی کرتے ہوئے کام پر سے توجہ کم ہوتی گئی....😒
یہ رویہ دوسرے بہت سے شعبوں کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی پھیل گیا....
جو ادیب اور شاعر ایک بار مشہور ہوگیا اس کے بعد خواہ وہ کتنی ہی بےکار تخلیق کیوں نہ کرے اس پہ بلا سوچےسمجھے داد دینا فرض ٹھہرا.....
اس بات سے انکار نہیں کہ نام بنانے اور برینڈ بننے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے....مگر یہ محنت اس پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ہونی چاہئیے....ورنہ ہم کپڑوں جوتوں سے لے کر انسانوں تک خوبصورت لفافوں میں گلی سڑی اشیاء خریدتے رہیں گے......نہ صرف خریدتے رہیں گے اس پر خوش بھی ہوتے رہیں گے.....

سیماب عارف
رہبر اور ایڈیٹر ای-میگزین پازیٹو پاکستان 

Sunday, 11 August 2019

کشمیر پاکستان کی شہ رگ

پاک بھارت تنازعات میں اہم حصہ مسئلہ کشمیر ہے۔جو بد قسمتی سے ریاست جموں کشمیر کا مسئلہ تقیسم ہندوستان کے وقت  حل نہ ہو سکا ۔ قدرتی  لحاظ  سے ریاست  جموں کشمیر  پاکستان  کا لازمی حصہ  ہے۔ پاکستانی قوم کے لوگ ہی ریاست میں آباد  ہیں ۔ دو قومی  نظریے کی بنیاد پر ہندوستان  کو تقسیم کیا گیا تھا۔ اور اصول یہ تھا کہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان  بنیں گے۔ اور ہندو اکثریت والے ہندوستان  بنیں گے۔ اسی اصول  کے تحت  ریاست جموں کشمیر جہاں مسلمان 85 فیصد سے بھی زائد اکثریت رکھتے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان  کیا آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس جو ریاست کے مسلمانوں کی واحد  نمائندہ  جماعت  تھی اس نے بھی جولائی 1947 میں ریاست  کا الحاق پاکستان کے ساتھ ایک قرارداد کے ذریعے کر دیا تھا۔ ریاست جموں کشمیر پاکستان کا ایک لازمی  حصہ ہے۔پاکستانی قوم کے لوگ ریاست میں آباد ہیں۔ ان کا مذہب ایک جغرافیہ ایک کلچر ایک تاریخ ایک انکا خون ایک۔۔۔ حتی  کہ کسی بھی لحاظ سے غور کریں تو ہم ایک قوم ہیں ۔ ریاست  جموں کشمیر پاکستان کا ایک قدرتی  حصہ  ہے ان کا دکھ درد خوشی سب مشترکہ  ہیں۔
پاکستان کشمیر کے بغیر،  کشمیر پاکستان کے بغیر  نا مکمل ہے۔ بانی قائداعظم محمد علی جناح نے گرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی باعزت قوم اپنی شہ رگ کو دشمن  کے حوالے  نہیں  کر سکتی۔ مگر بھارت  نے ان اصولوں  کی نفی کی بھارت نےا947 میں فوج کشی کر کے کشمیر کے بیشتر علاقوں پر قبضہ  کر لیا۔اور مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ اس وقت 5 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔اور بھارت سے بے شمار ظلم و ستم ڈھائے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اس کے بعد بھی UNO نے قرارداد منظور کی لیکن بھارت  نے اس پر عملدرآمد نہ کی 72 برس بیت گئے۔ لیکن مسئلہ کشمیر جوں کا توں نہ ہوا۔ مسئلہ  کشمیر  نہ صرف اس خطے بلکہ پاکستان کے امن کیلئے خطرے کا باعث ہی بنا  ہوا ہے۔ 
یہ پہلا واقعہ نہیں ھے کہ ہماری شہ رگ کٹ گئی ہماری امن کی کوششوں کو ہماری کمزوری سمجھ لیا گیا ۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیر کے بہادروں کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دے گی پاکستانی قوم ،  پوری دنیا نے دیکھا کہ کرتارپوربارڈر کو کھولاگیا
جنگی قیدی واپس کیاگیا وہ بھی چائے پلاکر
فضائی حدود کھولی گئیں وہ بھی چند لمحوں میں ہی
گالی اور گولی  کےجواب میں زبردستی مبارکبادیں دی گئیں
سلامتی کونسل میں ھندو بنئیے کے حق میں دنیاکےسامنے ووٹ دیکر اپنی ہی تاریخ کا  بلتکار  کیا گیا 
غرض کہ انکی ہرشرارت کاجواب امن اورپیارکی زباں میں دیاگیا
لیکن۔۔۔۔۔۔ لیکن 
کیاملا۔۔؟؟ کونسی شاباشی ملی ۔۔؟؟
پھر دوبارہ دہشتگردی۔۔؟
پھر کشمیری رہنماؤں کی نظربندی۔۔؟
پھر کشمیری عوام پر گولیوں کی برسات ۔۔؟ 
پھر کشمیری ماوں کی گود اجاڑنے کی رسم ادا ۔۔۔؟ 
پھر کشمیری بہنوں کے سر سے دوپٹے کو کھینچ لینا۔۔؟ 
پھر کلسسٹر بمبز۔۔؟
پھر سرحدی حدود کی خلاف ورزی ۔۔۔؟ 
پھر پاکستان کی خود مختاری پر یلغار ۔۔۔؟ 
ہائے ۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ جو آج ہوا۔۔؟؟
کتنی شرم کی بات ھے کہ پیار دیکر ۔۔۔محبتیں بانٹ کر ۔۔۔ امن کے دیئے جلاکر۔۔۔بند راہیں کھول کر ۔۔۔
سمٹتے بازو پھیلاکر۔۔آنکھوں مین روشنی کے جگنو سجاکر۔
امن کی فاختہ بن کر ۔۔۔ پیار بھرے نغمیں سناکر بھی 
وہ انڈین جسنے ہمیشہ آپ کو اپنے جوتے برابر بھی نہیں سمجھا جب اور جہاں چاہا وار کیا اور کھل کر وار کیا 
لیکن افسوس 
ھم ایک غیرت مند قوم ھوکر بھی ۔۔
ایک نیوکلیئر بم کے مالک کہلواکر بھی 
23کروڑ باھمت عوام کےھوتے ہوئے بھی 
دنیا کی نمبر ون فوج کے ہوتے ہوئے بھی 
توحید پرست ھوکر بھی بت پرستوں کے تلے لیٹے پڑے ہیں 
جی ہاں۔۔۔۔۔۔غیرت مند ماؤں کا پاک دودھ پی کر بھی پیشاب پینے والوں کے نیچے لیٹے پڑے ہیں
اُن لوگوں کی محبت اور درد کو سمجھیں جو اپنے بیٹے شوہر باپ بچوں کو  ہمارے سبزہلالی پرچم میں دفن کرنافخر سمجھتے ہیں۔
حکمرانوں ۔۔۔؟ یاد رکھو غیرت مند قوم کی شہ رگ پر جب کوئی خنجر رکھ دے تو پھر اجلاس نہیں بلایاکرتے پھر صرف مذمتی بیان نہیں دیا کرتے پھر دوسروں کیطرف نہیں دیکھاکرتے بلکہ پلٹ کر وار کیا کرتے ہیں ردعمل دیاکرتے ہیں۔
اسی مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں 3 خوفناک جنگیں ہو چکی ہیں اگر یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل نہ ہوا تو چوتھی  جنگل کے بھی امکانات  کو رد نہیں  کیا جاسکتا۔مسئلہ کشمیر انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کشمیروں کی جدوجہد کو اپنا مسئلہ سمجھیں اور غیرت ایمانی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کروانے کر دم لے۔بے انتہا جانی شمالی نقصانات کے باوجود کشمیر کے عظیم سپوتوں نے اپنی آزادی کا سودا نہیں  کیا۔ کشمیروں کی جرآت بہادری اور بھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کی جدوجہد سے اظہار کیا اور کبھی  بھی امید کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا۔ مجموعی طور پر کشمیر میں شہید  ہونے والے شہیدوں کی تعداد 2017-18-19 کے سروے کے مطابق1لاکھ سے تجاوز کر گئ ہے۔ کشمیروں کی بد قسمتی پر ظلم ستم کی انتہا کردی کیونکہ بھارت ہمیشہ ہی مسلمانوں کے امن کا دشمن رہا ہے۔ پاک بھارت تنازعات کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔جس کی وجہ سے ہندوستان آئے دن مقبوضہ کشمیر یعنی پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول بھی کہتے ہیں مسلسل خلافت ورزی کرتا ہے۔اور شدید ظلم  و ستم اور گولہ باری کرتا ہے۔اور جب بھی مذاکرات کی بات کی جائے تو گولہ باری کے ساتھ ساتھ آبی جارحیت پر بھی بھارت  اتر آیا ہے۔جو کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے رخ کا بدترین حصہ ہے آبی تنازعات پر بھی بھارت اتفاق رائے نہ دے سکا بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا۔ یاد رہے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات پر یہ ایک سو پندرھواں اجلاس تھا۔ اور دونوں ملکوں کے درمیاں 2013 سے اب تک آبی منصوبوں پر 7 دور ہو چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ اور اعتراضات بدستور قائم ہیں ۔ اتنے سنگین مسائل اور تنازعات ہونے کے باوجود پاکستان اظہار یکجہتی چاہتا ہے۔ اور اظہار یکجہتی کے طور پر پاکستانی قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔اس جارحیت اور  کشمیر کے امن کے لئے پاکستانی وزیراعظم نے پاک بھارت مذاکرات کرنے چاہئے جس پر بھارت کا شدید  ردعمل تھا ۔ بھارت نے پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ لیا۔بھارت ہمیشہ  کم ظرف،  منفی اور تکبر  بھری  چھوٹی سوچ کا مالک  یہ رہا ہے۔ مذاکرات سے انکار  کے بعد جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کر دی لگتا بھارت پچھلی 3 جنگیں بھول گیا  ہے۔ پاکستانی قوم کسی ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی بھارت کے بزدلانہ ردعمل پر پاکستانی  جنرل آصف غفور نے کیا خوب جواب دیا بھارت کو اگر کسی قسم کا کوئی شک ہے تو ہم تیار ہیں۔اب اگر جنگ ہوئی تو دنیاہلاکوخان اور ہٹلر کو بھول جائے گی اب مثال پاکستان اور بھارت کی ہوگی مندروں کی گھنٹیوں کی آواز کو ہمیشہ کیلئے  خاموش کروادیا جائے گا ۔اور دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرائے گا۔ انشاءاللہ
عمیرہ اصغر
مشن ہولڈر پازیٹو پاکستان 

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...