Sunday, 23 December 2018

سفرنامہ (حصہ اول) - جگتوں کی سرزمین

زندگی کے طویل سفر  میں ایک چھوٹے سفر کا اضافہ ہوا۔جی ہاں میں فیصل آباد کے سفر کی بات کر رہی ہوں۔
فیصل آباد جانا تھا اور یہ طے ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ کب نکلنا ہے۔ خیر آفس گئی اور فیصلہ یہ ہوا کہ ہم شام 4 بجے نکلیں گے۔ میں بھی پرسکون ہوگئی، کوئی تیاری بھی نہیں کی اور لمبی تان کر سو گئی۔ 
صبح آنکھ کھلی تو خبر ہوئی کہ کافی دیر ہو چکی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ مجھے 4 کی بجائے 1 بجے نکلنا تھا۔  
راستے میں ایک خاتون جو غالباً کسی اسکول کی استانی تھیں میری ساتھ والی نشست پہ براجمان تھیں۔ انھیں کہا کہ کھڑکی والی نشست میری ہے لہذا بیٹھنے دیں جواباً انھوں نے اپنی میڈیکل رپورٹ سنانی شروع کر دی اور مجھے اپنی معصومانہ خواہش دل میں ہی دبانا پڑی۔ اب انھوں نے سو کے اور میں نے بور ہو کے سفر گزارنا تھا۔ پھر میں نے اپنی سوچوں کی پٹاری کھولی اور کھو گئی تخیل کے حسین موسموں اور دلکش وادیوں میں۔ 
اچانک فون بج اٹھا ولید صاحب کی کال تھی، جگہ کا پوچھا کہ کہاں پہنچی ہو لیکن مجھے تو خبر ہی نہیں تھی
خیر اندازاً انھیں کچھ جگہ کا بتایا جس سے مجھے پتا چلا کہ میں نزدیک پہنچ چکی ہوں۔ سر ولید اور مہران مجھے رسیو کرنے اسٹاپ پہ موجود تھے۔ جہاں سے ہم ریڈ بیری پہنچے۔ بیلا اور عبدالرزاق (زید بھائی آف فیصل آباد )🙊 بھی کچھ ہی دیر میں آگئے اور گپ شپ کے ساتھ اگلے دن کی کمپیئرنگ کو حتمی شکل دی گئی۔ آخر کو  فیصل آباد والوں کی خاص تقریب تھی۔ اسی دوران سوچا جانے لگا کہ کھانا کہاں کھایا جائے اور ساتھ ہی ولید صاحب کو یاد آیا کہ ان کے اسلام آباد آنے پہ انھیں صرف savour یا حلیم گھر ہی لے کر جایا جاتا ہے پتا نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم انھیں lasania اور بٹ کڑاھی بھی لے کر جاتے ہیں(اچھائی یاد ہی کون رکھتا ہے😜) ویسے بھی اس میں قصور رہبرز کا ہے مجھ معصوم کا نہیں🙊۔ اور انہیں کیا خبر ہماری تو پسندیدہ چیزیں ہیں یہ😉۔ اس دوران بیلا اور مہران ہنسنے کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اور عبدالرزاق باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا 😜 خیر ہم نے آل طیبہ پہ کھانا کھایا اور میں بیلا کے ساتھ اس کے ہاسٹل آگئی جہاں میرا استقبال ان الفاظ کے ساتھ ہوا " hey sweetie جگتوں کی سرزمین پہ خوش آمدید " 😍 ۔ یعنی میں تیار ہو جاؤں جگتوں کے لیے🙈۔ 
ارے یاد آیا ہاسٹل آتے ہی سیماب مجھے بہت محبت سے گلے لگ کے ملیا اور جس سیماب کو میں جانتی تھی یہ تو اس سے بہت مختلف تھی اور تبھی مجھے احساس ہوا اس پہ تو بیلا نام زیادہ جچتا ہے۔ 💕
یوں باتوں باتوں میں سونے کا وقت ہو گیا اور میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ 
ایک نئی صبح... 
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں 
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
بلکل ایسا ہی ہے.. یہ قسمت ہی تھی اور میں نے اتنے اچھے لوگوں سے ملنا تھا جو اچانک ارادہ کیا اور فیصل آباد کے تین دن کے سفر پر روانہ ہوگئی ورنہ مجھے تو ایک دن کی اجازت ملنا بھی گویا ناممکن تھا۔
 اگلی صبح 7 بجے کے قریب آنکھ کھلی بیلا اٹھ چکی تھی اور میرے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ ہمیں بیلا کے اسکول جانا تھا۔ میں اٹھی تو بیلا ناشتہ کا مینو طے کرنے لگی اور کچھ ہی دیر میں فروا (بیلا کی ایک خوش مزاج دوست) ہمارے لیے سینڈویچز، انڈے، فروٹ کیک اور چائے لے آئی(یعنی ہاسٹل میں بھی اتنا اہتمام)  اور ہم نے مل کے ناشتہ کیا فروا کا اسکول جانے کا ارادہ نہیں تھا، ہمیں امید تھی کہ وہ ہمارے ایونٹ پہ ضرور آئے گی لیکن دھوکا ہو گیا😜۔ 
بیلا کو 8:30 بجے اسکول پہنچنا تھا، ہم جلدی سے تیار ہوئے اور نکل پڑے۔ ہلکی دھند اورخنک ہَوا ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی (بہت عرصے بعد صبح باہر نکلی تھی نا)۔ راستہ تھوڑا سا لمبا تھا اور بیلا نے بتایا کہ وہ روز چل کے آتی ہے میں اب تک پریشان ہوں کہ آخر وہ سمارٹ کیوں نہیں ہوئی🤔 ارے نہیں ویسے وہ بہت سمارٹ ہے میں تو کمزور ہونے کی بات کر رہی🤭
وہاں بیلا کے پرنسپل ملے یقین جانیں مجھے لگا میں عثمان بھائی (عثمان رضا جولاہا) کا مستقبل دیکھ رہی ہوں😜 دراصل ان کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا۔ انھوں نے مجھ سے میرے گاؤں کا نام پوچھا اور ساری ہسٹری انھوں نے بتائی۔ ویسے ایک الگ ہی قسم کے انسان تھے، خوش مزاج، ہنس مکھ لیکن بہت گہرے۔ انھوں نے بتایا سیماب یہاں استانی نہیں میڈم ہے (یعنی کوآرڈینیٹر😉۔ آخر دوست کس کی ہے🤭) ۔
وہاں سے ہم 10 بجے ایونٹ پہ جانے کے لیے نکلے ہمیں کنال روڈ جانا تھا یعنی اس روڈ کے پاس کنال تھی تبھی تو یہ نام رکھا گیا۔ اور ہم 10:30 بجے FCCI پہنچے۔
جاری ہے....

سحرش امتیاز 
ایمبیسیڈر پازیٹو پاکستان 

آوازوں کے ہجوم میں کچھ قیمتی آوازیں

مگر ہم مصر تھے کہ ہم نے کتابیں بہت پڑھ رکھی ہیں....
بڑوں نے کہا بھی کہ دیکھو میاں تجربہ تجربہ ہے!
جواد شیخ کا یہ خوبصورت شعر بڑے سچّے شعروں میں سے ہے....♥ اور میرا پسندیدہ بھی...
شام ایک دوست سے ملنے گئی تو اس کی والدہ سے گپ شپ ہونے لگی....خالہ جان مجھ سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھ رہی تھیں...کس گاؤں سے ہو...کیسا ہے...وغیرہ...میں جواب دیتی تو انہیں اس سے متعلق اپنی کوئی بات یاد آجاتی...اپنے بچپن...لڑکپن...جوانی کی....اور وہ مجھے اپنے گئے دنوں کے قصے سنانے لگیں....
بیتے وقت کی باتیں کرتے ہوئے اُن کی آنکھوں میں بے پناہ چمک اور چہرے پہ اتنی نرم مسکان تھی کہ میں اپنی باتیں روک کر قصداً اُن سے ان کے بارے میں سوال کرنے لگی..🙂
بڑی عمر کے افراد خصوصاً بزرگ...دادا دادی نانا نانی یا کوئی بھی بوڑھا فرد ہو...ان سے باتیں کرنے سے زیادہ سنا کریں..ان کے بچپن کے قصے..پرانے دور کے حالات و واقعات..کہانیاں..داستانیں..اور تجربے...💕
میں کبھی دادی اماں کے پاس بیٹھوں تو ریکارڈر آن کر لیتی ہوں....وہ بیتے وقت کی باتیں سناتی ہیں....تحریکِ پاکستان کا دور...اور اس سے پہلے کی کہانیاں....پھر اپنی زندگی کے سیکھے گئے اسباق....تجربوں کے نچوڑ....اور کچھ حاصلِ عمر باتیں....💖
اگر آپ کے آنگن میں کوئی بزرگ پیڑ ہے تو آپ بڑے نصیبوں والے ہیں.....ورنہ سچ پوچھیے...
اب تو وہ نسل بھی معدوم ہوئی جاتی ہے
جو بتاتی تھی فسادات سے پہلے کیا تھا
(شناور اسحاق)
یہ بڑی قیمتی آوازیں ہیں...💖
انہیں توجہ سے سنیے....ورنہ انہیں سننے کو کان ترس جائیں گے....
سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Saturday, 22 December 2018

پازیٹو پاکستان

پاکستان میں معاشرتی بہتری، مرتبۂ عمل، سیاحت،  نفس، شخصی تحسین کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں میں جذبۂ حب الوطنی جیسے حساس نظریوں پر کام کرنے کے لیے مختلف ناموں سے تنظیموں کی بنیاد رکھی گئی لیکن محدود اغراض و مقاصد کی وجہ سے استحصال کی جانب بڑھتے گئے اور کچھ نے سیاست کو پہنائے خواہش رکھا اور کچھ تو وسائل کی نا امیدی میں درکِ اسفل کی نظر ہوئیں۔
باوجود اسکے کہ فلاحی و سماجی سوچ استحکام کی طرف بڑھتی گئی اسکی خاصی وجہ یہ تھی کہ معاشرتی بہود کے لیے کچھ کرنے کا جنون کچھ لوگوں کا رختِ سفر رہا۔
سیاسی و مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی رکنیت میرے لیے طرّہ امتیاز ہے۔ اسکے سبب مجھے مختلف پلیٹ فارمز پر عملی کام کا موقع ملا اور خندہ دلی سے کام کیا اور بفضلِ اللہ تعالٰی حسبِ توفیق مصروفِ عمل بھی ہوں۔
سب کچھ اچھا ہونے کے باوجود قلبی تسکین میسر نہ تھی کیونکہ خواہش یہ تھی کہ معاشرے کے بگڑتے عکس کے ذمہّ دار ہم نوجوان طبقہ ہیں، بس خواہش تھی کہ مستحکم ادارہ ہو جو نوجوانوں میں شعور، تخلیقی سوچ، آدابِ معاشرت اور کچھ کرنے کے لیے آگے بڑھنے جیسے معاملات میں رہنمائی کرے۔
حلقہِ احباب کے توسط سے میری ملاقات شاعرِ مشرق اور خودی کی سوچ میں میرے مرشد علامہ اقبال کے شاہین اور میں کہونگا کہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی فہمی سوچ میں مستغرق صدر پازٹیو پاکستان محترم عابد اقبال کھاری صاحب سے ہوئی۔
آپ پازیٹو پاکستان کے نام سے تمام مسلکی، لسانی، تعصبات سے در کنار نوجوانوں کی تربیتی نیٹورک چلاتے ہیں۔ آپ سادہ طبیعت اور نفیس شخصیت ہیں جس کی بدولت اللہ رب العزت نے بہت نوازا ہے۔۔محترم اقبال کھاری صاحب نوجوانوں میں عقابی روح دیکھنا چاہتے ہیں اور حدِ لا متناہی تک تربیت کی سیڑھی پار کرانا چاہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں آپ کے مدلل پُرمغز خطابات اور آپکی سوچ  پازیٹو پاکستان کی شکل میں نوجوان نسل کے لیے گلدستہ ہیں جس کی خوشبو تسکینِ ِقلب ہے۔
یقیناً ابتدائی ملاقات تعرفاً ہوتی ہے کچھ عرصہ نظر میں رکھنے کے بعد پازیٹو پاکستان کو پرکھنے سے نتیجتاً اخذ یہ ہوا کہ جو لوگ علامہ اقبال کی سوچ پر گامزن ہیں وہ ضرور مضبوط نظریات کے وارث ہونگے۔
رکنیت حاصل کرنے کے بعد مختلف قسم کی تربیتی نشستیں اور سیمیناروں میں شرکت سے محسوس ہوا کہ دیر آید درست آید۔
پازیٹو پاکستان یقیناً تربیت کی گلشن سے مہکتی خوشبو کی مانند ہے جو بلاتفریق و تمیز سب کو مہکاتی ہے ۔ نوجوان نسل کی معاشرتی تربیت میں کوشاں پازیٹو پاکستان کی ٹیم قابلِ تحسین ہے۔
میں ضمناً یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سربراہ پاکستان سنی تحریک انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری صاحب کے بعد میرے لیے آئیدیل کردار صدر پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری صاحب ہے کیونکہ آپ تخلیقی سوچ کے مالک اور امت کے ہر فرد سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
پازیٹو پاکستان چاروں صوبوں کا مشترکہ فارم ہے جہاں تربیت کے ساتھ ساتھ قائدانہ صلاحیتوں سمیت کئی اصولی نظریات سے روشناس کرایا جاتا ہے جوکہ قابلِ تعریف ہیں۔
اسلامی معاشروں کی بنیادوں میں بھی سب سے بڑا کردار آدابِ معاشرت کا ہے۔ معاشرے بنتے بھی باہمی تعاون سے، محبت و اخلاص اور بھائی چارہ سے ہیں۔ ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ معاشرتی رہن سہن میں تعاون کرے، یقیناً فرداً فرداً یہ عمل ممکن ہے لیکن محدود اس لئے کہ جو کام پانچ انگلیاں کر سکتی ہیں وہ ایک نہیں۔
تو ان دشواریوں سے بچنے کے لیے پازیٹو پاکستان جیسے  پلیٹ فارمز ہیں جہاں تربیت کے ساتھ شخصی تعاون سے بول چال، میل جول، مدلل گفتگو، قومی معاملات، تعلیم و تربیت جیسے معاملات میں نکھار لایا جاتا ہے۔
پازیٹو پاکستان میرے لیے ایک کتاب ہے جس کا ہر صفحہ کوئی نہ کوئی سبق دیتا ہے تو میں لازم سمجھوں گا کہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں یعنی معاشرتی تربیت کے اس گہوارے کا حصّہ ضرور بنیں۔
شکریہ پازیٹو پاکستان
⁩نجیب زہری
ہیڈ علماءونگ اور ایمبیسڈر پازیٹو پاکستان

Thursday, 20 December 2018

آدمی آدمی کا مرہم ہے

لوگ لوگوں کا مرہم ہوتے ہیں....سانجھ کی برکتیں بڑی ہیں....
پیپل کی چھاوں کے نیچے بچھے بان کے پلنگ پہ بیٹھے گاوں کے بوڑھے داستان کی ابتدا ہیں....حقہ گڑگڑاتے...اور حقے کی نال باری باری سب میں گھومتی تو گویا بات کا ہر زاویہ کُھلتا....❣
چائے خانوں میں ہونے والی نشستیں....گرما گرم چائے کے ساتھ ہونے والی بحثیں....ادب...شعر....گفتگو کی کئی جہتیں.....ایک اور داستان...❣
خاندانی تقریبات میں اکٹھے ہونے والے تمام رشتہ دار....بچوں کا الگ گروپ...نوجوانوں کی الگ اور بڑوں کی الگ بیٹھک....چہروں سے پھوٹتی خوشی...باتوں کی مہک....قہقہے....دکھ سکھ....ایک الگ قصہ❣
یار دوست....یونیورسٹی....اور اس کی شامیں....دوستوں کی محفلیں...ہنسی...بے فکری...اور خول سے باہر آ کرجینا....بے ساختہ جملے....بغیر سوچے باتیں....ایک نئی کہانی❣
لوگوں میں بیٹھیں....محفلوں سے سیکھیں....نشستوں کا لطف اٹھائیں....یہاں زندگی سیکھنے کو ملتی ہے....💖
وہ....جو کتابوں میں نہیں ملتی..تجربوں کا سرمایہ لیے بزرگ.....مختلف مزاجوں کے لوگ...طرح طرح کی رائے...اختلاف رائے کا احترام کرنا آجاتا ہے....ہر ڈھنگ کے موضوعات....
ٹیکنالوجی بری نہیں....مگر تب تک...جب تک آدمی آپ کی نظر میں اُس سے زیادہ اہم رہے...!!
ورنہ...اقبال کا کہا سچ ہو جائے گا....کہ
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت...
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات!
لوگوں سے جُڑیے کہ یہ میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے!!

سیماب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 19 December 2018

آدھی قیمت ہم دیں گے

پچھلے سال جب میں گوجرانوالہ تھی تو sage کےپوسٹر راہوالی کی سڑکوں پہ روزانہ سفر کے دوران میری نظر سے گزرتے تھے..... ( sage کوئی برینڈ ہے معلوم نہیں کپڑوں کا یا جوتوں کا...کہ اپنی معلومات اس معاملے میں صفر ہیں).
اُن پوسٹرز پہ ایک جملہ لکھا ہوتا تھا...
"آدھی قیمت ہم دیں گے"...
 پہلی بار جب میری نظر پڑی تو اس جملے نے مجھے بہت متاثر کیا♥
اور خصوصاً اس بات نے کہ یہ آفر تو ہر برینڈ سال میں ایک دو بار دیتا ہے....50% سیل....
لیکن یہ جملہ بڑا موثر اور اپنایت والا تھا...گویا وہ ہماری خریداری میں آدھے پیسے جیب سے چُکائیں گے...🙂🙃
حروفِ تہجی تو وہی 38 ہیں مگر ان کی ترتیب سے جو جملے بنتے ہیں ان میں کچھ الفاظ بڑے موثر ہوتے ہیں....💖
بات کا بھی ایک ذائقہ ہوتا ہے....اور لہجہ اس میں نمک کی طرح ہوتا ہےء....ایک دم متناسب ہو تو ذائقہ پرفیکٹ....اور ذرا سا کم زیادہ ہو جائے تو کھانے کا مزا کرکرا....
متناسب بات کا ہنر بھی ایک آرٹ ہے....کہاں کم بولنا ہے کہاں زیادہ....کہاں اونچا کہاں آہستہ....اور پھر کہاں بولنا ہے کہاں نہیں...
الفاظ کا چناو کس موقع پہ کیسا ہو....پھر لہجے اور بات کا کمبینیشن کیسا ہو....
گفتگو ہماری عکّاس ہوتی ہے....اور مخاطب پہ گہرا اثر چھوڑے بغیر نہیں جاتی....
خدا ہماری بات کو مرہم بنائے...زخم نہ بننے دے....

سیماب عارف
ایڈیٹر ای- میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 18 December 2018

راستہ باقی رہے...

بچپن میں جب ریل گاڑی پہ کراچی سے پنجاب کا سفر کیا کرتے تھے....تو اتنی دلچسپی پنجاب پہنچنے میں نہیں ہوتی تھی...جتنی سفر میں ہوتی تھی....ریل کی چھک چھک...دلکش مناظر...کھڑکی والی سیٹ کی لڑائی....خوانچہ فروشوں کی آوازیں....سٹیشن....گاڑی رُکنے اور چلنے کی وسل.....اور کبھی کبھی پچھلی برتھ پہ سوئے ہوئے بچے کی مہربانی سے اگلی سیٹ پہ ہونے والی ناگہانی بارش....😂
غرض کہ ٹرین سے جُڑی ڈھیر ساری چیزیں.....
کبھی کبھی کچھ راستے بذاتِ خود منزل سے اہم ہوتے ہیں....راستہ طے کرنے کا لطف منزل کو پالینے سے زیادہ ہو جاتا ہے....زندگی کے راستے میں  اہم یہ ہے کہ ہم صحیح سمت میں ہوں.....منزل کب کہاں کیسے ملے گی...اُسے متعین تو ضرور کریں....مگر اُسے "حاصل نہ بنائیں....حاصل...آپ کا راستہ ہے...آپ کی کوشش....آپ کی لگن.....پہنچنا نہ پہنچنا آپ کے اختیار میں نہیں....یہ اُس کے اختیار میں ہے جس کا راستہ ہے....💕
وہ چاہے گا تو یہ بھی ہوسکتا ہے....ایک ہی جست میں یہ حدود اربع سمیٹ دے....اور چاہے تو عمر راستے میں ہی تمام ہوجائے....
کچھ بھی ہو پر سمت کے تعیّن میں یہ غلطی نہ ہو کہ....
جنہیں راستے میں پتہ چلا کہ یہ راستہ کوئی اور ہے...💔
خدا ہمیں صراطِ مستقیم پہ چلائے...اور پھر قائم بھی رکھے!!
ہر ابنِ آدم کی خیر ہو....

سیاب عارف
ایڈیٹر ای-میگزین اور رہبر پازیٹو پاکستان 

Wednesday, 12 December 2018

رستے اور رشتے

مسافروں کو یہ رستے بھی یاد رکھتے ہیں
ابھی فلاں نہیں گزرا، ابھی فلاں گزرا...♥
کاشف حسین غائر کا ایک خوبصورت شعر نظر سے گزرا..
یہ راستے..گلیاں....مکان...درودیوار....ان کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے.....
گاوں اس معاملے میں فوٹوگرافک میموری کے مالک ہیں..شہر اکثر بھول جاتے ہیں..شہر پہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے....تعلق بنانے کے لیے.. 
گاؤں ماں جیسے ہوتے ہیں..اولاد جیسی بھی ہو...ماں کی آغوش اسے سمیٹنے کے لیے ہمیشہ موجود ہوتی ہے..
زندگی میں کہیں بھی کسی بھی جگہ چلے جائیں..اپنی جڑوں سے خود کو ٹوٹنے مت دیں...جڑوں سے کٹے ہوئے تنے کھڑے نہیں رہ سکتے..
ان آبائی مکانوں میں رہنے والے آپ کے پرکھوں کی محبت..ماں باپ...بہن بھائی....اور آنگن میں لگے سایہ دار پیڑ جیسے بوڑھے بزرگ..♥ خود کو ان سب سے جوڑے رکھیں...رشتے نبھائیں...تعلق کی گانٹھ ٹوٹنے نہ دیں کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا"
خدا دلوں کی سختی سے بچائے..امین
سیماب عارف
رہبر پازیٹو پاکستان 

Tuesday, 11 December 2018

Letters to Lord

بچپن میں کہیں دینیات کی کتاب میں پڑھا تھا کہ جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اللّٰہ سے مانگو..
کسی چیزکی ضرورت پڑی تو اُس نے سوچا اللّٰہ سے مانگنا ہے....ننھا دماغ سوال کرنے لگا...اللّٰہ سے ملنا ہے..فلاں چیزچاہئیے..کیسے ملوں؟ 
سوال سننے والے کسی سیانے نے کہا...ابھی تم اس کے گھر نہیں جاسکتی..خط لکھ کے بھیج دو..
ننھے دماغ نے بات نوٹ کر لی...اور خط لکھ کے دیا کہ یہ پہنچادیں...شایدپہنچادیا گیا...تبھی تو اسی شام اس کا کام ہوگیا تھا..
پھر کیا تھا...بس...پکا کرلیا....جب کوئی فرمائش ہوئی فوراً چٹھی لکھنے بیٹھ گئے...عمر کے تھال میں سالوں کے دانے گرتے رہے مگر ننھا دماغ "آدھی ملاقات" میں اٹکا رہا...
کوئی ضرورت پڑی...غصہ آیا...جذباتی ہوئے...لڑنے لگے...یا شکایت لگانی ہوئی...فورآً سے خط لکھنے بیٹھ گئے..
میں اُس ننھے دماغ کی اختراع پہ بہت ہنستی ہوں....مگر کبھی کبھی cute سی بات لگتی ہے....کہ ہر شکایت لیے اللہ میاں کے ہاں پہنچ گئے 😄
کبھی کبھی میں بھی اُس کا طریقہ ٹرائے (try) کرتی ہوں...کبھی آپ بھی کر کے دیکھیے گا....دلچسپ ہے!!
سیماب عارف
رہبر پازیٹو پاکستان 

Monday, 10 December 2018

بارش اور آنسو (توبہ کے قاصد)

سویرے جب آنکھ کھلی اور فرضِ "غیر کفایہ" سمجھتے ہوئے ہم نے پہلا کام سوشل میڈیا کنگھالنے کا کیا تو فیس بک اور واٹس ایپ کی گلیوں میں جگہ جگہ پانی کھڑا نظر آیا....معلوم یہ ہوا کہ گزشتہ شب دسمبر کی پہلی بارش اور دسمبری شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے...
کھڑکی کھول کے باہر جھانکا تو آسمان پہ بھی ابھی اس واردات کے آثار باقی تھے..
ہم نے بھی ناصر کاظمی کو یاد کیا اور گنگنانے لگے..
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا... 
پہلی بارش بھیجنے والے.. 
میں تیرے درشن کا پیاسا تھا.. 
بارش ہوں یا آنسو(مگر مچھ کو نکال کر) بہت سے گرد وغبار کو دھو جاتے ہیں..
دل بھی آئینے کی طرح ہوتے ہیں جن سے مسلسل گرد صاف کرنا اور انہیں عجز کے آنسووں سے دھوتے رہنا بہت ضروری ہے....ورنہ روح اندر سے گل سڑ جاتی ہے..
آنسو بھی عجیب چیز ہیں..
آنکھوں کو شفاف اور زرخیز رکھنے والی بارانِ رحمت..💕
رات کی تاریکی میں پڑنے والی وہ شبنم..جو خدا کو بہت محبوب ہے...💖
وہ قاصد جو توبہ کا پروانہ دستخط کرائے بغیر نہیں لوٹتے..♥
دل کو روئی کے گالے کی طرح ہلکا پھلکا کر دینے والے..
بس....انہیں بے وقعت جگہوں پہ ضائع نہ کیا جائے...

سیماب عارف
رہبر پازیٹو پاکستان 

اور میں بچ گیا چھلکنے سے

جیسے گلاس لبا لب پانی سے بھرا ہو تو چھلک رہا ہوتا ہے....بالکل ویسے ہی باتیں ہیں....لوگ بولنے کے لیے بے چین ہیں...بھرے پڑے ہیں...چھلک رہے ہیں.....
اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پانی چھلک کر کہاں گرتا ہے....دھڑا دھڑ منہ سے باتیں گررہی ہیں...کوئی یہاں...تو کوئی وہاں....اور یوں گر پڑنے کی وجہ سے کسی بات کا چہرہ آدھا ہے تو کسی کی ٹانگ ٹوٹی....غرض سب معذور...ادھوری...نامکمل....
گفتگو اگرچہ فن سے پہلے انسان کی جبلّی مجبوری سہی....مگر...
بولنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں.....!!
استادِ محترم ایک بات کہتے ہیں کہ ریپڈ فائر (Rapid fire) میں صرف گولیاں ضائع جاتی ہیں...نشانہ کہیں نہیں لگتا...."انّے واہ فائر...کوئی مریا اے نئیں مریا....کوئی پرواہ نئیں😄...
✅اپنی گفتگو کو بامقصد...مختصر مگر جامع بنائیں....
✅ جہاں کہہ دینے سے زیادہ چپ رہنا بہتر ہو وہاں زبان روک لیں...
✅ ماحول اور لوگوں کے مزاج کے مطابق گفتگو کیجیے....ورنہ
کہہ دینے سے بات گنوائی....
✅ ہر جگہ خود کو عالم فاضل اور انٹیلیکچوئل ثابت کرنا ضروری نہیں...اگر آپ چار کتابیں پڑھ لیں تو انہیں ہضم کرنا بھی سیکھیں....
✅ بہترین مقرر وہی ہوتا ہے جو بہترین سامع ہوتا ہے.....
ورنہ اندھا دُھند گولیوں میں نشانہ کہیں نہیں لگتا....
مالک ہمیں بامقصد بولنے کی توفیق دے....اور یہ عقل بھی...کہ خاموشی بھی عین عبادت ہے❣
صبح بخیر!
سیماب عارف
رہبر پازیٹو پاکستان 

Monday, 3 December 2018

یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو لگتا تھا...اپنا ایک جہان ہے.....
سٹوڈنٹ لائف سے پریکٹیکل لائف (عملی زندگی) میں آئے تو لگا گویا جنت سے دنیا میں اُتارے گئے....
جیسے اپنی ریاست کا کوئی شاہزادہ غدر کے دور میں کسی دوسری ریاست کا بے مول آدمی ہو.....
دنیا آپ کو یونہی ٹریٹ کرتی ہے.....لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر ابنِ آدم کو جنت سے دنیا میں آنا ہی پڑتا ہے....
اب کریں کیا...؟؟؟
اپنی جنت کو یاد کرتے اور دنیا کے سلوک پہ افسردہ ہو کر اپنی بے قدری کا ماتم کریں؟
نہیں....
اب کریں یہ کہ جو...جیسے حالات آپ کو درپیش ہیں انہی کو مفید بنانے کی کوشش کریں....انہیں ضائع نہ کریں....ممکن ہے یہ آپ کی تجربہ گاہ ہوں.....قدرت کے تکوینی امور آپ نہیں جانتے....کبھی کبھی دنیا کے معیار کے مطابق بظاہر ناکام فرد قدرت نے ایک کارآمد پرزے کی طرح کسی سسٹم میں جوڑا ہوتا ہے....♥
سو' کوشش کیجیے کہ زندگی کی مشین کا ایک کارآمد پرزہ بن کے جیا جائے....یہی اصل کامیابی ہے❣
مالک آپ سے راضی ہو!!
شب بخیر!🙂❣
(تحریر: سیماب عارف)
رہبر پازیٹو پاکستان

Tips for Effective Reading Habit

·          Set times. You should have a few set times during every day when you’ll read for at least 5-10 minutes. ·          Find a qu...